Here is what others are reading about!

  • Home
  • /
  • Pakistan
  • /
  • مخلوق سے پیار کرنے والے کو خالق کا بلاوا

مخلوق سے پیار کرنے والے کو خالق کا بلاوا

غالباً سن دو ہزار پانچ کی بات ہے۔ میڈیکل کالج سے ڈیوٹی ختم کر کے نکلا تو اپنی گاڑی میں، بہاول وکٹوریہ ہسپتال کےشعبہ بیرونی مریضان کے سامنے سے شارٹ کٹ لیتے ہوئے گھر کی جانب مڑا۔ سرسری سی نظر آؤٹ ڈور بلاک کے سامنے والے فٹ ہاتھ پر پڑی تو ایک بوڑھا شخص وہاں لیٹا ہوا نظر آیا۔ میں اسے نظر انداز کرتا ہوا آگے بڑھا لیکن نہ جانے کیوں ہسپتال کے مین گیٹ سے باہر نکلتے وقت بھی میری آنکھیں شاید وہیں فٹ ہاتھ پر ہی رہ گئیں تھیں۔ میں گاڑی چلاتا ہوا ، اُس شخص کے بارے میں مسلسل سوچ رہا تھا کہ آخر وہ ضعیف العمر شخص سہہ پہر کے تین بجے ، او پی ڈی کے اوقاتِ کار ختم ہو جانے کے بعدبھی ، تن تنہا فٹ ہاتھ پر کیوں پڑا تھا؟ تجسس نے مجھے فرید گیٹ کے گول چکر سے گاڑی واپس موڑنے پر مجبور کر دیا۔

میں نے گاڑی پارکنگ میں کھڑی کی اور چلتا ہوا بابا جی کی طرف بڑھا۔ بابا جی بے حس و حرکت آڑے ترچھے ہو کر فٹ پاتھ پر لیٹے تھے۔ قریب ہی کچھ ایسے نشانات تھے جن سے اندازہ ہو رہا تھا کہ وہ شاید جاگتے میں یا ہوش میں خون تھوکتے رہے تھے۔ بغیر ڈھکن کے، پانی کی ایک خالی بوتل قریب ہی گری پڑی تھی۔ سفید شلوار گیلی تھی اور شاید اس لاچار شخص کا پیشاب بھی خطا ہو چکا تھا۔

میں نے انہیں آہستہ سے ہلایا جلایا اور آواز دی ” بابا جی ؟”

انہوں نے آنکھیں کھول دیں اور انتہائی نقاہت کے عالم میں پانی کے لئے ہاتھ سے اشارہ کیا۔ میں نے قریب کھڑے ایک  رکشے والے کو چند روپے دے کر اُسے پانی لانے کو کہا۔ وہ بھلا آدمی دو منٹ میں پانی کی ایک بڑی بوتل خرید لایا۔بابا جی کو سہارا دینے کے بعد اُسی رکشے والے کی مدد سے پانی پلانے کے بعد میں نے دیکھا کہ ان کی حالت کچھ بہتر ہونے لگی تھی۔ میں نے پوچھا “بابا جی آپ کچھ کھائیں گے؟ “

انہوں نے آہستہ سے اثبات میں سر ہلا دیا۔ میں فوراً سی ٹی سکین والی عمارت کے ساتھ بنی کینٹین سے کچھ روٹیاں اور سالن لیکر وہاں پہنچا تو رکشے والا شاید جا چکا تھا اور بابا جی پھر سو چکے تھے ۔میں نے انہیں جگا کر کھانا ان کے سامنے رکھا۔ وہ کانپتے ہاتھوں سے کھانا کھاتے رہے۔ پھر پانی پی کر مجھے غور سے دیکھنے لگے۔

“کہاں سے آئے ہیں آپ ؟ “

وہ دُور خلاؤں میں تکتے ہوئے بولے ” فیصل آباد سے۔”

” آپ کے ساتھ کون ہے ؟ “

” میرا پتر ۔۔ علاج کے لئے لایا تھا مجھے ۔”

یہ کہہ کر وہ خاموش ہوگئے اور انہوں نے سر جھکا لیا۔

میں نے کچھ تذبذب سے پوچھا ” علاج کے لئے ؟ لیکن کیوں ؟ کیا فیصل آباد میں آپ کا علاج نہیں ہو سکتا تھا ؟ “

” کی پتہ ۔۔ پُتر کہندا سی کہ بابا چل تیرا علاج بہاولپور دے ہسپتال وچ ہو وے گا۔ رات دی بس پھڑ کے سویرے سویرے مینوں ایتھے چھڈ گیا اے۔”

)مجھے کیا معلوم ۔ میرا بیٹا کہتا تھا کہ بابا تمہارا علاج بہاولپور کے ہسپتال میں بہتر ہوگا۔ رات کو چلنے والی بس میں وہ مجھے یہاں لایا ہے اور صبح صبح مجھے یہاں چھوڑ کر چلا گیا ہے۔(

” کہاں چلا گیاہے؟ ” میں نے تشویش سے کہا۔

” واپس ۔۔۔فیصل آباد ۔۔ “

بابا جی پھر سے لیٹ گئے اور پھر انہوں اپنے  سر کے نیچے ایک کپڑا رکھ کر اپنا مونہہ دوسری طرف کرلیا۔

” وہ واپس کیوں گیا ہے ۔۔ آپ کو یہاں چھوڑ کر؟” میں ان کی حالت دیکھ کر شدید صدمے سے دوچار تھا۔

بابا جی نے کوئی جواب نہ دیا ۔ ان کا چہرہ بدستور دوسری طرف تھا ۔ میں نے آگے بڑھ ان کو دیکھا تو موٹے موٹے آنسو جھریوں زدہ چہرے سے ہوتے ہوئے فٹ پاتھ کے سیمنٹ میں جذب ہو رہے تھے۔ 

مجھے کچھ سمجھ نہیں آ رہاتھا۔ لیکن مجھے کم از کم اس بات کا اندازہ ضرور ہو گیا تھا کہ بابا جی کو اب کوئی لینے نہیں آنے والا۔

آخر مجھے ایدھی سنٹر کا خیال آیا۔ موبائل سے نمبر ڈائل کیا تو فوراً رابطہ ہوگیا۔ ایدھی سنٹر کے نمائندے نے میری پوری بات توجہ سے سُنی اور اُس بے بس انسان کی مدد کے حوالے سے ہر ممکن تعاون کا یقین دلایا لیکن ایک معذوری بھی ظاہر کر دی ۔ بولا ” ڈاکٹر صاحب ! اگر آپ آج شام اور رات کا کوئی بندوبست کر لیں تو کل صبح ہماری ایمبولینس ان کو یہاں سے ڈائریکٹ ملتان کے ایدھی ہوم لے جائے گی ۔وہاں ہمارا ایک بڑا ہسپتال بھی ہے۔ بہاولپور میں شام کے اوقات میں ہم کسی کو نہیں رکھ سکتے۔ لیکن میں کپڑوں کا ایک جوڑا اور ایک کمبل بھجوا رہا ہوں۔”

)قارئین پر  واضح رہے کہ میں بارہ سال پہلے کا ذکر کر رہا ہوں۔  ممکن ہے کہ اب یعنی 2016 میں بہاولپور کے ایدھی سنٹر میں گنجائش پیدا ہو گئی ہو۔(

مجھے اور تو کُچھ نہ سوجھا۔ میں نے سی ایم او ( انچارج شعبہ حادثات) سے جا کر بابا جی کے حوالے سے بات کی۔ ڈاکٹر صاحب نے بتایا کہ ایمرجنسی وارڈ اِس وقت پہلے ہی مریضوں سے بھرا پڑا ہے۔  رات کے اوقات میں اِسطرح کسی لاوارث شخص کو شعبہ حادثات کا کوئی بیڈ دینا اُن کے اختیار میں نہیں ہے۔ لیکن میرا مایوس چہرہ دیکھ کر انہوں نے ایک مہربانی کی۔ انہوں نے او پی ڈی کا کرش ہال کھلوا دیا اور میرے ساتھ نرسنگ سٹاف کو بھیجا تاکہ وہ ایدھی ہوم سے آئے ہوئے کپڑے بابا جی کو پہنا سکیں اور انہیں رات کے لئے کرش ہال میں ٹھہرا سکیں۔ میں نے ڈاکٹر صاحب کا شکریہ ادا کیا اور پھر بابا جی کو کرش ہال کی چھت کے نیچے چھوڑ کر اُن کو کھانے پینے کی کچھ اشیا دے کر میں قریباً مغرب کے وقت گھر واپس آگیا۔ گھر واپس آکر میں نے دوبارہ ایدھی سنٹر والوں سے رابطہ کیا اور ان سے  بابا جی کے حوالے سے یقین دہانی چاہی۔ اگلی صبح میڈیکل کالج میں ڈیوٹی سے بہت پہلے میں بابا جی کے پاس پہنچ گیا۔ حسبِ وعدہ ایدھی سنٹر کی دو گاڑیاں وہاں پہنچ گئی تھیں اور پھر مجھے کچھ کرنے یا کہنے کی ضرورت نہیں پڑی۔ میرے سامنے ایدھی سنٹر کے ورکرز نے بابا جی کا مونہہ دھلوایا۔ انہیں کھانا کھلایا اور پھر ایک اہلکار نے مسکراتے ہوئے مجھے اپنا تعارف کروایا اور بولے  ” ڈاکٹر صاحب ۔۔آپ کا بہت شکریہ ۔۔ بابا جی اِس بڑی ایمبولینس میں یہیں سے ملتان روانہ ہونگے۔ ” یہ کہہ کر انہوں نے ایمبولینس کے ڈرائیور کو کچھ ہدایات دیں اور ایک کاغذ اسے تھما دیا اور پھر مجھ سے ہاتھ ملا کر  چھوٹی ایمبولینس میں وہاں سے رخصت ہوگئے۔

بابا جی کو رخصت کرنے کے بعد میں بھیگی آنکھوں کے ساتھ بہت دیر تک ایدھی صاحب کو دعائیں دیتا رہا جن کی وجہ سے نہ جانے اس طرح کے کتنے لاچار اور لا وارث لوگوں کو علاج ، خوراک اور چھت میسر ہے۔

اور میری آنکھیں آج بھی بھیگی ہوئی ہیں ۔۔ جب میں ٹیلی ویژن کی سکرین پر نظریں جمائے،  اس عظیم انسان کو اپنے سفرِ آخرت پر جاتے ہوئے دیکھ رہا ہوں۔ میری دعا میں اب بھی وہی رقّت ہے ۔ فرق صرف یہ ہے کہ 2005 میں ایدھی صاحب کی زندگی کی دعا کر رہا تھا اور آج 2016 میں اُن کی مغفرت کی دعا کر رہا ہوں ۔ ایدھی صاحب !! جس خالق کی مخلوق سے آپ تا عمر محبت اور احسان کا سلوک کرتے رہے، سوچتا ہوں، وہ آپ سے کس قدر محبت سے پیش آئے گا۔ اللّہ کے حوالے ایدھی صاحب۔

(Visited 898 times, 1 visits today)

Dr. Sohail Ahmad is a freelance writer based in Islamabad. He’s a family physician, pharmacology teacher, broadcaster, fiction writer and a poet.

Leave a Reply

Got It!

اس ویب سائٹ کا مواد بول پلاٹون کی آفیشل رائے کی عکاسی نہیں کرتا. مضامین میں ظاہر معلومات اور خیالات کی ذمہ داری مکمل طور پر اس کے مصنف کی ہے