Here is what others are reading about!

فیملی ہم سے ہے

معاشرے میں اہم ترین اور اصلی رکن، گھرانہ اور خاندان کا تشکیل دینا ہے اور یہی انسانوں، قبیلوں اورامتوں کی خوش بختی و بدبختی کا سبب ہے، اسی لیے اسلام نے خصوصی طور سے گھرانہ اور خاندان کی سلامتی، رشد و تکامل کی طرف توجہ دلائی ہے۔جس طرح انسان کا بدن مختلف اعضاء سے مل کر بناہے اوران اعضاء کے درمیان فطری رابطہ موجود ہے اسی طرح معاشرہ بھی چھوٹے بڑے خاندانوں سے مل کر بنتاہے۔جب کسی خاندان کے افراد میں اتحاد اور یگانگت ہوتی ہے تو اس سے ایک مضبوط اور سالم معاشرہ بنتا ہے۔           
آپ کی فیملی اﷲ کی طرف سے دیا ہوا تحفہ ہے جس کو کبھی جھٹلایا نہیں جاسکتا۔بلاشبہ اپنی فیملی سے محبت کا جواز ڈھونڈا نہیں جاسکتا بلکہ یہ فطری ہوتا ہے۔آئیے آج آپ کو وہ وجوہات بتاتے ہیں جو فیملی سے محبت بڑھاتی ہیں۔        

  • کھانے کی میز ہو یا صبح کا ناشتہ،تمام افرادایک دوسرے کے دکھ درد اور زندگی گزارنے کے مفید مشورے بانٹتے ہیں۔
  • امی ابو کی طرف سے کیرئیرکے حوالے سے خوبصورت نصیحتیں دل کو بھاتی ہیں۔
  • وہ ہمدردی اور توجہ جو ہم غیروں سے چاہتے ہیں وہ صرف ہمیں گھر سے ہی ملتی ہے۔
  • ہماری فیملی ہمیں معاشرے کا ایک اچھا اور ذمہ دار شہری بنانے کی بھرپور کوشش کرتے ہیں اور یہ سب صرف گھر والوں کے بے لوث حوصلہ افزائی کی بدولت ہی ممکن ہے۔
  • دیکھنے میں آتا ہے وہ بچے زیادہ پراعتماد ہوتے ہیں جو اپنا وقت گھر والوں کے ساتھ بسر کرتے ہیں۔
  • اگر ہم کبھی مایوسی یا تھکان کا شکار ہوتے ہیں تو ایسے موقع پر بہن بھائی ہمیں تنگ کرکے ہمارا دھیان بٹانے کی کوشش کرتے ہیں۔
  • ایک پیار کرنے والی ماں ہمیں Immune System اور دل,Asthema کی مہلک بیماریوں سے بچاتی ہے۔
  • ایک محبت اور توجہ دینے والی فیملی immunity drastical کو بڑھاتی ہے اور آپ اچھا محسوس کرنے لگتے ہیں.         
  • اچھے مراسم ہونے سے بچہ یا بچی Drug Addictیا اور برے نشے سے محفوظ رہتے ہیں۔
  • تشدد پسند اور وحشی ہونے سے صرف فیملی بچاتی ہے اور اگر گھر کا ماحول پرسکون ہو تو خودکشی جیسے فعل کا کوئی فرد نہیں سوچتا۔

پہلی مرتبہ 1994 کو اقوام متحدہ نے خاندان کا عالمی سال قرار دیاتھا جس کے بعد یہ دن ہر سال 15مئی کو اقوام متحدہ کے رکن ممالک میں منایا جاتا ہے۔معاشرے میں رہن سہن کے لئے انسان تنہا زندگی نہیں گزار سکتا۔ اسی لئے انسانوں کے ساتھ رہنے کا نظام بنایا گیا ہے جو کہ صدیوں سے رائج ہے۔ اس نظام کے تحت انسان کسی معاشرے میں رہنے کے لئے معاشرے میں تعلقات استوار کرتا ہے۔ اپنا ایک الگ گھر بناتا ہے اور پھر اس گھر کا منتظم بن کر، گھر کے نظام کو احسن طریقے سے چلانے کی کوشش کرتا ہے۔مشہور کہاوت ہے کہ ”فیملی ضروری نہیں چیز نہیں بلکہ سب کچھ ہے۔”            
یہ ہمارا فرض ہونا چاہئے کہ ہر سطح پر خاندان کی بقا کے لیے مہم چلائیں ،تعلیمی نصاب ایسا ترتیب دیا جائے جس میں خاندان کی اہمیت ،دیگر ممالک میں خاندانی نظام ٹوٹنے کی وجہ سے ہونے والے نقصانات ، خاندان کی بابت اسلامی تعلیمات وغیرہ کا احاطہ کیا جائے۔

(Visited 417 times, 1 visits today)

Saad Shahid is content writer at Sarim Burney Trust International, Youth Department Reporter at Daily Azad Riasat and Special Correspondent at News Online.

Leave a Reply

Got It!

اس ویب سائٹ کا مواد بول پلاٹون کی آفیشل رائے کی عکاسی نہیں کرتا. مضامین میں ظاہر معلومات اور خیالات کی ذمہ داری مکمل طور پر اس کے مصنف کی ہے