Here is what others are reading about!

ذمہ داریاں

یاور کے چائے ختم کرتے ہی میں نے اسے شیخ محی الدین العربی کے اس اقتباس سے نوازا، ’’الحق المحسوس والخلق المعقول‘‘، آؤ یاور صاحب، آج اس پر بحث کرتے ہیں،‘ وہ توجہ سے سن رہا تھا، میں نے ساتھ ہی ترجمہ بھی داغ دیا، ’وجودِ برحق یعنی Abstract کو ہم محض محسوس کر سکتے ہیں، عقل کی حدیں صرف مخلوق یعنی Material کو Perceive کر سکتی ہیں۔ تم کیا کہتے ہو؟‘

خلاء میں گھورتا یاور میرے فلسفیانہ ترجمے پر داد دینے کی بجائے سامنے کی دیوار کو گھور رہا تھا، بولا۔۔۔

عقل میں جو گھر گیا، لا انتہا کیونکر ہوا

جو سمجھ میں آ گیا پھر وہ خدا کیونکر ہوا

اس نے بات کا  آخاز نازؔ خیالوی کے شعر سے کیا، یعنی وہ میرے سوال کو خوب سمجھا تھا ، اب مزا آنے والا تھا، وہ بات کو آگے بڑھاتے ہوئے بولا،

’سر جی آپ ہی نے بتایا تھا کہ ڈیکارٹ کا کہنا ہے کہ ’میں سوچتا ہوں اس لئے میں ہوں‘، لیکن سر جی اتنا Basic Level کو شعور؟ بس؟ یہ شعور تو جانور بھی رکھتا ہے۔ وہ بھی سوچتا ہے کہ خوراک حاصل کرے، تدبیر کرتا ہے شکار کی، بچے پیدا کرنے اور انکو پالنے کا شعور۔

میں یقین رکھتا ہوں اس لئے میں ہوں، یہ منزل ایک انسان بلکہ کامل انسان یا مسلمان کی منزل ہے۔ جو کہ وجودِ کامل کے تعینِ ثانی کا اوج ہے، جہاں انسان حقیقتِ آدم کو جان لیتا ہے‘

’لیکن یاور میاں انہی یقین والے مسلمانوں کی چند نمازیں قیامت کے روز انکے منہ پر بھی مار دی جائیں گی، کیوں؟‘ اس کی باتوں میں ہمیشہ سے دلچسپی لیتا تھا، میں کیا، چھوٹے بڑے سبھی یاور کی سے ملنے کے مشتاق تھے۔ وہ پتا نہیں خود کیوں لکھنے سے گریزاں تھا، میں نے بہت بار کہا، کہ میاں لکھا کرو، پر ہمیشہ ہی سے کہتا، نہیں سر جی، میں بڑا نالائق ہوں، کچھ نہیں آتا، بس آپ دعا کریں کہ میری نالائقیاں دور ہو جائیں، میں حیرت میں گم تھا کہ اگر اب اسکا یہ حال ہے تو مستقبل میں کیا کرے گا یہ؟ لیکن میرے دل سے اس کے لئے دعا نکلتی تھی کہ خدا اس کو اس کی منزلِ مقصود پر پہنچائے۔

’سر جی ! اس سوال کا جواب صوفی دیا کرتا ہے‘، وہ پانی کے گلاس میں دیکھ کر یوں بولتا چلا جا رہا تھا گویا پانی میں کوئی اسکرپٹ رکھا ہو، اس کی روانی یوں تھی جیسے اس کو سب رٹا ہوا تھا، چہرے پر سکون تھا، وہ پل بھر کو رُکا، پھر میری طرف دیکھا، دھیمے سے مسکرایا، اس کی آنکھوں میں بلا کی خود اعتمادی تھی، پوری شفٹ کا کام کر کے بھی تھکن نام کو نہیں تھی، اسے آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرنے کی عادت تھی، مجھے متوجہ پا کر بولا، ’ہر اس مسلمان کی نمازیں اس کے منہ پر مار دی جائیں گی جو خود کو تو مسلمان کہے اور باقیوں کو کہے کہ وہ فرقہ جہنمی اور وہ کافر‘ جوش میں ہاتھ میز پر مارا، ’سر جی توجہ چاہیئے، واعتصمو بحبل للہِ جمیعاً ولا تفرقوا (آل عمران۔103)

لہٰذا جو بھی شخص یہ دعویٰ کرے کہ قرآن کو مانتا ہے ، اسے چاہیئے کہ وہ نہ صرف خود کامل انسان بنے، بلکہ اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامی، اور سب کو ساتھ لے کر بھی چلے، اگر وہ ایسا نہ کرے۔ یا کسی کو غلط کہے، تفرقہ پھیلائے، یا پھر یہ محض خود اللہ کی رسی کو تھامے اور دوسروں کو ساتھ لے کر نہ چلے، تو پھر سمجھ لیجیے وہ قرآن کا منکر ہے۔‘

’اور اس کےبعد؟‘ میرے سوالات بھی بے تاب تھے، وہ بھی جھٹ سے بولا۔۔۔

’سر جی، اس کے بعد آتی ہے ایک عارف اور صوفی کی باری، جو یہ کہتا ہے،

’میں ہوں، اس لئے میں ہوں‘

یعنی ’ھُو‘ کی منزل۔۔۔۔۔۔ Crystal Clear Clarity کی منزل۔۔۔۔۔!

اس منزل پر وہ اپنے شیشہِ دل کو اس قدر شفاف کر لیتا ہے کہ اس کے دل کے آئینے میں خدا کی جھلک واضع ہو جاتی ہے، اور منصور کے دل کی آواز اس کے حلق سے ہوتی ہوئی اناالحق کہتی ہے، دنیا کے عقول وقت کی چھوٹی سے چھوٹی اکائی ’ابھی‘ (عقل ہے محوِ تماشائے لبِ بام ‘ابھی’)، یعنی آن کی آن میں اس کا کفر ثابت کر دیتی ہیں، اور وہ یعنی صوفی، اپنے اناالحق کو لئے وتوا صوبالصبر کی سولی پر چڑھ جاتا ہے۔‘

میں نے اثبات میں سر ہلایا، اس کی کسی بات سے میں آج تک اختلاف نہیں کر پایا، میں نے کہا، ’گویا اس کا مطلب یہ ہوا کہ کیونکہ عقل اور عشق میں یہی تو فرق ہے کہ عشق سوچتا نہیں ہے لہٰذا بے خطر آتشِ نمرود میں غوطہ زن ہو کر قطرے کوقلزم کر دیتا ہے، اور صدا آتی ہے۔۔۔

؎ میں تو دریا ہوں سمندر یں اتر جاؤں گا‘

’’ہُو بہو سر جی، بہت خوب، کیا الفاظ ہیں واہ‘ اس کے لہجے میں اس قدر تائید اور اس کی آنکھوں میں وہ چمک تھی کہ میں نے اس کو نجانے کیا دے دیا تھا، مجھے لگا میری بات کسی آسمانی صحیفہ کا اقتباس ہے،

’اورعقل بچاری کناروں پر کھڑی مزے لیتی رہتی ہے۔صوفی یہ جان لیتا ہے کہ اصل کیا ہے، اور عکس کیا ہے!

آج ہر شخص زمانے کے خسارے کو بیان کرتا ہے، زمانے کی برائیوں کو سامنے لانے والے بلاشبہ عظیم المرتبت لوگ ہیں، لیکن اس سے بھی زیادہ اور مقدس ذمہ داری ان لوگوں پر عائد ہوتی ہے، جو سوچنا جانتے ہیں، جو لوٹے میں پانی کی مقدار، ٹخنوں سے اونچی اور نیچی شلوار، اور روزے میں دس منت کم یا زیادہ کی بحثوں سے آگے کے لوگ ہیں۔

ان لوگوں کا فرض ہے کہ برائیاں سامنے لانے کے ساتھ ان کا حل بھی دیں، شرمین عبید صاحبہ نے بہت اچھا کیا کہ زمانے کی ایک لعنت سامنے لے کر آئیں، لیکن میں کہتا ہوں حل نکالنا چاہیئے، راستے متعین کر کے دینے کی ضرورت ہے، یہ بتا دینے کی ضرورت ہے کہ ہر انسان دوسرے سے مختلف ہے، ہم روبوٹس نہیں انسان ہیں، ہمیں کسی کو قائل کرنے کے لئے گولی چلانے کی ضرورت نہیں ہے، ہر شخص منصور کے لیول پر آسکتا ہے، فی زمانہ اس کی کوئی سنے یا نہیں، مگر نفسِ مطمئنہ کی شفافیت کے بعد لہو کا ہر قطرہ اس کے مقصد کی تبلیغ کرے گا۔ قائد جیسے بلند کردار لوگوں کو سامنے آنا ہو گا سر جی۔

یار یاور آج کے لوگوں میں ایسے اوصاف کہاں سے آئیں گے، جن میں ہوں گے وہ بھی خاموش بیٹھے ہوں گے، کسی فتویٰ کے ڈر سے، مار دیئے جانے کا ڈر سے؟ اس کے تؤقف کرتے ہی میں نے سوال کر دیا

’اٹھ کر آئیں وہ شفاف لوگ، وہ عاشق لوگ، جو اس ڈر سے خاموش ہیں کہ کوئی ان کا ساتھ نہیں دے گا،‘ یاور آج جوش میں تھا، ’ان پر کافر، شیعہ، قادیانی، ملحد، کمیونسٹ جیسے الزامات لگیں گے، پاگل پاگل کہہ کر پتھر مارے جائیں گے، بس اٹھ کھڑے ہوں، آپ اپنا کام شروع کر دیں، ایک سے دو، دو سے چار، چار سے آٹھ، آٹھ سے سولہ اور سولہ سے بتیس ہوں گے، آپ کا دشمن بھی اسی طرح بڑھ رہا ہے، اور آپ اکیلے خاموش اللہ کی رسی کو پکڑے بیٹھے ہیں، سب کو ساتھ لے کر تفرقوں سے پاک ہو کر چلیں، سب کو ساتھ نہ لیا تب بھی اللہ کے حکم سے روگرداں ہوئے۔‘

اس کا لہجہ دھیما ہوا، پانی کا گھونٹ بھرا، اور گہری سانس لے کر بولا،

’موت سے، تنہائی سے، Spiral of Silence سے ڈر کر سہمے ہوئے دُبکے بیٹھے رہے تو کیا کریں گے آپ؟ یقین کریں کہیں کے نہیں رہیں گے۔ اس مقام سے آگے عاشق جا سکتے ہیں، بس بے خطرکود پڑیں، ‘

سب سے پہلے اپنی اصلاح شروع کریں سر جی، یاور اپنی، اور آپ اپنی، دوسروں کی دوزخ جنت کے ٹھیکیدار بننا چھوڑ دیں، بس اپنے شیشہِ دل کو Crystal Clear Clarity سے مزّین کریں اور پھر اس کے بعد کی منازل طے کرنا کٹھن نہیں ہو گا۔ پس خود کی آگہی آتی جائے گی، منازل واضع ہوتی جائیں گی۔ یاد رکھیں انبیاء ؑ کا سلسلہ ختم ہو چکا ہے، خدا کوئی آسمانی صحیفہ نہیں اتارے گا، وہ چاہتا ہے کہ اس کا خلیفۃ فی الارض اپنے سوالوں کے جواب تلاش کرے۔ یاد رکھیئے گا، آپ کا ایک ہزار ہو نا سر جی تو اس کا جواب آپ کے اندر ہی سے نکلے گا۔ آپ کے تلاش کا پایہِ تکمیل تک جا پہنچنا ہی آپ کی جنت ہے، اور آپ کی اس جھلک کو پرکھنے تک کا مرحلہ برزخ۔۔۔۔

’جھلک کونسی، برزخ کیسے؟‘ میں نے مختصر سوال کیا، میں اسے زیادہ سے زیادہ بولنے کا موقع دینا چاہ رہا تھا،

’ سر جی دیکھیں، حق آپ کو جھلک دکھاتا ہے، کیونکہ یہ اس کے عدل کا لازمی جزو ہے، چاہے آپ افریقہ کے جنگلوں میں بیٹھے ہیں یا تھر کے کسی صحرا میں بلک رہے ہیں، حق پر یہ لازم ہے کہ وہ آپ پر وارد ہو، ورنہ کل کو مجھ جیسا کوئی سر پھرا حق سے سوال کر دے گا، کہ حساب کیسا، مجھ پر کہاں وارد ہوا تھا، وہ اترتا ہے، لازماً، یہ آپ پر موقوف ہے کہ آپ اس Flash سے حق کو پہچان کر ’ہو کی جانب گامزن ہوتے ہیں یا بے یقینی اور تذبذب کے برزخ میں کڑھتے رہتے ہیں۔ آپ کواپنی Crystal Clear Clarity کو اس قدر کامل کر لینا ہے اور ااپنے اندر سوچ کے عمل کو شروع کرنا ہے، میرے الفاظ میں وہ سکت نہیں ہے سر جی جو انسان کی سوچ میں ہے، انسان زیادہ سے زیادہ ایک سیکنڈ میں پانچ سے دس الفاظ بول لیتا ہو گا، لیکن سوچ کے ایک سیکنڈ کے ہزارویں حصے میں کروڑوں خیالات گردش کر سکتے ہیں یا پھر اس سے بھی کہیں زیادہ، سر جی جب ہم Crystal Clear Clarity والے آئینے میں اپنی سوچ کے عمل کو جاری رکھیں گے تو اس سے سوالات جنم لیں گے، سوال قفل کی مانند ہوتا ہے، وہی سوال اپنا جواب ہوتا ، اس قفل کی چابی ماحول سے ملتی ہے، جب سوالات کے قفل موجود ہوں گے تو باہر سے جب Flash ٹکرائے گا تو وہ اس کنجی کا کردار ادا کرے گا اور ہمیں ہمارا جواب مل جائے گا، قفل کھل جائے گا، آزادی مِل جائے گی یا کم سے کم راستہ ضرور مل جائے گا، یا کم سے کم نظر ضرور آ جائے گا‘

میں نے غور کیا تو واقعی اس کی بات سچ تھی کہ درک کی قابلیت قال سے کہیں زیادہ ہے۔ موقع ملتے ہی میں نے سوال کر دیا

یار اب یہ بھی بتا دو کہ اس جھلک یا فلیش کو ہم کیونکر پہچان پائیں گے کہ یہی ہماری کال ہے، رانگ نمبر نہیں ہے، ،

یاور کے پاس بھی ہر سوال کا جواب ہوتا تھا شائد، کہنے لگا، ’سر جی وہی Crystal Clear Clarity بس اس کو حاصل کر لیں، یا کم سے کم اس کی جستجو میں لگ جائیں، آپ اپنی جھلک کو پہچان جائیں گے‘

یاور نے اجازت چاہی، اور اس بار پھر میں گم صم تھا، لیکن حیرت سے نہیں، سوچ میں، یاور نے مجھ میں ایک سوچ برپا کر دی تھی، میں نے ٹھان لی تھی کہ اپنا کردار حتیٰ الوسع ادا کروں گا، جہاں تک ہو سکا اس کی بتائی ہوئی Crystal Clear Clarity کے حصول کی کوشش کروں گا، مجھے حق کی پہلی جھلک نظر آگئی تھی، مجھے معلوم ہو گیا تھا، کہ راستہ اور منزل میرے اندر ہی کہیں موجزن ہیں، میں اب ان کو کھوجنے کی مہم پر نکلنے والا تھا۔۔۔۔۔۔۔

(Visited 508 times, 1 visits today)

Ali Adeeb is a freelance writer based in Islamabad. He works as a content producer and copy editor at Such TV. He’s areas of interests are science, religion and logic.

Leave a Reply

Got It!

اس ویب سائٹ کا مواد بول پلاٹون کی آفیشل رائے کی عکاسی نہیں کرتا. مضامین میں ظاہر معلومات اور خیالات کی ذمہ داری مکمل طور پر اس کے مصنف کی ہے