Here is what others are reading about!

سوچ کی ہانڈی – لفظوں کا بگھار

میں اسکی بات سن کر مسکرا دیا۔ وہ گویا مجھے سمجھا رہا تھا۔ ۔نہیں میرا مسکرانا اس بات پر نہیں تھا کہ وہ  چھوٹا ہو کر بڑے بھائی کو سمجھا رہا تھا بلکہ اس کے انداز پر تھا۔ اس کی سوچ توآخر میرے ہی معاشرے کی عکاس تھی۔  وہ مجھے بتا رہا تھا کہ لکھو تو عنوان ایسا دو کہ لوگ چونک جائیں۔ انداز تحریر ذرا ہٹ کے ہو جو لوگوں کو  پڑھنے پر مجبور کرے۔ الفاظ کا چناؤ ایسا کرو کہ لوگ دوبارہ پڑھیں۔

 اور میں نے اس کے بعد نہیں لکھا۔

جانتے ہو میرے کانوں میں کیسی آوازیں گونجنے لگیں؟ یار سموسے کے ساتھ چٹنی ضرور دینا۔ ویٹر!کیچپ نہیں ہے میز پر۔ انکل فرائز پر مصالحہ ذرا زیادہ ڈالنا۔ یار سیدھی سادی لکھی ہوئی بات کوئی نہیں پڑھتا، کسی سنسنی کا تڑکا لگاؤ، کوئی Taboo ایسے بیان کرو جیسے تمہارے لئے یہ کوئی نئی بات ہی نا ہو، مخلتلف نظر آؤ گے تو پہچانے جاؤ گے۔ ورنہ ہجوم میں گم اور اتنی بہت سی آوازوں میں تمہیں کوئی نہیں پہچانے گا۔

اتنے بہت سے لکھنے والوں نے جب قلمی دنیا میں اپنا قد کاٹھ نکالا تو ہر ایک نے اپنا ایک الگ انداز اپنایا۔ اُس کی تحریر کے حسن پر نثار جاؤں جس نے طںز و تشنیع کے تیر و نشتر کو اپنا ہنر مانا کہ لوگوں کو اس اشرافیہ کے لئے گالی سننا اچھا لگا جس کے سامنے ان کی اپنی آواز نہ نکلتی تھی ۔ کسی نے زندہ جاوید کہانی کا انداز اپنایا اور داستان گوئی اسکی طاقت ٹھہری کہ کہانیاں سن کر بہل جانا ہمارے بھلے مانس لوگوں کی گھٹی میں پڑا ہے ۔ فہمیدہ، منٹو، عصمت، ساحر اور امرتا جیسے نابغہ روزگار لوگوں نے معاشرے کے اس پہلو کو آزمایا جسے ہمیں خود کہنے میں جھجک محسوس ہوا کرتی تھی سو ان کی باتیں بھلی معلوم ہوئیں اور وہ بے جھجک پڑھے جانے لگے۔ کوئی قوم کی غیرت کو للکار کر مقبولِ جاں بننے میں مشغول رہا تو کسی نے حکمت و دانش کے شہابیے مفتیانہ اندازمیں ہمیں سونپے اور ہم ان کے انداز بیاں کے طلسم میں گرفتار ہوتے چلے گئے۔   رفتہ رفتہ یہ انداز،  یہ لہجہ ان قلمکاروں کا Signatureاور ان کا brand  بنتا چلا گیا اور ان کے پڑھنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا چلا گیا۔

دوستو! آخر  ہمیں ایسا انداز کیوں چاہئے جو مختلف ہو۔ کیا بات کہی جا رہی ہے وہ اہم نہیں؟ لفظوں کے اس ہجوم میں اپنی بات سمجھانے یا کم سے کم سنانے کے لئے کیا لفظوں کی ترتیب  زیادہ معنی رکھتی ہے؟  آواز کی اونچائی اہم ہے یا پھر یہ کہ کہنے والا کون ہے کہ جن سے ہمیں ایک تعلق ہوتا ہے ان کی ادھ کہی باتیں اور ٹوٹے پھوٹے جملے بھی ہمیں پوری بات سمجھا جاتے ہیں اور بسا اوقت تو ان کہی بات بھی دل میں وحی و الہام بن کر اترتی محسوس ہوتی ہے۔  اس حقیقت سے انکار نہیں کہ ہر معاشرے میں بات ہمیشہ ان کی سنی گئی جنہیں بات کہنے کا سلیقہ آیا۔ یہاں لفظوں کے ایسے موتی بھی ہیں جو لہجے کی کمزور لڑی میں پروئے گئے اور ہمارے معاشرے کے ماتھے کا جھومر نہ بن سکے اور ایسے پتھر بھی ہیں جو آواز کی تندی میں لپیٹے گئے اور معاشرے میں کئی ماتھے ان سے مضروب ہوئے۔ نہیں بات صرف انکی ہی نہیں سنی گئی جن کی بات دل پہ اثر کرتی تھی چاہے وہ محبت کا درس ہو یا نفرت کا پرچار،  بلکہ  سماعتیں تو ان لفظوں کو بھی نصیب ہوئیں جن کی آوازو انداز ذہن و روح پر ایک بوجھ معلوم ہوتے تھے۔ لیکن ایسی کھوکھلی آوازیں دوام نہیں پاتیں، کسی کے قلب و ذہن میں گھر نہیں کرتیں اور بس وقت کے سمندر میں تحلیل ہو جایا کرتی ہیں۔

تو پھر میں کیوں لکھوں؟ میں تو لفظوں کے اس کھیل میں  کسی مسیحائی کا دعوٰے دار بھی نہیں جو میرے اور آپ کے زخموں کا  مرہم کا بن سکیں ناںمیرے  لفظ نشتر ہیں جو اس گھائل معاشرے کے وجود سے ٹوٹے ہوئے خوابوں کے کانچ نکال سکیں  ۔ میں  صرف اس لئے  نہیں لکھنا چاہتا کہ لکھ کر مجھے محض  اپنا کتھارسس کرنا ہے اور مجھے اس سے کچھ غرض نہیں کہ میں جو بات کہوں وہ کسی کی سمجھ میں آئے یا ناں آئے، کسی کا بھلا ہو یا نہ ہو، میں معاشرے کی اچھی بری تصویر بھی آپ کے سامنے رکھنے کا دعویٰ نہیں کروں گا کہ آپ کو اہل بصیرت مانتا ہوں اور  میں تو صرف اپنے علم، تجربے اور غرض کی آنکھ سے ہی واقعات کو فلٹر کرسکتا ہوں اور میرا ذہن انہیں خود پسندی کے تعصب میں ڈھال کر آپ کے سامنے پیش کرے گا۔ میں کوئی عالم بھی نہیں جو اپنی معلومات کے خزانے آپ پر لُٹا سکوں۔ میں جانتا ہوں کہ میں اور آپ، ہم دونوں جذبات میں گندھی ہوئی قوم سے تعلق رکھتے ہیں اور میں گو کہ جذبات سے کھیلنے کا ہنر جانتا ہوں لیکن یہی کام تو یہاں کا ہر دوسرا فرد کر رہا ہے۔  ’میں کیوں لکھتا ہوں‘ کی اس طولانی بحث میں آپ سب لکھنے اور پڑھنے والے یہ سوچنے میں حق بجانب ہیں کہ  پھرآخر میں  چاہتا کیا ہوں اور کیوں لکھ رہا ہوں ۔ اہل قلم نے  لکھنے کے لئے پڑھنا ایک بنیادی شرط بتائی ہے۔ 

میں پڑھتا ہوں تاکہ یہ جان سکوں کہ جس حقیقت کو میری آنکھ دیکھتی ہے وہی حقیقت میرے بھائی کو کیسی نظر آتی ہے؟ کسی واقعے یا سانحے پر جس طرح میرا دماغ ری ایکٹ کرتا ہے میرے بھائی کا دماغ اسی واقعے کو کیسے ڈی کوڈ کرتا ہے۔ اور انسانی رویوں کے اس حیرت کدے میں ایک معمولی واقعے پر مرنے مارنے والے بھی ملیں گے اور  ایک جان لیوا سانحے کو ہنسی میں اڑا دینے والے بھی۔

اور میں لکھتا ہوں تا کہ آپ کو بتا سکوں کہ سوچنے کے انداز مختلف ہوا کرتے ہیں۔ انسانی دماغ تو ایکPrism  ہے جو سوچ کی شعاؤں کو جانے کتنی جہات میں منتشر کر دیتا ہے اور یہی آئینہِ خیال بہت سی شعاؤں کو مرکوز بھی کر دیتا ہے ۔ اپنی سوچ کے پانی کو شفاف چشمے کی طرح بہتا رہنے دیں۔  اس کے ارد گرد اپنے نقطہ نظر کی حاکمیت، اپنے خیالات کی برتری اور اپنی علمیت کی بڑائی کی دیواریں کھڑی کر کے اسے متعفن نہ کریں۔ اور جب آپ مندرجہ بالا تمام تعصبات کی آلایشوں سے پاک ہو کر کسی بھی حوالے سے خود سوچیں گے اور دوسروں کی سوچ کے یہ انداز آپ کو ایک حیرت انگیز تجربے سے روشناس کریں گے۔  صاحب آپ کے رائے محترم  لیکن  میرے بھائی کی بھی تو سنئے۔    بات کا مغز سمجھئے اور  یہ نہ دیکھئے کہ کون کہہ رہا ہے۔ لعلکم تتفکرون  کے مخاطب بنئے۔      غور کیجئے، فکر کیجئے ۔ بس اب میں  اپنی سوچ کی ہانڈی ، لفظوں کے بگھارلگا کے آپ کی خدمت میں پیش کرتا ہوں ۔

(Visited 833 times, 1 visits today)

Ehsan Qamar belongs to Financial Management by profession & a freelance writer based in UAE. With a wide study on Urdu literature and current affairs, his areas of interests are social and moral issues. He can be reached out on twitter @ehsanqamar

One Comment

Leave a Reply

Got It!

اس ویب سائٹ کا مواد بول پلاٹون کی آفیشل رائے کی عکاسی نہیں کرتا. مضامین میں ظاہر معلومات اور خیالات کی ذمہ داری مکمل طور پر اس کے مصنف کی ہے