Here is what others are reading about!

  • Home
  • /
  • Pakistan
  • /
  • ہیرو نہیں بنا سکتے تو زیرو بھی نہ بنائیں

ہیرو نہیں بنا سکتے تو زیرو بھی نہ بنائیں

دو برس قبل Eye to Eye نامی گانے سےدنیا بھر میں شہرت پانے والے  پاکستانی سنگرطاہر شاہ کا حال ہی میں ریلیز ہونے والا نیا گاناAngel   ان دنوں سوشل میڈیا پرموضوعِ سخن ہے جس پر ہر جگہ ان کو آڑے ہاتھوں لیا جا رہا ہے۔ بڑے بڑے پیجز ان  کی تصاویر اور ویڈیو پر مضحکہ خیز تبصرہ کرنے میں ایک دوسرے سے سبقت لے جاتے نظر آ رہے ہیں۔   Twitterپر طاہر شاہ  Worldwide ٹرینڈنگ میں موجود ہیں اور جسے دیکھو ان کے اس نئے گانے پر تبصرہ کرنا اپنا فرض منصبی سمجھتا نظر آتا ہے۔لوگوں  نے اس گانے کو نہ صرف برا بھلا کہا بلکہ طاہر شاہ  کوذہنی عذاب کہنے  سے بھی دریغ نہیں کیا۔

طاہر شاہ  کا اب تک کا یہ دوسرا گانا ہے۔  پہلا گانا Eye to Eye تھا جسے پوری دنیا میں(سوائے پاکستان کے)پزیرائی ملی۔کینیڈا سے Best Pop Sensational Award ملنے کے علاوہ کئی  دیگرایوارڈ بھی اس گانے پر طاہر شاہ کو مل چکے ہیں ۔ سوچنے کی بات ہے کہ اگر طاہر شاہ کے گانے اتنے ہی واحیات ہوتے ہیں تو انہیں  ایوارڈ کس چیز کے ملتے ہیں؟  یہ بھی مان لیا کہ طاہر شاہ کو موسیقی سے کوئی سدھ بدھ نہیں۔  یہ بھی درست کہ ان کی آواز بھدی اور بے سری ہے۔ یہ بھی تسلیم کر لیا کہ ان گانوں کی عکاسی بھی بے حد عجیب اور معیوب ہوتی ہے۔ لیکن کیا  ان کا گانا  جس میں انسانیت سے محبت کی بات کی گئی ہے، چپکی ہوئی پینٹ اور کانوں میں بندے پہن کر’’لنگی ڈانس‘‘ گانے والوں سے بھی برا ہے؟ کیا ان کا ’’پری‘‘ کا گیٹ اپ ہمارے ایمان کے لئے متزلزل ہے؟ کیونکہ ہمارے بچپن کے پسندیدہ  بھارتی ڈرامے کی کردار Son Pari  کو ہی یہ حق حاصل تھا کہ وہ ’’پری‘‘ کا روپ دھار سکے۔ کیا ان کے گانے کے Lyrics فرشتوں کے وجود پر ایک تمسخر ہیں؟ محض اس لئے کہ یہ گانا طاہر شاہ نے گایا ہے، Strings نے نہیں جن  کے گانے میں  Angel جامنی کے بجائے کالے لباس اور پروں میں ملبوس  جان ابراہم تھے۔ فرق تو پڑتا ہے نا۔  

2013میں پاکستان کے ایک نجی ٹی وی چینل پر  ایک ’’خود ساختہ‘‘ عالم دین نے طاہر شاہ کو اپنے شو میں بلاکر بڑے ’’ادب‘‘ سے بے عزت کیا ۔ اسی طرح دو روز قبل ایک نجی ٹی وی چینل پر بلا کر یہی سب کیا گیا۔ کسی انسان کا تمسخر اڑانا کون سی صحافت، اخلاقیات اور کون سے شائستہ مزاح کا مظاہرہ ہے؟  ٹھیک ہے کہ اگر ہم اپنے ملک کے ٹیلنٹ کی عزت نہیں کرسکتے تو مت کریں۔ مگر خدارا ان کو بے عزت بھی نہ کریں۔ ہیرو نہیں بنانا تو مت بنائیں  لیکن زیرو بھی مت بنائیں۔

(Visited 496 times, 1 visits today)

Saad Shahid is content writer at Sarim Burney Trust International, Youth Department Reporter at Daily Azad Riasat and Special Correspondent at News Online.

One Comment

  • shahabkhan.kakarzai@gmail.com'

    شہاب خان

    April 12, 2016 at 6:52 am

    جناب بہت شکریہ طاہر شاہ کے حق میں آواز بلند کرنے کا۔ میں مانتا ہوں کہ عوام کو اس کے ساتھ مہربانی کا سلوک کرنا چاہئیے لیکن انٹرنیٹ کا یہ مطلب نہیں کہ ہر بندہ جو ایک ویڈیو بنا سکے وہ اپنے آپ کو فنکار سمجھنے لگ جائے۔ قندیل بلوچ ہو یا طاہر شاہ، بے سرا انسان جو مرضی کر کے شہرت حاصل کر لے رہتا بے سرا ہی ہے۔
    بہرحال، وقت ضائع کیا آپ نے۔ نہ تو طاہر شاہ اس سے بہتر گا سکتا ہے اور نہ ہی عوام اس سے بہتر رویہ دکھا سکتے ہیں۔ اور براہ مہربانی سٹرنگز کی مٹی پلید نہ کریں۔ سٹرنگز موسیقی کے بادشاہ نہ سہی لیکن نارمل لیول کے سنگر ز ہیں کو واقعی محنت کر کے آگے آئے ہیں۔ ان کے گانے میں جان ہوتی ہے ، ان ابراہم آتا یا نہ آتا کوئی فرق نہیں پڑنا تھا۔

    Reply

Leave a Reply

Got It!

اس ویب سائٹ کا مواد بول پلاٹون کی آفیشل رائے کی عکاسی نہیں کرتا. مضامین میں ظاہر معلومات اور خیالات کی ذمہ داری مکمل طور پر اس کے مصنف کی ہے