Here is what others are reading about!

حرامزادہ

آنکھوں میں عجیب سی چمک لیئے آج پھر وہ اپنے شکار پہ نکلا تھا ۔۔۔ نہ جانے یہ کیسی بھوک تھی جو مٹتی ہی نہ تھی ۔۔۔ آنکھوں کی چمک گویا ایک ایسی ہوس میں بدل چکی تھی کہ شکار کو دیکھتے ہی ایک ہی وار میں دبوچ لے گا اور نوچ نوچ کر بس آج جیسے ٹکڑے ہی کر ڈالے گا ۔۔۔اس کا طریقہ واردات بھی اس کی گہری کالی گھٹاؤں جیسی  ویران آنکھوں کی طرح بہت انوکھا تھا ۔۔۔ نہ ہی کسی کو اس پہ شک ہوتا اور نہ ہی کوئی اس کی عام سے رنگ،  کاٹھ اور قد کی طرف متوجہ ہوتا ۔۔۔ اور وہ  بھرے ہجوم کے بیچ دن دھاڑے نہایت سرعت سے اپنے شکار پہ لپکتا اور شکار کو دبوچتے ہی اُڑن چُھو ہو جایا کرتا ۔۔۔

بھرے پُرے شہر میں دن دھاڑے، لوگوں کے جمِ غفیر کے درمیاں اس آسانی سے شکار کرنا اور وہ بھی اتنی مہارت کے ساتھ، اتنا آسان نہیں تھا ۔۔۔ اور وجہ بھی ایسی تھی کہ شکار نہ کرنا ،اُس کے بس میں نہیں رہا تھا ۔۔۔ اُس کے آس پاس بکھرے سب ہی ذی رُوح اپنا پیٹ بنا کسی مشکل کے بھر لیا کرتے اور ایک وہ تھا کہ اتنی محنت کرتا، بہت احتیاط اور خاموشی سے شکار کو آنکھوں ہی آنکھوں میں جانچتا اور صحیح موقع پر خاموشی سے اُس پر کسی ماہر عقُاب کی طرح جھپٹ پڑتا ۔۔۔ اچھی طرح سے اپنے شکار کو دامن میں لپیٹ کر اپنی پرانی اور بوسیدہ کُٹھیا کی راہ لیتا ۔۔۔

ایک ہفتہ گزر چکا تھا اور اس نے شکار بھی نہیں کیا تھا ۔۔۔بھوک اپنے جوبَن پر تھی ۔۔۔ وہ اپنی کُٹھیا کے باہر اُداس بیٹھا، ہَوا میں نہ جانے کیا تکے جا رہا تھا ۔۔۔ آنکھوں میں وہی گہری ویرانیاں اور شدید بھوک کا احساس لیئے شاید وہ اپنے وجود پہ نوحہ کناں تھا ۔۔۔ رہ رہ کر اس کی بوسیدہ کُٹھیا سے رونے کی آوازیں بھی آیا کرتیں جس پہ وہ تڑپ جایا کرتا ۔۔۔ جیسے جیسے رونے کی آواز بڑھتی جاتیں، وہ بھی اُتنا ہی بے چین ہو کر پہلو پہ پہلو بدلنے لگتا ۔۔۔اُس کی بھوک اور تکلیف کُٹھیا سے آتی ننھی ننھی بلکتی آوازوں کے زور پکڑنے پر مزید بڑھتی جاتی ۔۔۔ یکاک جیسے وہ فیصلے کی گھڑی سے گزر چکا ، اور اُٹھ کھڑا ہوا ۔۔۔ اب وقت آچکا تھا کہ وہ ہر خوف کو دل سے نکال پھینکے اور شکار کے لیئے اُٹھ کھڑا ہو ۔۔۔ وہ اُٹھا اور اب اُس کے قدم اُسی پر ہجوم اور پُر رونق علاقے کی طرف گامزن تھے جہاں وہ عموماً “واردات” کیا کرتا تھا ۔۔۔ اس کی بوسیدہ کُٹھیا میں موجود ننھے ننھے وجود کی بلکتی آوازیں ہر اُٹھائے گئے قدم کے ساتھ ساتھ اُس کے ذہن پر جیسے ہتھوڑوے برسا رہیں تھیں اور اِنہی سوچوں میں محو وہ اپنی رفتار تیز سے تیز تر کیئے جا رہا تھا ۔۔۔ شام کا ہلکا ہلکا دھندلکا چھانے لگا تھا اور اب وہ ہجوم کے بیچ پہنچ چکا تھا اور قسمت نہ جانے آج بری تھی یا اچھی کہ شکار بھی اُسے من چاہی جگہ پر نظر آچکا تھا ۔۔۔ قریب تھا کہ وہ ایک ہی جُست میں شکار کو دبوچ لیتا، یکایک شدید بھوک سے اُٹھتی ایک مروڑ نے اُسے چکرا دیا اور وہ اپنے شکار کی جانب جھپٹتے ہوئے ایک ہلکورا سا لے کر رہ گیا ۔۔۔ بس گِر ہی جاتا کہ ایک زناٹے دار تھپڑ اس کے ننھے سے گال پر گالی بن کر لگا ۔۔۔

 “حرامزادہ! آج اتنے دن بعد ہاتھ آ ہی گیا ۔۔۔ چور، چور ۔۔۔” ۔۔۔ اور پھر تو جیسے عوام کے جمِ غفیر نے اس ننھے سے بھوکے وجود کو لاتوں اور گھونسوں میں تولنا شروع کردیا ۔۔۔ “حرام خور کی اولاد! روز میری دوکان سے سموسے غائب کرتا تھا”، موٹے حلوائی نے معصوم سے وجود کے خالی پیٹ میں لات جڑتے ہوئے نعرہ بلند کیا ۔۔۔ “میری دوکان سے تو اس نے کچّا گوشت بھی چرایا” قصائی نے بھی دوہائی دیتے ہوئے ایک گھونسا کَس کے اس غریب کے منہ پر دیا ۔۔۔ “ابے!  میری دوکان کی تو اس نے مٹھائی تک نہ چھوڑی”، حلوائی نے ایک بار پھر اس کے ادھ موئے وجود بر لاتیں برساتے ہوئے کہا ۔۔۔ “مارو ۔۔ ایسے حرامزادوں کو بچپن ہی سے چوری کی عادت پڑتی ہے ۔۔۔ ابھی چمڑی ادھڑے گی ،ساری عمر نہیں بھولے گا ۔۔۔ سالا ۔۔۔” اور ایسی ہی درجنوں مغلظات سے نوازتی عوام اس ننھے سے سات ، آٹھ برس کے وجود کو ٹھوکروں میں رولتی چلی گئی۔۔۔

ایک طرف اُس کی ویران آنکھوں میں بھوک کے ساتھ ساتھ آنسو اور اندھیری رات کی ویرانیاں اتر رہیں تھیں ۔۔۔ اور اُدھر اندھیری کُٹھیا میں موجود ایک اور ننھا منا وجود، گندی اور ابتری میں بھوک سے مچل مچل کر اپاہج ماں کی گود میں اپنی جان سے گزر چکا تھا ۔۔۔

تڑپتی آنت میں جب بھوک کا شعلہ بھڑکتا ہے
تو وہ تہذیب کے بے رنگ کاغذ کو
تمدن کی سبھی جھوٹی دلیلوں کو
جلا کر راکھ کرتا ہے..
نظر بھوکی ہو تو پھر چودھویں کا چاند بھی روٹی سا لگتا ہے
خودی کا فلسفہ ۔۔۔
جھوٹی دلیلیں سب شرافت کی
محض بکواس لگتی ہیں۔۔۔۔

(Visited 754 times, 1 visits today)

Asad Ali is an IT professional based in UAE. He’s a keen craver of literature, art, calligraphy and sketching. Addicted to Sufism, his areas of interests are social and moral issues.

Leave a Reply

Got It!

اس ویب سائٹ کا مواد بول پلاٹون کی آفیشل رائے کی عکاسی نہیں کرتا. مضامین میں ظاہر معلومات اور خیالات کی ذمہ داری مکمل طور پر اس کے مصنف کی ہے