Here is what others are reading about!

کتوں کا مقدمہ

اُردو ادب میں کُتوں کو پطرس بخاری اور جناب فیض صاحب جیسے صاحبانِ قلم بھرپور خراج تحسین پیش کر چُکے ہیں۔اِس سے آپ اِس جانور کی اہمیت کا اندازہ کر سکتے ہیں۔میرا تجربہ کُتوں کے حوالے سے جنابِ پطرس کے بالکل اُلٹ رہا ہے ۔پطرس کا گھوڑے کی رفتار سے چلنے والا قلم بھی کُتے کی آواز پر تھر تھر کانپنے لگتا تھا جبکہ مجھے بچپن سے ہی اپنے گاؤں مکھناں کی تاریک ترین راتوں میں کُتوں کی آواز سُن کر تحفظ کا احساس ہوتا تھا۔
ہمارے گاؤں مکھناں کے سرحدی محلوں میں کُل مِلا کر تین چار کتے ضرور ہوا کرتے تھے۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ پورےگاؤں کی چاروں اطراف سے حفاظت کے لیے مجموعی طور پر پندرہ بیس کتے موجود رہتے تھے ۔ عشاء کی نماز کے بعد گاؤں کے باسی بمشکل گھنٹہ بھر ہی جاگ پاتے تھے ۔گاؤں کی کُل آبادی شاید ڈیڑھ دو ہزار ہوا کرتی تھی ۔جب دِن بھر کی محنت مزدوری کھیتی باڑی نوکری سے تھکے ہارے مکھنوی گہری نیند سو جاتے تو گاؤں کے چاروں کونوں میں موجود کتے ایک دوسرے کا حال احوال بہ آوازِ بلند لینا شروع کر دیتے تھے۔ کبھی ایسا نہیں ہوا کہ رات کی تاریکی میں گاؤں کی بغل سے گزرتے کسی مسافر نے کتوں کی آواز سُن کر گُمان تک بھی کیا ہو کہ یہ شاید کتوں کا گاؤں ہے کہ ہر طرف سے صرف بھونکنے کی آوازیں ہی آ رہی ہیں ۔
اذان فجر کے پہلے کلمے کے ساتھ ہی گلیوں میں چہل پہل شروع ہو جاتی تھی ۔ کوئی سبزی لے کر منڈی جا رہا ہے تو کوئی دودھ گاؤں کی دُکان پر لا رہا ہے ۔نمازی مسجد کا رخ کرتے اور پرندے آسمانوں کا۔تھوڑی دیر میں گلیاں نیلا اور کالا یونیفارم پہنے بچوں سے بھر جاتیں ۔انسانوں کو بیدار دیکھ کر کُتے عجب انکساری سے اپنے فرض کی ادائیگی کے بعد گھروں میں موجود مخصوص جائے رہائش میں بیٹھ کر اونگھنا شروع کر دیتے ۔یہ کُتے بہت لاڈلے ہوا کرتے تھے ۔انھیں صاف سُتھری رہائش فراہم کی جاتی تھی۔اِن کی خوراک کا بہترین انتظام ہوا کرتا تھا ۔حالانکہ ریکارڈ پر اِن کی کسی چور کے خلاف کوئی خاص مڈبھیڑ بھی نہیں تھی۔یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اِس میں اِن کُتوں کا کوئی خاص قصور نہ تھا کہ اُس زمانے میں چور بھی سُست الوجود تھے جب تک اُن کی جان پر نہیں بن آتی تھی چوری کو وہ گُناہ سمجھتے تھے ۔بھلا ہو اِس ترقی کا کہ اب آدھی چوریاں تو حق بن چکی ہیں اور باقی چوریاں انجام دینے والوں کو عرفِ عام میں کُتا ہی کہا جاتا ہے ۔
بات چل رہی تھی لاڈلے کُتوں کی جن کے نخرے سنبھالے نہیں سنبھلتے تھے ۔کُتوں کی دوسری قسم وہ ہوا کرتی تھی جو آج کل عام ہے اور جن کا تذکرہ فیض صاحب نے اپنی نظم “کُتے ” میں بھی کیا ہے ۔جی ہاں “آوارہ و بیکار کُتے “” ۔ یہ سوتے تو انسانوں کی طرح تھے یعنی رات میں لیکن اِن کا دِن دیسی سیاستدانوں کی طرح گزرتا تھا۔کبھی دُم دبائے اِس نُکڑ پر تو کبھی اُس ڈیرے پر ۔اِن کا گذر بسر گِری پڑی ہڈیوں پر ہوا کرتا تھا۔عام طور پر پبلک کو اِن سے کوئی پریشانی نہیں ہوتی تھی بشرطیکہ ہڈی صرف ایک نہ ہو۔وہ ہمارا بچپن تھا جب کُتے ہمیں پہچانتے تھے اور ہم کُتوں کو ۔
جی ہاں دو دھائیوں کے بعد احساس ہو رہا ہے کہ ہم انسان بھی عجیب منافقانہ رویوں کا شکار ہو چُکے ہیں ۔ ہمارے دوہرے معیار سے انسان تو انسان بے چارے جانور بھی محفوظ نہیں۔ ایک لمحے کے لیے لفظ “کُتا” پر ہی غور کر لیجیے ۔ عام اُردو بول چال میں یہ لفظ ایک بدترین گالی ہے اور بوقت ضرورت نر یا مادہ کے حساب سے داغی جاتی ہے جب کہ انگریزی میں اِس کی مادہ زیادہ مستعمل ہے ۔ماضی اور حال کا شاید ہی کوئی سیاسی لیڈر ہو گا جس نے اپنے مخالفین سے یہ لقب حاصل نہ کیا ہو۔اِس میں صدر ، وزیرِ اعظم ، جنرل ،وزیر اعلیٰ کی کوئی تخصیص نہیں ۔اب بھلا اِن تمام عہدوں سے بے چارے کُتے کا کیا واسطہ ۔اِن سب کو “بطورِ گالی “شیر ” کہہ دیتے تو بھی کُچھ تُک بنتی تھی کہ وہ جنگل کا بادشاہ بھی ہوتا ہے اور حسبِ اشتہا کرپشن بھی کرتا ہے ۔
لاڈلے کُتے تو ہوتے ہی وفادار ہیں لیکن آوارہ کُتوں کا کِردار بھی اِس معاملے میں اِنسانوں کے مقابلے میں بدرجہا پاک ہے ۔کُتوں میں ذرا سا شعور ہوتا تو اِس رویے کے خلاف انسانوں کے خلاف بھرپور دھرنے دیتے ۔
دوسری طرف حضرتِ انسان کے ہا ں یہی کُتا وفا کی علامت ہے لیکن آج تک کسی سیاسی کارکن کے منہ سے یہ نہیں سُنا کہ وہ اپنی پارٹی کے ساتھ کُتے کی طرح وفا دار ہے یا کسی رہنما نے قوم کو اِن الفاظ میں یقین نہیں دِلایا کہ ہم اِس دھرتی کی کُتوں کی طرح حفاظت کریں گے اور نہ آج تک کسی سیاسی پارٹی نے اپنا انتخابی نشان ہی کُتا رکھا۔بلکہ کُتا پن بمعنی کمینہ پن کے استعمال ہوتا ہے ۔ کیا آپ نے آج تک کسی کُتے میں ایسی کمینگی دیکھی ہے جو فی زمانہ سِکہ رائج الوقت ہے ؟؟
عجیب زمانہ آ گیا ہے کہ جو کُتا چوروں کے لیے خوف کی علامت ہوا کرتا تھا یار لوگوں نے وہی لقب چوروں کو عطا کر دیا ہے ۔کُتوں کو بدنام کرنے کے لیے اُن کی مسز تک کے خلاف خود ساختہ محاورے بھی وضع کر لیے گئے جیسے “کُتی کا چوروں کے ساتھ مِل جانا” حالانکہ کُتوں کی تاریخ میں ایسا کوئی واقعہ نہیں مِلتا۔
دوسری طرف “شیر” جیسے درندہ صفت جانور کو وہ مقام دیا گیا کہ الامان والحفیظ ۔کیا آپ بتا سکتے ہیں شیر کی فطرت میں عدل و انصاف کی کوئی خوُ آج تک دریافت ہو سکی ؟؟؟اُس کے سامنے تو خرگوش جیسا ننھا اور معصوم جانور اور بھینسے جیسا احمق اور جسیم عفریت دونوں برابر ہوتے ہیں ۔شیر کی بادشاہت اور جمہوریت دو متضاد تصورات ہیں۔شیر اگر خالص جمہوریت کو مان لے تو ایڑیاں رگڑ رگڑ کر بھوکا مر جائے ۔کیا خیال ہے آپ کا اگر “شیر” کو گالی بنا دیا جائے اور کُتے کو اعزاز تو کیسا لگے گا۔آج جب آپ کسی کے منہ سے سُنتے ہیں “کُتے کا بچہ تو آپ کا دھیان کہاں جاتا ہے اور کل جب آپ سُنیں گے شیر کا بچہ تو آپ کا دھیان کہاں جائے گا ۔لیکن گالی تو بہت بُری چیز ہے چاہے آپ کسی کو شیر کہہ کر دیں یا کُتا کہہ کر۔
یہ گالیاں بھی انسان کی ضرورت ہیں کُتے بے چارے تو منہ بھی کھولتے ہیں تو اپنے مالک کی جان و مال کی حفاظت کے لیے ۔لیکن کُتا منہ کھولے تو بھونکنا اور شیر منہ کھولے تو دھاڑنا ؟؟؟ کیا تماشا ہے یہ اور کیسا صلہ ہے وفا کا۔تو کیوں نہ آئندہ کُتے کی دھاڑ اور شیر کی بھونک کو مستعمل کر لیا جائے ؟؟؟ایک اور محاورہ ملاحظہ فرمائیے کہ “اپنی گلی میں کُتا بھی شیر ہوتا ہے ” کُتا تو کسی بھی گلی میں ہو کُتا ہی رہتا ہے ۔کُتوں کے خلاف اتنا بُغض ناقابلِ فہم ہے ۔جب کہ ہمیں ایسا کوئی محاورہ سُننے کو نہیں مِلتا کہ “حکومت میں آکر شیر بھی گیدڑ بن جاتا ہے ” جو کہ کسی حد تک قرینِ حقیقت بھی ہے ۔آپ یہ تو سُنتے ہیں کہ “دھوبی کا کُتا گھر کا نہ گھاٹ کا “” لیکن آپ نے یہ نہیں سُنا ہو گا کہ ” پنجرے کا شیر کام کا نہ کاج کا دُشمن اناج کا””
آپ بھی سوچ رہے ہوں گے کہ مجھے کُتوں سے اتنی ہمدردی کیوں ہے اور شیروں سے ایسی دُشمنی کی کیا وجہ ہے ۔جناب نہ تو میری کُتوں سے کوئی دوستی ہے اور نہ ہی شیروں سے کوئی عداوت ۔میں تو ایک مظلوم ،بے زبان اور وفادار جانور کا مقدمہ لے کر آپ کی عدالت میں پیش ہوا ہوں ۔اور اگر اِس مختصر سے مضمون کے بعد آپ مجھے ” کُتوں کا وکیل ” کا لقب بھی دے دیں تو یہ میرے لیے قطعاً کوئی گالی نہیں ہو گا بلکہ اِسے میں اپنے لیے اعزاز سمجھوں گا۔

(Visited 583 times, 1 visits today)

Aabi Makhnavi is prolific writer and a famous poet based in Karachi. He’s areas of interests are social issues, literature and current affairs.

One Comment

Leave a Reply

Got It!

اس ویب سائٹ کا مواد بول پلاٹون کی آفیشل رائے کی عکاسی نہیں کرتا. مضامین میں ظاہر معلومات اور خیالات کی ذمہ داری مکمل طور پر اس کے مصنف کی ہے