Here is what others are reading about!

بلاعنوان

دربار کهچا کهچ بهرا ہوا تها آج فیصلہ ہونا تها ایک تجسس تها کہ کیا فیصلہ ہوگا رعایا انتظار کررہی تهی بادشاہ سلامت ابهی تک تخت پر براجمان نہیں ہوئے تهے رعایا میں چہ مگوئیاں ہورہی تهیں

کوئی کہ رہا تها
“پهانسی ہو جائے گی”
ایک نے کہا
“نہیں عمر قید ہوگی”
کسی نے کہا
“جرمانہ ہوگا”
ایک اور آواز آئی
“شاید کوڑے مارے جائیں گے”
کوئی بولا
“ملک بدری ہوگی”

بهانت بهانت کی آوازیں، قسم قسم کے اندازے، تکے، تیر یہ سب شاید چلتا رہتا کہ ایک قدرے اونچی آواز ابهری

“حد ادب خاموششش بادشاہ سلامت تشریف لارہے ہیں”

رعایا کو سانپ سونگهه گیا. مور پنکهوں کی چهتری میں تمکنت سے بهرپور، آنکهوں میں دہشت لیے زیورات سے لدے شاہی لباس میں ملبوس بادشاہ سلامت محل میں داخل ہوئے. رعایا استقبال میں اٹه کهڑی ہوئی بادشاہ سلامت پورے جاہ و جلال سے چلتے ہوئے تخت پر براجمان ہوگئے رعایا بهی خاموشی سے بادشاہ سلامت کو تکنے لگی بادشاہ سلامت نے ایک نظر رعایا پر ڈالی اور گرج کر بولے

“قیدی کو حاضر کیا جائے”

ایک وزیر جهکتا سلام بجاتا پیچهے کو ہٹتا ہوا دربار سے باہر نکل گیا دربار میں موت سا سناٹا پهیل گیا چند لمحوں بعد دو افراد ایک عورت کو پکڑ کے لائے بادشاہ سلامت کے ہونٹوں پر ایک بهیانک ہنسی پهیل گئی. اس عورت کو بهرے دربار کے سامنے لا کر کهڑا کر دیا گیا بادشاہ سلامت نے ایک نظر رعایا پر ڈالی اور کهڑے ہوگئے پهر وہی گونج دار آواز ابهری

“اے ابلا ناری تمہارا جرم کیا ہے”

“ظل الہی میں میرا جرم یہ ہے کہ میں نے عورتوں کے حق کی بات کی ہے”

“ہماری سلطنت میں کون سی عورتوں کو ان کے حقوق نہیں مل رہے”
بادشاہ گرجا

“عالم پناہ یہ عورت سراسر جهوٹ بول رہی ہے ہر عورت خوش و خرم زندگی گزار رہی ہے”
وزیر کی نفرت بهری آواز گونجی

“حضور عورت کو حقوق ملے ہوتے تو وہ حقوق کے لیے کیوں چیختی..؟”
عورت منمنائی

“گستاخ عورت عالم پناہ کے سامنے زبان چلاتی ہے”
وزیر چیخا

“اے عورت تم نہیں جانتی کیا کہ تم کہاں کهڑی ہو..؟”
بادشاہ سلامت کی آواز گونجی

“ظل الہی میں حق پہ ہوں جہاں بهی کهڑی ہوں”
وہ ڈٹ گئی

“عالم پناہ اس بدچلن اور بد لحاظ عورت کو سولی پہ لٹکا دیا جائے”
وزیر نے غصے بهرے لہجے میں عرض گزاشت کی

“ظل الہی رحم رحم رحم”
رعایا نے احتجاج کیا

“نہیں شاہی وزیر ہم ایسے تختہ دار پہ نہیں لٹکائیں گے ہم اسے ایسی سزا دیں گے کہ ریاست کی کوئی عورت ایسی جرات نہیں کر پائے گی”

“عالم پناہ جو آپ کا حکم ہو، تعمیل ہوگی”
وزیر جهکتے ہوئے سلام بجا لایا

بادشاہ سلامت کچه سوچنے کے بعد بولے
“اس عورت کی یہ سزا ہے کہ اس عورت کی بهری دربار میں سب کے سامنے شلوار اتار دی جائے”

قیدی عورت کی چیختی آواز آئی
“نہیں ظل الہی اس سے بہتر ہے ہمیں پهانسی کے پهندے پر لٹکا دیا جائے شلوار زیادہ قیمتی ہے نہیں اتاری جائے گی”

اور پهر کافی دیر دربار میں سناٹا رہا

(Visited 1,255 times, 1 visits today)

Amir Rahdari is a writer and producer at Geo News based in Lahore. He's famous for his satirical views and reviews.

One Comment

Leave a Reply

Got It!

اس ویب سائٹ کا مواد بول پلاٹون کی آفیشل رائے کی عکاسی نہیں کرتا. مضامین میں ظاہر معلومات اور خیالات کی ذمہ داری مکمل طور پر اس کے مصنف کی ہے