Here is what others are reading about!

سلٹ

سنی لیون کو جانتے ہیں..؟؟

جانتے ہی ہوں گے لیکن شاید یہ نہیں جانتے کہ اس نے “پنک لپس” گانے پر ڈانس کرنے سے اس لیے انکار کردیا تها کیونکہ چند بچے سامنے سیٹ پر شوٹنگ دیکه رہے تهے۔

“لیکن چهوڑیں جو بهی ہے، ہے تو آخرکار “سلٹ” ہی”

 قندیل بلوچ کو جانتے ہیں..؟؟

جانتے ہی ہوں گے وہی قندیل جس کے متعلق جگہ جگہ پوچها جارہا ہے کہ

قندیل کا قصور کیا تها…؟؟

لوگ بهی کتنے معصوم ہیں اپنی ہی خون آلود قمیض، مقتول کے بدن پر ڈال کر پوچهتے ہیں آخر مرنے والے کا قصور کیا تها۔

میں بتاتا ہوں اس کا قصور کیا تها….!!!

اس کا قصور یہ تها کہ وہ ایسے گهن زدہ معاشرے میں پیدا ہوئی تهی جہاں ماں، بہن، بیٹی کے علاوہ ہر سڑک کنارے چلنے والی عورت “گشتی” ہے۔

اس کا قصور یہ تها کہ وہ وہاں “اڑنے” کی کوشش کررہی تهی جہاں “رینگنے” کا تصور بهی صدیوں پہلے دفن ہوچکا ہے۔

اس کا قصور یہ تها کہ وہ اس غیرت مند سماج کا حصہ تهی جہاں غیرت کا مطلب ہی “ناف” کا نچلا حصہ سمجها جاتا ہے۔

اس کا قصور یہ تها کہ وہ ہر قوی کو ضعیف اور خود کو قوی سمجهنے لگی تهی۔

اس کا قصور یہ تها کہ اصلیت جانتے ہوئے بهی رشتوں کے تقدس کو پامال نہ کرتے ہوئے ہر عید ماں کی گود میں منانے کی متمنی تهی۔

اس کا قصور یہ تها کہ وہ وہاں “سچ” بولنے کی کوشش کررہی تهی جہاں صرف “بولنے” پر گردن اڑا دی جاتی ہے۔

اس کا قصور یہ تها کہ وہ غیرت مند سوسائٹی کے معززین کی توقعات پہ پورا نہیں اتر پارہی تهی۔

اس کا قصور یہ تها کہ وہ اس دیوار سے ٹکرا رہی تهی جس دیوار سے ہزاروں سر ٹکرا ٹکرا کچلے گئے۔

اس کا قصور یہ تها کہ وہ ایسے معاشرے کا حصہ رہی جہاں بڑے بڑے دانشور غیرت کے قصیدوں پہ پل رہے ہیں۔

اس کا قصور یہ تها کہ وہ انجان تهی کہ یہاں جسم اور ضمیر کے علاوہ بهائی بهی بکتے ہیں۔

اس کا قصور یہ تها کہ وہ اس دیس میں خود کو صاف تصور کررہی تهی جہاں ایدهی جیسے لوگوں کی وفات پر بهی خوشیاں منائی جاتی ہیں۔

اس کا قصور یہ تها کہ وہ اس گهناونی سوسائٹی میں خود کو محفوظ سمجه رہی تهی جہاں امجد صابری جیسے نیکو کار بهی بے رحمی سے قتل کردیے جاتے ہیں۔

اس کا قصور یہ تها کہ اس نے وہاں خواب دیکهنے کی کوشش کی جہاں خواب دیکهنے والوں کی آنکهیں نوچ لی جاتی ہیں۔

اس کا قصور یہ تها کہ وہ گدهوں کے خونخوار معاشرے میں “تازہ گوشت” ساته لیے گهومتی تهی۔

اس کا قصور یہ تها کہ وہ کسی سند یافتہ مولوی کی بیعت شدہ مسلمان نہیں تهی۔

اس کا قصور یہ تها کہ وہ مردوں کی انا مجروح کرتے ہوئے ان کی منافقت اٹها کر ان کے منہ پر پٹخ دیتی تهی۔

اور اس کا سب سے بڑا قصور یہ تها کہ وہ اس سماج میں عورت تهی جہاں عورت ہونا ہی سب سے بڑا قصور ہے۔

میرے خیال میں کسی کو قتل کرنے کے لیے اتنے قصور کافی ہے ویسے بهی ہم وہی قوم ہیں جو کسی سلٹ کی زندگی میں تو اس کے ماں، باپ، بهائی، بہن کو بے غیرت کہ کہ کر ان کا جینا حرام کرتے ہیں اور جب کوئی بهائی، باپ غیرت میں آکر قتل کر بیٹهتا ہے تو اس غیرت کو کوسنے شروع ہوجاتے ہیں۔

“لیکن چهوڑیں جو بهی تهی، تهی تو آخرکار “سلٹ” ہی”

(Visited 1,262 times, 1 visits today)

Amir Rahdari is a writer and producer at Geo News based in Lahore. He’s famous for his satirical views and reviews.

Leave a Reply

Got It!

اس ویب سائٹ کا مواد بول پلاٹون کی آفیشل رائے کی عکاسی نہیں کرتا. مضامین میں ظاہر معلومات اور خیالات کی ذمہ داری مکمل طور پر اس کے مصنف کی ہے