Here is what others are reading about!

دیوار اور بیل

عورت ایک بیل کی طرح ہے جو خود کو سائے میں محفوط رکھنے کے لیے دیوار ڈھونڈ تی ہے اور مرد ایک ایسی دیوار ہے جس کو بیل کی ضرورت تب ہوتی ہے جب اس کو خود سنورنا ہوتا ہے اور بیل دیوانی سی ہو کر دیوار کو سنوارتی ہے، اس کی حفاظت کرتی ہے اوراس سے  لپٹی رہتی ہے جب تک وہ خود سو کھ کر بوڑھی نہ ہو جائے۔بیل کا دیوار کو محفوظ رکھنا اور ہر مشکل ، ہر وفا اور جفا میں ساتھ نبھانااس حد تک ہوتا ہے کہ وہ  خود کو بھول کر اپنی جان پہچان کھو دیتی ہے۔             
اس بیل کے کئی روپ ہیں۔ جب باپ یا بھائی کی حفاظت کرنے والی دیوار اور ان کا سایہ ختم ہو جائے تو شوہر کی دیوارسے لپٹ جاتی ہے۔ مگر بیل کی اپنی کیا پہچان ہے؟ کبھی کسی نے سوچاکہ بیل ایک دیوار کے بنا بھی بڑھ سکتی ہے۔  اگر دیوار کا سہارا نہ ہو تو وہ زمین سے لپٹ کر خود کو بڑھاتی ہے اور کھلے آسمان میں سانس لینا سیکھ لیتی ہے۔

قو موں کی ترقی اور کامیابی میں عورت کا کردار کسی طور کم نہیں۔پاکستان کی آبادی میں عورتوں کی شرح زیادہ ہے جن میں سے اکثر کو اپنے حقوق کا ادراک نہیں۔اسی لا علمی کا نتیجہ ہے کہ آج یہاں ہر37 منٹ میں ایک عورت زچگی کے دوران مر جاتی ہے۔ اورایک بڑی تعداد ایسی ہے جو عزت اور غیرت کے نام پر مار دی جاتی ہے۔ کیا یہ المیہ نہیں کہ ایک صوبے میں عورتوں کے حقوق کے بل کی منظوری کو مرد اپنی ہار اور مظلومیت تصور کرنے لگتے ہیں۔ لاہور جیسے بارونق شہر میں ایک عورت کو اسکا شوہر ننگے سر گھر سےنکال دیتا ہے اور یہ سب غیر اسلامی نہیں ہوتا لیکن جب وہ اسی حالت میں اپنا حق مانگنے پولیس کے پاس جاتی ہےاور عورتوں کے حقوق کے بل کے سبب اس کو حق مل جاتا ہے تو یہ حق ملنا ایک دم سے غیر اسلامی بن جاتا ہے اور دہشت گردی کے خلاف چپ سادھ کر بیٹھ رہنے والے علماء سڑکوں پر نکل آتے ہیں۔

خدا تعالیٰ نے عورت اور مرد دونوں کے حقوق اور فرائض واضح بیان کئے ہیں۔ جہاں عورت کو اطاعت کا حکم ہے وہاں مرد کو عورت پر مالکانہ حقوق نہیں دئے کہ وہ عورت کو بھیڑ بکری سمجھ کر جو مرضی سلوک کرتا پھرے۔  عورت  کی بیل جتنا پیار اور حفاظت سے رکھی جائے اتنی بڑھتی اور سنورتی ہے اور اپنی دیوار سے لپٹی رہتی ہے۔ زمیں پر بھی بڑھ سکتی ہے مگر قدموں تلے کچلے جانے کا ڈر اسکو بڑھنے نہیں دیتا۔ اگر مرد حضرات یہ بات تسلیم کر لیں کہ یہ بیل دیوار کی خوبصورتی اور شان بڑھائے گی تو ہر طرف خوشحالی، امن اور سکون ہو جائے۔

 

(Visited 596 times, 1 visits today)

Iffat Zahra is a freelancer content & blog writer based in Islamabad. Her areas of interests are moral values and intolerance in the society.

4 Comments

Leave a Reply

Got It!

اس ویب سائٹ کا مواد بول پلاٹون کی آفیشل رائے کی عکاسی نہیں کرتا. مضامین میں ظاہر معلومات اور خیالات کی ذمہ داری مکمل طور پر اس کے مصنف کی ہے