Here is what others are reading about!

کتا

کُتّا ان چوپایوں میں سے ایک ہے جنکی تاریخ لاکھوں سال  پرانی ہے۔ بینادی طور پر اسکا  تعلق بھیڑئے کے خاندان سے ہے۔ جی ہاں! وہی بھیڑیا  جوبکریوں کے لئے خوف اور دہشت کی علامت ہے۔ بکری کو چونکہ فارسی زبان میں بُز کہا جاتا ہے، چنانچہ  اسی مناسبت سے ہر اس شخص کو بُزدل کہا جاتا ہے جو بکری کی طرح اپنے چھوٹے سے دل میں درندوں کے لئے بھیڑئے جیسا  بہت سارا خوف رکھتا ہو۔ پرانے زمانے میں عام رواج تھا اور اس دور میں بھی دوردراز کے علاقوں، پہاڑوں، میدانوں  اور دیہاتوں میں اب بھی گلہ بانی ایک باقاعدہ پیشہ ہے  جس میں بکریوں کے ریوڑ کو سارا دن سبزہ چروایا جاتا ہے۔ یہ بھی ایک طے شدہ حقیقت ہے کہ جہاں بکریوں کے ریوڑکا تذکرہ آئے گا، وہیں بھیڑئے کے خوف کا موجود ہونا ایک لازمی امر ہے۔ چنانچہ  دور دراز کے جنگلوں میں بکریوں کی بھیڑئے سے حفاظت کی خاطر اسی کے رشتہ دار کُتّے سے مدد لی جاتی ہے۔ مزے کی بات یہ ہے کہ کُتّا یہ کام ایک ہڈی یا ایک ٹکڑا روٹی  کے عوض بخوشی کرنے پر آمادہ ہو جاتا ہے ، اپنے آقاکے تلوے بھی چاٹتا ہے اور مرتے دم تک اسکی چوکھٹ کو نہیں چھوڑتا۔ یعنی کُتّا وہ جاندار ہے جسکا بنیادی مقصد انتہائی قلیل اجرت کے عوض حفاظت جیسا بیش قیمت کام کروانا ہے۔ یہ اس حد تک لالچی ہوتا ہے کہ معمولی اجرت کے عوض اسکا استعمال اسی کے قبیلے کے خلاف کیا جاسکتا ہے۔

اسکی اطاعت کا یہ عالم ہے کہ  ہڈی دینے والے اپنے مالک کے کہنے پر نہیں، صرف اشاروں پر ہی فرانبرداری کا ایسا مظاہرہ کرتا ہے کہ اسکی  دُم ہلانے کی یہ ادا ایک باقاعدہ محاورے کی شکل اختیار کرگئی ہے۔ سائنسدانوں نے بھیڑئے کے اس رشتہ دار پر بے انتہا تحقیق کی اور اسکے جواہر کو جانچ کر اس سے بڑے بڑے کام نکلوائے ہیں۔ مثلاً کُتّے کی ناک وہ نادر ناک ہے کہ جسے ایک مرتبہ سونگھ لے، مرتے دم تک اسکی مہک اس سے جدا نہیں ہوتی۔ چنانچہ جرم کی پیچیدہ تفتیش  کے مراحل کُتّے کی ناک کے زریعے سے انتہائی سہل انداز میں طے ہوجاتے ہیں۔

کُتّا ہمارے ادب میں بھی ایک خاص اہمیت کا حامل ہے۔ اس پر پطرس بخاری نے بھی قلم آزمائی کی اور ایسی کی کہ انکا مضمون”کُتّے” اردو ادب کا ایک بہترین شاہکار بن گیا۔ فیض احمد فیض کُتّوں کی کچھ چیدہ چیدہ خصلتوں کو اپنی نظم میں کچھ اس طرح بیان کرتے ہیں کہ

یہ گلیوں کے آوارہ بے کار کُتّے
کہ بخشا گیا جن کو ذوقِ گدائی
زمانے کی پھٹکار سرمایہ اُن کا
جہاں بھر کی دھتکار ان کی کمائی

نہ آرام شب کو،  نہ راحت سویرے
غلاظت میں گھر،  نالیوں میں بسیرے
جو بگڑیں تو اک دوسرے سے لڑا دو
ذرا ایک روٹی کا ٹکڑا دکھا دو

کوئی زمانہ تھا کہ کسی کو کہیں بری موت آگئی تو کہا جاتا تھا کہ بدکردار تھا۔۔۔ کُتّے کی موت مر گیا۔ آج  میرے وطن کے کُتّے کہتے ہیں کہ یہاں سے بھاگ چلو، نہیں تو انسان کی موت مارے جاؤگے۔ ویسے پاکستان بھی عجیب ملک ہے جہاں  گلیوں اور بازاروں میں انسان کُتّوں کی طرح مار دئے جاتے ہیں اور کُتّوں کو شہید کے درجے پر فائز کردیا جاتا ہے۔۔۔۔ خیر ۔۔۔۔

یہ تو صورت ہے تیسری دنیا کی غلیظ گلیوں میں بسنے والے غلیظ کُتّوں کی، جبکہ اسی کُتّے کی تصویر کا دوسرا رخ یہ ہے کہ اسے خدا نے  سونگھنے کے علاوہ بھی بے شمار اور بے انتہا صلاحیتوں سے نوازا ہے۔  یہ لاکھوں سال سے انسانی معاشروں میں  انسانوں کے ساتھ رہ رہا ہے۔ اس میں بلا کی  دیکھنے، سمجھنے اور سیکھنے کی صلاحیت  موجود ہوتی ہے۔ اس کی خاصیت ہے کہ جیسے ماحول میں رہتا ہے،  خود کو بھی اسی میں ڈھال لیتا ہے۔  اس بات کا ثبوت ہمیں قرآنِ کریم میں بھی ملتا ہے کہ اپنے مالکان کی صحبت میں رہ کر انکی حفاظت کرنے والا سگِ کہف بھی کامیابی کی منزلوں کو چھو لیتا ہے۔ 

ایک اور زاوئے سے دیکھا جائے تو کُتّا نجاست اور پستی کی  علامت بھی سمجھا جاتا ہے۔  چنانچہ اپنی خواہشات کی گھاٹی  میں گرجانے والےکی مثال قرآنِ کریم میں کُتّے سے ہی دی گئی ہے۔ ارشاد ہوتا ہے کہ

“وہ تو پستی کی طرف مائل ہوگیا اور اپنی خواہش کے پیچھے چل پڑا۔ تو اس کی مثال کُتّے کی سی ہوگئی کہ اگر سختی کرو تو ہانپے گا اور یونہی چھوڑ دو تو بھی زبان نکالے رہے۔ یہی مثال ان لوگوں کی ہے جنہوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا۔”    (7:176)

ہمارے معاشرے میں  بھی ایسے بیشمار کُتّے موجود ہیں جو چین سے بیٹھ ہی نہیں سکتے۔ انکو کچھ نہ کہو، تب بھی بھونکتے ہیں اور پتھر اٹھا کر مارو، تب بھی انکا  وہی ردِ عمل ہوتا ہے۔

جبکہ مغرب میں بعض مقامات پر کُتّے کو انسان سے زیادہ اہمیت حاصل ہے۔  سنتے ہیں کہ جب انگریز ہم پر اسی خطے میں بیٹھ کر حکومت کیا کرتا تھا تو ایک برطانوی کُتّے کو ایک ہندوستانی انسان جتنی اہمیت حاصل تھی۔ اسی حقیقت کے زیل میں ایک اور بات سن رکھی ہے کہ لاہور کے لارنس گارڈن (حال باغِ جناح) کے داخلی دروازے پر ایک کتبہ آویزاں تھا جس پر جلی حروف میں لکھا تھا کہ کُتّوں اور ہندوستانیوں کا داخلہ ممنوع ہے۔ کُتّے سے ہی متعلق آج کل ایک خبر گردش میں ہے کہ برطانیہ میں ہونے والے آئیندہ انتخابات میں  زیوس نامی ایک کُتّے کو بھی ووٹ ڈالنے کی دعوت دی گئی ہے۔ واہ رے زیوس! تیری توقیر۔۔۔ کہیں کُتّے کو ووٹ کا حق تو کہیں انسان اس حق سے محروم!!! ۔۔۔۔

عربوں کی بھی اپنے کُتّوں اور اونٹوں سے دوستی ضرب المثل کی حیثیت رکھتی ہے۔ اونٹوں سے محبت تو شاید موروثی ہوتی ہے۔یہاں تک بھی کہا جاتا ہے کہ عرب اپنی بیوی کو چھوڑ سکُتّے ہیں، اونٹ کو نہیں۔  انکی دیکھ بھال، پرورش اور دوڑ عربوں کے محبوب مشاغل ہیں۔ لیکن کُتّے کا استعمال بطورِ خاص شکار کے لئے کیا جاتا ہے۔  کہتے ہیں کہ پاکستان کی سرزمین عربوں کی پسندیدہ شکارگاہ ہے۔عرب چونکہ ہمارے مربی ہیں، ہمارے دکھ درد کے ساتھی ہیں، ہمارے  ساتھ صدیوں پر محیط  اخوت اور بھائی چارے کے رشتے  میں بندھے ہوئے ہیں، آڑے وقت میں ہمیں اپنی سرزمین پر پناہ بھی دیتے ہیں ، اس لئے پاکستان میں شکار کھیلنے کے لئے ان پر کسی قسم  کی نہ کوئی پابندی ہے اور نہ ہی کسی نوع کا کوئی قانون ان  پر لاگو ہوتا ہے۔  یہ شکار کے اس حد تک دلدادہ  ہیں کہ اپنے شکاری کُتّوں پر اربوں ڈالر خرچ کرتے ہیں۔ کیوں نہ کریں، کہ انکے کُتّوں نے کبھی انکو مایوس نہیں کیا۔

اب زرا بات ہو جائے امریکی  کُتّوں کی۔   کہتے ہیں کہ امریکہ میں لوگ اپنے گھر میں رہنے والے انسانوں سے زیادہ اپنے کُتّوں سے پیار کرتے ہیں۔ یہ میز پر اپنے ساتھ اپنے کُتّے کو بٹھا کر کھانا کھلاتے ہیں۔ اسے اپنے بستر میں سلاتے ہیں۔ کُتّے کے بوسے لیتے ہیں۔ اپنے چہرے کو اس سے چٹواتے ہیں۔ اسی کے ساتھ سیر کرنے جاتے ہیں اور جب انکا کُتّا انتقال کرجائے تو اس قدر  رنجیدہ ہوتے ہیں کہ اتنے غمزدہ اپنے والدین کے انتقال پر بھی نہیں ہوتے۔

امریکی اپنے کُتّوں کی حرکتوں سے دنیا بھر کو حیران کرتے رہتے ہیں۔ آج کل   ساؤتھ کیرولائنا کے ایک کُتّے نے بڑی دھوم مچا رکھی ہے جس نے چڑیا گھر کے  شیر سے دوستی گاڑ لی ہے۔ شیر بھی اس کُتّے سے اتنا مانوس ہو گیا ہے کہ اپنی سرشت کے برخلاف اسے کچھ نہیں کہتا۔   مجھے سمجھ نہیں آتی کہ امریکی بھی کن فضولیات کو خبریں بنا کر دنیا کی توجہ حاصل کرنے کی کوششوں میں لگے رہتے ہیں۔ شیر اور کُتّوں کو انہوں نے چڑیا گھر میں قید کررکھا ہے جبکہ ہمارے یہاں شیر مسندِِ اقتدار  پر بیٹھا ہے اور کُتّے کو اپنے ساتھ شریکِ اقتدار  کرنے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہا ہے۔ مگر کُتّے کو کسی صورت کامیابی ہی نہیں ہو رہی کہ پھٹکار اس کا مقدر ہے۔

کُتّے کی خصلت ہے کہ چھوڑ دو، تب بھونکے گا۔  پتھر مارو، تب بھونکے گا۔ اسے کسی صورت میں چین نہیں ہے۔ جبکہ ایک عام انسان اسکے خوف کا شکار رہتا ہے۔ سائنسدانوں کی ایک تحقیق اور ہے کہ کُتّا آپکو دیکھ کر بلاوجہ بھونکے گا اور خوفزدہ کرکے حملہ آور ہوگا۔ اس کا واحد علاج یہ ہے کہ اسکے سامنے تن کر کھڑے ہو جاؤ اور جتنی آنکھیں نکال کر گھور سکُتّے ہو، گھورو۔  پتھر اٹھانے کی زحمت کی بھی ضرورت نہیں۔ یہ خود ہی ُدم دبا کر بھاگ جائیگا۔  اور اسی ُدم کو اپنے آقا کے سامنے ہلاتا ہوا شرمندگی سے اسکے تلوے چاٹنے لگے گا۔

لیکن میں کیا کروں؟ مجھ سے یہ نہیں ہوتا کہ میں بُزدل ہوں۔ بُزدل ہی نہیں، میں خود ایک بکری ہوں۔ بکریوں کے ایک خوفزدہ ریوڑ کا حصہ۔۔۔۔ اس بدنصیب ریوڑ کا حصہ، کہ جسکی حفاظت پر مامور کُتّا اپنے ہی قبیلے کے اس بھیڑئے سے جا ملا ہے، جس سے مجھے خطرہ تھا۔ لالچ اسکی سرشت کا حصہ ہے۔ ہڈی کو چھوڑ کر اس نے میرے ہی ریوڑ کی اس بکری کے گوشت پر ہاتھ صاف کرنا شروع کردیا ہے ، جسے بھیڑیا ہمارے  ریوڑ کے خوف اور نفاق کا فائدہ اٹھاتے ہوئے لے اڑا تھا۔

 

(Visited 676 times, 1 visits today)

Qamar Raza Rizvi is a photographer & a journalist based in Islamabad. He writes for Islam Times & Tahera. He writes on current affairs, social and moral issues.

Leave a Reply

Got It!

اس ویب سائٹ کا مواد بول پلاٹون کی آفیشل رائے کی عکاسی نہیں کرتا. مضامین میں ظاہر معلومات اور خیالات کی ذمہ داری مکمل طور پر اس کے مصنف کی ہے