Here is what others are reading about!

  • Home
  • /
  • Urdu Articles
  • /
  • حقیقت کے اندھیروں میں ممکنات کے جگنو

حقیقت کے اندھیروں میں ممکنات کے جگنو

سوانح عمری سے بڑھ کرمجھے ادب کی کوئی  صنف عزیزنہیں ۔  سوانح عمری عموماً ایک ایسے انسان کی ہوتی ہے جو  عملی طور پر کچھ کرنا جانتا ہے،   تاریخ بنانے کا ہنر جانتا ہے۔ کسی کو Inspire یا Motivate کر سکتا    ہے۔ دنیا میں بہت سے انسان ایسے ہیں جن کی زندگی کا کوئی ایک پہلو یا  ایک واقعہ  ان کی تمام زندگی کا حاصل ہوتا ہے، وہی ان کی  کل کمائی اور وہی ان کی سوانح عمری کہلاتا ہے۔

زندگی میں وقت سے زیادہ بے رحم  کوئی حقیقت نہیں۔ اسے رکنا نہیں آتا۔ یہ کسی کا انتظار نہیں کرسکتا۔ بس ٹک ٹاک ٹک ٹاک چلتے چلے جانا ہی اس کم نصیب کی خوش  نصیبی ہے۔   وقت سے کوئی  لڑ نہیں سکتاسوائے ان چند سر پھرے لوگوں کے جو اپنے ارادوں کے آگے وقت کو بھی خاطر میں نہیں لاتے۔   ایسے ایک شخص کا واقعہ میں نے بھی پڑھا  جس نےمسکراتے ہوئے  وقت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھا اور آخر کار اسے شکست دے ڈالی۔  آیئے آپ کی ملاقات کراتا ہوں جس کے لئے  آپ کو میرے ساتھ ماضی کا سفر طے کر کے 1938 میں جانا پڑے گا ۔ یہ  وسطی یورپ کے ایک چھوٹے سے ملک ہنگری کا رہنے والا ایک 28 سالہ فوجی جوان ہے جس کے کندھوں پر سارجنٹ کے معمولی فیتے لگے ہوئے ہیں ۔  لیکن یہ ہنگری کا قومی ہیرو  کیرولی ٹاکاکس (Karoly Takacs) ہے۔  ہنگری کا بہترین پسٹل شوٹر۔  ہر نوجوان کی طرح اس کے بھی کچھ خواب ہیں اور اس نوجوان کا  خواب 1940کے ٹوکیو اولمپک میں طلائی تمغہ جیتنا ہے ۔  وہ اب تک تمام نیشنل اور انٹرنیشنل مقابلے جیت چکا ہے اور پسٹل شوٹنگ کی تاریخ میں اس جیسا مستحکم  و متوازن ہاتھ قدرت نے کبھی کسی کو عطا نہیں کیا تھا۔  اس کا دایاں ہاتھ خدا تعالیٰ کی طرف سے اس کا عزیز ترین اثاثہ ہے۔   اور اس کھیل کے تمام ماہرین ، پنڈت اور نامور کھلاڑی جانتے تھے کہ اس بار اولمپک گولڈ میڈل سے اس نوجوان کو کوئی چیز دور نہیں رکھ سکتی۔

  لیکن قدرت ان تبصروں پر مسکرا رہی تھی۔  ایک دن فوجی مشقوں کے دوران    اسکے دائیں ہاتھ میں تھاما ہوا دستی بم ایک دھماکے سے اس کےہاتھ اور خواب ، دونوں کے پرخچے اڑا گیا۔  آخر میں ہی کیوں ؟  اے خدا یا! پوری دنیا کے تمام لوگوں میں صرف میں ہی کیوں ؟ میرے اور مجھ جیسے بہت سے لوگوں کی طرح وہ پوری قوت سے چیخ چیخ کر اپنے خالق سے یہ سوال پوچھ سکتا تھا ۔  لوگ اپنے ہیرو کے لئے غمزدہ تھے اور ایک دوسرے سے پوچھتے تھے کہ خدا اتنا ظالم کیسے ہو سکتا ہے ۔ کیرولی کی  آنکھوں سے آنسو بہتےجارہے تھے لیکن  اسکے ہونٹ خاموش تھے۔   اسکے ساتھ تمام دنیا کی ہمدردیاں تھیں لیکن یہ ہمدردی تو اس کا خواب نہ تھا۔  لوگوں کی طرح اُسے خود پر ترس نہ آیا۔ وہ چاہتا تو اپنی تمام ماندہ زندگی اپنی قسمت پر شاکی ہو کر،  خود اذیتی کا شکار ہو کر  اپنے  دل میں اپنے لئے  ترحم آمیز جذبات بسائے گزار سکتا تھا لیکن  اس نے قدرت سے کوئی گلہ نہیں کیا۔ ہسپتال  میں گزرا ہوا ایک مہینہ اس کی زندگی کا مشکل ترین اور تکلیف دہ  دور تھا ۔ کیرولی جب ہسپتال سے واپس  آیا تو وہ ایک مختلف فیصلہ کر چکا تھا۔  اس کا خواب اس کے پاس تھا اور اس کا عزم پہلے کی طرح آہنی۔ اسے ابھی بھی دائیں ہاتھ کی وجہ سےشدید تکلیف تھی اور وہleft handed بھی نہیں تھا لیکن اسے اس کی منزل اس کا خواب اس تکلیف اور ذہنی کوفت سے کہیں پیارے تھے۔ کسی بھی چیز کو حاصل کرنے کے لئےارادے اور رویے کی ضرورت ہوا کرتی ہے ۔ مہارت اور تیکنیک تو سیکھی جا سکتی ہے لیکن  ارادہ  نہیں۔ اس نے  حقیقت کی دنیا کو تیاگ کر ممکنات کی دنیا  دریافت کرنے کی ٹھان لی۔  وہ اپنے بائیں ہاتھ کو دنیا کا بہترین شوٹنگ ہینڈ بنانے کا تہیہ کر چکا تھا۔اس نے خود کو ایک ایسی جگہہ محصور کر لیا جہاں اسے کوئی یہ کہنے والا نہیں تھا کہ تم یہ نہیں کر سکتے ۔شائید وہ خود کو لوگوں سے دور رکھنا چاہتا تھا  ۔ ان لوگوں سے جن کے خیال میں کیرولی کا کیرئر ختم ہو چکا تھا۔  ایک سال کا عرصہ گزر گیا اور لوگوں کو کچھ معلوم نہیں تھا کہ کیرولی کہاں گیا۔ ٹھیک ایک سال بعد نیشنل شوٹنگ چمپئن شپ میں وہ دوبارہ نمودار ہوا۔ اس کے ساتھی اسے دیکھ کر بہت خوش ہوئے اور اس کی ہمت اور سپورٹس مین شپ کی داد دی کہ اتنے بڑے سانحے کے باوجود وہ اس کھیل میں ان کی حوصلہ افزائی کرنے پہنچ گیا ۔  لیکن کیرولی نے انہیں یہ کہہ کر حیران کر دیا کہ وہ یہاں ان  کا کھیل دیکھنے نہیں بلکہ اپنا کھیل دکھانے آیا ہے۔ وہ  ان سے  مقابلہ کرنے آیا تھا.مقابلے میں شریک تمام شوٹرز اپنے بہترین ہاتھ سے کھیل رہے تھے اور کیرولی اپنے واحد ہاتھ سے کھیل رہا تھا ۔۔۔اور  وہ چمپئین شپ جیت گیا۔ پوری دنیا میں سوائے کیرولی کے یہ کسی نے نہ سوچا تھا کہ ایک سال پہلے اپنا بہترین ہاتھ کھونے کے بعد بھی وہ نیشنل شوٹنگ چمپئین بن سکتا ہے۔ وہ لوگ جن کی نگاہ حقائق پر ہوتی ہے وہ اس پر یقین نہیں کر سکتے تھے کہ حقائق کی دنیا میں ممکنات کے لئے بھی کوئی جگہ  ہوتی ہے۔  لیکن  کیرولی کی منزل اپنے اس ہاتھ کو اپنے ملک کا نہیں پوری دنیا میں شوٹنگ کا بہترین ہاتھ بنانا تھا۔  اس کی نظر 1940کے اولمپک مقابلوں پر تھی۔

1940 آیا لیکن ٹوکیو اولمپک دوسری جنگ     عظیم کی وجہ سے منسوخ ہوچکے تھے۔کیرولی نے سر اٹھا کر آسمان کی جانب دیکھا اور کہا ، یا خدایا! میرا خواب؟  اور پھر سر جھکا کر اپنی ٹریننگ میں مصروف ہو گیا۔  کیرولی نے اپنی امید کا دیا بجھنے نہیں دیا اور ایک ہاتھ سے اسے زمانے کی آندھیوں سے بچاتا چپ چاپ  1944 کے اولمپک کا انتظار کرنے لگا۔   1944 کا سال آیا لیکن اولمپک مقابلے ایک مرتبہ پھر منسوخ ہو چکے تھے۔  ایسا معلوم ہوتا تھا جیسے قدرت کیرولی سے کوئی کھیل کھیل رہی ہو ۔ لیکن کیرولی اپنے خواب میں جیتا رہا ۔  1948  میں اولمپک مقابلوں کا انعقاد لند ن میں ہونا تھا۔  کیرولی کو ہنگری کی جانب سے پسٹل شوٹنگ مقابلوں میں اپنے ملک کی نمائیندگی کے لئے چنا گیا۔ لیکن اب کیرولی 38 سال کا ہو چکا تھا اور اس کا سامنا اپنے سے نوجوان کھلاڑیوں کے ساتھ تھا۔ کیرولی نے دن رات محنت کی، مقابلوں میں حصہ لیا  جہاں  دنیا بھر کے بہترین نشا نہ باز اپنے بہترین ہاتھ سے کھیلنے آئے تھے ، کیرولی اپنے واحد ہاتھ کے ساتھ کھیلا اور وہ جیت گیا۔    اس نے قدرت کو تھکا کر ہرا دیا تھا۔ اس نےاپنا خواب حاصل کر لیا تھا ۔  لیکن اس کی لگن ابھی ختم نہیں ہوئی تھی۔ چار سال بعد ہیلسنکی اولمپکس میں  کیرولی نے ایک بار پھر قدرت کی آنکھوں میں مسکرا کر دیکھا اور اپنے بائیں ہاتھ سے سب سیدھے ہاتھ والوں کو شکست دے کر ناصرف یہ کہ  سب کو حیران کر دیا بلکہ ایک نئی تاریخ بھی رقم کی ۔ ان مقابلوں میں آج تک مسلسل دو بار یہ مقابلے کسی نے نہ جیتے تھے ، کیرولی نے یہ کر دکھایا۔  کیونکہ اس کے پاس وہ  جذبہ تھاجس سے چمپئین بنتے ہیں۔  وہ ایک ایسا انسان  تھا جس کے غیر متزلزل جذبے کے سامنے  قدرت نے بھی گھٹنے ٹیک دیے۔

میرے دوستو ! اگلی بار جب زندگی آپ کو گرا کر آپ پر چڑھ بیٹھے تو آپ بھی ایک فاتح ، ایک چمپئین کی طرح  اٹھئے گا اور دنیا کو حیران کر دیجئے گا ۔ اگر آپ کو خود اپنی نظروں میں ایک باوقار زندگی گزارنی ہے تو آپ کو اپنی   سوچ کوبدلنا  پڑے گا ۔   آپکی زندگی میں جیت تبھی مقدر بن سکتی ہے جب آپ  گرنے  کے بعد اٹھنا سیکھیں، ہارنے کے بعد دوبارہ مقابلہ کرنے کا حوصلہ رکھیں۔     ہم سب کو اپنی زندگی میں ناکامیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ ہم اپنے آپ کو ٹوٹا ہو محسوس کرتے ہیں۔ شکست خوردہ، اور بکھرے ہوئے۔ یاد رکھئے کہ قدرت کبھی آپ کے خوابوں کے لئے  دروازے بند نہیں کیا کرتی بلکہ  ہمیشہ ایک دوسرا رستہ آپ کے لئے کھلا  ہوتا ہے بس ذرہ سی ہمت کر کے وہ رستہ کھوجنا اور طے کرنا پڑتا ہے۔ فاتح ہمیشہ ایک حل تلاش کرتے ہیں جبکہ شکست خوردہ ذہن فرار کی راہ۔  اگلی بار آپ ایسا کچھ محسوس کریں تو  روتے ہوئے خدا سے یہ مت کہئے گا کہ آخر میں ہی کیوں؟  جو چلا گیا اس کو مت سوچئے گا بلکہ اپنی توجہ کا مرکز اسے بنائیے گا جو آپ کے پاس ہے۔  دنیا کا کوئی بم آپ کی قوت ارادی کو ، آپ  کے جذبے کو اور آپ کے حوصلے کو شکست نہیں دے سکتا۔ دنیا کی کوئی چوٹی ایسی نہیں جسے سر نہ کیا گیا ہو، پہاڑ آپکا رستہ نہیں روک سکتے ہاں یہ آپ کے اپنے جوتے میں پڑا ہوا کنکرہی تو ہے جو  آپ کو چلنے نہیں دیتا۔اٹھیے اور  اسے نکال کر باہر پھینک دیجیے۔

(Visited 1,130 times, 1 visits today)

Ehsan Qamar belongs to Financial Management by profession & a freelance writer based in UAE. With a wide study on Urdu literature and current affairs, his areas of interests are social and moral issues. He can be reached out on twitter @ehsanqamar

Leave a Reply

Got It!

اس ویب سائٹ کا مواد بول پلاٹون کی آفیشل رائے کی عکاسی نہیں کرتا. مضامین میں ظاہر معلومات اور خیالات کی ذمہ داری مکمل طور پر اس کے مصنف کی ہے