Here is what others are reading about!

719 قتل -ایک سچی داستان

اٹھارویں صدی کا   زمانہ  تھا ۔ سید  امیر علی اپنے دور کا بدنام ترین ٹھگ جانا جاتا تھا۔ اپنے زمانہ اسیری میں کسی نے اس سے دریافت کیا کہ ایسی کیا خواہش ہے جو دل میں حسرت بن کر رہ گئی ہو ؟ امیرعلی  ایک لمحہ کے لئے توقف میں پڑ گیا اور لمبی ٹھنڈی سانس لیتے ہوئے بولا     صاحب کاش میری زندگی کے یہ بارہ سال اسیری کے  مجھے واپس مل جائیں  تو میں اپنا ہزار کا ہندسہ مکمل کرلوں قتل کا  جو 719   پر آکر ٹھہر گیا ہے۔               
انڈیا  میں جب ایسٹ انڈیا کمپنی آئی تو اسکو اور بہت سے مسائل کے ساتھ ساتھ سب سے بڑا چیلنج ٹھگ بازوں کی تنظیم کو ختم کرنا تھا۔ ٹھگ بازوں کی یہ باقاعدہ تنظیم تھی جو ہندوستان میں صدیوں سے موجود تھی۔ کہا جاتا ہے کہ اسکا پہلی بار تاریخ میں ذکر 1356 میں آیا مگر یہ کہنا پھر بھی مشکل ہوگا کہ آخرمعین کب یہ وجود میں آئی۔ ٹھگوں کی یہ تنظیم گروہوں کی صورت میں کام کرتی تھی۔ مختلف گروہوں کے مختلف سردار ہوا کرتے تھے جنکو جمعدار کہا جاتا تھا۔ اس وقت جبکہ سفر ایک واقعی عذاب کی کیفیت سے کم نہ ہوا کرتا تھا۔ ٹوٹے پھوٹے راستے اور سنسان جگہیں ۔ ایسے حالات میں ٹھگوں کے گروہ کے گروہ ایک ساتھ مختلف راستوں پر نکلتے اور نکلنے سے قبل واپسی کا موسم طے کرجاتے۔ راستے میں جو قافلہ ملتا اسکو احساس دلاتے کہ سفر بہت خطرناک ہے ہمیں بھی لوٹے جانے کا  ڈر ہے۔ ہماری منزل ایک ہے کیوں نہ ساتھ مل کر سفر کریں تاکہ چور ڈاکو کا دفاع ممکن ہو سکے۔               
سادہ لوح مسافر انکی چکنی چپڑی باتوں میں یوں گرفتار ہوجاتے جسطرح مکھی مکڑی کے جالے میں۔ ٹھگ مسافروں سے خوب دوستی لگاتے اور اس وقت کا انتظار کرتے کہ مسافروں کا ان پر اعتماد بحال ہو جائے اور جیسے ہی موقع ملتا تمام قافلے کو موت کی نیند سلا دیتے۔ طریقہ قتل یا آلہ قتل ایک رومال ہوا کرتا تھا۔ جسکو ٹھگ ہر وقت اپنے پاس رکھتا تھا۔ اور ہمیشہ اسی رومال سے اپنے مخالف کو گلا گھونٹ کر مارتا۔ ٹھگ اپنی اصل شناخت کو اس قدر  پوشیدہ رکھتے کہ اپنی بیویوں کو بھی معلوم نہ ہونے دیتے اور  جب کبھی وارداتوں پر نکلتے تو تجارت کا کہہ کر نکلتے اور مہینوں گھر نہ آتے۔              
ٹھگ اپنے کام کو عبادت سمجھ کر کرتے تھے انکے گروہ میں ہندوں مسلمان ہردو مذاہب کے لوگ ہوتے اور دونوں کالی ماتا یعنی بھوانی ماں کی پوجا کرتے۔ انکا ماننا تھا کہ بھوانی دیوی سزا کی دیوی ہے اور ہم اسکے سپاہی کی حثییت رکھتے ہیں۔ اس نے ہمیں مقرر کر رکھا  ہے کہ ہم لوگوں کو انکے کئے کی سزائیں دیں۔مگر یہ تاکید کی ہے کہ ہم شکار کے بعد لاش کو مکمل طرح سے زمین میں دفنا  کر آگے بڑھیں۔ کسی عورت اور بچے کے قتل سے دیوی نے منع کیا ہے مگر ضرورت پڑنے  اور اشدمجبوری پر مار بھی سکتے ہیں۔ اپنے ہر سفر سے پہلے اور ہدف کو مارنے سے قبل دعائیں کرتے اور اچھے شگون لیتے۔           
جب 1830میں انگریزوں نے اس تنظیم کو آڑے ہاتھوں لینے کی ٹھانی۔ اس وقت کے گورنر جنرل ولیم بینٹک اور اسکے چیف کپتان ہنری سلیمین نے اس کام کو  باخوبی  انجام دیا۔ جس میں امیر علی ٹھگ نے بھی ایک اہم کردار ادا کیا۔    
تاریخ سے تھوڑی  بہت بھی  واقفیت رکھنے والا سید امیر علی کے نام سے ضرور واقف ہوگا۔ ایک ایسا سفاک قاتل جس نے اپنی چالیس سال کی زندگی  میں 719 معصوم لوگوں کو موت کی نیند سلا دیا۔ ان سے دوستی لگا کر  انکا اعتماد حاصل کرلینے کے بعد موقع پاکر اپنے رومال سے پھانسی دینا اسکے لئے ایک عام بات تھی۔ جب کبھی وہ اپنے کئے ہوئے 719 قتل کا ذکر کرتا توچہرے پر فخر کے آثار جھلکتے اور یہی حال آخر تک رہا۔ مگر تصویر کا دوسرا  رخ بھی ہے۔ جیل کا محافظ جو ایک عرصہ دراز سے اس پر نگرانی کے لئے مقرر تھا اور  اسکو بہت اچھے سے جانتا تھا وہ کہا کرتا تھا کہ امیر علی پانچ وقت کی باقاعدہ  نماز ادا کیا کرتا تھا    اورکبھی ناغہ کرتے نہ دیکھا ۔ رمضان کے روزے رکھا کرتا تھا اور چہرے پراسکے داڑھی ہوا کرتی اور بہت اخلاق سے بات کیا کرتا تھا۔ یوں کہو کہ اگر عام آدمی اسکو جیل میں قید دیکھے تو شاید یقین نہ کر سکے کہ یہ حقیقت میں ایک سفاک بچوں بوڑھوں اور عورتوں کا قاتل ہے۔               
امیر علی شروع سے ایسا نہ تھا۔ اسکے بچپن میں ایک ایسا  واقعہ پیش آیا جس نے  اسکو بدل کر رکھ دیا۔امیر علی جب پانچ سال کا تھا تو اسکے والد یوسف نے اپنے گاوں کی زمین اور گھر بار بیچ دیا  اور ارادہ کیا کہ فلانےکسی اچھے شہر جاکر نیا کاروبار اور گھر بار لیا جائے۔ یوسف اپنے اہل خانہ کو لیکر سفر پر نکل کھڑا ہوا۔سفر لمبا تھا اور راستہ خطرناک۔ دوران سفر یوسف کو کچھ آدمی ملے جو بھلے مانس لگتے تھے۔ ایک منزل پر آکر یوسف  اور اسکا خاندان سستانے کی غرض سے وہاں رک گیا۔ امیر علی کھیلتے کھیلتے ذرا  دور نکل گیا۔ خانہ بدوشوں کے بچوں نے جب اسکو دیکھا تو تنگ کرنے  اور مارنے لگے۔ امیر علی کی آوازیں سن  کر  انھی میں سے ایک شخص آیا اور اسکو وہاں سے بچا کر اسکے والدین کے پاس لے آیا ۔ یوسف کو یہ بات بہت پسند آئی اور اسکا اعتماد ان لوگوں پر مزید بڑھ گیا۔ایک رات اشارہ پاکر وہی ٹھگ جو یوسف کے ساتھ تھے جنکو وہ اب تک بھلے مانس لوگ تصور کرتا رہا تھا  یوسف اور اسکے اہل خانہ پر چڑھ دوڑے۔ باری باری انھوں نے امیر علی کے سامنے اسکے والدین کو گلا گھونٹ کرمار ڈالا۔ آخر میں باری آئی امیر علی کی مگر اسکو بچانے پھر وہی شخص آگیا جس نے اسکو ان بچوں سے بھی بچایا تھا۔ اور کافی بحث و لڑائی کے بعد وہ امیر علی کو مرنے سے بچانے میں کامیاب ہوگیا۔ بعد ازاں اس نے اسکو  اسماعیل کے حوالے کردیاجو کہ ٹھگوں کے ہی ایک گروہ کا جمعدار یعنی سردار  تھا۔ اسماعیل کی کوئی اولاد نہ تھی۔ اس نے امیر علی کو اپنے بیٹوں کی طرح پالا۔ وقت گزرتا  گیا  اور ماں باپ کے کھو جانے کا درد امیر علی کے دل سے کم ہوتا گیا۔آخر وہ اپنی جوانی کی عمر کو آن پہنچا۔ امیر علی نہایت بہادر شخص تھا۔جسکا  ثبوت اس نے گاوں میں گھسنے والے ایک  شیر کو مارنے سے دیا۔ اسماعیل اس سے بہت متاثر ہوا اور فیصلہ کیا کہ یہ بھی میرے ساتھ لوٹ مار کیا کرے گا۔اپنے دیگر ساتھیوں سے مشورہ کرنے کے بعداسماعیل نے امیر علی سے قرآن اور ہندومت کی مقدس کتب پر ہاتھ رکھوا کر وفاداری کے عہد و پیمان لینے کے بعدباقاعدہ تنظیم میں داخل کرلیا اور اسکو وہ رومال دیا جسکے ساتھ اس نے آگے چل کر قتل و غارت کی۔ وقت گزرتا چلا گیا اور امیر علی کے کئے قتل کی تعداد میں اضافہ ہوتا چلا گیا۔  
 آخر ایسٹ انڈیا کمپنی نے فیصلہ کیا کہ ملک سےاس لوٹ مار کے بازار کو ختم کرنا ہے۔گورنر جنرل انڈیا اور اسکے چیف کپتان نے اس کام میں دن رات ایک کردیا۔ جگہ جگہ چھاپے مارے گئے بہت سی گرفتاریا ں کی گئی اور آخرکار امیر علی بھی گرفتار ہوگیا۔اس نے اپنے تمام جرائم کا  اعتراف کیا ۔ حکومت نے اسکو وعدہ معاف گواہ بنایا اور پھانسی کی سزا میں رعایت دی۔امیر علی نے تمام راز کھول دیئے اور  سب کے خلاف گواہ  بن گیا۔اس نے جہاں اور اہم چور ڈاکوں کو پکڑوایا وہاں اس نے گنیش کو بھی پکڑوایا۔ وہی گنیش جس نے اسکے والدین کو اسکے سامنے مارا تھا۔ یہ سلسلہ کافی سال چلتا رہا۔ اور 3 ہزار سے زائد ٹھگوں چور ڈاکوں کو گرفتار کیا گیا اور سزائیں دی گئی۔ گنیش کو امیر علی کے سامنے پھانسی   دی گئی اور یوں سب کو اپنے کئے کی سزا ملی۔           
لوگ کہتے ہیں کہ یہ تنظیم پھر ختم ہوگئی لیکن شائد نہیں۔یہ اب بھی ہم میں موجود ہے مگر اسکااب کوئی  نام نہیں۔عام ٹھیلے والے سے لیکر بڑے سرمایہ دار تک جسکا جہاں بس چلتا ہے وہ دوسرے کو ٹھگتا ہے اور اگر اس سے سیاست کے متعلق پوچھو تو  گلا پھاڑ کر بولے گا کہ صادق و امین حکمران چائیے۔

(Visited 1,445 times, 1 visits today)

Mirza Umer Ahmad is a freelance writer. With a deep study on religions, cultures and current affairs, his areas of interests are social, moral and religious issues. He can be reached out on twitter @em_umer1

One Comment

Leave a Reply

Got It!

اس ویب سائٹ کا مواد بول پلاٹون کی آفیشل رائے کی عکاسی نہیں کرتا. مضامین میں ظاہر معلومات اور خیالات کی ذمہ داری مکمل طور پر اس کے مصنف کی ہے