Here is what others are reading about!

  • Home
  • /
  • Pakistan
  • /
  • مجسمہ ، چڑیا اور پانامہ لیکس

مجسمہ ، چڑیا اور پانامہ لیکس

بچپن میں ایک شہزادے کے مجسمے اور ایک چڑیا کی کہانی پڑھی تھی۔ آج بھی یورپ کے سفر کے آخری  ایام میں جب میں نے شہر کے سب سے بڑے چوراہے میں نصب ایک باوقار جنگجو کے لباس میں ملبوس ،پتھر کے اُس مجسمے کو دیکھا تو میری آنکھیں اُس چڑیا کو ڈھونڈنے لگیں جِسے میرے تخیل نےبیسیوں مرتبہ مجسمے کے قدموں میں دانہ دُنکا چگتے ہوئےدیکھا تھا۔
میں دُور اور نزدیک سے اس مجسمے کی بہت سی تصاویر اپنے کیمرے میں محفوظ کرنے لگاکہ اچانک مجھے وہ چڑیا نظر آگئی۔مجھے جیسے سب کچھ خواب کی طرح دکھائی دے رہا تھا۔ مجھےاس وقت تک یقین نہیں آیا جب تک وہ چڑیامجسمے کے دائیں کندھے پر آکر نہیں بیٹھ گئی۔ اُس کی چونچ میں جو کچھ بھی تھا،وہ اُسے مجسمے کے چوڑے چکلے پتھریلے کندھے پر رکھ کر کھانے لگی۔ میں نے کیمرے کو سب سے زیادہ زوم پر رکھا اور آہستہ سے آگے بڑھا۔چڑیا نے میری طرف دیکھا اور خطرہ محسوس کرتی ہوئی اپنی جگہ سے اُڑی اور مجسمے کے ہاتھ میں پکڑی تلوار کے دستے کے ایک ابھار پر جاکر بیٹھ گئی۔کیمرے کے ایک کلک پر اُس نے مجھے پھر دیکھا اور دوسرے کلک پر وہ پھُر سے اُڑ گئی۔
میں مجسمے کے قدموں میں بچھی سیڑھوں پر بیٹھ گیا اوراس حسین اتفاق پر دل ہی دل میں مسکرا اٹھا اور پھر سر جھٹک کر مجسمے کا جائزہ لینے لگا۔ مجسمہ کسی قدیم سنگ تراش کے فن کا منہ بولتا ثبوت تھا۔جنگی لباس کی ہر سلوٹ،تلوار کے دستے پر بڑی بڑی انگلیوں  کی گرفت،خوبصورت بڑی بڑی آنکھیں اور ماتھے پر بنائی گئی شکنیں یوں ظاہر کرتی تھیں گویا اُسے کسی کا  انتظار ہو یا پھر وہ بہت اُداس ہو یا پھر ممکن ہے کہ سنگتراش ایسا کوئی اظہار نہ چاہتا ہو اور یہ محض میرا وہم ہو۔ میں نے مجسمے کے قدموں میں بیٹھے بیٹھے ہی شہر کی کچھ تصاویر بنا لیں۔  مجھے  علی الصبح ایمسٹرڈیم کی فلائٹ پکڑنا تھی۔ میں نے ڈائری نکالی اورممکنہ طور پر زادِ راہ کم ہو جانے کی وجہ سے یورپ کی تین   میں سے دو جگہوں کا انتخاب کیااور کیمرہ اپنے رک سیک مٰیں ڈال کر مجسمے کو الوداع کہتا ہوا اپنے ہوٹل کی طرف بڑھ گیا۔
اُس رات نہ جانے کیا بات تھی۔ نیند آنکھوں سے کوسوں دُور تھی۔حواس پر وہ مجسمہ اور چڑیا بُری طرح چھائے ہوئے تھے۔ میں نے کیمرے سے میموری کارڈ نکالا اور اُسے اپنے لیپ ٹاپ میں لگا کر دِن بھر کھینچی ہوئی تمام تصاویر کو جلدی جلدی دیکھنے لگا۔مجسمے کی تصویروں والا فولڈرکھلتے ہی میں نے تھمب نیلز کو بڑا کیا اور میری نظر چڑیا کے پروں پر پڑی ۔ چڑیا کے پر سونے کے تھے اور مجسمے کی آنکھ سے آنسو رواں تھے۔میری آنکھیں یقین کرنے کو تیار نہ تھیں ۔  میں نے بے چینی سے مجسمے کے پیروں کو انلارج کر کے دیکھا۔ وہاں خون ہی خون تھا۔۔۔اور مزید غور سے دیکھنے پر معلوم ہوا کہ  ظلم ایک وبا کی طرح شہر کے ہر گھر میں پھیلا تھا۔ دوسری تصویریں دیکھنے پر مجھے لگا کہ سارا شہر پتھر کا تھا۔۔۔احساس سے عاری پتھریلے دل و دماغ کے لوگ۔۔۔اشرافیہ، قانون، انصاف اور علم و دانش سب پتھر تھے۔۔ اور جہاں شہر کے لوگ پتھر بن جائیں وہاں رحمدل شہزادے سے زیورات لے جاکر شہر کے آزردہ و پسماندہ حال لوگوں کو دینے والی کوئی چڑیا باقی نہیں بچتی۔ چڑیا کو واقعی سونے کے پروں میں ہی ہونا چاہئے تھا۔۔۔ میں حیران تھا کہ شہر میں ہونے والے ظلم پر ہر شخص خاموش اور بے حس و حرکت کیوں ہے؟
اور پھر زور کی آندھی چلنے لگی ۔۔اچانک ایک زور دار دھماکے سے ہوٹل کی کھڑکی کا شیشہ کرچی کرچی ہوگیا۔ میری آنکھ کھلی تو میں اپنے گھر کے ٹی وی لاؤنج  میں صوفے پر ، پسینے میں شرابور لیٹا تھا۔ ٹی وی نہ جانے کب سے چل رہا تھا اور اس پر لگے ٹاک شو میں کسی پانامہ لیکس کا ذکر زور و شور سے جاری تھا اور دو سیاستدان تقریباً ایک دوسرے سے گتھم گتھا ہونے کو تیار تھے۔

(Visited 579 times, 1 visits today)

Dr. Sohail Ahmad is a freelance writer based in Islamabad. He’s a family physician, pharmacology teacher, broadcaster, fiction writer and a poet.

Leave a Reply

Got It!

اس ویب سائٹ کا مواد بول پلاٹون کی آفیشل رائے کی عکاسی نہیں کرتا. مضامین میں ظاہر معلومات اور خیالات کی ذمہ داری مکمل طور پر اس کے مصنف کی ہے