Here is what others are reading about!

ادھوری ذات

ڈھول کی تھاپ پر رقص کرنے والے عادی مِراثی، اپنی شناخت سے محروم چند جسم ، معاشرے سے دُھتکارے ہوئے کچھ لوگ ، خدا کی مَنحوس مخلوق ، قوم کے اوپر ایک عذاب ۔۔۔ جانے کیا کیا سنْنا باقی تھا اسے اپنی زندگی میں۔قصور وہ بھی نہیں جانتی تھی۔۔۔ جانتی تھی یا جانتا تھا ؟ اسکی تو جِنس کی بھی کوئی شناخت نہیں تھی ۔جانے کیوں بنایا گیا تھا اسے ایسا ؟  کیادو جنسوں کا ایسا ملاپ لازمی تھا ؟ کیا وہ صرف ایک جِنس پر پیدا نہیں کی جا سکتی تھی ؟ عزت سے جی تو پاتی۔۔۔ یا پھر کم از کم مر ہی پاتی۔۔۔

وہ اپنی ہی دُھن میں سوچتے سوچتے چل رہی تھی۔۔۔ کچھ لوگ اُسکے پیچھے جُملے کَس رہے تھے۔ کچھ شوخ نظریں اپنے اندر کی گندگی اسکے جِسم پر رقم کر رہی تھیں۔۔۔کُچھ معصوم لڑکیاں راستے میں کوکلا چپاتی کی مشہور دُھنیں گنگناتی کھیلتی کھلکھلا رہی تھیں ۔۔۔ایسا ہی ایک وُجود اس کا بھی ہو سکتا تھا، اِن کے بیچ نا سہی اپنے جیسوں کے بیچ ہی سہی اَگر احترام دیا جاتا تو۔ اُنکی موجودگی بھی کُھلی فضاؤں میں تتلیوں کی مانند رنگ بکھیر سکتی تھی، اُنکی خوشبو سے بھی آنگن مہک سکتے اگر قبول کیا جاتا تو!    

لوگ کیسے اپنے عیب چھپا لیتے ہیں نا ؟ زنا کرتے ہیں اور پارسا بھی بن جاتے ہیں ، گناہ گھڑتے  ہیں اور صوفی بھی کہلا لیے جاتے ہیں۔ دوغلاپن۔۔۔سخت دوغلی ہے یہ دنیا۔۔۔  جعلی سب جعلی۔۔۔اور  لوگ اِسکی ذات کو  برا کہتے ہیں ؟ جِسے یہ تک نہیں معلوم کے اُسکا قصور کیا ہے ؟ اِسے کس نا کَردا گناہ کے لیے مّورِدِ الزام ٹھہرایا جا رہا ہے ؟قُدرت ۔۔۔قُدرت کا کھیل ہے نا یہ، اُس نے خود تو نہیں چنا خود کے لیے ایسا۔۔۔ تو لوگ کیوں اُسے سکون سے جینے نہیں دیتے ، آخر کب اُسکی زندگی میں وہ دن آئیگا جب وہ عزت کی سانس لے سکے گی ؟

دین کی بات کرتے ہیں نا یہ لوگ ؟ دین کسی کی دِل ازاری کی کب اِجازَت دیتا ہے ؟ ۔۔۔ اللہ اور اُسکے رسول پاك ﷺ  کے سچے محبت کرنے والے بنتے ہیں نا یہ لوگ ؟ قرآن کب کہتا ہے کے اپنے برابر ہی بنے مٹی کے انسان کو غلیظ تًر بیان کرو ؟ نبی تو کبھی کسی پے تُہمت نہیں لگاتے تھے ؟ دِل نہیں دُکھاتے تھے ؟ یہ کیا انہی کی اُمّت ہے ؟

نہیں یہ وہ مخلوق نہیں جنہیں اَشرف الّمخلوقات کہا گیا ہے۔۔۔ یہ دَرِندنے ہیں اپنی حَوِّس میں مبتلا ، اپنی غلیظ سوچ کے عادی درندے ۔۔۔ یہ مجرم ہیں، ہم جیسوں کے ایسا ہونے کی وجہ یہی لوگ ہیں جو جینے نہیں دیتے اور سکون سے مرنے بھی نہیں دیتے۔۔۔ وہ  کہاں جا رہی تھی اسے نہیں پتہ تھا۔۔۔  ننّگے پاؤں۔۔۔ تپتی دھوپ۔۔۔ صحرا کی گرمی میں بھی اتنی شدت ہوتی ہو گی ؟ یا پیاس نے اُسے اِس قدر تپتا کر دیا تھا ؟۔۔۔ نہ جانے کیا کیاسوچتی وہ چلتی جا رہی تھی کے بِجلی کی رفتار سے ایک گاڑی  چندلمحوں کے اندر  اس مٹی کی مورت کو چِکنا چور کر گئی ۔۔۔ ہسپتال کا عملہ پریشان حال ایک دوسرے سے سوال کرتا رہا ” ارے بھئی یہ تو بتاؤ مُردے کی جنس کیا لکھیں مرد یا عورت ؟ ” چند قہقہے فضا میں گونجے۔۔۔ آج ایک بار پھر سے انسانیت شرمندہ ہو گئی ۔۔۔۔

(Visited 1,153 times, 1 visits today)

Mahnoor Naseer Is an engineering student and a freelance writer based in Rawalpindi. Her areas of interests are social and general issues.

3 Comments

  • qazimaheen@gmail.com'

    maheen tariq

    May 19, 2016 at 10:49 am

    یہ نیم برہنہ سی انسانیت کسی کے احساس و جذبات کیا جانے …. یہ ہوس کی پجاری انسانیت کیا سمجھے کہ منہ سے نکلے الفاظ چیر دیتے ہیں …..یہ انسانیت چھوٹی قربانیاں نہیں مانگتی …..یہ جان مانگتی ہے مظلوم کی …. گنہگار خواہ کوئی بھی ہو

    Reply

Leave a Reply

Got It!

اس ویب سائٹ کا مواد بول پلاٹون کی آفیشل رائے کی عکاسی نہیں کرتا. مضامین میں ظاہر معلومات اور خیالات کی ذمہ داری مکمل طور پر اس کے مصنف کی ہے