Here is what others are reading about!

شاپنگ لسٹ

پہلی دفعہ کا ذکر ہے…..اتوار کا دن تھا…. میرا اور یاور کا باہر جانے کا پلان بنا. یاور کا پتا نہیں ہمارے ہاتھ میں ایک لمبی فہرست تھی….. فہرست میں بس چیزوں کے نام اور اندازاً قیمت درج کی. کولن (:) کے آگے کی تفصیلات ہمارے ذہن میں تھیں. فہرست کچھ یوں تھی.

ایک عدد ہیلمٹ: پرانا ہیلمٹ ایک دوست کی غفلت اور بعد ازاں “آئی ایم سو سوری یار” کی نذر ہو گیا تھا. دفتر سے جس نے بھی اٹھایا ہے، اللہ کرے اس کے سر میں جوئیں پڑیں. (“اللہ کرے” ہم نے ازراہِ تکلف کہا ہے، ویسے ہمیں پورا یقین ہے کہ اب تک ان کے سر میں کھچا کھچ جوئیں پڑ گئی ہوں گی، ہمیں اپنے دماغی خول کی اثر انگیزی پر خوب بھروسا ہے) 500 سے 700 روپے تک

ایک عدد جوسر مشین: رمضان شریف اور گرمیوں میں ہم رات بھر کے بھگوئے ہوئے تخم ملنگا، خشخاش، گوند کتیرا، بادام، دال اور دودھ سے بنی ٹھنڈی میٹھی سردائی پئیں گے. 2000 روپے تک تو اتوار بازار سے پرانی مل ہی جائے گی۔

ایک عدد ٹرمر (داڑھی کے لئے) داڑھی کا بتانا ضروری ہے کیونکہ بعض احباب کسی اور جانب کے بالوں کے لئے سمجھ بیٹھتے ہیں. اس میں ان کی سعادت مندی سے زیادہ ہماری کرتوتیں بھی شاملِ حال ہیں. زیادہ سے زیادہ 1500 روپے تک.

ہماری رپیڈو (Rapido: 2013 میں کمیٹی ڈال کر خریدی گئی موٹر بائیک) جسے ہم سرگودھا سے اس لئے اسلام آباد لے آئے تھے کیونکہ گھر میں اس کو صحیح طرح سے زنگ لگنا قدرے دشوار نظر آرہا تھا. لہذا ساتھ لا کر دفتر کے باہر کھڑی کر دی کہ مرورِ زمانہ سے بے خیر و خوبی واقفیت بنالے. اس کے کاموں کی ایک لمبی فہرست…. جیسے موبل آئل کی تبدیلی ، ٹیوننگ، اشارے لگوانا، گدی کا گورا بدن کسی شریر بلی کی شرارت کے باعث اب کور کے اندر سے جگہ جگہ سے عیاں ہو رہا تھا، اسے بدلوانا، سلنسر (جس بر مٹی اور زنگ کی برابر مقدار میں دبیز تہیں جم چکی ہیں ) اس کا کروم کروانا. نیز بہت کچھ…… قریباً 2500 سے 3000۔

ایک عدد سفری بیگ (پہیوں والا): کیونکہ پچھلی دفعہ امی جو بیگ ہمراہ لے کر عمرہ ادا کرنے گئی تھیں اس میں خجالت اور تھکاوٹ کا برابر عنصر شامل تھا…( بقول امی جان کے بابا چونکہ مکہ مکرمہ ہی میں مقیم تھے تو وہ واپسی پر وہاں سے اچھی نسل کے دو چار اٹیچی کیس بھجوا دیں گے. لیکن ہوا کچھ یوں کہ امی جب واپس آئیں تو وہی بڑا رائیونڈ اسٹائل کا بیگ جس میں ماموں کوئٹہ سے پستے بادام بھر کے لائے تھے اسی کوبابا نے اچھی طرح ایک گتے کے ڈبے میں ڈال کر ٹیپ لگا دی. تاکہ اس کو اٹھانے میں جو مقدور بھر آسانی رہ گئی تھی وہ بھی عنقا ہو جائے) سو سوچا یہ کہ گھر میں ایک بیگ لے دیں گے، جسے پہیوں پر گھسیٹ کر آسانی سے چلایا جا سکے. اندازاً 2500 روپے.

سیلون: ہاں اہم بات…. کسی اچھے سے سیلون پر جا کر بال بنوائیں گے، مساج، فیشل، فیس پالش، نیز جو جو ڈریسر (آج کل انہیں حجام بولو تو مائینڈ کر جاتے ہیں) بولے گا کہ سر جی یہ کروا لیں ہم کہیں گے ٹھیک ہے کر دو. تو قریباً یہ ہو گئے 2000 روپے.

پکچر: سوچا اگر ضروریات سے کچھ پیسے بچ رہے تو کہیں پکچر دیکھتے آئیں گے. 1000 روپے تک.

ڈنر: ہاں یاور پہلی دفعہ ہمارے ساتھ باہر جا رہا ہے، آج اسے کھانا بھی ہم کھلائیں گے. تو یہ بھی ہو گئے کوئی 1200 سے 1400 روپے تک.

ڈیٹ(Date):   حیرانی کی قطعی ضرورت نہیں ہے، ڈیٹ کا مطلب ہماری نظر میں فقط ‘کھجور’ ہی ہے. اس کی اصل وجہ ایک خاص مگر منفرد کمزوری ہے…. ہماری مراد وہ کمزوری نہیں جو آجکل ہماری قوم کی دیواروں پر مرتب ہوتی ہے،  جس کا منبع کمرے کی اندرونی دیوار جبکہ مداوا باہر پبلک کی دیواروں پر منقش ہوتا ہے. (ہم تو خود مہینے میں دو چار الٹے سیدھے نقشے بنا ہی لیتے ہیں.)

ہماری کمزوری دراصل یہ ہے کہ کوئی بھی لڑکی جب ہم سے انسیت یا اپنی معصومیت کا برملا اظہار کرنے کی کوشش ہی کرتی ہے تو فی البدیہہ ہمارا بے ساختہ و برجستہ ‘ہاسا’ نکل جاتا ہے….. ہم دراصل ان خواتین کی کم عقلی پر ہنس پڑتے ہیں…. کہ ‘سالی نے ویکھیا کی اے؟’ بھئی بات ڈیٹ کی ہو رہی ہے تو اس معاملے میں ہماری مثل اس اندھے کی سی ہے…. جسے اس کی گرل فرینڈ نے کہا، ‘جانُو یقین جانیں میں بہت خوبصورت ہوں، کاش آپ مجھے دیکھ پاتے’ حافظ جی کا بھی ‘ہاسا’ نکل گیا، کہنے لگے، ‘جان دے او بی بی! جے تو سوہنی ای ہوندی تے اکھاں والے تینوں میرے لئی چھڈدے؟’ تو بھئی کھجوریں بھی کوئی آدھ ایک کلو، لیتے آئیں گے، کیا معلوم کوئی روزہ رکھ لیں : یہ ہو گئے کچھ  180 روپے تک۔۔۔ خیر لسٹ مکمل ہوئی۔

لسٹ کے آخر میں ہم نے ایک خط کھینچا جس نے ہمارا خطِ اوقات چہاردہ اطباق کی مانند عیاں کر دیا….. کل ملا کر 14 ہزار سے کچھ اوپر کی رقم بنی (اتنی میری کل تنخواہ بھی نہ تھی) ہم نے اپنے بوسیدہ بٹوے پر نظر ڈالی….. پل بھر کو سوچا….. اور ہمارے ذہن  میں ایک  نیا مگر قابل عمل پلان تیار تھا.

ہم ہاسٹل کے  کمرے سے زمین پر اترے ، رپیڈو (Rapido)کی پشت میں اُڑسا ہوا کپڑا نکالا، اسکی صفائی کی، مکینک کے پاس لے گئے، اس کے پاس کسی نئی موٹر بائیک کا آئل نکلا ہوا پڑا تھا، ہم نے اس سے وہ والا  لیا، اور خود ہی رپیڈو کے پہلو میں انڈیل دیا، تمام پرزہ جات کو کسا.  باقی تمام کاموں کا ارادہ آئندہ تنخواہ اور استطاعت  کے نا م وقف کر دیا۔  ہاسٹل کی نیچے کے حجام (بظاہر اسے حجام کہلوانے میں کوئی عار نہیں تھا) اس سے 80 روپے دے کر بال ترشوائے ، سامنے کے پان والے سے میٹھے پان کی  دو گلوریاں بنوائیں اور یاور میاں کو جگانے جا پہنچے….. بس گزر گئی چھٹی۔

پہلاسبق: بھئی پہلا سبق یہ کہ ہماری ہر بات سبق آموز نہیں ہوتی۔ یونہی بول دیتے ہیں ہم تو۔۔۔۔

دوسرا سبق: دوسرا سبق بھی کوئی نہیں…. بس یہ کہ خواب دیکھنا نہیں چھوڑو. حالات جیسے بھی تلخ ہو جائیں کوئی نہ کوئی راہ نکال لیا کرو. خوابوں اور پُرامیدی کو اپنے اندر مرنے مت دینا.

تیسرا سبق: تیسرا سبق بھی کوئی نہیں بس یہ کہ یقین رکھو خواب پورے ہوں گے. ضرور ہوں گے. بس انہیں زندہ رکھنا. مبادا ایک دن ایسا آئے کہ خوابوں کو پورا کرنے کے مواقع تو موجود ہوں لیکن پورے کرنے کے لئے خواب موجود نہ ہوں۔

ضروری بات: اس کہانی کے تمام کردار فرضی ہی سمجھئے گا.

(Visited 1,035 times, 1 visits today)

Ali Adeeb is a freelance writer based in Islamabad. He works as a content producer and copy editor at Such TV. He’s areas of interests are science, religion and logic.

One Comment

Leave a Reply

Got It!

اس ویب سائٹ کا مواد بول پلاٹون کی آفیشل رائے کی عکاسی نہیں کرتا. مضامین میں ظاہر معلومات اور خیالات کی ذمہ داری مکمل طور پر اس کے مصنف کی ہے