Here is what others are reading about!

  • Home
  • /
  • Pakistan
  • /
  • آنے جانے کی باتیں چھوڑیں، اب بس کریں

آنے جانے کی باتیں چھوڑیں، اب بس کریں

محض آٹھ سال بعد ہی اسلام آباد میں مارشل لا کے خطرات منڈلا رہے ہیں۔ آٹھواں سال تو تکلفاََ کہ دیا ورنہ دھرنے کے دو سال بعد ہی۔ دھرنے کے وقت بھی بیرون ملک ایک جغادری صحافی کی ٹویٹ دیکھی کہ پاکستان میں مارشل لا کے حالات ہیں، افسوس ایسے دلچسپ دنوں میں پاکستان سے باہر ہوں۔ تو ایسے دلچسپ دن پھر آنے کو ہیں، اپوزیشن پھر دھرنا اسٹائل احتجاج پر جانے کو ہے، اس دفعہ بقول عمران خان کے ‘پی این اے’ کی طرز پر اپوزیشن صف بند ہوگی۔ الله خیر کرے، لگتا ہے کہ کسی نے عمران خان صاحب کو پی این اے تحریک کی سیاسی معنویت سے آگاہ نہیں کیا۔ بھلا ہو نصرت جاوید صاحب کا جنہوں نے اصغر خان صاحب کی جارحیت کا ذکر کرتے ہوئے اشارتاََ سمجھایا کہ صاحب کہیں بنی گالا میں طویل نظر بندی کی صورتحال نہ پیدا ہوجائے۔

ملک کے طول و ارض میں چند لاکھ کی لاگت سے ایک بے نامی قسم کی پارٹی ”موو ان” نے جنرل صاحب کو آنے کی دعوت دی ہے۔ اگرچہ جہاں آنے کو کہ رہے ہیں وہاں بلانے کی موو ان والے صاحب کی صوابدید نہیں ہے مگر چونکہ جمہوریت ہے تو صاحب کو حق حاصل ہے کہ ‘جو چاہے کہتا پھرے’۔ موصوف کو جس آئین سے یہ حق حاصل ہوا یہ اسے ہی ختم کرنے کی تجویز دے رہے ہیں۔ جس شاخ پر بیٹھے ہیں اسے کاٹنے کی جستجو ہے۔ یہ پوسٹر جب نمودار ہوئے اس کے ساتھ ہی، مگر اس سے قطع تعلق، سندھ کے وزیر چانڈیو صاحب نے بڑا معنی خیز بیان دیا جس میں موصوف جنرل راحیل شریف صاحب کو ایکسٹینشن نہ لینے کی تجویز دے کر با عزت گھر جانے کی تجویز دی تھی۔ حیرت ہے آئی ایس پی آر تو سال کے شروع ہی میں واضح کر چکا تھا کہ جنرل صاحب ایکسٹینشن نہیں چاہتے۔ ایسے میں چانڈیو صاحب کا یہ غیر متوقع بیان سمجھ سے باہر ہے جس پر مخاطب کی طرف سے کوئی تبصرہ بھی نہیں آیا ہے۔ کیا کوئی پردے کے پیچھے رابطہ چل رہا ہے ایکسٹینشن کے لئے۔ ایسا بیان پی پی پی کے رہنما کی جانب سے اس طرف اشارہ کرتا ہے کہ یہ معاملہ کہیں نہ کہیں تو زیر بحث ہے۔ کچھ روز پہلے حکومت کی جانب سے ایک تجویز کی خبریں تھیں کہ آرمی چیف کا دور ملازمت ٹیکنکل بنیادوں پر چار سال کر دیا جائے۔ ان باتوں سے تو لگتا ہے کہ کچھ نہ کچھ تو سلسلہ جنبانی ایکسٹینشن کی بابت جاری ہے۔

غور طلب بات یہ ہے کہ ایسے میں ایک نامعلوم پارٹی کی جانب سے آرمی چیف کو شب خون کی دعوت کیا بارگیننگ چپ تو نہیں؟ جو بھی ہے بہت خطرناک کھیل کا پیش خیمہ ہے۔ ملک جو بہت مشکلوں سے استحکام کی جانب بڑھ رہا تھا اسے دوبارہ عدم استحکام کی جانب دھکیلنے کی گھناونیسازش معلوم ہوتی ہے۔

فوج ملک کا سب سے فعال ادارہ ہے، اتنا فعال کہ بعض لوگوں کے خیال میں باقی ادارے تباہ ہی اس لئے ہوئے کہ ریاست نے ایک ادارے کو پالنے کی ذمہ داری سنبھال لی اور بات اس حد تک بڑھی کہ پاکستان کی ریاستی پالیسیوں میں قرون اولیٰ کی جنگجو ریاستوں کی جھلک نمایاں ہوگئی۔ ہم نے جدید دور میں معاشی طاقت بننے کی بجائے عسکری قوت بننا مناسب سمجھا۔ نہ صرف یہ کہ عسکری قوت بنے بلکہ ریاستی حدود کی توسیع کے لئے قدم مارنے کے جنون میں ہم نے آدھے سے زیادہ ملک گنوا دیا ہے اور ریاست مسلسل اسی واہمے میں ہے کہ اس کے ہمسائے اس کی گھات میں بیٹھے ہیں۔ ہر اقدام جو پڑوسی ملکوں کی جانب سے اٹھایا جاتا ہے، چاہے وہ ان کے ملکی مفاد میں ہی کیوں نہ ہو، اسے شک کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ ہم خود افغانستان میں اپنے دست آموز جنگجوؤں کی مدد سے رسوخ چاہتے ہیں، کشمیر کو کسی بھی غلط صحیح پالیسی کے تحت حاصل کرنا چاہتے ہیں، چاہے اس میں اپنے سماج کی شکست و ریخت کا سودا ہی کیوں نہ کرنا پڑ جائے۔ ایران اپنے ملک میں بندرگاہ بناتا ہے تو ہم کہتے ہیں کہ یہ ہماری بندرگاہ کے خلاف سازش ہے، یعنی ایران کو اپنے ملک کی بہبود کا کوئی حق نہیں، وہ ہم سے پوچھے کہ کیا ہمارے مفاد میں ہے پھر کوئی قدم اٹھائے۔

حالیہ دور میں جن اقدامات کی وجہ سے فوج کا ڈنکا پورے ملک میں بج رہا ہے، ان میں معروف ضرب عضب کا آپریشن ہے۔ دہشت گردی کی وبا نے بیسویں صدی کے آخر میں ہی زور پکڑنا شروع کر دیا تھا۔ عسکری حکام کو ان ناسوروں کے خلاف آپریشن کرنے کے لئے بار بار اہل خرد نے اپیل کی مگر بے سود، نوبت یہاں تک آگئی کہ ملالہ پر جب حملہ ہوا تو کہا گیا کہ امریکہ پاکستان کے شمالی علاقوں میں آپریشن کروانا چاہتا ہے اس لئے یہ سازش کی گئی ہے۔ مگر آج ہم دیکھتے ہیں کہ اس آپریشن کے بعد دہشت گرد حملوں میں نمایاں کمی آئی ہے۔ یہ آپریشن فوج نے ہی کرنا تھا، مگر کم از کم ایک عشرے کے بعد کیا گیا۔ اس عشرے میں پاکستان نے ستر ہزار کے قریب جانوں کی قربانی دی۔ جب ہم اس آپریشن کے دیر سے کرنے کی وجوہات میں جاتے ہیں تو معلوم پڑتا ہے کہ یہ جانیں پاکستانیوں نے نہیں بلکہ ریاست نے افغانستان میں کچھ خاص مقاصد حاصل کرنے کے لئے ‘قربان’ کیں۔ ان مقاصد کے حصول کے لئے ہم اتنے یکسو ہیں کہ آپریشن ضرب عضب کی گرد ذرا بیٹھی تو پتہ لگا اچھے اور برے طالبان کی تمیز کر کے آپریشن کیا گیا۔ اچھے طالبان کا تو یہ حال ہے کہ پاکستانی پاسپورٹوں پر دندناتے پھرتے ہیں اور برے طالبان کا یہ حال ہے کہ ان کی قیادت ہم سے پکڑی نہیں گئی، آج کل کبھی کبھی افغانستان میں اچھے ڈرون حملوں میں ان کے مرنے کی خبر آجاتی ہے۔ البتہ برے ڈرون حملوں میں اچھے طالبان فنا ہوتے ہیں۔

مدعا یہ ہے کہ جو کام برسوں  پہلے کرنے کا تھا، وہ کام ستر ہزار جانیں ضائع کرنے کے بعد اب ایک حد تک مکمل کیا گیا اور اس پر بھی شکریہ کے ڈونگروں کا اہتمام کیا، ہر طرف سے داد و تحسین حاصل کی گئی اور اب نوبت یہاں تک آگئی ہے کہ آنے جانے کی باتیں ہو رہی ہیں۔ غضب خدا کا عشروں تک ملک کے ایک حصہ پر اگر ریاستی عمل داری ناپید ہے تو یہ سلامتی  کے اداروں ہی کی ناکامی ہے۔

اس داد و تحسین کی خوب رہی، عاصمہ جہانگیر صاحبہ نے ایک خودساختہ دفاعی تجزیہ کار سے پوچھا کہ صاحب یہ کام کیا کسی پوسٹ مین نے کرنا تھا جو آپ نے کر دیا تو اب داد چاہتے ہیں، آپ کی ڈیوٹی ہے جو آپ نہیں کر رہے تھے۔

اب پھر انہی حالات کا سامنا ہے۔ ملک کی معیشت سنبھل رہی ہے، سماج جمہوری تجربے سے گزر رہا ہے اور سیکھ رہا ہے۔ گزشتہ آمریت میں بلوچستان میں جو بے چینی پھیلی اس میں اب کمی آرہی ہے، ملک کے عمرانی معاہدے یعنی آئین میں سے بیشتر سقم اور آلائشوں کو پاک کیا گیا ہے جس سے گورننس میں بہتری کے آثار نمایاں ہے، بہت سے شعبوں میں قانون سازی ہو رہی ہے۔ ملک سیاسی شعور کی نئی منزلیں طے کر رہا ہے۔ ایسے میں آمریت کی تاریکی میں دھکیلنا دراصل تباہی کی جانب سفر کا آغاز ہوگا۔ لوگ نہیں سمجھتے کہ آمریت کسی مسیحا کی بھی ہو تو معاشروں کو تباہ کر دیتی ہے۔ لیبیا، عراق ہمارے سامنے کی مثالیں ہیں جن میں غور کرنے والوں کے لئے نشانیاں ہیں۔ ایسے میں ہماری تو یہی استدعا ہے کہ آنے جانے کی باتیں ترک کی جائیں۔ اب بس کرنا چاہیے۔

(یہ مضمون اس سے قبل ہم سب میں شائع ہو چکا ہے۔ راقم کی اجازت سے ویب سائٹ پر پوسٹ کیا جا رہا ہے)

(Visited 484 times, 1 visits today)

Malik Omaid is a journalist based in Lahore. He is working as content producer at Dunya News and in the Editorial Board of Pak Tea House. His areas of interests are social and general issues. He can be reached out on Twitter @Omaidus

Leave a Reply

Got It!

اس ویب سائٹ کا مواد بول پلاٹون کی آفیشل رائے کی عکاسی نہیں کرتا. مضامین میں ظاہر معلومات اور خیالات کی ذمہ داری مکمل طور پر اس کے مصنف کی ہے