Here is what others are reading about!

روٹی

ہر گھر کی  طرح روٹی اس  کے گھر میں بھی پکتی تھی فرق صرف اتنا تھا کہ روٹی اس وقت پکتی جب فاقے سے زبانیں باہر آ جاتی اور ہونٹوں پر پیڑیاں جمنے  لگتی اور جب وہ روٹی روٹی کرتا سارے گھر میں شور مچاتا تو اس کی ماں کے چہرہ پربے بسی  اترآتی۔وہ بیسیوں چھیدوں والے  ڈوپٹے میں اپنا چہرہ چھپاتی اور بازار کی طرف نکل پڑتی ۔خاور کبھی ان چھیدوں کے پیچھے چھپے آنسو نہ دیکھ پایااور نہ ہی اسے ماں کے جوان چہرہ پر پڑتی جھڑیاں اسے نظر آئیں۔

اور جب رات کو ماں واپس آتی تو وہ اس سے لپٹ جاتاکھانے کی خوشبو اور تازہ روٹی کی باس وجود میں عجیب سرمستی پیدا کر دیتی ۔۔۔مگر کب تک۔۔۔؟جن کے گھر میں غربت بھائیں بھائیں کرتی ڈولتی ہے وہاں بھوک کا پیڑ اگنے میں دیر کتنی لگتی ہے ۔۔اگلی شام جب وہ’’بھوک لگی ہے۔۔بھوک لگی ہے‘‘کہتا ہوا گھر میں داخل ہوا تو ماں کے چہرہ پر پریشانی پھیل گئی۔

’’بھوک لگی ہے کیا مطلب؟۔ابھی تو دوپہر کا کھانا کھایا تھا۔۔!

’’مجھے بھوک لگی ہے‘‘ ۔۔تو کیوں نہیں سمجھتی ۔اور اب شام ہو گئی ہے۔۔

وہ جھلا گیا۔

’’تو بھی سمجھا کر۔۔اب تو بڑا ہو گیا ہے روٹی درختوں پر نہیں لگتی  کہ باہر جاؤں اور تیرے لئے توڑ لاؤں۔۔‘‘اس کی آنکھوں سے چھلکنے والے موتیوں  نے دامن کا سہارا لیا  اورغائب ہو گئے ۔کوئی اور ہوتا تو وہ ان موتیوں کو اکھٹا کرتااور اس کے سفید بالوں میں پرو دیتا۔،اور پھر دیکھتا کہ دنیا میں کون ہے جو ان موتیوں کی قیمت ادا کر پاتا ہے۔

’اچھا اماں۔۔ کچھ کھانے کو دے نا‘‘خاور نے معصومیت سے اس کا ہاتھ تھامتے ہوئے کہا ۔۔۔

’’ تھوڑا صبر کر لے میرے بچے۔۔ بس ایک رات ہی تو ہے‘‘۔۔ماں کے لہجے میں شفقت تھی وہ اس کے میلے بالوں میں انگلیاں پھیرنے لگی ۔۔خاور نے فوراً اس کا ہاتھ جھٹک دیااور زور زور سے چلانا شروع کر دیا۔۔۔وہ گھبرا گئی ۔۔۔سرخ ہوتی ہوئی آنکھوں سے خاور کی طرف دیکھا ۔پھر چادر اوڑھ کر بازار کی طرف نکل گئی۔

ماں کے جانے کے کچھ دیر بعد کرن بھاگتی ہوئی گھر میں داخل ہوئی۔۔۔۔کرن مولوی شفیق کی اکلوتی بیٹی تھی ،عمر میں خاور سے دو سال بڑی تھی مگر خاور اور اسکی خوب بنتی تھی۔۔خاور کر منہ لٹکائے چارپائی پر بیٹھا دیکھ کر بولی۔۔

’’اماں کہاں گئی ہیں؟‘‘

’’روٹی لینے‘‘اس نے مختصر ساجواب دیا۔

’’تو تمہیں کیا ہوا ہے۔۔‘‘

’’مجھے بھوک لگی ہے ‘‘۔۔اس نے منہ بسورتے ہوئے کہا

’’تو اس میں رونے کی کیا بات ہے۔۔میرے گھر چلومیں تمہیں کھانا دیتی ہوں‘‘

’’ماں آ گئی تو۔۔؟

’’ہم ان سے پہلے واپس آ جائیں گے ‘‘خاور کی آنکھیں چمکنے لگی۔۔

اس نے دروازے کو کنڈی لگائی اور کرن کے ساتھ چل دیا۔

چند گھنٹوں بعد ماں جب واپس آئی تو وہ پہلے گھر میں موجود تھا۔ماں کے ہاتھوں میں روٹی،دودھ اور کھانا دیکھ کر وہ اس نے لپٹ گیاکھانا کھانے کے بعد وہ ماں کی گود میں لیٹ گیااپنے  نرم ہاتھوں سے اس کے کھردرے بالوں میں انگلیاں پھیرنے لگا۔وہ تھکے ہوئے لہجے میں بولی۔۔

تیری ماں اب بہت تھک گئی۔اب مزید مت ستایا کر۔۔روٹی کی بازار میں بڑی قیمت ہو گئی ہے ۔زندگی بیچ کر تیرے لئے روٹی لاتی ہوں۔

’’اب نہیں ستاؤں گا ماں ۔۔میں نے دیکھا ہے کہ تو اتنا تھک گئی تھی کہ شفیق انکل تجھے دبا رہے تھے۔۔‘‘ماں نے حیرانی سے خاور کو دیکھااس کی آنکھوں میں معصومیت تھی۔کسی اور سوال کی اس میں ہمت نہ رہی ۔اس نے خاور کو چارپائی پر لیٹا دیا۔اور ڈوپٹے کے پلو میں منہ چھپائے ایک کونہ میں بیٹھ گئی۔۔اور روتی رہی۔۔پہلے آنسو کسی جھیل کی مانند پر سکون ہوا کرتے تھےمگر آج اس کی آنکھوں میں سیلاب تھا۔اور سیلاب سب کچھ بہا کر لے جاتا ہے۔کچھ دیر بعد وہ اٹھی ۔گھر کے اکلوتے کمرہ میں گئی۔دھلے ہوئے کپڑے پہن کر باہر آئی اور خاور کے پاس بیٹھ گئی۔۔وہ چارپائی پر  پڑا سو رہا تھا،،بڑی شفقت اور چاہت سے اس کا سر سہلاتے ہوئے کہنے لگی۔۔

’’اب تیری ماں کے لئے اس دنیامیں کوئی جگہ نہیں رہی ۔۔میں جانتی ہوں کہ تو مجھ سے محبت کرتا ہے اورمیں بھی تجھ سے محبت کرتی ہوںمگر محبت سے پیٹ نہیں پالے جاتے پیٹ تو روٹی سے پلتے ہیں ۔اور روٹی بازار سے ملتی ہے ۔۔ہر بار جب میں تیری ضد پر بازار گئی تو جسم میں ایک چھید کروا آئی اب جسم میں اتنے چھید ہو گئے ہیں کہ یہ جسم بھی بے قیمت ہو گیا ہے ۔۔

اس  نے خاور کے ماتھے پر بوسہ دیا۔۔اور وہاں سے چل دی ۔صبح سویرے چند نوجوانوں کو ندی کے کنارہ اس کی لاش ملی۔۔محلہ کے بزرگوں نے لاش کی شناخت کرلی۔۔آخری رسومات کے اعلان کے لئے مولوی شفیق کو اطلاع دی گئی۔اس سے پہلے کہ خاور کی ذمہ داری کے حوالہ سے کچھ سوچا جاتا ،مولوی صاحب نے خاور کی ذمہ داری اٹھانے کا بھی اعلان کر دیا۔

تدفین کے وقت خاور کی آنکھوں میں آنسو تھے نہ چہرہ پر غم۔کیونکہ آج اس کا پیٹ بھر اہوا تھا۔اسے خوشی تھی تو اس بات کی کہ یہ اس کی زندگی کی سب سے بڑی دعوت تھی جہاں اسے زندگی میں پہلی بار  پیٹ بھر کر کھانا ملا تھا۔

(Visited 660 times, 1 visits today)

Raja Waqas is a writer, novelist and a poet based in Gujrat, Pakistan. His two books have been published so far. His areas of interests are social and motivational issues.

Leave a Reply

Got It!

اس ویب سائٹ کا مواد بول پلاٹون کی آفیشل رائے کی عکاسی نہیں کرتا. مضامین میں ظاہر معلومات اور خیالات کی ذمہ داری مکمل طور پر اس کے مصنف کی ہے