Here is what others are reading about!

ٹیڑھے کھمبے اور گبر سنگھ

نئی سڑکیں ، بڑے پولز اور ان سے لٹکے ہوئے  سیکیورٹی کیمرے۔۔ سب اچھا لگتا ہے۔ لیکن نہ جانےانہیں نصب کرنے والے  انجینئرز اپنے ساتھ پارے والا لیولر کیوں نہیں رکھتے جیسا کہ خدا بخش اپنے ساتھ رکھتا ہے۔ تریسٹھ سالہ خدا بخش پیشے کے لحاظ سے تو مالی ہے لیکن با رعب اور ٹھسے دار شخصیت کا مالک ہے۔ اس کی سب سے بڑی خوبی اس کے ذہن میں فِٹ ایک خودکار لیولر ہے۔  پھولوں کی کیاریوں کو اسطرح بناتا ہے جیسے کسی ماہر حساب دان نے جیومیٹری کے تمام فارمولے اس کے ذہن میں بھر دیے ہوں۔ کیاری چاہے مستطیل ہو یا گول ، لگتا ہے سکیل یا پرکار رکھ کر بنائی گئی ہے۔   
خدا بخش کو سب سے زیادہ غصہ اس وقت آتا ہے جب وہ ون وے سڑکوں کے درمیان لگے بجلی کے پولز کا ایک دوسرے سے موازنہ کرتا ہے۔ مجھے اُس کی اِس کیفیت کا اُس وقت پتہ چلا جب ایک بار میں اُسے، اپنے ساتھ گاڑی میں بٹھا کر اسلام آباد لے کر گیا۔ ہمیں نئے موسم کے پھولوں کی  پنیری درکار تھی سوچا خدا بخش کو ساتھ لے چلوں۔ سو پنڈی کینٹ سے براستہ ائر پورٹ ہم اسلام آباد کے لئے روانہ ہوئے۔               
” یہ دیکھیں سر جی!! یہ نئی سڑک بنائی ہے ۔” ائر پورٹ کے سامنے سے گزرتے ہوئے وہ غصے سے بولا۔              
” کیوں ؟ کیا ہوا ہے اسے؟ اچھی بھلی تو ہے؟ ”           
میں نے کچھ حیرت اور تشویش سے کہا۔   
” سر جی ائر پورٹ سے لیکر پہلے چوک تک تو سڑک تین لین میں بہترین ہے لیکن یہ جو چوک ہے ناں۔۔ یہاں سے ائر پورٹ کی دیوار کو سیدھا نہیں رکھا گیا۔۔۔ ساتھ ساتھ چلتی سیدھی دیوار، مستقل بند کئے گئے چوک سے بل کھا کر اچانک  اندر کو کیوں چلی گئی ہے؟ ” 
میں حیرت سے خدا بخش کو تکنے لگا تو وہ بولا ” سر جی ! ذرا دھیان سے ۔۔ ٹریفک زیادہ ہے اور آگے اسی روڈ پر جو یو ٹرن بنایا گیا ہے ناں، وہ تین لین میں سے ایک لین کو اچانک نگل لیتا ہے۔ یہ نہ ہو آپ کی گاڑی سیدھی یو ٹرن کے لئے بنائی گئی چھوٹی دیوار سے جا ٹکرائے۔”                
میری حیرت میں بتدریج اضافہ ہو نے لگا اور میں نے غور کیا کہ واقعی اطراف میں جگہ ہونے کے باوجود دو رویہ سڑک کے درمیان میں یو ٹرن کے لئے کوئی اضافی لین نہیں بنائی گئی تھی اور درمیان کی ایک ایک لین کو دونوں طرف سے یو ٹرن کی تعمیر کی نذر کر دیا گیا تھا اور تمام ٹریفک وہاں پر سُست پڑ رہی تھی بلکہ یو ٹرن کےلئے بنائی جانے والی دیواروں سے تیز رفتار گاڑیوں کے ٹکرانے کا بھی خدشہ تھا۔           
“اور کھمبے جو لگائے گئے ہیں۔۔ قسم سے اگر میرے ہاتھ وہ انجینئر آ جائے جس کی نگرانی میں یہ لگے ہیں تو میں ۔۔ ”  
خدا بخش نے میرا لحاظ کرتے ہوئے اپنی بات ادھوری چھوڑ دی۔        
میں نے بھی چلتے چلتے کھمبوں کا موازنہ شروع کر دیا۔ واقعی بہت سے پولز ایک دوسرےکے ساتھ ایستادہ تو تھے مگر باریکی سے دیکھنے پر ایک دوجے سے ہرگز مطابقت نہیں رکھتے تھے۔ کسی کا معمولی جھکاؤ دائیں طرف تھا تو کسی کا بائیں طرف۔ حالانکہ کھمبوں کو لگاتے وقت بھی اور بعد میں بھی اُن کی بنیاد میں لگے بڑے بڑے نٹ بولٹ اس بات کی سہولت دیتے تھے کہ کھمبوں کو جیسے چاہے لیول میں کھڑا کیا جائے۔  
توازن کی بات چلی ہے تو مجھے اپنے معاشرے میں  بڑھتے ہوئے عدم توازن کے رجحان کی بے شمار شکلیں یاد آئیں۔ “چلو تم ادھر کو ہوا ہو جدھر کی” کے مصداق ، سوشل میڈیا ہو یا الیکٹرانک میڈیا۔ جھکاؤ کسی ایک طرف ہو تو بس بڑھتا ہی چلا جاتا ہے ۔۔۔ سوائے اس کے کہ کچھ گروہ اپنی مخصوص پالیسی کے تحت اپنے موقف کو احتیاط سے ہماری بصارتوں اور سماعتوں میں انڈیلتے رہتے ہیں۔ مجھے بہت پہلے ایک “ادبی حلقے” میں جانے کا اتفاق ہوا۔ کسی نوجوان نے بہت اچھا افسانہ تنقید کے لئے پیش کیا۔افسانہ  بہت سے پرانے لکھاریوں سے کہیں بہتر لکھا گیا تھا۔ بہت دیر تک تو حلقہ” بزمِ سناٹا” کا منظر پیش کر تا رہا۔ لیکن آخر ایک “بہت زیادہ”  لکھنے والے صاحب نے گلا کھنگار کر صاف کیا اور بولے ” میرے خیال میں یہ ایک ناکام افسانہ ہے ۔۔ کیونکہ اس میں ۔۔۔۔۔”           
بس ۔۔ ان کا یہ کہنا تھا کہ افسانے کی مخالفت میں تمام حاضرین نے ایسے ایسے “قصیدے “پڑھے کہ الامان۔ بے چارہ نوجوان لکھاری اس حد تک دل برداشتہ ہوا اور خود کو اس قدر راندہ درگاہ سمجھنے لگا  کہ ایک سال تک مجھے کسی بھی ادبی محفل میں نظر نہ آیا۔             
قارئین یہ تو ایک مثال تھی لیکن درحقیقت یہ عدم توازن ہمارے ہر تعلق میں موجود ہے۔ گھریلو مسائل سے لیکر دفتری معاملات تک ۔۔۔ تعلیم سے لیکر امن و عامہ کے فقدان تک  عدم توازن پیش پیش ہے ۔ پاکستان کے شہروں کو ہی لیجئے۔ لاہور اسلام آباد کو چھوڑ کر مضافاتی علاقے اور دور دراز کے اضلاع جو غربت اور پسماندگی کا  نقشہ پیش کرتے ہیں وہ اچھے بھلے شخص کو ڈپریشن کا شکار کر دیتا ہے۔ شاید اسی ڈپریشن سے بچنے کے لئے ہمارے ارباب اختیار سڑک کے ذریعے سفر نہیں کرتے اور ہوائی جہاز میں بیٹھے ہوئے بلندی سے تو زمین پر موجود  ہر چیز خوبصورت اور یکساں دکھائی دیتی ہے۔  یہاں بہت سے لوگ توازن کی بحث میں معاشرتی نا ہمواری کو بھی ڈالنا چاہیں گے۔ کچھ لوگ ذہنی توازن کی مثالیں بھی دینا چاہیں گے اور یہ سچ ہے کہ اس عدم توازن کی سب سے بڑی وجہ ذہنی توازن کا درست نہ ہونا بھی ہے لیکن کیا کبھی کسی نے یہ بھی سوچا ہے کہ معاشرتی عدم توازن بذاتِ خود کسی کا ذہنی توازن بگاڑنے کے لئے کافی ہو سکتا ہے۔ مسلسل اذیت کا سلسلہ جب  اذیت سہنے والے کے threshold لیول سے بڑھ جائے تو شدید رد عمل پر منتج ہوتا ہےاور اگر اس تھیوری کو سچ مان لیا جائےتو  مستقبل قریب میں ہمارے اطراف میں ہر طرف ذہنی عدم توازن کے شکار افراد کا سیلاب ہوگا۔ پھر بقول گبّر سنگھ “تیرا کیا ہوگا کالیا۔۔۔؟”

(Visited 582 times, 1 visits today)

Dr. Sohail Ahmad is a freelance writer based in Islamabad. He’s a family physician, pharmacology teacher, broadcaster, fiction writer and a poet.

One Comment

Leave a Reply

Got It!

اس ویب سائٹ کا مواد بول پلاٹون کی آفیشل رائے کی عکاسی نہیں کرتا. مضامین میں ظاہر معلومات اور خیالات کی ذمہ داری مکمل طور پر اس کے مصنف کی ہے