Here is what others are reading about!

  • Home
  • /
  • Social
  • /
  • ہیرو کی ترسی ہوئی قوم

ہیرو کی ترسی ہوئی قوم

میرا قلم بھی شاید اس قوم کے ہر سپوت کی طرح سو رہا تھا، اور اسے بھی جاگنے کے لیے کسی حادثے، کسی سانحے، کسی موقع کا انتظار تھا – میری قوم کو ملنے والے نئے تمغوں، نئے القابات میں ایک اور اضافہ کر لیں.. ہم ہیں ہیرو کو ترسی ہوئی قوم. جی یہ قوم ہمیشہ ایک راہبر، ایک ہیرو کی تلاش میں رہی ہے، قائداعظم کے بعد سے اب تک یہ کئی ہیرو بدل چکی ہے.. اس میں کوئی برائی نہیں کہ کسی کی پیروی کی جائے مگر پیروی کس کی کی جا رہی یہ دیکھنا ضروری ہے… معلوم نہیں اسے ہیرو بدلنے کا شوق ہے، یا ہر ہیرو سے ڈسے جانے کا.. کبھی اس قوم کا ہیرو وہ کہلاتا ہے جس نے اس وطن کا خواب دیکھا، کبھی وہ جس نے اسے آزاد کروایا.. کبھی وہ جس نے اسکے ٹکڑوں کو بیچ ڈالا.. کئی بار ڈسے جانے والی یہ قوم یا تو بہت احمق ہے یا معصوم.. یہ ایک ہی سوراخ سے بار بار ڈسی جاتی ہے مگر پھر بھی اپنا نعرہ نہیں بدلتی کہ کہیں اسے کوئی لوٹا نہ کہہ دے، نا سمجھ یہ نہیں جانتے کہ بقول جیمز زندوں کی دنیا تغیر و تبدیلی سے بھرپور ہے، اگر اک بار ڈس کر تم اپنا سوراخ بدل لیتے ہو تو کیا برا؟ خیر ہیرو کے معاملے میں یہ قوم صرف سیاسی سطح تک محدود نہیں ہے، اسکے لیے بھلے شیر، کبوتر، تیتر، تیر اور بلا اسکے ہیرو ہوں مگر کبھی کبھی اسکے لیے وہ عورت ہیرو بن جاتی ہے جو ملکی گندگی کو ننگا کر کے آسکر کما لیتی ہے، موا منٹو اس دور میں زندہ ہوتا تو اس دور کے حکمرانوں کو ضرور دکھاتا کہ دیکھو یہ ہوتے ہیں حکمران برائی دکھانے والے کو گالیاں نہیں بکتے، اسے سر آنکھوں پر بٹھاتے ہیں.. مگر میری یہ سوچ تب جھاگ بن کر بیٹھ گئی جب ایک اور برائی کی نشاندہی کرنے والے کو کوئی تمغہ پہنانے کی بجائے ہتھ کڑی کی زنجیر پہنا دی گئی… گویا کام تو اسکا بھی برائی دکھا کر اسکو درست کرنا تھا، یعنی مکھی جا کر غلاظت پر بیٹھ گئی تھی کہ لو بھئی میں نشاندہی کیے دیتی ہوں یہ جگہ گندی ہے اسے صاف کر لو.. مگر ایسا تو کچھ نا ہوا، ہاں مگر عوام کے آدھے حلقے کا ہیرو بن گیا، اور آدھے کے لیے زیرو.. میں نے کہا نہ یہ قوم ہیرو کی ترسی ہوئی ہے، اسے کسی کو ہیرو بناتے دیر نہیں لگتی.. کبھی فکس اٹ کا کمال جادو تو کبھی بےقرار ہتھ کڑیاں، کبھی بوریاں، کبھی بلے، کبھی شیر، کبھی قندیل کبھی اینجل… یہ قوم سب کو ہیرو بنانے میں اپنا اہم کردار ادا کرتی رہی ہے.. ایسا نہیں ہے کہ عوام کے منتخب ہیرو، ہیرو گیری کی کرسی کے مستحق نہیں .. بلکل مستحق ہیں ، بہت سے لوگ ہیں… مگر یہ قوم ہمیشہ کسی ہیرو کی تلاش میں کیوں رہتی ہے؟ اسے ملک میں بہتری لانے کے لیے ایک ہیرو کی پشت پناہی کیوں چاہیے ہوتی ہے؟ اس قوم کا ہر شہری یہ بات کیوں نہیں سمجھتا کہ وہ ‘ہیرو’ ہے.. اصل ہیرو! ہر شخص کا ذرہ برابر عمل ہی اس ملک کے لیے کارآمد و مفید ہے… مگر یہ قوم تو اب تک سیاسی و معاشی، اور مذہبی جھمیلوں سے ہی نہیں نکلی.. اس قوم میں تو اب برائی و اچھائی کو بھی سیاسی و مذہبی جماعت سے منسوب کر دیا جاتا ہے، بالفرض اگر کسی جماعت کا کوئی فرد واہیات حرکت کرتا ہے تو اسکا الزام سیدھا اُس شخص سے منسوب سیاسی و مذہبی جماعت پر چلا جائے گا… کیونکہ شاید مذہبی و سیاسی جماعتیں سطحی تبدیلی کے ساتھ ساتھ نفس کی تبدیلی کو بھی پیکج کا حصہ بناتی ہیں.. . خیر میں ابھی بھی مایوس نہیں اس قوم سے، کسی نا کسی دن تو یہ قوم اپنی اہمیت کو سمجھے گی… تاج پہننے والوں کو تاج پہنانے میں کتنے فیصد اسکا ہاتھ، کبھی تو سمجھے گی… اسکی موجودگی سب کچھ ہے وہ نا ہو تو کس کا مال لوٹ کھسوٹ کر کھایا جائے کبھی تو سمجھے گیں.. کہ اس قوم کا ہیرو وہ ہے جو رات اس زمین کے فُٹ پاتھ کے سینے لگ کر سو جاتا ہے، اور صبح امیر زادوں کے کتے نہلاتا ہے، انکی عمارتیں کھڑی کرتا ہے، انکے گھروں کی غلاظت صاف کرتا ہے، انکے محکموں کو محنت کا خون پسینہ فراہم کرتا ہے .. میں ہوں ہیرو، آپ سب ہیں ہیرو.. ہر وہ شخص جو ملکی ترقی میں مثبت حصہ ڈالتا ہے وہ ہے ہیرو.. بھلے وہ عمل سڑک سے کوڑا اٹھانے کا ہی کیوں نا ہو، بھلے وہ ایک پودا لگانا، سڑک پر نا تھوکنے کا عہد ہی کیوں نا ہو… بھلے وہ ہر حال ہر مقام پر عورت کی عزت و عظمت برقرار رکھنے کا خود سے کیا وعدہ ہی کیوں نا ہو… ایسا کرنے والا ہر شخص ہیرو ہے… اور ایسے ہیروز کو اشتہارات کی ضرورت نہیں ہوتی، ایسے ہیروز تمغوں کے بغیر بھی ہیرو کہلاتے.. ایسے لوگ ہی محب وطن کہلاتے ہیں.. مجھے ڈر ہے کہ اپنا ہیرو منتخب کرنے کے چکر میں ہم اپنے اندر کا ہیرو نہ گنوا دیں.. خود کو یاددہانی کرواتے رہیں کہ اصل ہیرو آپ ہیں… آپکو اور اس ملک کو ‘آپکی’ ضرورت ہے.. افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر ہر شخص ہے ملت کے مقدر کا ستارہ….!!!!

(Visited 566 times, 1 visits today)

Mafiya Sheikh is a graduate in Urdu literature and a freelance writer based in Islamabad. Working with an NGO, her areas of interests are social and general issues.

Leave a Reply

Got It!

اس ویب سائٹ کا مواد بول پلاٹون کی آفیشل رائے کی عکاسی نہیں کرتا. مضامین میں ظاہر معلومات اور خیالات کی ذمہ داری مکمل طور پر اس کے مصنف کی ہے