Here is what others are reading about!

چھوٹے لوگ

آپ ایک ایسے معاشرے کی پیداوارہیں جہاں آپ اٹھارہ اور بیس جماعتیں پڑھ کر بھی اپنی فطرت کو نہیں بدل سکتے اپکے اندر وہی انا کا مارا انسان پلتا رہتا ہے جو کہ کسی کو عزت نہیں دے سکتا ـــــ آپ  کی اپنے گھر کام کرنے والوں پر، وہ کام کرنے والے جو کہ آپکی اترن پہنتے ہیں، جو آپ کا دِیا کھاتے ہیں، جو وقت آنے پر آپکے تلوے تک چاٹنے سے گریز نہیں کرتے، اُن پر آپ کی نظر جب بھی پڑتی ہے وہ ہتک آمیز کیوں  ہوتی ہے؟ اُس نظر میں اتنی بیزاری کیوں ہوتی ہے کہ جو انہیں خود سے نظر ملانے پر شرم سے پانی پانی کر دیتا ہے ـــــ کیا عزت صرف آپکے گھر کی باندی ہے؟ اِتنی کتابوں کا علم حاصل کرنے کے باوجود آپکی فطرت میں یہ درندگی کیوں ہے کہ آپکو دیکھ کر انسانیت بھی خود سے شرما جائے ــــ آپکی اَنا اُس وقت کہاں گھوڑے بیچ کر سو رہی ہوتی ہے جب آپکے گھر کے سامنے ایک معصوم کلی تپتی دھوپ میں کوڑا چھانتی  ہے یا جب آپکا پڑوس بھوکا سوتا ہے؟

غربت کسی انسان (یا معاشرے) کی ایسی حالت کا نام ہے جس میں اسکے پاس کم ترین معیار زندگی  کے لیۓ بنیادی اسباب و وسائل کا فقدان ہو۔ سادہ سے الفاظ میں کہا جائے تو یوں کہوں کہ ؛ غربت، بھوک و افلاس کا نام ہے۔ پر ستم تو دیکھئےایک غریب کیلیۓ غربت یہ ہے کہ اسکو دن میں ایک وقت کا کھانا مشکل سے میسر آتا ہے جبکہ ایک امیر کیلیۓ غربت یہ ہے کہ وہ روزآنہ غذایت سے بھر پور متوازن غذا اور اعلی کھانے مشکل سے کھا سکتے ہو۔  ایسی صورت میں  جب کوئی  غریب  اپنے اہل و عیال کا پیٹ‌نہ پال سکے ، بیمار ہو جائے تو علاج نہیں کروا سکے ،  غیر معیاری رہائیش کی وجہ سے خود گرم سرد سےنا بچا سکے، تو سوچیئے  وہ دوسروں کی کیا مدد کر پائے گا ۔۔ اس  کی یہی  ناکامی ،  بے بسی ، احساس کمتری اور احساس محرومی اسے معاشرے میں کوئی عزت نہیں دلوا پاتی ۔

یہ درست ہے کہ غربت کو مکمل طورپر ختم نہیں کیاجاسکتا لیکن غربت کے بڑھتے ہوئے گراف  کو ضرور کم کیاجاسکتاہے ۔ دولت کی گردش،وسائل پر قبضہ ، تعلیمی گرفت کو چند افراد تک محدود ہونے سے  بچایاجاسکتاہے ۔اسلام کی راہ کمیونزم اورکیپٹل ازم دونوں سے الگ ہے۔ وہ نہ سب کو تشدد اور حکم کے زور پر  یکساں حیثیت کا بناناچاہتاہے اورنہ ہی وسائل وذرائع پر چند افراد کی اجارہ داری کا حامی ہے۔  اسلام   دولت کی منصفانہ گردش ، تعلیم  اور حلال روزی کو یقینی بنانے کی  پرزور تلقین کرتا ہے ۔ لیکن یقین نہیں آتا کہ اتنے چھوٹے چھوٹے لوگ ہوتے ہیں اور اتنے بڑے بڑے غرور پال لیتے ہیں ـــــ تن کے امیر ہوتے ہیں اور من کے غریب ـــــ دل نہیں کانپتا جنکا انسانیت کو سسکتا دیکھ کر ـــــ جو لوگوں پر ظلم ہوتا دیکھ کر بھی اپنی عزتِ نفس کو تھپک کر سُلا دیتے ہیں ــــ افسوس ہوتا ہے یہ دیکھ کر ــــ دِل لرزتا ہے کہ جب محشر میں اپنے بنانے والے کا سامنا کریں گے تو وہاں کیا جواز دیں گے اپنے دِل کے اِس مردہ پن کا؟ بڑے بڑے غرور پالنا چھوڑ دیں ــــ خود کے اندر کچھ انسانیت اور رحمدلی پیدا کریں یہ دو دو ٹکے کے غرور اِس دنیا کے لئیے ہیں ـــــ کچھ سامان اُس ذلت سے بھی بچنے کا تو ہو  ــــ

(Visited 695 times, 1 visits today)

Maheen Tariq Qazi is a blogger and a teacher based in Islamabad. Master in Urdu linguistics and Literature, her areas of interests are social and general issues.

One Comment

Leave a Reply

Got It!

اس ویب سائٹ کا مواد بول پلاٹون کی آفیشل رائے کی عکاسی نہیں کرتا. مضامین میں ظاہر معلومات اور خیالات کی ذمہ داری مکمل طور پر اس کے مصنف کی ہے