Here is what others are reading about!

  • Home
  • /
  • Social
  • /
  • پڑی رہنے دو انسانوں کی لاشیں

پڑی رہنے دو انسانوں کی لاشیں

سڑک کے کنارے ڈھابے پر بیٹھے یہ اسکی تیسری چائے تھی۔  اب رش کم ھو چکا تھا۔  گاڑیاں کم ہوتی جا رہی تھیں اور ہوا ہلکی ہلکی سرد سسکیاں لینے لگی تھی۔ ٹیبل پر رکھی ڈبی میں اب  بھی چارسگریٹ باقی تھے۔ ایک سگریٹ سلگایا اور  سڑک کے پار چار منزلہ ہاسٹل کو اوپر سے نیچے گھورنے لگا۔  وہ ہاسٹل جس کی دیواروں نے ناجانے کتنی صدیوں سے عارف کے مستقبل کو قید کر رکھا تھا۔ وہ ہاسٹل جس کی سفید دیواروں کے ساتھ اسکا خون بھی  بے رنگ ہو گیا تھا۔ خالی سڑک پر چند تیز رفتار گاڑیاں ایک جمپ پر دو پل دھیر ے  ہوتیں اور پھر اسی رفتار سے زندگی کی طرح بے نیاز ھوی دور نکل جاتیں۔سگریٹ بجھا کر  وہ کھڑاہؤا اور چائے کے ساٹھ روپے اور چالیس روپے کی ٹپ دے کر سڑک پار کرنے لگا۔شام گہری ہوتی جا رہی تھی۔ہاسٹل کی بے رنگ دیواریں اسکی انکھوں کی طرح سیاہ  ہونے لگی تھیں۔

وہ سیڑھیاں چڑھ کر چھت پر پہنچا تو اب سرد بے جان ہوائیں اسکے جسم سے لپٹ رہی تھیں۔ آہستہ آہستہ ان کے بین کی آوازیں اسکو سنائی دینے لگیں۔ایک سگریٹ نکالا اور کش لگاتے لگاتے ریلنگ کی طرف بڑھنے لگا۔ عارف نے نظر بھر کر  نیچے کی طرف دیکھا اور پھر چھت کے دوسرے کونے کی طرف جانے لگا۔اسکا قید خانہ کس قدر اونچا تھا۔۔ جیسےآسمان سے چند قدم ہی دور ہو۔ وہ  اوپر دیکھنے لگا۔ ایک آوارہ بادل، اسکی طرح  جیسے بے مقصد سفر کاٹ رہا تھا۔تیسرے سگریٹ کا کش لگانے لگا۔دھویں کے ساتھ جیسے اسکا وجود ریزہ ریزہ ہوتا،  ہوا میں تحلیل ہوا جا رہا تھا۔  وہ ایک بار پھر چھت کی ریلنگ کے پاس پہنچ چکا تھا۔ 

سگریٹ  زمین پر پڑا بجھ چکا تھا۔ نیچے سڑک ویران ہوچکی تھی، اسکی قید کے باہر سڑک کے دونوں خالی راستے جیسے کسی منزل کو نہیں جاتے تھے۔ اُس نے نظر اٹھا کرآسمان کی طرف دیکھا، اور ایک گہری سانس لی۔ اس کے چہرے پر اب اطمینان کا ایک سایہ دیکھائی دیتا تھا، شاید اسے راستہ مل ہی گیا تھا، اس نے ڈبی نکالی۔ ٓاخری سگریٹ سلگایا۔ ایک کش لیا اور اسکو چھت پر جلتا چھوڑ دیا۔ہوا نے ابھی سگریٹ کی آگ کو بجھایا نا تھا کہ عارف کا دیا بجھ چکا تھا،۔اسکا جسم چار منزل نیچے فٹ پاتھ پر پڑاتھا۔

عارف کی اگلی منزل خدا جانے جنت تھی یا جہنم۔ یا کوئی تھی بھی کے نہیں۔  یہ  وہ کردار جانے یا خدا جانے۔ پر اگر کسی مولانا سے رائے لی جائے تو یقینا اسلام میں ایسی خود اذیتی کی ممانعت  کی بنیاد پر عارف سزا کا مستحق ہوگا۔ پادریوں کی بھی ایسی ہی رائے ہے۔ہندوؤ ں کے مطابق خودکشی کرنے والے کی روح  یا  ٓاتما بھٹکتی رہیگی۔ جاپان میں خودکشی کو ایک مختلف زاویہ سے دیکھا جاتا رہا ہے، سامورائی کی کہانیوں سے اس میں ایک ایسا رنگ بھر دیا گیا تھا کے لوگوں میں اس عمل کے لیے ایک قبولیت کا رویہ اور جزبہ دیکھنے کو ملتاتھا، ایسے فلسفے بھی موجود ہیں جو خودکشی کو ایک مجرمانہ عمل نھیں سمجھتے،  مگر انسان چاہے جس بھی وجہ سے جان سے فراغت حاصل کرنے کی کوشش کرے، وہ وجہ ایک انسانی جان سے قیمتی نہیں ہو سکتی۔

 ہمار ے  ایک استاد کے بقول جب کوئی شخص روٹی چوری کرتے پکڑا جائے تو اسکے ہاتھ نہیں کاٹے جانے چاہئیں بلکہ حاکم وقت جواب دہ ہو گا۔ مگر افسوس کے  جس ملک کے لیے دعویٰ کیا جاتا ہے کہ وہ اسلام کے اصولوں پر بنا ہے وہاں ساٹھ فیصد تک عوام غربت کی لکیر سے نیچے رہتی ہے، کوئی گردے بیچنے پر مجبور تو کبھی بچے بیچنے کی خبرآجاتی ہے۔بلکہ اب تو بھوک سے بلکتے بچوں کا قتل کرکہ ماں کی خودکشی کی خبر یں بھی پرانی ہوتی جا رہی ہیں۔  نہ صرف غربت بلکہ سماجی رویوں اور حادثوں کے نتیجے میں پیدا ہونے والی ذہنی بیماریوں کی وجہ سے بھی لوگ اس راہ پر چل پڑتے ہیں۔ سال 2002  میں پاکستان میں ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں 15000 سے زائد خودکشی کے واقعات پیش آئے۔ سال 2012  میں ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کی ایک رپورٹ میں سالانہ دس لاکھ خود کشیاں بتائی گئیں، جن میں قریبا ً ساٹھ ہزار پاکستانی شامل ہیں۔  ایک قدرے پرانی رپورٹ کے مطابق  1995 سے 1999 تک صرف سندھ میں 2568 خودکشیاں رپور ٹ کی گئیں۔

2015 کی ایک رپورٹ کے مطابق سال کے  پہلے چھ مہینوں میں 1061 لوگوں نے جان سے  چھٹکارا حاصل کرنے کی کوشش کی۔  پاک سرزمین میں ہونے والی ان خودکشیوں کا اندازہ بین الاقوامی اداروں اور  این جی اوز  کی رپورٹس اوراخباروں کی سرخیوں سے ہی ہو سکتا ہے، کیونکہ آج تک اس کی روک تھام اور اس پر نظر رکھنے کے لیے کوئی اصلاحی ادارہ بنایا نہیں جا سکا۔

اس کی ایک وجہ شاید یہ ہے کہ ہم کبوتر کی طرح بلی کے سامنےآنکھیں بند کر دینے کی عادت پال چکے ہیں، شاید  خودکشی جیسے پیچیدہ  معاملے سے نپٹنے کے بجائے اسے  ایک طرف جھاڑ دینا، یا آنکھیں پھیر دینا زیادہ آسان معلوم ہوتا ہو مگر حقیقت چونکہ ٓاپکی اور میری نگاہ کی محتاج نہیں،  ہم  ا ٓنکھیں بند کردیں یا دماغ،وہ رہے گی جب تک اس میں تبدیلی نا لائی جائے یا کو ئی حل نہ تلاشا جائے۔ سو وقت کی ضرورت ہے کہ ترقی یافتہ ممالک کی طرح اسکولوں میں نفسیاتی  کاؤنسلنگ کا سسٹم بنایا جائے، جس کہ ساتھ ساتھ امریکہ کہ طرز پر ایک سوسائڈ واچ سیل بنایا جائے جسکی فو ن لا ئن مدد کہ لیے24 گھنٹے کھلی ہو۔ 

اس کے ساتھ ساتھ ان ممالک کی قانون سازی سے بھی سیکھا جا سکتا ہے  اور  خودکشیوں کی مقدار میں کمی لانے کے لیے ذہنی امراض کے علاج کے لیے ایک جامع سسٹم تشکیل کرنا پڑیگا۔

 تشویش کی بات یہ بھی ہے کہ پاکستان میں خودکشی کرنے والے کی سزا  پینل کوڈ  کے سیکشن 325  کے تحت ایک سال قید اور جرمانہ ہے، ایسے قانون الٹاخودکشی کرنے والے کہ عزم کو مزید تقویت بخشنے کا کام کرتے ہیں۔ تعلیمی اداروں میں نفسیاتی کاؤنسلنگ کی راہ میں ہمارے بہت سارے عوامی مفروضے بھی ہونگے۔  چونکہ ہمارے ہاں کسی قسم کا بھی ذہنی علاج کرانے والے کو پاگل کہا جاتا ہے اور عموماً اس شخص سے سماجی رابطے توڑ کر اسےمزید پاگل بنانے کی کوشش کی جاتی ہے، اسلئے یہاں یہ متعارف کرانا کچھ  آسان نہ ہوگا مگر ٓاخری فیصلہ ہمیں خود کرنا ہے کہ آیا ہمیں اپنی غلط فہمیوں اور مفروضوں کی دنیا چاہئے  یا ہمیں اپنے بچوں کی ذہنی اور جسمانی صحت  چاہئے۔  ا س کام کے لیے بنیادی ضرورت تعلیم اور صحت کے بجٹ میں اضافے کی بھی ہے، جو کہ کوئی  نیا  مطالبہ بھی نہیں۔ 

افسوس کہ ہم لوگ، ترقی  یافتہ ممالک سے پانامہ اور سویٹزرلینڈ میں پیسے چھپانا تو سیکھ سکتے ہیں مگر ان سے عوامی فائدے کا کوئی  سبق ہم پر حرام ہے۔شرم کا مقام ہے کہ 5فیصد خودکشیاں جہاں غربت اور افلاس کی وجہ سے ہوتی ہیں وہاں میٹرو بس پر 50 بلین اور پورے کہ پورے ہیلتھ بجٹ   پرصرف 20 بلین روپے لگتے ہیں  تو اس ملک میں عارف کیوں نہ پیدا ہوں!شاید جون ایلیا نے اسی بستی کہ لیے کہا  تھا۔۔

پڑی ر ہنے دو انسانوں کی لاشیں

زمیں کا بوجھ ہلکا کیوں کریں ہم۔۔

یہ بستی ہے مسلمانوں کی بستی

یہاں کار مسیحا کیوں کریں ہم

(Visited 639 times, 1 visits today)

Hasnat Sheikh is a civil society activist and a freelance writer based in Azad Kashmir. He is passionate about minority rights, poverty alleviation and the Kashmir cause.

Leave a Reply

Got It!

اس ویب سائٹ کا مواد بول پلاٹون کی آفیشل رائے کی عکاسی نہیں کرتا. مضامین میں ظاہر معلومات اور خیالات کی ذمہ داری مکمل طور پر اس کے مصنف کی ہے