Here is what others are reading about!

پسینہ

وہ اچھلتی کودتی ہاتھ میں موجود اماں کے دیئے پیسوں سے کھیلتی ہوئی گھر سے نکلی تھی پھر محلے میں رک کر اپنی سہیلیوں کے ساتھ بیٹھ کر مٹی کے کھلونے بنانے میں مگن ہو گئی کہ اچانک کھلونے بناتے ہوئے اسے خیال آیا کہ وہ تو گھر سے روٹیاں  لینے نکلی تھی۔ گرمی کی شدت زیادہ ہوئی تو گھر میں روٹیاں بنانا جیسے عذاب معلوم ہونے لگا۔ اماں نے آسانی کے باعث سوچا کیوں نا آج روٹیاں تنور سے منگوا لوں۔بس اسی آسانی کی خاطر گڑیا کو روٹیاں لینے بازار بھیج دیا۔گھر سے تنور کا راستہ صرف دو منٹ کا تھا۔۔ مگرگھر سے نکلی تو کھلونے بیچنے والے چچا نے اسکی توجہ اپنی جانب مبزول کروا لی چچا کے کھلونوں کے چھوٹے چھوٹے پیکٹ بانس کے ڈنڈے پر ایسے لپٹے ہوتے تھے جیسے امر بیل دیوار سے لپٹی ہوتی ہے۔وہ وہیں رک کر انہیں حیرت سے دیکھنے لگی۔ گڑیا نو سال کی خوبصورت بچی تھی بھرے بھرے گال ، خوبصورت موٹی آنکھیں، گلابی ہونٹ۔۔ موٹی جسامت کی جوہ سے بالغ معلوم ہونے لگی تھی اسکے سینے پر بھی ابھار سا آنے لگا تھا۔ مگر عمر ایسی تھی کے ایسی چیزیں آسمانی تحائف سے کم محسوس نا ہوتی تھیں۔
کافی دیر وہ وہاں کھڑی رہی، چچا کے پاس موجود سب کھلونوں کو دیکھتی رہی۔
’’جس چیز کو انسان چھو نہیں سکتا، اسے دیکھ کر ہی اپنی حسرت کو سکون پہنچا لیتا ہے۔‘‘
گڑیا نے بھی ویسا ہی کیا اور پھر تنور کی طرف چل دی۔ دو منٹ کے سفر کو اس نے ہر جگہ رک کر بیس منٹ کا بنا لیا تھا۔ بیچ راستے گڑیا ایک دفعہ پھر رکی، اب کی بار رکنے کی وجہ غبارے بیچنے والا تھا۔اسکے رنگ برنگےکارٹون والے بڑے بڑے غبارں ک دیکھ کر ایک لمحے کے لیے گڑیا کا دل چاہا کے ہاتھ میں موجود پیسوں سے روٹیوں کی بجائےغبارے خریدے اورگھر واپس چلی جائے ۔مگر پھر اماں کی ڈانٹ کا ضیال دل میں آتے ہی گھبرا کر تنور میں روٹیاں لگوانے چلی گئی۔
’ہاں چھوٹی! کتنی روٹیاں ؟‘
’چچا پانچ روٹیاں لگا دو‘ گڑیا نے اپنی  سی معصوم آواز میں جواب دیا اور پیسے چچا کے ہاتھ میں دے دیئے۔
اس نے پیسے اسکے ہاتھ سے لے لیئے ۔۔ ’’یہاں بیٹھ جاؤ روٹیاں پانچ منٹ میں تیار ہو جائیں گی۔‘‘ اس نے ہاتھ سے اسے بیٹھنے کے لیےکرسی کی طرف اشارہ کیامگر گڑیا کھڑی اِدھر اُدھر دیکھتی رہی۔
کبھی کھلونوں والے چچا کے کھلونے اسکے ذہن میں آئیں تو کبھی وہ رنگ برنگے غباروں کو پلٹ پلٹ کر دیکھے، وہاں کھڑے اُسے دو منٹ بھی نا گزریں ہوں گے کے گڑیا کے گال گرمی کی حدت سے لال ہو گئے اور وہ پسینے سے شرابور ہو گئی۔ پسینے کے قطرے اسکے موٹے موٹے گالوں سے ہوتے ہوئےاسکی گردن سے نیچے تک جا رہے تھے۔ روٹیاں تنور میں لگاتےچچا کے ہاتھ اچانک رکے اس نے نظر بھر کر سراپا گڑیا کو دیکھا اور گڑیا کی دلچسپی بھانپ لی۔
’’ چچا اگر روٹیاں پکنے میں دیر ہے تو میں تب تک غبارے دیکھ آوں۔؟‘‘گڑیا کی آواز نے اسکی سوچ کے بند توڑے۔
’’چھوٹی دیکھ کر کیا کرو گی؟ میں خرید کر لے دیتا ہوں۔‘‘
’’کیا چچاَ کیا واقعی وہ غبارے لے دو گے ؟‘‘ گڑیا کی آنکھیں خوشی سے چمک اٹھیں۔
’’ ہاں چلو ! ابھی لے دیتا ہوں، یہ روٹیاں لپیٹ دوں ۔‘‘
چچا نے گڑیا کا ہاتھ پکڑا اور اپنے ساتھ لے گیا۔
گڑیا کی سب سہیلیاں اپنے اپنے مٹی کے کھلونے بنا کر گھر جا چکی تھیں۔۔ دوپہر گئی اور شام نے اپنے پَر پھیلا لئے مگر گڑیا گھر واپس نہ آئی ، اماں کو پریشانی سے وسوسے آنے لگے۔ پہلے پڑوس کے مظہر کو بھیجا کے وہ گڑیا کو دیکھ کر آئے۔ مظہر بازار جے دو چکر لگا کر آ گیا۔ ’’ خالہ میں دو دفعہ دیکھ آیا ہوں گڑیا کہیں بھی نہیں ہے۔ ماں کے ہاتھ پاوں پھولنے لگے۔ چھوٹی دونوں بیٹیوں کو پڑوس میں چھوڑ ا، اور چادر اوڑھ کر خود باہرنکل آئی۔ بازار، گلیاں، محلہ سب چھان مارا مگر گڑیا کہیں نا ملی، آخری جگہ باغ تھی جہاں گڑیا جا سکتی تھی۔   ہاں گڑیا باغ میں ہی گئی ہو گی اُس نے خود کلامی کی اور باغ میں قدم رکھ دیا۔
باغ سنسان پڑا تھا ۔۔ تھوڑا قریب پہن کر اُسے گڑیا نظر آ گئی۔ وہ باغ میں چَت لیٹی تھی۔ اسکی کلائی سے بندھے دو غبارے خود کو فضا کے سپرد کرنے کے لیے بےتاب تھے۔۔ اماں نے پاس جا کر اسکے چہرے کو ہاتھ لگایا ، اسکے گال سے گردن تک سب پسینہ خشک ہو چکا تھا۔۔۔۔بالکل خشک۔

 

(Visited 779 times, 1 visits today)

Mafiya Sheikh is a graduate in Urdu literature and a freelance writer based in Islamabad. Working with an NGO, her areas of interests are social and general issues.

One Comment

Leave a Reply

Got It!

اس ویب سائٹ کا مواد بول پلاٹون کی آفیشل رائے کی عکاسی نہیں کرتا. مضامین میں ظاہر معلومات اور خیالات کی ذمہ داری مکمل طور پر اس کے مصنف کی ہے