Here is what others are reading about!

زمانے کے ہاتھ

اپنا کام کرنے کے بعد جب یاور میرے  آستانہ نما دفتر میں داخل ہوا تو میں  نے ایک کلام اسےسنوایا۔  میں اس پر اس کی رائے جاننا چاہ رہا تھا۔ یاور دو دن قبل ہی میرے ساتھ ایک عالمی سائنس سیمینار میں گیا تھا۔ اس نے فزکس کبھی بھی اچھے سے نہیں پڑھی تھی، لیکن اس دن سے سائنس کا گرویدہ ہوا بیٹھا تھا، میں نے اس کو شعر سنوایا، عاطف اسلم اپنی آواز میں گا رہے تھے۔ ساتھ ہی ریشماں جی کھڑی تھیں۔

ٹوٹیں زمانے تیرے ہاتھ نگوڑے ۔۔۔

جن سے دلوں کے تُو نے شیشے توڑے ۔۔۔

ہجر کی اونچی دیوار ۔۔۔۔۔ بنائی ۔۔۔

ہائے۔۔۔۔ لمبی جدائی ۔۔۔۔۔!!

یاور نے انتخاب کی داد دی، 

میں بولا،  داد سے کام نہیں چلے گا، بتائیں شاعر پر یہ کہاں سے اتری؟ اس کی تشریح کر کے لائیں۔

ٹوٹیں زمانے تیرے ہاتھ نگوڑے ۔۔۔۔

جن سے دلوں کے تُو نے شیشے توڑے ۔۔۔۔

ہجر کی اونچی دیوار۔۔۔۔۔ بنائی ۔۔۔

ہائے ۔۔۔۔ لمبی جدائی ۔۔۔۔۔!!

یاور کی عمر اتنی نہیں تھی لیکن  حالات کی چکی میں پِس کر وہ  بے حد شیریں ہو گیا تھا، اس کی  مسکراہٹوں کے پیچھے لازوال داستانیوں ہوا کرتی تھیں، اس کے مذاق بھی میں ہنس کر سہہ لیتا تھا، ہر کوئی اس کا گرویدہ تھا، کام چور لوگوں کا وہ ازلی دشمن تھا، اسی لئے دفتر میں بعض  لوگ اس سے خائف بھی رہنے لگے تھے، اس کے ساتھ وقت گزار کر اچھا لگنے لگا تھا، وہ جس تیزی سے آگہی کی منازل طے کر رہا تھا، میں اسے بہت اچھے مقام پر دیکھ رہا تھا۔

میرے اچانک وار پر وہ بمشکل سنبھل پایا، جھجکتے ہوئے بولا، سر جی، ۔۔۔۔۔ میں؟  امید ہے۔۔۔۔ ادب، فلسفہ، اور سائنس کی تین الگ تھلگ (مگر ایک) کشتیوں کے سوار ایک نالائق طابعلم کی نالائقیوں کو درگزر فرمائیں گے۔(میں سمجھ گیا کہ اب کیسٹ شروع ہونے والا ہے)پھر بولنے لگا، جیسے کوئی بچہ پرچے میں تشریح لکھتا ہے،  یاور کی زبانی۔۔۔۔۔۔

شعر:

ٹوٹیں زمانے تیرے ہاتھ نگوڑے۔۔۔۔

جن سے دلوں کے تُو نے شیشے توڑے۔۔۔۔

ہجر کی اونچی دیوار۔۔۔۔۔ بنائی۔۔۔

ہائے۔۔۔۔ لمبی جدائی۔۔۔۔۔!!

تشریح:

اہم معانی:

زمانہ: زمان و مکان/ٹائم سپیس

ہاتھ= زمان و مکان کی جہات اور انکے بازو یعنی coordinates

 مثلامکان کے بازو  x,y,z اور ‘x’,y’,z۔۔۔ 

اسی طرح زمان کی اکائیاں، اس کی ٹائم لائن۔۔۔

ز مانے کے ہاتھ کس طرح ٹوٹیں گے؟

G-waves کی دریافت

Time space fabrics کا سکڑنا اور پھیلنا۔

اگر ایک صفحے پر ان بازوؤں یا ڈائیمینشنز میں سے تین کو پھیلا دیا جائے۔۔۔تو گویا صفحہ ایک چوتھی جہت ہو گی۔

کہیے کہ صفحہ وقت ہے اور اس پر ہم تین جہات کا عکس بنائے بیٹھے ہیں ۔۔۔ اب آپ اس صفحے کو تہہ کر دیں، تو مکان کی تینوں جہات باہم مل کر رہ جائیں گی۔ اور ممکن ہے x والےبازو پر موجود کوئی نقطہ دوسری سمت سے تہہ ہو کر y یا z یا پھر کہیں x’ سے متصل ہو جائے ۔۔۔ اب اگر مان لیا جائے کہ ان چار ڈائیمینشنز کے علاوہ کوئی پانچویں جہت ہو، ہم ان چار جہات کو پانچویں پر draw کریں تو ساتھ میں وقت کی جہت بھی ادھر کی ادھر ہو جائے گی۔اسی طرح جتنی جہات سامنے آتی رہیں گی اگلی جہت پر رکھ کے فولڈ کر دی جائیں گی۔یعنی زمانے (زمان و مکاں، اور جو جو جہات دریافت ہوتی رہی ہیں، یا آگے چل کر ہوں گی) کے ہاتھ ٹوٹ جائیں۔ گویا ہر جہت کے آنے کے بعد پہلی تمام جہات اس کی بدولت بدلی جا سکیں گی۔ لہٰذا 3D انسان۔۔۔  وقت کےفورتھ ڈائمینشن   پر رکھا ہے۔ ٹائم اسپیس کو بدلا تو اس کی ہئیت بھی بدل کر رہ گئی۔ جیسے ہی اگلی کوئی جہت آئے گی (یعنی دریافت ہو گی) تو وہ پرانی جہات اس پر رکھ دی جائیں گی۔۔۔  اور اس ایک جہت کے پلیٹ فارم سےہم گزشتہ جہات کا بیڑا غرقاب کر سکیں گے۔۔۔جیسے کہ پہلے مادی بم، ٹائم بم، اور اب شنید ہے کہ کوئی گریویٹیشنل بم بھی بنایا جا سکے گا۔۔۔لیکن ایسا کہنا کیونکر غلط ہو گا کہ ٹائم اسپیس اور کی سب جہات در حقیقت ایک ہی جہتِ جامع کی مختلف پرتیں ہیں، جو ذاتِ قدوس کی مظہر ہیں۔

انہی جہات کے ہاتھ یعنی coordinates (جنہوں نے ایک عارضی قلعہ بنا رکھا ہے۔۔۔۔۔) کے ٹوٹ جانے کی دعا اس شعر میں شاعر کے شعور پر اتری ہے۔ تاکہ سب کا سب ایک ہو جائے ہجر کی دیوار، جسم کی اونچی فصیل، جو H2O کے ایک مالیکیول (روح) کو H2O کے بحرِ بے کراں یعنی ocean (روحِ ازل, جس نے آدم کے مردہ بت میں خود کو پھونک کر جلا بخشی) میں مل جانے کی راہ میں حائل ہے۔ پس جب یہ بت ٹوٹے گا تو حقیقت آشکار ہو گی۔ ۔۔ اس سے قبل جدائی ہے۔ روح کی روح سے جدائی، روح کے ذرّہ کی روح کے اصل سے جدائی، یہ جسم کے پردے، یہ مادے کی فصیلیں، ٹوٹیں گی، جبھی وصال ہوگا۔۔۔

یہ تھی پہلی سطر کی ناقص تشریح۔۔۔ پرچے کا وقت ختم ہو چکا ہے سر جی۔ باقی سطور کے لئے زمانے کے اس پار ملیں گے۔  خوش رہیں۔ تمام الفاظ مجھ نالائق کی منتشر سوچوں اور نامکمل سمجھوں پر مبنی ہیں۔  آپ میری رہنمائی فرما دیجئے گا۔

میں اس کی کم عمری میں ایسی باتیں سن کر گنگ ہو کر رہ گیا، مجھے سچ میں سمجھ نہیں آرہی تھی کہ اس کی باتوں کو سمجھوں یا اس پر جھوموں، وہ اپنی اسی شریر مسکراہٹ کے ساتھ چلا گیا اور میں دیر تک یہی سوچنے میں مصروف رہا کہ اس نے زمانے کے بازو کس طرح توڑ لئے۔ یاور نے مجھ سے رہنمائی کا کہا تھا، اگر آپ اس کو کچھ بتانا چاہیں تو میرے توسط سے بتا سکتے ہیں، میں اس سے مِلا تو آپ کے خیالات اس تک پہنچا دوں گا۔

(Visited 623 times, 1 visits today)

Ali Adeeb is a freelance writer based in Islamabad. He works as a content producer and copy editor at Such TV. He’s areas of interests are science, religion and logic.

2 Comments

  • zakaullahgandapur@gmail.com'

    Zakaullah

    April 19, 2016 at 6:59 pm

    Ali Adeeb sahab… Mashallah ap bahut acha likhte hain. Bilkul naya pan hota hai apki tehreeroun me..
    Aik baat arz karna chahta hun.. ye meri apni soch hai..wo yeh keh ‘Waqt (Time) sooraj ki gardish se banta hai, agr sooraj na ho to ye waqt bhe khatam ho jae ga.. jese keh kaha jata hai k Jannat me unlimite life hai.. aur jannat me roshni madham, jese subah taloo hone se pehle hota hai, wahi waqt wesa hoga.. ‘

    Reply

Leave a Reply

Got It!

اس ویب سائٹ کا مواد بول پلاٹون کی آفیشل رائے کی عکاسی نہیں کرتا. مضامین میں ظاہر معلومات اور خیالات کی ذمہ داری مکمل طور پر اس کے مصنف کی ہے