Here is what others are reading about!

ضمیر

نیم اندھیرے کمرے میں، ساکت لمحوں میں موجود جلتے ہوئے،ساکت فضا میں معلق مدھم بلب کی ٹمٹماتی روشنی میں لکھ لکھ کر اس عمر رسیدہ بوڑھے کے لاغر، استخوانی اور رعشہ زدہ ہاتھ دُکھے جاتے ہیں لیکن کیا کرے کہ اس کا یہ لکھنا اب اس کی آخری ہچکیاں لیتی نیم مردہ سانسوں کی روانی کا سہارا ہے ۔۔۔ بمشکل اپنا بچا کچا وجود سنبھالے اس آس میں اُٹھ بیٹھا ہے کہ شاید دل کا بوجھ ہلکا کرلینے سے ذرا سکون کی موت مر سکے ۔۔۔ اس کے بس میں اب سوائے جلنے اور کُڑھنے کے کچھ رہا نہیں تو بمشکل لکھنے پر ہی اکتفا کرلیا ہے ۔۔۔

“ضمیر” ایک عام منحنی اور نحیف سی کمزور اور لاغر شئے ہو کر رہ گیا ہے جو اپنی جوانی میں خاصا تگڑا اور زورآور ہوا کرتا تھا۔ جہاں کہیں کسی کا حق چھین لیا جائے، کسی کے ساتھ زیادتی کی کوشش کی جائے ایسے میں ضمیر ایک واحد ایسی ہستی تھا جو اُٹھ کھڑا ہوتا اور ہر ظالم و جابر کے آگے سینہ سپرہو کر کھڑا ہو جاتا۔ بڑے بڑے سُورما اس کے آگے پانی بھرا کرتے اور اس کے دم خم کے قصے کہانیاں ایک دوسرے کو سنایا کرتے۔

“زندگی” ہاں زندگی ہی تو نام تھا اس کا جس کے ساتھ “ضمیر” کا گہرا رشتہ جڑا تھا ۔۔۔ لوگ مثالیں دیا کرتے تھےکہ جہاں کہیں زندگی پر کڑا وقت پڑا، ضمیر نے لبیک کہا ۔۔۔ “زندگی” کی اک ذرا سی تکلیف پر “ضمیر” تڑپ اُٹھتا ۔۔۔ لیکن نہ جانے ان کی محبت کو کس کی نظر لگ گئی ۔۔۔ دونوں ایک دوسرے سے جیسے بے زار ہوتے چلے گئے اور آہستہ آہستہ زندگی بے حس ہو گئی اور ضمیر بوڑھا ۔۔۔ وقت گزرتا گیا اور “ضمیر”گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ کمزور ہوتا چلا گیا ۔۔۔ گزرتے وقت اور زمانے میں تبدیلی کے ساتھ ساتھ اس میں وہ دم خم، وہ تیور تبدیل ہوتے گئے جن کی بنا پر وہ عموماً “جاگ” جایا کرتا تھا۔۔ اب زندگی توکہیں تعصب کے گھور اندھیروں میں ڈوب چکی ہے ۔۔۔ ضمیر کی حالت بہت تشویش ناک ہے، نہ بول پاتا ہے نہ کچھ کہہ پاتا ہے ۔۔۔ چاہے کسی کے ساتھ کتنا ہی کچھ بُرا ہو جائے ضمیر، آخری سانسوں کی ہچکیاں لیتے ہوئے بس سویا رہتا ہے ۔۔۔ جاگتا بھی ہے توحالات پر جل کُڑھ کر بس لکھ لیا کرتا ہے اور اب اس کے سِوا چارا بھی کیا ہے؟

ہم سب کی آج کل حالت اس نیم مُردہ “ضمیر” سے مختلف تو نہیں! ہم بھی اسی طرح شب و روز بسر کرتے ہیں ۔۔۔ کوئی مرے یا جئے، ہمیں کیا؟ کسی کے ساتھ زیادتی ہو، کسی کی زندگی عذاب ہو جائے، ہمیں ہماری چادر، ہماراتکیہ پیارا ہے بھائی! ۔۔۔ ہمارے ساتھ ہؤاہوتا تو تب سوچتے، وغیرہ وغیرہ ۔۔۔ ایسے ہی بے سروپا جوابات ملتے ہیں اگر کسی سے پُوچھئے کہ بھائی خبر بھی ہے پڑوسی کے گھر فاقے ہو رہے ہیں؟ تو جواب ملتا ہے ہاں وہ خدا کو بھول بیٹھے ہیں فاقے تو ہونگے ہی ۔۔۔ خود پر بن آئے تو آزمائش کا نام دیتے ہیں ۔۔۔ جو افراد آٹے میں نمک کے برابر ذرا احساسات رکھتے ہیں وہ اس بے چارے “ضمیر” کی طرح لکھ کر خود کو ہلکا کرلیا کرتے ہیں ۔۔۔ افسوس “بے چارا ضمیر” ۔۔۔

درحقیقت من حیث القوم ہم سے بڑا منافق کوئی نہیں۔ مذہب کا نام لے کر جو گھناؤنے جھوٹ، دھوکے، بغض و حسد کی آگ ہم دوسروں کے گھروں میں لگاتے ہیں شاید اپنی محدود عقل کی بنا پر غافل ہوجاتے ہیں کہ آگ بھڑکتی ہے تو بس پھیلتی ہی جاتی ہے اور لوٹ کر اپنے محور تک ضرور پہنچتی ہے۔کسی غریب کی دو وقت کی روٹی بھی انسان کو جنت دلوا سکتی ہے لیکن شاید ہم اندھے، بہرے اور گونگے ہو چکے ہیں ۔۔۔ یقین، ایمان اور آخرت سے بے بہرہ من حیث القوم ہم خوش ہونا بھی جانتے ہیں، لیکن دوسروں کی بربادی پر، تکلیف پر، نقصان پر! اندر سے مُردہ ہیں، جینے کا بس دکھاوا کیئے جا رہے ہیں ۔۔۔ زندگی بھی مر چکی ہے، ضمیر بھی کب کا مر چکا ہے ۔۔۔ اس قوم کا بھی اور اس قوم کے چرواہے کا بھی۔۔۔۔

ایک تابوت ہو اضافی بھی

مر  گیا  ہے  ضمیر  حاکم  کا

(Visited 522 times, 1 visits today)

Asad Ali is an IT professional based in UAE. He’s a keen craver of literature, art, calligraphy and sketching. Addicted to Sufism, his areas of interests are social and moral issues.

Leave a Reply

Got It!

اس ویب سائٹ کا مواد بول پلاٹون کی آفیشل رائے کی عکاسی نہیں کرتا. مضامین میں ظاہر معلومات اور خیالات کی ذمہ داری مکمل طور پر اس کے مصنف کی ہے