Here is what others are reading about!

موم کی عورت

نا جانے اس نے کس طرح کی عورت بننا ہے….ابھی تک اس کو کچھ پتا نہیں کہ اس کی سمت کیا ہو گی…اس اہم امر کا فیصلہ ابھی کیا جانا ہے…..سب کہتے ہیں کہ پہلے ہی بہت دیر ہو گئی ہے اب تک تو اس بات کا فیصلہ ہو جانا چاہیئے …..یہ فیصلہ جس نے کرنا ہے اسی کا انتظار ہے ……اس کی زندگی میں آنے والا مرد ہی اس کی سمت متعیّن کرنے کا حق رکھتا ہے…..وہ خود اپنی نگہبان نہیں ہے …..یہ اسے پیدا ہوتے ہی باور کرا دیا گیا تھا ……. اس کی زندگی یوں تو ہمیشہ ہی کسی نہ کسی سہارے کی محتاج رہی ہے لیکن یہ ایک رشتہ زندگی کے اس موڑ پر سب سے اہم ہے کہ سب اس تعلق کے قائم ہو جانے کے منتظر ہیں …..     
اس کی شادی ہو جائے ……اب اس لڑکی کی تمام تر زندگی کا دارومدار اس کے شوہر پر ہے ……وہ جیسا ہوا…..یہ بھی ویسی ہو جائے گی……وہ اچھا ہو تو یہ خوش نصیب کہلائے گی……اور اگر برا وہ ہے تو بد نصیب یہ ہو گی …….یعنی کہ اچھائی برائی اس کی اور اس کے اثرات اس پر……….کمال ہے بھئ..       
وہ اکثر سوچتی کہ آخر اس کا مستقبل کیا ہو گا……وہ کس طرح کی عورت بنے گی……کیا وہ ایک مشرقی بیوی بنے گی….چپ چپیتی..نا بولنے والی…..بولنے پر مار کھانے والی…… شوہر کی گالیاں کھانے والی پھر بھی اس کے گھر میں رہنے والی….. زبان کوقابو میں رکھنے کی ہدایت سننے والی …..پھر بھی بول پڑنے والی اور پھر مار کھانے والی….ایسی عورت جس کو غصے دھونس اور مار کٹائی سے سنبھالا جاتا ہے ….       
یا پھر وہ ایک اسلامی بیوی بنے گی….خاموش …شوہر کی اطاعت گزار….مشرقی بیوی سے یہ والی عورت زرا مختلف ہوتی ہے …..کہ یہ خود مان جاتی ہے کہ مرد عورت پر حاکم ہے …..یہ برملا کہتی ہے کہ میرے خاوند کے ذمے میری کفالت ہے اور میرے ذمے اس کی فرمانبرداری…اسے اتنا ہی مذہبی علم دیا جاتا ہے کہ یہ اپنی انا کو نرم کر ڈالتی ہے…..اپنے مرد کے آگے ہار مان لیتی ہے… اس کی رائے کو مقدم جانتی ہے…اور باہر کے معاملات سے ہاتھ کھینچ لیتی ہے….گھر کے اندر رہ کر اسے جنت بنانے اور شوہر کو خوش رکھنے کی کوشش میں لگا رہنا اس کا مقصدِ حیات ٹھہرا دیا جاتا ہے.        
لیکن کچھ پتانہیں تھا کہ اسے کس طرح کی بیوی بننا پڑے گا……کیا وہ ایک مغربی بیوی بنے گی….جو منہ زور ہوتی ہے….اور اپنے خاوند سے چار قدم آگے چلتی ہے….جو گھر کومینج کرتی ہے اور نوکروں کو ہدایات دیتی ہے……جس کے ہاتھ کچھ نہیں کرتے اور جس کی زبان سب کچھ کرتی ہے….اس عورت کی زبان میں دنیا جہان کی طاقت ہوتی ہے ….یہ ہر فیصلہ خود کرتی ہے اور ڈنکے کی چوٹ پر کرتی ہے……مشرقی بیوی کی طرح خاوند کے فیصلے پر غصہ دبا کر نہیں بیٹھی رہتی….نہ اسلامی بیوی کی طرح سر جھکا کر ثواب سمیٹنے کی خواہشمند ہوتی ہے….  
لیکن وہ قطعی طور پہ نہیں جانتی تھی کہ آنے والے کل میں اس کو ان تین کرداروں میں سے کونسا کردار ادا کرنا ہوگا…..اس کے مستقبل کا سارا دارومدار اس کی زندگی میں آنے والے مرد پہ منحصر تھا…اگر اس کو ایک داڑھی والا مرد ملتاہے  …جس کی نمازیں اور جھکی نظریں سب میں مشہور ہوتیں……تو وہ برقع پہن کر باہر نکلا کرے گی…..اگر اس کو ایک ایسا مرد ملتا ہے جس نے آدھی پونی تعلیم حاصل کی ہے لیکن کماتا اچھا ہے تو وہ ایک مشرقی بیوی بنے گی…چادر اوڑھ کر باہر نکلا کرے گی….فیصلے سارے مرد کرے گا …اور وہ اپنی چلانے کی کوشش کرے گی تو لڑائیاں ہوا کریں گی….        
اور اگر اس کو کوئی جدیدیت کا پرستار ملتا ہے ….انگریزی تعلیم جس کے اندر تک اتر گئی ہو…جو دقیانوسی سوچ سے نفرت کرتا ہو….جو اپنے اس معاشرے سے جہالت کا خاتمہ چاھتا ہو…اور جو انتہا پسندی سے دور بھاگتا ہو.. اگر اس کو ایسا مرد ملے گا تو وہ ماڈرن بیوی بنے گی…ٹائٹس اور ٹاپس پہنا کرے گی…وہ ایک چلتی پھرتی ماڈل ہو جائے گی..خود مختار ہو گی اور ہر فیشن اپنا کر سرِ عام کہا کرے گی کہ عریانی اور فحاشی سوچ میں ہوتی ہے…لباس میں نہیں….اورپردہ دل کا ہوتا ہے اور دین میں جبر نہیں اور اسلام سب سے ماڈرن اور آسان دین ہے…یہ اور اسی قسم کے فقرے ان میاں بیوی کے پیٹ سینٹنس ہوا کریں گے…….               
بہرحال اس میں یہ صلاحیت ہے کہ وہ ان تینوں میں سے کسی بھی کردار میں ڈھل جائے…ہمارے معاشرے کی ہر عورت ایسی ہی ہے.اس کو ڈھلنا پڑتا ہے ….جس سانچے میں مرد ڈالے وہ اسی کے مطابق ڈھل جاتی ہے…یہ واقعتاً موم کی عورت ہے..جس کو ڈھلنا پڑتا ہے …اس کو مرد موڑتا ہے تو مڑ جاتی ہے ڈھالتا ہے تو ڈھل جاتی ہے….اور جو نہ ڈھل پائیں وہ ٹوٹ جاتی ہے ……توڑ دی جاتی ہیں…..         
یہ سارا معاشرہ مرد نے بنایا ہے اور اس میں عورت کے کردار کا تعّین بھی وہ ہی کرتا ہے…اورعورت اپنے بتائے گئے کردار کے مطابق اداکاری کرتی ہے…..
آخر اس خطے کی عورت کا اپنا رنگ کیا ہے…..وہ کیا چاھتی ہے ….کس طور پہ زندگی کرنا اس کی چاھت ہے…….کون کھوج لگائے گا……..       

(Visited 654 times, 1 visits today)

Kaneez Noor Ali is a graduate in Mass Communication and a freelance writer based in Gujrat. Her areas of interests are short stories and social issues.

Leave a Reply

Got It!

اس ویب سائٹ کا مواد بول پلاٹون کی آفیشل رائے کی عکاسی نہیں کرتا. مضامین میں ظاہر معلومات اور خیالات کی ذمہ داری مکمل طور پر اس کے مصنف کی ہے