Here is what others are reading about!

  • Home
  • /
  • Pakistan
  • /
  • کافر ساز فیکٹریوں سے فتوی ساز انڈسٹریوں تک

کافر ساز فیکٹریوں سے فتوی ساز انڈسٹریوں تک

آج سے چند ماہ قبل عورتوں پر تشدد اور ان کے جنسی استحصال کے خلاف پیش کئے جانے والے پنجاب اسمبلی  کے منظور کردہ ’’غیر اسلامی ‘‘ تحفظ حقوق ِ نسواں بل  کے جواب میں  گزشتہ ہفتے ’’اسلامی نظریاتی کونسل‘‘  نے  اپنا 163 نکات پر مشتل حلال اور اسلامی ’’ تحفظ حقوق نسواں‘‘ بل  پارلیمنٹ میں منظوری کیلئے پیش کر دیا ہے۔  زنانِ ملکِ خداد ادِ پاکستان  کے تحفظ کے لئے  ریاست  کےاس  ذیلی  مشاورتی ادارے   کا مرتب کردہ بل ایک ایسا آئیڈیل منصوبہ ہے  جس کی مثال تاریخ پاکستان تو کیا، تاریخ اسلام میں بھی نہیں ملتی۔  

یہ بل علمائے دین متین کی سالہا سال کی محنت اور غور و خوض کے نتیجے میں سامنے آیا ہے۔ اس دوران جتنے بھی ’’غیراسلامی بل‘‘ سامنے آئے ، ان سب کو اس کونسل نے  اپنی سنانِ لسان سے غیر اسلامی قرار دے کر اسلام کو مہیب خطروں سے نکالا۔ 2006 ء میں اس ادارے نے پہلے تحفظ نسواں بل کو “غیر اسلامی” قرار دیا کیونکہ اس میں ریپ کو فوجداری قانون کے زمرے میں لانے کی تجویز رکھی گئی تھی۔ 2013 ء میں اسلامی نظریاتی کونسل نے ریپ کے مقدموں میں ڈی این اے ٹیسٹ کے استعمال کو “غیر اسلامی” قرار دیا کیونکہ DNA ٹیسٹ کا اسلام تو کیا، گزشتہ کسی الہامی و غیر الہامی مذہب میں وجود نہیں ملتا۔   2014 ء میں کونسل نے بیوی کے شوہر کی دوسری شادی پہ اعتراض کو “غیر اسلامی” قرار دیا۔ حق ہے ہمارا ۔  پوچھنا کیسا؟ اور پھر 2016 ء  کا  وہ  اندوہ ناک  سال بھی آیا جب  بقول مولانا فضل الرحمن ، پنجاب کے  ’’زن مرید‘‘ اراکین اسمبلی  نے ایک غیر اسلامی بل منظور کرہی  لیا۔ اس  بل کو کالعدم قرار دینے کے لئے ملک گیر احتجاج کیا گیا۔   یہ عظیم الشان احتجاج اس لئے بھی اہمیت کا حامل ہے،  کیونکہ اس احتجاج نے اسلامی نظریاتی کونسل کے  ریپ، کاروکاری، خودکش دھماکوں ، ہجومی تشدد، بچوں پر تشدد یا غیر مسلموں سے بدسلوکی کے خلاف ہونے والے سابقہ احتجاجوں کی تعداداور جتھے کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ۔نسوانی نظریاتی کونسل، میرا مطلب ہے  اسلامی نظریاتی کونسل  فی الحقیقت عورتوں کے حقوق کی داعی ہے جبھی اس کے کِیسے میں عورتوں کے بارے معاملات کے علاوہ کوئی دوسرا سکہ ڈھونڈنے سے نہیں ملتا۔ انہی سکوں میں سے 163 نکات پر مشتمل یہ عین حلال اور اسلامی بل  ایک خزینہ ہے۔

اس بل کی  بعض شقوں پر میں کچھ ’’کنفیوزیا ‘‘ گیا  ہوں۔ مثلا کہا گیا ہے کہ اسلام یا کوئی اور مذہب چھوڑنے پر عورت قتل نہیں کی جائے گی۔  گویا   ملکی قانون کے تحت آج سے پہلے  مذہب کی تبدیلی پر عورت قتل کی جا سکتی تھی؟ ساتھ ہی  یہ خیال بھی درد سر بنا بیٹھا ہے کہ اگر کوئی مرد اسلام یا اپنا کوئی دوسرا مذہب چھوڑ دیتا ہے تو کیا اس کے لئے بھی اسی ترحم  اور شفقت کی نوید ہے؟  ابھی  کچھ ہی ماہ کی تو بات ہے جب مولانا شیرانی اور مولانا طاہر اشرفی اس مدعے پر گتھم گتھا ہوئے تھے کہ احمدی غیر مسلم ہی ہیں یا ان کو مرتد قرار دیا جائے۔  خیر چھوڑئے۔

مزید دو شقوں کو ملا کر پڑھا تو کنفیوزیا جانے کی کیفیت سٹھیا جانے کی کیفیت میں انگڑائیاں لینے لگی۔ ایک جگہ کہا گیا ہے کہ عاقلہ، بالغہ لڑکی ولی کی اجازت کے بغیر ازخود نکاح کرسکے گی، جبکہ ایک دوسری جگہ یہ بتایا گیا ہے کہ عورتوں کے غیر محرم افراد کے ساتھ آزادانہ میل جول پر پابندی ہوگی۔ حضرات یہ عاقلہ و بالغہ لڑکی اگر گھر کی دہلیز سے قدم باہر نہیں رکھے گی تو نکاح کے لیے کیا اسے یہ شوہر مولانا عامر لیاقت کے انعام گھر میں ہدیہ کیا جائے گا؟

ہمارے ملک کے مایہ ناز آل راؤنڈر شاہد آفریدی کے بقول عورتیں بریانی بہت اچھی بناتی ہیں۔   علیٰ ھذا القیاس عورتوں کی فوج میں شمولیت بھی غیر اسلامی قرار پائی ہے۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ  اسلامی نظریاتی کونسل سے  دشمنی  رکھنے والے عناصر میں سے ایک عنصر خود اسلام  اور تاریخ اسلام بھی ہے۔  احد ، حنین، حدیبیہ اور یمامہ میں اپنی بہادری کے جوہر دکھانے والی حضرت نسیبہ ام عمارہ ؓ   وہ عورت تھیں  جنہوں نے احد میں اس  گھمسان کے وقت  رسول اللہ ﷺ کی حفاظت کی جب تیر اندازوں کا گروہ گھاٹی کو چھوڑ بیٹھا اور کفار نے پھر سے حملہ کردیا ۔ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ  میں دائیں دیکھتا تو نسیبہ کو پاتا اور جب بائیں دیکھتا تو نسیبہ کو پاتا۔ اس دلیر عورت نے حضرت ابو بکر صدیق ؓ کے دور میں یمامہ کی لڑائی میں  اپنے بیٹے کے ساتھ حصہ لیا اور اپنا ہاتھ گنوانے کے ساتھ ساتھ12 زخم کھائے۔ کاش عالم ِتصور میں نسیبہ ؓ نے اسلامی نظریاتی کونسل کی تجویز  پر علم پا کرعمل کیا ہوتا تو ایسا نہ ہوتا۔  

بل میں حکومت پنجاب کے لاہور کو پیرس بنا دینے کے وعدوں سے پریشان ہو کر سب پر یہ واضح کر دیا گیا ہے کہ پاکستان میں حجاب کی اجازت ہو گی اور طالبات کو حجاب لینے سے کوئی نہ روکے۔ قسم لے  لیجئے  جو مجھے آج سے پہلے معلوم ہو کہ پاکستان میں لڑکیوں کو حجاب لینے سے روکا جانے لگا ہے۔اس کے ساتھ ہی ساتھ  یہ واضح کر دیا گیا ہے  پرائمری کے بعد مخلوط تعلیم پر پابندی ہو گی، مگر آگے یہ بھی بتایا گیا ہے کہ آزادانہ میل جول پر پابندی کی شرط پوری کرنے پر مخلوط تعلیم کی اجازت ہوگی۔ صنم کی بدعا سے  میرے پیار کے بعد میری عقل پربھی  پتھر پڑ چکے ہیں جبھی تو ان تینوں شقوں کو پڑھنے کے بعد میں بس یہی سمجھ پا رہا ہوں کہ   اگر پرائمری کے بچے بچیاں آزادانہ میل جول سے احتراز کریں اور بچیاں حجاب لیں، تو وہ مخلوط پرائمری سکول میں اکٹھے پڑھ سکتے ۔

خاتون نرس سے مردوں کی تیمارداری پر پابندی  کی شق بھی اپنی ذات میں ایک گنجینۂ حکمت ہے۔ سوچتا ہوں  احد اور خیبر میں  پانی کے مشکیزے بھر بھر کر زخمیوں کو پانی پلانے  اور ان کی  تیمارداری کرنے والی حضرت رملہ ام سلیم ؓ اور دیگر کئی صحابیات ؓ  نے رسول اللہ ﷺ  اور صحابہ کبار ؓ کی موجودگی میں  ایسی ’’فحش‘‘ حرکت کیوں کی؟  حیراں ہوں دل کو پیٹوں کے روؤں جگر کو میں کہ ایسے میں  خواتین ڈاکٹروں سے مرد مریضوں کی تیمارداری اسلامی نظریاتی کونسل کے نقطہ نگاہ سے  غیر اسلامی کیوں نہیں؟

ملک میں روز گار کے مواقع پیدا کرنے کیلئے بھی اس بل میں ایک خصوصی شق رکھی گئی ہے۔ ملک کی عصری تعلیم یافتہ اور جاہل خواتین پر واضح کر دیا گیا ہے کہ عورت بچے کو دو سال تک اپنا دودھ پلانے کی پابند ہوگی۔ اور ماں کے متبادل دودھ پر مبنی اشتہارات پر پابندی ہوگی۔ اس  شق کی تعمیل کے لئے ہزاروں اسے کارندوں کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے جو کسی بھی ایسی راہ چلتی عورت سے تفتیش شروع کر سکتے ہیں جو بچہ گود میں اٹھائے ہوئے ہو، یا پھر وہ  شیر خوار بچوں اور ان کی ماؤں کا پکڑ پکڑ کر میڈیکل  کریں  کہ بچہ کس کے دودھ پر پل رہا ہے۔اسی طرح ایسے کارندوں کی ضرورت بھی پڑ رہی ہے جو ایسے اشتہاروں کی کھوج لگا سکیں جن میں کسی دودھ کو ماں کے دودھ کا نعم البدل کہا گیا ہو۔

عورت اور سیاست ؟ اوپر سے طرہ یہ کہ  غیر ملکی سیاسی  ڈیلیگیشنز میں آنے والے  اجنبی  مردوں سے ملاقات؟ زلزلے یونہی نہیں آتے اس ملک میں۔ ’’زمانہ جاہلیت‘‘ میں جو ہو گیا سو ہو گیا۔ اب بس۔ (یاد رہے کے یہاں زمانہ جاہلیت سے مراد وہ وقت ہے جب  بیگم رعنا لیاقت علی خان صاحبہ ، خاتون اول، خاتون مملکت، ہالینڈ، اٹلی اور تیونس کی سفیر رہیں اور فاطمہ جناح کے ساتھ قائد اعظم  جنہیں علمائے وقت نے کافر اعظم قرار دیا تھا، تحریک پاکستان میں  شانہ بشانہ   کام کرتی نظر آتی رہیں۔ ) اسی طرح آرٹ کے نام پر رقص، موسیقی، مجسمہ سازی کی تعلیم پر پابندی ہوگی، لیکن اب جبکہ اسلامی نظریاتی کونسل کے علما اور دوسرے مفتی حضرات بھی فوٹو سیشن کرانے لگے ہیں  ولہذا  تصویر کشی ، ٹیلی ویژن  ، لاؤڈ سپیکر اور انٹرنیٹ ،  جو کچھ ہی برس قبل اسلام لے آئے تھے، پر کوئی اعتراض نہیں۔

واللہ ایک شق پڑھ کر شرح صدر ہو گیا  کہ یہ بل درحقیقت تحفظ حقوق نسواں کا بل ہے۔ کہا گیا ہے کہ کسی بھی اجنبی سے میل جول  جائز نہیں۔ اس احسان عظیم پر بیویوں کو چاہئے کہ اپنے مجازی خداؤں کے آگے سجدہ تعظیمی بجا لائیں  کیونکہ  اجنبی مردوں سے میل جول کی روک تھام کیلئے آئندہ سے مرد حضرات  سب کام کیا کریں گے۔ رانجھے کی محبت میں خود بھی رانجھا بن جانے والی ہیر  کی مٹی سے گندھے شوہر پیرنٹ ٹیچر میٹنگز  ہوں یا کوڑا پھینکنا ، عورتوں کیلئے زیر جامہ ملبوسات کی سلیکشن ہو یا آلو، پیاز کی  خریداری، سب خودکیاکریں گے۔

اب آتے ہیں اس مدعے پر جس سے یہ سارا ’’لفڑا‘‘  شروع ہوایعنی  شریر عورتوں کی ٹھکائی۔تجویز پیش کی گئی ہے کہ  تادیب کے لیے شوہر عورت پر ہلکا تشدد کرسکے گا۔ اگر کوئی عورت نہاتی دھوتی نہیں ہے، شوہر کے من چاہے کپڑے پہننے سے انکار کرتی ہے، لوگوں سے بات چیت کرتی ہے یا خدمت خلق کے نام پر صدقہ خیرات کرتی ہے، تو اس کی  چھتر پریڈ عین حق ہے۔ بس پیٹتے ہوئے یہ خیال رکھا جائے کہ چہرے پر نہ مارا جائے اور بقیہ جسم کی ہڈی نہ توڑی جائے۔  ہمارے علماء کے ہاتھ قرآن کی جو آیت آئے اسے ایک خاص حساب سے استعمال کیا جانا ایک فرض منصبی  سمجھا جاتا ہے۔ کبھی  کسی آیت سے ایک کو کافر بنا دیا جاتا ہے تو اسی آیت سے  دوسرے کو جنتی۔ حوروں کا فتور دل میں ڈالتے ڈالتے دنیا کی جنت کو’’ واضربوھن ‘‘ کے تھپڑوں سے  جہنم بنا دینے میں دیر نہیں لگائی جاتی۔

 اس شق کی وکالت میں سورہ نساء کی آیت نمبر 38 کا حوالہ زبان زد عام ہے ۔غیر مکمل علم پر فتوے اور رائے دہی ہم اپنا قومی فرض سمجھتے ہیں۔  گمان ہوتا ہے کہ خدا نے عصر حاضر کے  فیس بکی مجاہدوں اور علامہ شیرانی کے سوا سب کو  اس آیت کریمہ کی سمجھ  بوجھ سے معدوم رکھا۔  حتیٰ کہ خود رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کرام ؓ کو بھی۔  اسی لئے  تو ان کی زندگی میں کوئی ایک بھی واقعہ نہیں ملتا کہ انہوں نے اپنی ازواج  پر ہاتھ اٹھایا ہو حالانکہ بعض اوقات  بعض  بیویاں آپ کی ناراضگی کا موجب بن جایا کرتی تھیں۔ کوئی ایک واقعہ بھی نہیں۔ ان کا دھیان نا جانے کیوں اس آیت کے پہلے دو حصوں یعنی زبانی سمجھانے اور بستر الگ کرنے پر رہا۔ ساری عمر انہی دو حصوں پر دھیان رکھنے کی وجہ سے  وہ  اپنی ازواج پر  ہلکے پھلکے تشدد کے فیض سے مستفیض ہی نہ  ہو سکے۔  معلوم نہیں ’’الدین یسر‘‘ یعنی دین آسانی ہے کی تعمیل میں اس  حکم ’’ واضربوھن  ‘‘کا معنی یہاں  صرف مار ہی کیوں کیا جاتا ہے جبکہ لغت میں اس کے معنی تھپتھپانے اور سزا دینے کے بھی ہیں اور سزا دینے کے صرف بدنی طریق نہیں ہوا کرتے ۔اور یہ معنی رسول اللہ ﷺ کی ساری  عائلی زندگی  سے تصدیق شدہ ہیں۔

ملک خداداد پاکستان میں کسی بھی ناممکن کام کو ممکن بنانے کا’’ شرطیہ میٹھا‘‘ طریقہ یہ ہے کہ اس معاملے کو مذہبی رنگ دے دیا جائے۔ معلوم ہوتا ہے اسلامی نظریاتی کونسل کے علماء و فقہاء کی یہ تجویز  ان لاچار اور نادار شوہروں کی روز و شب کی دعاؤں کی  شنوائی کے تسلسل میں ہے جو’’ بیلن‘‘ اور ’’ ڈوئی‘‘ کے تابڑ توڑ حملوں سے خلاصی چاہتے تھے۔

(Visited 1,080 times, 1 visits today)

Arsalaan Qamar is theologian and a freelance writer based in Rawalpindi. His interests are minority rights and social issues. He can be reached out on Twitter @ArsalaanQamar

3 Comments

Leave a Reply

Got It!

اس ویب سائٹ کا مواد بول پلاٹون کی آفیشل رائے کی عکاسی نہیں کرتا. مضامین میں ظاہر معلومات اور خیالات کی ذمہ داری مکمل طور پر اس کے مصنف کی ہے