Here is what others are reading about!

  • Home
  • /
  • Pakistan
  • /
  • کراچی میں درختوں کی ٹارگٹ کلنگ

کراچی میں درختوں کی ٹارگٹ کلنگ

کراچی میں ہرے بھرے درختوں کی کٹائی اب معمول کی بات ہے۔ روز ہی کسی نئے سائن بورڈ کے لئے یا پھر کسی ترقیاتی منصوبے کے لئے کئی کئی سال پرانے درختوں کو کاٹ دیا جاتا ہے، صوبائی حکومت اور انتظامیہ نوٹس لیتی ہے لیکن کبھی یہ نہیں دیکھا گیا کہ جو درخت کاٹے گئے ہیں ان کی جگہ یا پھر متبادل جگہ پر کوئی نیا پودا یا درخت لگایادیاگیا ہو۔ کسی بھی درخت کو کاٹنے میں بہت کم وقت درکار ہوتا ہے لیکن اگانے میں سال لگ جاتے ہیں۔ بدقسمتی کہئے یا ہماری کم علمی ہم یہ جانتے ہی نہیں کہ یہ ہماری کتنی بڑی ضرورت ہے ۔ اس کی اہمیت اور افادیت سے جو واقف ہیں ان کے کیا ہی کہنے اس کی ایک مثال مرحوم اردشیرکاو س جی کی بھی ہے جنھوں نے کراچی کے ماحولیات کے حوالے سے آواز اٹھانے کی ہمیشہ ہمت رکھی اور کئی پٹیشن عدالتوں میں جمع کرائی ان کا گھر باتھ آئی لینڈ میں درختوں اور پودوں میں چھپا الگ ہی پہنچان رکھتا تھا ٓخری بلدیاتی دور میں کچھ ماحول دشمنوں نے بہت کوشش کی کہ ان کے گھر کے سامنے لگے پرانے درختوں کو کاٹ دیا جائے اس دور میں ہر جانب ترقیاتی منصوبے تیزی سے بن رہے تھے کہیں انڈر پاس توکہیں پلوں کی تعمیر جاری تھی لیکن کاوس جی نے درختوں کو کاٹنے کے معاملے کو عدالت میں چیلنج کرڈالا اور عدالت کے حکم پر ان درختوں کو زندگی ملی، ماحول کے لئے ہمیشہ ا ٓواز بلند کرنے والے ارد شیر کاوس جی آج خود تو نہیں لیکن ان کے برقت اقدام کے تحت ان درختوں سے آج بھی کئی زندگیاں ضرور محفوظ ہوں گی ، یقینا ہیٹ ویو کے ان دنوں میں جب کسی کو کہیں کوئی سایہ نظر نہیں آرہا ہوگا یہ درخت کسی کی جان بچانے کا سبب ضروربنے ہوں گے۔
اسکولوں کی کتابوں میں بچوں کو یہ ضرور پڑھایا جاتا ہے کہ درخت کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کرنے اور آکسیجن فراہم کرنے کا بہترین ذریعہ ہے لیکن کبھی ان کے ہاتھوں یہ کام نہیں کروایا گیا کہ شہر میں جگہ جگہ ان سے درخت لگوائے جائیں یا انھیں یہ ٓگاہی دی جائے کہ وہ اپنے گھر، محلوں میں ماحول کی بہتری کے اقدام کرسکیں۔ ہمارے یہاں بچوں کو مہنگے فاسٹ فوڈ کھلانا تو شاید اسٹیٹس کہلا سکتا ہے لیکن انھیں ماحول دوست بنانے کے لئے چند پودے خرید کر دینا والدین کو مہنگا لگتا ہے۔ گزشتہ برس کراچی میں جب ہیٹ ویو سے دوہ ہزار سے زائد افراد جان کی بازی ہار گئے تو یہ پورے ملک کے لئے خطرے کی گھنٹی تھی، یہ وہ وقت تھا جب صوبائی حکومت سے لیکر وفاقی حکومت کو معلوم ہوا کہ لگ بھگ دو کروڑ کی آبادی کے اس شہر میں مردہ خانے، سرد خانے کم ہیں، ایمبولینسز کی تعداد بھی ضرورت کے مطابق نہیں اور تو اور اسپتالوں میں طبی امداد دینے کے بہتر بندوبست نہیں، بطور صحافی رمضان المبارک میں ہیٹ ویو پر رپورٹنگ میری ذمہ داری لگائی گئی ۔ تین گھنٹوں کے دوران میں نے اپنے سامنے آٹھ لوگوں کو زندیگی ہارتے دیکھا، اسپتال کے وارڈ بھرے پڑے تھے، ایک ڈاکٹر کے ذمے کئی کئی مریض تھے، نرسز کی بھاگ دوڑ بتارہی تھی کہ ان کے پاس سر کھجانے کی فرصت نہیں، کراچی والوں کے لئے موسم کی یہ تبدیلی بالکل نئی تھی کوئی اس کے لئے تیار نہ تھا۔ اسپتال سے باہر شہر میں نکلے تو باہر سڑکیں تپ رہی تھیں۔ لوگ بے حال تھے اس وقت میں نے پہلی بار شہر کو الگ نظر سے دیکھا، ڈھونڈنا چاہا کہ کیا کوئی دور دور تک سایہ ہے؟ کوئی درخت ہے؟ مجھے نظر نہ آیا، شہر کو خوبصورت بنانے کے لئے ہم نے بلند و بالا عمارتیں تو بنا لیں لیکن وہ عمارتیں دور سے نظر آئیںاس لئے ان کے سامنے آنے والے درخت کاٹ ڈالے، شاہراہ فیصل ہو یا کلفٹن یا پھر دیگر اہم شاہراہیں ان پر سائن بورڈز کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ بتاتا ہے کہ یہاں درختوں کا کوئی کام نہیں سی ویو کی جانب جائیں تو سمندری ریت اڑتی دکھائی دے گی لیکن درخت کا کوئی وجود نہیں۔ 2005 کے بلدیاتی دور میں 62کروڑ کی لاگت سے شہر میں سب سے بڑا پارک باغ ابن قاسم بنایا گیا ۔ جس کی ہریالی اور جگہ جگہ لگائے جانے والے درختوں سے یہ پارک بہت خوبصورت دکھائی دیتا تھا ۔ آج اس پارک میں صرف دھول مٹی اور منشیات کا استعمال کرنے والے دکھائی دیتے ہیں ہریالی سوکھ چکی، درخت ختم ہوچکے کروڑوں روپے نہ جانے کہاں غارت ہوگئے۔ یہ ایک نہیں پورے شہر کی کہانی ہے جو پارکس تھے ان پر لینڈ مافیا کا قبضہ ہے کوئی پوچھنے والا نہی کہ کس کی اجازت سے ہرے بھر پارکس ختم کر کے پلاٹنگ کی گئی؟ فلیٹس بنائے گئے؟ گلی محلوں میں جو چھوٹے چھوٹے پارکس تھے ان میں نیم اور سفیدے کے درخت کبھی ہوا کرتے تھے اب سالوں بیت گئے درختوں کا نام و نشان نہیں۔ شہر میں موجود گرین بیلٹس کو نہ صرف بے دردی سے ختم کیا جارہا ہے بلکہ نئے شروع کئے جانے والے منصوبوں میں سب سے پہلے درختوں کو کاٹا جاتا ہے۔
یہاں سب سے اہم بات یہ ہے کہ ناجائز تجاوزات پر فوذ چینز، رہائشی عمارتیں قائم کرنے والوں کے خلاف کوئی کاروائی نہیں کیوں کہ انتظامیہ جانتی ہے کہ سامنے والے طاقتور ہیں اینٹ کا جواب پتھر سے ملے گا لیکن ان جاندار درختوں کو جب چاہے قتل کردیا جائے کوئی نہیں پوچھے گا۔ یہ قتل ہی تو ہے اس جاندار کا جو خود طوفان، گرمی، بارش موسم کی بے رحمی سہتا ہے اور دوسروں کو زندگی دیتا ہے، چھاوں دیتا ہے، پرندوں کو آشیانے دیتا ہے تو کسی بے گھر کو سونے کا ٹھکانہ بھی دیتا ہے۔ لیکن یہ قتل آسان ہے اس لئے یہ ٹارگٹ کلنگ بہت آسانی سے جاری ہے۔ افسوس کہ اب ارد شیر کاوس جی جیسا جی دار بھی ہم میں نہیں جو ان جانداروں کے لئے اٹھ کھڑا ہوجا تا تھا۔ کچھ تنظیمیں ضرور ہیں جو درخت لگانا چاہتی ہیں لیکن وہ جب یہ کام کریں تو کچھ ہی روز میں انھیں اس جگہ کچھ دکھائی نہیں دیتا۔ پوری دنیا موسمیاتی تبدیلی سے پریشان ہے اور خطرے کی بات یہ ہے کہ پاکستان کا شمار ان دس ممالک میں ہوتا ہے جو گلوبل وارمنگ کا سب سے زیادہ شکار ہیں، محکمہ موسمیات کا بھی اس حوالے سے کہناہے کہ کراچی میں ہیٹ ویو کا ہونا گلوبل وارمنگ کی ہی وجہ سے ہے، موسم گرما میں درجہ حرارت 40 سے 50 سینٹی گریڈ تک جانا ممکن ہوسکتا ہے جبکہ گلوبل وارمنگ سے سطح سمندر میں نہ صرف اضافہ ہوگا بلکہ جنگلات کی کمی اور درختوں کی کٹائی سے زلزلے بھی آسکتے ہیں۔ لیکن ہم سو رہے ہیں کیو نکہ ہم اسے اپنی ذمہ داری نہیں سمجھتے نہ ہی اہم درختوں کی اہمیت سے اچھی طرح واقف ہیں ہمار ا حال اس کبوتر جیسا ہے جو بلی کو سامنے دیکھتے ہی آنکھیں بند کر لیتی ہے کہ وہ محفوظ ہے۔ صرف اگر اتنا سوچ لیا جائے کہ درختوں کے لگانے سے جہاں گرمی کی شدت میں کمی لائی جاسکتی ہے وہیں گھروں میں زیادہ سے زیادہ پودے لگانے اور باہر کیاریوں میں درخت اگانے سے شدید گرمی میں گھروں کو ٹھنڈا بھی کیا جاسکتا ہے۔ کچھ عرصہ قبل اسی اہمیت کو سمجھ کر لوگوں میں آگاہی دینے کی غرض سے بے لوث کام کرنے والے ایک فرد سے میری ملاقات ہوئی، ان کا نام سید مسلم رضا ہے۔ انھوں نے لوگوں کو اس کی اہمیت بتانے کے لئے اپنے گھر کی چھت پر گملوں، بالٹیوں، بڑے بڑے ڈرمز میں پودے لگا رکھے ہیں جن میں سے بیشتر اب درخت بن چکے ہیں۔ انکے گھر کے باہر لگے درختوں نے نہ صرف ان کی چھت کو سایہ دے رکھا ہے بلکہ باہر سے گزرنے والی سڑک کو بھی سایہ دار کر رکھا ہے، سامنے موجود قبرستان آنے والے لوگ اکثر ان درختوں کی چھاوں میں بیٹھ جاتے ہیں اور ان درخت لگانے والوں کو دعا دیتے ہیں۔ مسلم رضا سے جب میں نے کراچی کو درپیش ممکنہ ہیٹ ویو پر بات کی تو ان کا بھی یہی کہنا تھا کہ کراچی کو اس وقت کسی چیز کی نہیں ہزاروں درختوں کی ضرورت ہے۔ جس طرح میڈیاپر ہیٹ ویو سے بچاو اور احتیاطی تدابیر سے آگاہ کیا جارہا ہے اسی طرح یہ بتانے کی بھی اشد ضرورت ہے کہ ہمیں مستقبل میں ماحول کو بہتر کرنے اور اس قیامت خیز گرمی سے بچنے کے لئے کن اقدامات کو کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ مسلم بحثیت شہری اس بات کو اپنی ذمہ داری سمجھتے ہیں کہ وہ اسکول ، کالج کے طلباءکو درختوں کی اہمیت سے آگاہ کریں بلکہ شہر قائد میں جہاں ممکن ہو سکے درخت لگوائیں۔ ان کا یہ اقدام سراہنے کے لائق ہے لیکن کیا اس شہر میں یہ سب ایک فرد واحد کی ذمہ داری ہے؟ ہرگز نہیں اگر یہ ذمہ ہم سب اٹھا لیں تو شہری انتظامیہ، صوبائی حکومت کو بھی اس میں لوگوں کا ساتھ دینا ہوگا۔ کیونکہ شہر کو اس وقت اشد ضرورت ہے کہ گرمی سے بچاو کے لئے زیادہ سے زیادہ درخت لگائے جائیں۔ تاکہ وہ گرمی کے ستائے لوگوں کو جہاں سایہ فراہم کرنے کا سبب بنیں وہیں آنے والے سالوں میں گرمی کی شدت کو کم کرنے کا موئثر ذریعہ بھی ثابت ہوں۔ 
       لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ہمارے یہاں جب کوئی درخت کاٹ دیا جاتا ہے تو سوئی ہوئی انتظامیہ نیند سے بیدار ہوتے ہی نوٹس جاری کر دیتی ہے اور میڈیا پر سرکاری ٹکرز دے دئیے جاتے ہیں۔ جب یہ ٹارگٹ کلنگ ہورہی ہوتی ہے اس وقت کوئی روکنے والا دکھائی نہیں دیتا۔ اس سفاکانہ عمل کو کرنے والوں کو خوب پتہ ہوتا ہے کہ انھیں پکڑنے والا کوئی نہیں۔ درخت کاٹنے والے یہ بھی بخوبی جانتے ہیں کہ ان کو کہاں کونسا بہتر درخت ملے گا اور وہ وہاں پہنچ جاتے ہیں جبکہ انتظامیہ کو وہ جگہیں نہیں مل پاتی جہاں نئے درخت لگا دئیے جائیں۔ وہ اس کوشش میں لگے ہوئے ہیں کہ اگر کوئی نئی ہیٹ ویو کا سامنا شہر کا کرنا پڑا تو قبرستانوں میں ممکنہ ہلاکتوں کے پیش نظر قبریں نہ کم پڑ جائیں لیکن وہ اس بات کی کوششوں میں نہیں کہ قبروں کے لئے کھودے جانے والے گڑھوں میں اگر کسی لاش کی جگہ آج وہ کوئی بیج ڈال دیں یا کوئی پودا لگا دیں تو وہاں سے اگنے والا درخت کئی لاشیں دفنانے سے بچانے کا وسیلہ بن جائے گا۔
(Visited 437 times, 1 visits today)

Sidra Dar is writer and a blogger based in Karachi. She is working as a news reporter at NEO news network . Her beats are environmental issues, social issues and special assignment.

Leave a Reply

Got It!

اس ویب سائٹ کا مواد بول پلاٹون کی آفیشل رائے کی عکاسی نہیں کرتا. مضامین میں ظاہر معلومات اور خیالات کی ذمہ داری مکمل طور پر اس کے مصنف کی ہے