Here is what others are reading about!

اشتہاری دنیا

آئیے آپ کو آج ایسی دنیا کی سیر کرواتی ہوں جس کو ‘اشتہاری’ دنیا کہا جاتا ہے… ارے ارے اس کا تعلق پولیس کے اشتہاری ملزمان سے نہیں ہے بلکہ ٹی- وی پر آنے والے اشتہارات  سے ہے یعنی ایڈورٹزمنٹ ورلڈ….             
آئیے دیکھتے ہیں کہ سائنس کی ترقی کے ساتھ ساتھ کیسے ان اشتہارات نے کروٹ بدلی….

تو جناب سب سے پہلے بات کرتے ہیں پورے پاکستان کے سب سے بڑے مسئلے کی… جی ہاں لڑکیوں کا گورا پن… دیکھیے جی اگر لڑکی گوری نہیں ہو گی تو لڑکے اس کو دیکھے گے نہیں اور اگر لڑکے نہیں دیکھیں گے تو بے چاری کی شادی کیسے ہو گی؟ اور اگر شادی نہیں ہو گی تو اس کی زندگی کا کیا فائدہ؟؟؟
اب مثال لیتے ہیں پاکستان میں بکنے والی سب سے زیادہ اور سستی رنگ گورا کرنے والی کریم کی… اس اشتہار کے مطابق یہ کریم استعمال کرنے سے خاتون میں اسقدر خود اعتمادی آ جاتی ہے کہ صاحبہ نہ صرف ایک خوشحال لڑکے سے شادی سے انکار کر دیتی بلکہ 3 سال کے اندر اندر اپنا گھر بنانے کے بھی قابل ہو جاتی ہیں… اب کوئی یہ پوچھے کہ بھائی گورے رنگ کا گھر بنانے کا کیا تعلق؟ ؟؟ ویسے آپس کی بات ہے کہ ہم بھی پچھلے 15 سال سے وہ ہی کریم استعمال کر رہیں ہیں…. گھر بنانا تو دور کی بات آج تک ڈھنگ کی نوکری تک نی ملی…               
اب ایک اور گورا رنگ کرنے والی کریم کا قصہ سنئے…. اشتہار میں کام کرنے والی موصوفہ دفتر میں کام کرنے والے مردوں کی انکھوں کا تارا بننا چاہتی ہیں مگر اپنے سانولے رنگ کی وجہ سے ناکام نظر آتی ہیں مگر کریم استعمال کرنے کے بعد ہر مرد ان کے سامنے دم ہلا رہے ہوتا ہیں اور خاتون کہتی ہیں 
“یہ ہی تو ہم لڑکیاں چاہتی ہیں”… بھلا کوئی پوچھے باجی آپ دفتر میں کام کرنے جاتیں ہیں یا نین مٹکا کرنے…. معذرت کے ساتھ مگر یہ بات ہماری اخلاقی قدروں کے خلاف ہے….

اب چلتے ہیں بچوں کے دودھ کے اشتہارات کی جانب… 
یعنی خوف خدا نام کی کوئی چیز ہی نہیں… اگر آپ بچے کو اس برنڈ کا دودھ نہیں دیں گے تو آپ کے بچے میں آئرن، وٹامن، نشاستہ اور خدا جانے کیا کیا کمیاں رہ جائیں گی اور آپ کا بچہ بے چارہ دکھنے لگے گا… کوئی زرا مجھے یہ بتائے کہ یہ بڑے بڑے پہلوان اور باڈی بلڈرز بھی یہ ہی دودھ پی کر آج یہاں پہنچے ہیں؟؟؟؟

لو جی اب آگر بات صحت کی ہو رہی ہے تو ہم صفائی کو کیسے بھول سکتے ہیں؟؟؟ آخر صفائی تو نصف ایمان ہوتا ہے…. تو بات کرتے ہیں صابن کے اشتہارات کی… پاکستان میں صابنوں کی دو اقسام پائی جاتی ہیں… ایک طفلی صابن اور ایک بالغ صابن….   
جیسا کہ نام ہی سے ظاہر ہے کہ طفلی صابن ہماری قوم کے نونہالوں کے لیے ہے… آپ کے بچے ہمہ وقت جراثیم کی لپیٹ میں ہوتے ہیں…اور یقین جانیے اگر آپ اپنے بچوں کو یہ صابن نہیں استعمال کروائیں گے تو انہیں خدانخواستہ کوئی جان لیوا بیماری آ گھیرے گی… اس لئے خدا کے لئے ہوشیار رہئے اور اپنے بچوں کی جان کی امان کے لیے یہ ہی صابن استعمال کریں…   
صابن کی دوسری قسم ‘بالغ صابن’ ہیں… اس کے نام سے تو ظاہر ہوتا ہے کہ یہ بالغان کے لیے ہیں مگر یہ دراصل خواتین کے لیئے ہیں. مردوں کا کیا ہے منہ دھوئیں یا نہ دھوئیں کون سا فرق پڑتا ہے اور ان کے چہرے کس نے دیکھنے ہوتے ہیں….       
مگر خواتین کے منہ نہ دھونے سے کروڑوں دلوں پر فرق پڑتا یے اور اگر آپ کے زیر استعمال صابن میں خوشبو نہیں ہے تو آپ کے منہ دھونے کا بھی کوئی فائدہ نہیں… ان صابنوں کے وجود میں بھی آنے کی بھی وہ  ہی وجہ ہے کہ خواتین مردوں کے دل جیت سکیں… اگر آپ یہ صابن استعمال نہیں کرتیں تو آپ ایک ایسی بد صورت عورت ہیں جس کو روح زمین پر کوئی شخص محبت نہیں کرتا….

اب آتے ہیں برتن صاف کرنے والے اشتہارات کی جانب… ان اشتہارات میں ایک عورت سپر مین کا کردار ادا کرتی ہے اور اور جھٹ پٹ بارات میں گندے کیے جانے والے سیکڑوں برتن دھو دیتی ہے. چلیں یہ بات تو پھر بھی قابل قبول ہے مگر ٹوائیلٹ کلینرز کے اشتہارات دیکھ کر مجھے کبھی کبھی انسانیت پر شک ہونے لگتا ہے…. ٹی وی پر کام کرنے والے بڑے بڑے معروف فنکار ہاتھ میں ٹوئیلٹ کلینر لیئے گھر گھر ایسے گھوم رہے ہوتے ہیں جیسے وہ باتھ روم نہیں ملک میں پیش آنے والے مسائل اور اس کی معاشی ترقی میں موجود رکاوٹیں صاف کر رہیں ہوں… ان کا بس نہیں چلتا کہ زبان سے چاٹ کر دکھا دیں کہ اس کلینر سے باتھ روم کتنا صاف ہو گیا ہے. اگر اتنی ہی صفائی یہ اپنے ملک کے اسمبلیوں کی کرہیں تو یقین جانیے پہلی نہ سہی مگر دوسری دنیا کے باسی ضرور بن سکتے ہیں

ان اشتہارات میں ہمیں ایک بنی سنوری عورت نظر آتی جس نے میز پر مختلف قسم لے پکوان تیار کر کے رکھے ہوتے ہیں مگر اس کے چہرے پر تھکن کا کوئی نام ونشان نہیں ہوتا بلکہ وہ بے حد تازہ دم نظر آ رہی ہوتی اور اور اس کا چہرہ میک اپ کی لوازمات سے لبریز ہوتا ہے اور یہ ہی نہیں بلکہ نہ جانے ان گھی اور تیل کے اشتہارات کا ڈانس اور گانے سے کیا سمبندھ ہے کہ اس میں پکے کھانے کھانے کے بعد تمام خاندان ناچ ناچ کہ پاگل ہو جاتا ہے. شاید ان میں ڈانس کی گولیاں ملی ہوتی ہیں. ٹو ان ون… گھی کہ ساتھ ذانس مفت سیکھیے… مفت… مفت… مفت…              
اور اگر آپ یہ گھی نہیں استعمال کریں گےتو دل کے عارضے میں مبتلا ہو جائیں گے… کیونکہ یہ دل کا معاملہ ہے…

لیجیے جناب آج کل ایک نیا تماشا ٹی-وی پر نظر آ رہا ہے… جی ہاں زنانہ جوتوں کے اشتہارات…جس میں اس قدر غیر انسانی جوتے دکھائے گئے ہیں کی کوئی عام عورت وہ جوتے پہن کر باعزت طور پر واپس گھر نہیں آ سکتی… بیچ میں کئی جگہ وہ ضرور زمین بوس ہو گی…. لگتا ہے اشتہار بنانے والی کمپنی نے یہ بات بہت سنجیدگی سے لے لی ہے کہ عورے اپنے جوتوں کو خنجر کے طور پر بھی استعمال کر سکتی ہے….

اب کل کا قصہ سنیے… ان اہی شتہارات کو لے کر ایک دوست آہ وبکا کر رہا تھا کہ یہ تمام اشتہارات عورتوں کے لیے ہی کیوں ہوتے ہیں؟ میں نے بے چارے کو تسلی دی کہ دیکھو نہ بوتلوں اود شیمپو کے اشتہارات میں بھی تو مرد ہوتے ہی ہیں نہ تو کہنے لگا یہ ہی تو دکھ یہ کہ وہ اشتہارات ہمارے لئے نہیں ہیں کیونکہ ان میں کوئی عورت ہی نہیں ہے… دراصل یہ مشہوریاں ہوتی تو خواتین کی پروڈکٹس کی ہیں مگر ان مشہوریاں کے اثرات مرد حضرات پر زیادہ دکھائی دیتے ہیں. کیسے؟؟؟؟؟
یہ میں آپ کو ابھی واضع کر دیتی ہوں….

مگر ارے ارے سب سے اہم اشتہارات تو میں بھول ہی گئی… جی ہاں درست پہچانا آپ نے… لان کے جوڑوں کا اشتہار…      
کچھ مجھ جیسی غریب خواتین ہوتی ہے جو اس ڈر سے مالز نہیں جاتیں کہ اگر کوئی جوڑا پسند آ گیا اور جیب میں پیسے نہ ہوئے تو یوں ہی تمام عمر کا روگ لگ جائے گا کہ میں نے ‘سورج’ برانڈ کی سمر کلیکشن کے والیم 2 کا سرخ جوڑا نہیں خریدا تھا مگر یہ برانڈ والے ہمیں گھر میں بیٹھے بیٹھے بھی احساس کمتری کا شکار بنا دیتے ہیں….
پچھلے ہفتے میں اپنے میاں اور ساس کے ساتھ ٹی-وی دیکھ رہی تھی کہ ایک دبلی پتلی ماڈل جدید طرز کا لان کا سوٹ پہنے ٹی وی پر مٹک رہی تھی… میری ساس سادی عورت کہنے لگیں….  
“ہائے ہائے کتنی خوبصورت لڑکی ہے مگر دیکھو بے چاری نے لان کا جوڑا پہنا ہوا ہے کم از کم اس کو سلک کا سوٹ تو پہنا دیتے کیسی غریب لگ رہی ہے…. “
میرے میاں جو ماڈل کے حسن سے خاصے مرغوب دکھائی دیتے تھے کہنے لگے…
“اماں لان اب امیر لوگ پہنتے ہیں اور سلک تو گاوں میں مزاروں کی بیویاں پہنتی ہیں”          
“ہائے ہائے دیکھ اس نگھوڑ مارے کو… میرے جہیز کی کے سلک کے جوڑے اب تک نئے نکور پڑیں ہیں… بکواس کرتا ہے کہ غریب سلک پہنتے ہیں…” ساس نے تلک کر جواب دیا…. میں تو ماں بیٹے کی اس بحث میں چپکی بیٹھی رہی… آخر بہو جو ٹہری….       
بہرحال اگلے ہی دن میرے میاں میرے لیے وہ ہی سلا سلایا جوڑا اٹھا لائے مگر جب میں نے وہ جوڑا زیب تن کیا تو ان کے چہرے پر موت کا دکھ طاری تھا…. اب کہاں ماڈل کا دبلا پتلا جسم اور کہاں مجھ جیسی گھر میں رہنے والی بے ڈھول جسم کی عورت….              
اب دیکھئے اس میں میرا کیا قصور ہے؟؟؟ اس طرح یہ اشتہار عورتوں سے زیادہ مردوں کو متاثر کرتے ہیں

ان اشتہارات نے ہی شوہروں کا دماغ خراب کر دیا ہے کہ اپنی معصوم اور سادہ بیوی میں یہ گورے رنگ والی، دبلے جسم والی، خوشبو والا صابن استعمال کرنے والی، ہونٹ سکیڑ کر آئس کریم کھانے اور جوس پینے والی اور لان کا سوٹ پہننے والی ماڈل تلاش کرتے ہیں…. آپ ہی بتائیے کیا یہ کھلا تضاد نہیں…؟؟؟ اب بھلا عورت گھر میں ان مردوں کے بچے اور مائیں سنبھالے یا ‘اشتہاری ماڈل گرل” بن کر پھرے؟؟؟

نوٹ: برائے مہربانی اس آرٹیکل کو کیپٹلسٹس ، ماڈل گرلز اور سیاستدانوں کی پہنچ دور رکھیں… اور خاص طور پر ان سرمایہ کاروں سے جو اس وقت پاکستان نامی ملک چلا رہیں ہیں…. سیاستدانوں اور ماڈل گرلز کا تعلق تو آپ اب خود ہی سمجھ جائیں…میں یہاں وہ بھی بتا دیتی مگر سو موٹو ایکشن کے بارے میں تو آپ نے بھی سن رکھا ہو گا…

 

(Visited 624 times, 1 visits today)

Anila Moin Syed is a freelance writer and a feminist based in Islamabad. Her areas of interests are history, culture, philosophy, religion and social issues. She can be reached out on twitter @anila_moin

One Comment

Leave a Reply

Got It!

اس ویب سائٹ کا مواد بول پلاٹون کی آفیشل رائے کی عکاسی نہیں کرتا. مضامین میں ظاہر معلومات اور خیالات کی ذمہ داری مکمل طور پر اس کے مصنف کی ہے