Here is what others are reading about!

بابا کی شہزادی

اللہ پاک نے دوستی ایک بہت ہی مقد س اور عظیم رشتہ بنا یا ہے، یہ رشتہ تما م تر رشتوں میں  خصوصی مقام رکھتا ہے۔جب میں گھر سے دور کالج کے ہاسٹل میں رہتی تھی تو میری سہیلیاں ہی تھیں جو  فیملی کی یاد آنے ہی نہ دیتیں۔ان میں ایک “سحرفاطمہ”بھی تھی۔خود مسکراتی اور اپنی حرکتوں اور باتوں کے ذریعے  ہم سب کے چہروں پر مسکراہٹ لاکر سب کو اپنے سحر میں مبتلا کر لیتی۔وہ بہت خوش رہتی ،اتنی خوش کے مجھے اس پر رشک آتا اور اس جیسی زندگی گزارنے کی حسرت کیا کرتی۔  جب بھی میں اس سے خوبصورت  زندگی کا راز پوچھتی وہ  ہمیشہ یہی جواب دیتی  ”  میں شہزادی ہوں اپنے بابا کی اور شہزادیوں کو غم  کس چیز کا۔۔؟”

اچھا وقت تو ہوا کے تیز جھونکے کی طرح گزر جاتا ہے  ہم کالج سے  فارغ ہوئے تو نہ چاہتے ہوئے  بھی ایک دوسرے کو الوداع کہنا پڑا ۔کسی کو معلوم نہ تھا کہ اب کبھی ہماری ملاقات ہو گی  کہ نہیں کیونکہ ہمارے معاشرے میں لڑکیوں کو اپنی  دور رہنے والی دوستوں سے ملاقات  کے لیے  جانے کا حق بھی کم ہی حاصل ہوتا ہے۔

وقت  کی  تیز رفتاری ، زندگی کی الجھنوں   اور  تین سال تک کسی قسم کا رابطہ نہ ہونے  کے باوجود  دل کا یہ رشتہ کمزور نہ ہو سکا ، اللہ پاک سے  یہی دعا مانگتی کہ ‘سحر’ سے کسی طرح  بات ہو جائے۔

مسبب الاسباب ذات نے  کرم کیا۔ ایک روز انجان نمبر سے  کال آئی،۔۔۔۔۔وہی انداز ، وہی  مستیاں ،خوش گپیاں اور قہقہے ۔۔۔۔میں نے پوچھا “سحرشہزادی تم۔۔؟”

“سحر ہوں ۔۔شہزادی نہیں رہی” وہ پھیکی سی مسکراہٹ کے ساتھ بولی۔

“شہزادی نہیں رہی تو ملکہ بن گئی ہو؟ ” میں نے از راہ  مذاق کہا۔

اس نے بناوٹی سا قہقہ لگایا اور بولی ” نہیں۔۔ باندی بنا دی گئی”

“کیا مطلب ۔۔؟ ” میں نے   حیرت سے  پوچھا۔

“کچھ نہیں ۔۔۔ مذاق کر رہی تھی ” اس نے بات کو ٹالنے کی کو شش کی۔

میں جان چکی تھی کہ وہ کچھ نا کچھ چھپا رہی ہے ۔ میرے بار بار اصرار پر سحرنے اپنی داستان کچھ یوں سنائی۔

” ہاں میں شہزادی تھی  جب تک  میری کل کائنات ، میری جان میرے بابا  میرے پاس تھے ۔اُن کا سایہ ہی میرے لیے ہر رنج وغم کی راہ میں  ڈھال کی طرح  حائل تھا۔دو سال ہوگئے ،میرے بابا اللہ میاں کو پیارے ہو گئے ۔یتیمی اپنے ساتھ زمانے بھر کے دکھ لے کر آئی۔اب ہمارا واحد سہارا ہماری ماں تھیں،لیکن نا جانے وہ کیا مجبوریاں تھیں کہ اماں ہم چار بہنوں کو  بوجھ ہی سمجھتیں، ان کا پیار تو صرف ہمارے چھوٹے بھائی کے لیے تھا۔۔۔۔اماں کو میرے رشتے کی فکر ہوئی ،خالہ کے بیٹے کے ساتھ نکاح کے لیے مجھ پر دباؤ ڈالا۔رو رو کر انکار کرتی رہی   کیونکہ میں کسی اور سے محبت کرتی تھی  لیکن   ان  حالات میں اُس شخص نے بھی ساتھ دینے سے معذرت کر لی جس نےساری زندگی ساتھ نبھانے کے وعدے کر رکھے تھے۔   ۔۔۔۔۔۔۔پھر ایک روز  اماں نے اپنا دوپٹہ قدموں میں پھینک دیا اور مرحوم بابا کے واسطے دینے لگیں، اب مجھ میں انکار کی سکت نہ رہی۔”  سحر کی اواز بھر آئی ۔وہ کچھ دیر کے لیے خاموش ہو گئی۔

میں نے پوچھا  ” نیا گھر کیسا ہے۔؟ “

بولی “گھر ہے کہ قفس ۔۔  منہ دکھائی کی رسم میں وہ انمول تحفہ ملا جس کی قیمت زندگی بھر چکانی ہے۔میاں نے تکیے پر رقم رکھتے ہوئے نہایت حقارت سے کہا،”  مجھ سے پیار محبت کی توقع مت رکھنا  میں نے تو صرف اور صرف والدین کی  خواہش پر تم سے شادی کی ہے۔”  یہ الفاظ مجھ پر بجلی  بن کرگرے۔مگر سوچا اب جاؤں گی کہاں۔؟ واپس ماں کے کندھوں پر بوجھ بن جاؤں۔؟ نہیں اب میرا جینا مرنا اسی گھر میں ہے۔۔۔۔۔۔۔خالہ جان کا رویہ تو پہلے ہی کچھ اچھا نہ تھا   اب تو وہ ساس کا رشتہ بخوبی نبھا  رہی ہیں۔ان کی بھی اک سحر ہے ۔میری ہم عمر ہے ۔ مگر وہ ایک نازک پری ہے ۔گھر کے کام کاج نہیں کر سکتی   ، تھک جاتی ہے ،بیمار ہو جاتی ہے ۔۔۔ یہ تو صرف بہو کا کام ہے کہ شوہر کے تلخ الفاظ بھی سہے ، ساس کے اشاروں پر بھی ناچے ، مزدور بن کر کام کرے۔ اور اف تک نہ کرے ۔بہو  کبھی بیمار نہیں ہوتی ،کام چور بہانے کرتی ہے۔۔۔۔۔۔” 

وہ نجانے اور کتنے دکھ سنانا چاہ رہی تھی لیکن ساس  اماں کی آواز پر لبیک  کہنے کی خاطر بات ادھوری چھوڑ کر اس نے مجھے خدا حافظ توکہہ دیا  مگر میری سوچوں کا محور اب بھی وہی تھی  اس کے درد بھرے الفاظ بار بار میرے کانوں سے ٹکرا رہے تھے۔میں سوچ رہی تھی کہ  میری دوست کے ان حالات کا ذمہ دار کون ہے۔۔؟ ہمارا مذہب۔؟ نہیں ۔۔ ہمارا مذہب تو ہر شخص کو اپنی مرضی سے نکاح کرنے کا حق  بھی دیتا ہےاور  شادی کے بعد گھر کے کام کاج کا ذمہ بھی اکیلی عورت پر نہیں ڈالتا۔ خاوند اچھا نہ ہو تو  “خلع ” کا حق بھی دیتا ہے۔۔اچھا تو پھر پاکستان کا قانون ۔۔؟    نہیں قانون تو اب  عورت کو اس بات کا حق بھی دیتا ہے کہ وہ اپنے شوہر کے خلاف عدالت کا دروازہ بھی کھٹکھٹا سکتی ہے۔۔پھر کون ہے مجرم۔؟ ہمارے معاشرے کی سوچ۔ جی ہاں  یہ ہمارے معاشرے کی غلط سوچ ہی ہےجس میں عورت کی حیثیت ایک باندی کی سی ہے۔جو ایک عورت کو محبت کا حق نہیں دینا چاہتی ۔ وہ گھٹیا سوچ جو عورت کو محبت کے جال میں پھنسا کر  حوس کا نشانہ بنانا چاہتی ہے۔جو بیوہ اور مطلقہ خواتین  کو معیوب سمجھتی ہے۔جس میں عورت کو اپنے قدموں پر کھڑا ہونے نہیں دیا جاتا۔یہی وہ سوچ ہے جس نے خواتین کو مجبور کر رکھا ہے کہ نہ وہ مذہب کے دیے ہوئے حقوق کا مطالبہ کر سکتی ہیں اور نہ ہی پولیس اسٹیشن جا کر اپنا حق حاصل کر سکتی ہیں۔کاش  یہ سوچ بدل جائے۔کسی بھی طرح۔۔۔۔۔۔۔کاش۔!!!!

(کہانی: اسماء زیب – تحریر: محمداسد علی)

(Visited 561 times, 1 visits today)

Muhammad Asad Ali is a student of engineering sciences based in Abbotabad. His areas of interests are social issues and current affairs.

One Comment

Leave a Reply

Got It!

اس ویب سائٹ کا مواد بول پلاٹون کی آفیشل رائے کی عکاسی نہیں کرتا. مضامین میں ظاہر معلومات اور خیالات کی ذمہ داری مکمل طور پر اس کے مصنف کی ہے