Here is what others are reading about!

  • Home
  • /
  • Pakistan
  • /
  • طلباء اور مطالعہ پاکستان

طلباء اور مطالعہ پاکستان

بد قسمتی سے پاکستان کے نظام تعلیم کے بارے میں لکھا جانے والا ہر آرٹیکل لفظ ”بدقسمتی‘‘ سے ہی شروع ہوتا ہے۔اس نظام تعلیم میں بہت سی اصلاحات کی گنجائش ہے مگر کبھی ایسی گنجائشوں کو پر کرنے کی ضرورت قومی سطح پر محسوس نہیں کی گئی۔

ہر ملک کے تعلیمی نظام میں اس ملک کی تاریخ کا مضمون بہت اہمیت رکہتا ہے۔ماہرین کی توجہ کا مرکز ہی ایسا مضمون ہوتا ہے۔اس مضمون کی بدولت ہی ایک طالب علم  اپنے ملک کی تاریخ اور حال کا مواذنہ کرنے کے قابل ہوتا ہے اور اپنے اندر موجود تجزیاتی صلاحیتوں کو ابھارتا ہے۔افسوس صد افسوس! پاکستان کے مطالعہ پاکستان کو کبھی اس طرح سے ترتیب دیا گیا نہ ہی پڑھایا گیا جس طرح کہ اسکو پڑھے جانے کا حق تھا۔

اس کتاب کو پڑھنے سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ صرف مواد کا ڈھیر ہے جسکا تجزیہ کرنا ادھورا رہ گیا ہو۔مثال کے طور پر پاکستان کی خارجہ پالیسی کے بارے میں سمجھایا تو جاتا ہے مگر اس بات پر روشنی نہیں ڈالی جاتی کہ کیا واقعی پاکستان نے آج تک خارجہ تعلقات میں غیرجانبداری کا مظاہرہ کیا؟ اگر کیا تو1979ءمیں امریکہ کی لڑائی اپنے سر کیوں مول لی؟اور کیا وجوہات تھی جن کی وجہ سے پاکستان کی تاریخ مارشل لاء کے دھبے سے داغدار ہی رہی؟ اور کیا وجہ ہے کہ جمہوریت پاکستان میں اپنے قدم آج تک مضبوط نہیں کر سکی؟شاید کچھ حضرات کہیں گے کہ یہ باتیں میٹرک لیول کی نہیں۔تو ان کے لیے عرض ہےکہ یہ قصہ بس یہیں تک ختم نہیں ہوتا بلکہ بات تو ماسٹر لیول تک جاتی ہے۔ اتنے اعلی درجے کے نصاب میں سے بھی مثالیں حاضر ہیں جہاں صرف تاریخوں کے رٹنے پر ہی نمبر دیے جاتے ہیں۔

قدرت اللہ شہاب نے اپنی کتاب شہاب نامہ میں کابینہ مشن،اسکے مقاصد اور نتائج پر خاصا مربوط تجزیہ کیا ہے۔اس میں بتایا گیا ہے کہ کس طرح اس کی شرائط ہندو پسندانہ تھیں جسے قائداعظم نے رد کر دیا تھا۔مگر جب کچھ ترامیم کے بعد اسے عبوری حکومت کی شکل میں پیش کیا گیا تو قایداعظم نے اسے اس دوربینی کے ساتھ قبول کر لیا کے ہندوستان یہ شراکت برداشت نہیں کر سکے گا۔آخر کار وہی ہوا اور ہندوؤں کو آگے چل کر نظریہ پاکستان ماننا پڑا جسے وہ کبھی ماننے کو تیار نہ تھے اور برصغیر کو اٹوٹ تصور کرتے تھے۔ کہنے کا مقصد یہ ہے کے ہمارے نصاب میں سوائے کابینہ کے ارکان،شرائط اور لاگو ہونے کی تاریخ کے،  کچھ نہیں بتایا جاتا۔کابینہ مشن کو مواد کا ڈھیر بنایا جاتا ہے۔جبکہ ضرورت اس امر کی ہے کہ اس کے پس منظر اور نتائج پر روشنی ڈالی جائے اور طلباء کو سرگرمی کے طور پر اسکی افادیت اور ناکامی پر بحث کرنے کو کہا جائے۔

دیگر چند مثالوں میں سے ضیاءالحق کی اسلامایزیشن ہے جس پر کبھی اس طرح سے بحث نہیں کی گی جس طرح سے ہونی چاہیے تھی۔اسلامایزیشن کے نام پر عورتوں کے ساتھ جو ناانصافی ہوئی نیز آئین  کو جس طرح سے مجروح کیا گیا،یہ وہ مقامات ہیں جن پر بحث ضروری ہے۔مگر ایسا کبھی ہوا ہی نہیں۔اسکا صلہ یہ ملا کہ مطالعہ پاکستان کا طالبعلم یہ تو بتا سکتا ہے کہ قائداعظم کے چودہ نکات 1929 میں پیش کئے گئے مگر وہ ضرور ان کا پس منظر بتانے سے قاصر رہے گا۔

طنزیہ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان میں ہونے والے مقابلے کے امتحانات جن کے بارے میں عام خیال ہے کہ یہ کافی مشکل ہوتے ہیں۔انکا تعلق بھی اسی قسم کے تجزیے سے ہوتا ہے۔چونکہ ایک طالب علم کو شروع ہی سے اس قسم کا تجزیہ نہیں سکھایا جاتا لہذا اسے ان امتحانات کے سوال کرتے وقت دقت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔مثال کے طور پر2015 کے پرچہ میں ایک  دلچسپ سوال آیا کہ تحریک خلافت کن پہلووں سے جذباتی تحریک تھی۔اب ایک طالب علم جس نے کبھی اس پہلو سے سوال پر غور ہی نا کیا ہو وہ یقیناً اس سوال کو چھوڑ کر دوسرے سوال جس میں مواد لکھنے کی گنجائش ہو ، ترجیح دے گا۔

اس المیہ میں جہاں نصاب بنانے اور اسکو لاگو کرنے والے کا قصور ہے اتنا ہی قصور ایک استاد کا ہے جو کہ اس ہنر سے پڑھا نہیں سکا کہ طلباء اس مضمون میں دلچسپی لے کر اپنی تجزیاتی صلاحیتیں اجاگر کر سکیں۔

یہ وہ نقطہ ہے جو بظاہر معمولی لگتا ہے مگر اس پر عدم توجہ کے باعث طلباء کی دلچسپی اس مضمون سے ختم ہو چکی ہے۔اور انکی تجزیاتی صلاحیتوں کو زنگ لگ چکا ہے۔عقلا تو ضرورت اس بات کی ہے کہ نصاب کو مواد کا انبار نہ بنایا جائے اور تجزیاتی سرگرمیوں کو اسکا لازمی حصہ بنایا جائے۔مگر بدقسمتی سے اس بات کو کبھی سنجیدگی سے لیا گیا نہ ہی لیا جائے گا۔

(Visited 618 times, 1 visits today)

Syeda Zainab is a freelance writer and a graduate of University of Gujrat. Her areas of interests are politics and educational system of Pakistan.

2 Comments

Leave a Reply

Got It!

اس ویب سائٹ کا مواد بول پلاٹون کی آفیشل رائے کی عکاسی نہیں کرتا. مضامین میں ظاہر معلومات اور خیالات کی ذمہ داری مکمل طور پر اس کے مصنف کی ہے