Here is what others are reading about!

آن لائن مزدور

ہر سال یکم مئی کا دن آتا ہے اور اس دن ہمارے اسکول، کالجز ،سرکاری دفاتر ،ادارے اور دکانیں مزدوروں کے حق میں بند کی جاتی ہیں۔نعرہ یہ لگایا جاتا ہے کہ یہ محنت کشوں کا عالمی دن ہے۔تمام مزدور اس دن فیکٹریوں اور ملوں کو بند کرکے جلوس کی شکل میں سڑک پر نکل آتے ہیں۔جس کا کسی پر کوئیْ خاصا فرق نہیں پڑتا۔اعلان کیا جاتا ہے کہ بجٹ پاس کیا جائے گا،ملک سے غربت کا خاتمہ ہوگا تعلیم عام ہوگی (مئی فول)۔
دنیا میں اس وقت مزدوروں کی کئی ا قسام پائی جاتی ہیں۔جو اینٹ سیمنٹ بوری وغیرہ اٹھاتے ہیں،ریڑھی لگانے والے اورورکشاپ ہوٹل،پارکوں اور مختلف جگہوں میں گھومنے والے،کسان،سرکس کے جوکر اور رائڈرز عام مزدور کہلاتے ہیں۔یہ وہ لوگ ہیں جو اﷲتوکل کام کرتے ہیں۔کچھ کی روزی ہوائی ہوتی ہے۔مل جائے تو ٹھیک ورنہ خالی ہاتھ گھر لوٹتے ہیں۔ہر حال میں اﷲ کا شکر بجالاتے ہیں اور تھک کر سوجاتے ہیں۔انہی محنت کشوں کی وجہ سے ملک ترقی کررہا ہے(اعلیٰ حکام)۔
قارئین کے ذہن میں یہ سوال ابھر رہا ہوگا کہ عنوان میں آن لائن مزدور لفظ کااستعمال ہوا پر ”ذکر”کہیں نہیں ہوا۔جی ہاں!یہ وہ معصوم مخلوق ہیں جو اس بات پر ملال کررہے ہیں کہ یکم مئی اتوار کو کیوں آیا؟تھکن اتارنے کا ایک دن ملا تھا وہ بھی نکل گیا۔آس پاس نظر دورانے سے ہمیں ایسے کئی مزدور جابجا ملے گے،جو 9گھنٹے کی طویل نوکری مانیٹر کے سامنے بیٹھ کر آن لائن چیزیں بیچتے ہیں اور مالک کی طرف سے دیئے گئے ناممکن ٹارگٹ کو پورا کرنے کی کوشش میں ہلکان ہوتے ہیں۔کچھ آن لائن مزدور ویب ماسٹر پروگرامنگ میں سر کپھاتے ہیں۔ایک کمانڈ غلط ہوجانے کی صورت میں ساری محنت ضائع ،ایک اور آن لائن مزدور جو آج کل کثیر تعداد میں پائے جاتے ہیں وہ ہیں۔میڈیا اور سوشل میڈیا سے منسلک مزدور۔جی ہاں،یہ وہ طبقہ ہے جو چوبیس گھنٹے کام کی مشین بن چکا ہے۔مشہور کہاوت ہے کہ جو میڈیا کا مزدور بن گیا اس کی سوشل لائف ختم۔مزے کی بات زیادہ کام کرنے پر ان کی دیہاڑی Constantہی رہتی ہے۔الیکشن ہو یا بم دھماکہ، مزدور ہلکان ہی رہتا ہے۔
یہ تو بات ہوگئی آن لائن مزدوروں کی،مگر کچھ وہ گئے ۔خصوصاََ ٹائی والے مزدور بینکرز جو بیچارے سارا دن نوٹ گننے میں لگا دیتے ہیں اور اگر کوئی غلطی ہوجائے تو نوٹ جیب سے دینے پڑتے ہیں۔شدید سردی ہو یا گرمی ٹائم پر نہ پہنچیں تو کم بختی الگ گلے پڑجاتی ہے۔اگر مارکیٹینگ کی بات کی جائے ،تو سیلزمین اور سیلز گرل کی عظمت کو سلام کرنے کا دل کرتا ہے جو گھر گھر جاکر اپنے پڑادکٹ بیچتے ہیں اور سیلز گرل سے بات کرنے کے بہانے فضول فضول سوال کرکے انہیں تنگ کرتے ہیں۔یہ سب بھی مزدور ہیں ہمیں اپنے کام کرنے والوں کو گدھا نہیں انسان سمجھنا چاہئے اور سب مزدوروں کی اجرت مناسب اور وقت پر ادا کرنی چاہئے تاکہ ہرمزدور غلط راستہ اختیار کرنے پر مجبور نہ ہو۔مزدور کا عالمی دن گزرجائے گا مگر آن لائن مزدور کا احساس کب ہوگا؟

(Visited 350 times, 1 visits today)

Saad Shahid is content writer at Sarim Burney Trust International, Youth Department Reporter at Daily Azad Riasat and Special Correspondent at News Online.

Leave a Reply

Got It!

اس ویب سائٹ کا مواد بول پلاٹون کی آفیشل رائے کی عکاسی نہیں کرتا. مضامین میں ظاہر معلومات اور خیالات کی ذمہ داری مکمل طور پر اس کے مصنف کی ہے