Here is what others are reading about!

مزدور

دکان میں داخل ہوتے ہی انہوں نے اونچی ایڑھی والی جوتیوں کے ریک کا رخ کیا. عید کے باعث دکان عورتوں سے کچھا کچھ بھری ہوئی تھی. کافی دیر انتظار کے بعد بھی کسی دکاندار نے انکی جانب دھیان نہ دیا… وجہ نہ جانے رش سے بھری دکان تھی یہ انکے ‘کالے برقعے’… بہرحال مارے بندھے ایک دکاندار ہونٹوں پر مصنوعی مسکراہٹ سجائے انکی جانب آیا اور مطلوبہ جوتا انکو تھما دیا…

پاوں میں جوتا اڑستے ہوئے اس نے ایک تنقیدی نگاہ جوتے پر ڈالی اور پھر تائید کیلئے ‘صوفیہ’ کی جانب دیکھنے لگی صوفیہ : جوتا تو اچھا ہے. خریدا جا سکتا ہے. لینہ : مگر میرے موٹے پیروں میں یہ اتنا خاص نہیں لگ رہا. دکاندار چہرے کی بے زاری چھپاتے ہوئے ہونٹ پھیلا کر بولا “نہیں باجی بہت اچھا لگ رہا ہے” صوفیہ نے دکاندار کو نظر کیا اور اپنا برقہ ہلکا سا اٹھاتے ہوئے بولی “تم موٹے پاوں کی بات کر رہی ہو… میرے پاوں دیکھوں کس قدر گندے لگ رہے ہیں. کوئی جوتا پہننے کے قابل ہی نہیں…” لینہ : پاوں کو چھوڑو یہ ہاتھ دیکھو میرے… اب دکاندار ان کی بے کار گفتگو کے پیش نظر دوبارہ دوسری خوبصورت گاہک لڑکیوں کو ڈیل کرنے لگا… صوفیہ اپنے ہاتھوں کو دیکھتے ہوئے بولی… ” ان ہاتھوں میں کتنی سختی ہے نہ…؟؟؟ کون کہہ سکتا ہے کہ یہ لڑکیوں کے ہاتھ پاوں ہیں. یوں لگ رہا ہے جیسے کسی مرد کے ہوں” لینہ ایک تلخ قہقہا لگا کر بولی.. “لڑکیوں کے…؟؟؟؟ کون لڑکیاں؟؟؟ یہ ہاتھ تو مزدوروں کے ہیں… نہ تمھارے ابا کی شوگر ملز ہیں اور نہ میرا کوئی شوہر جس کی آف شور کمپنیاں ہوں… جو ہم پیسے خرچ کر کوئی ایکسٹرا عیاشی کریں… ہم عورتیں نہیں مزدور ہیں… صبح گھر سے نکلتے ہیں اور شام ڈھلے گھر لوٹتے ہیں… چار پیسے کماتے ہیں تو گھر کا چولھا جلتا ہے اور اپنے عورت ہونے کا بھرم قائم رکھنے کیلئے چہرے پر میک اپ کی دبیز تہ لگا لیتے ہیں اور یہ کپڑے جوتے پہن لیتے ہیں… مگر مزدور کے ہاتھوں میں نہ مہندی رچتی ہے، نہ کوئی زیور جچتا ہے اور نہ ہی پاوں میں کوئی جوتا سجتا ہے…” صوفیہ خالی نظروں سے لینہ کو دیکھنے لگی…

وہ بہت دیر تک اس سچ کا سامنا نہ کر سکی اور کھسیانی ہو کر دکاندار کو آواز دی…

اب دکاندار مردہ دل کے ساتھ خوبصورت لڑکیوں کو چھوڑ کر مزدوروں کے جوتے پیک کرنے لگا…

(Visited 421 times, 1 visits today)

Anila Moin Syed is a freelance writer and a feminist based in Islamabad. Her areas of interests are history, culture, philosophy, religion and social issues. She can be reached out on twitter @anila_moin

Leave a Reply

Got It!

اس ویب سائٹ کا مواد بول پلاٹون کی آفیشل رائے کی عکاسی نہیں کرتا. مضامین میں ظاہر معلومات اور خیالات کی ذمہ داری مکمل طور پر اس کے مصنف کی ہے