Here is what others are reading about!

  • Home
  • /
  • Pakistan
  • /
  • کشمیریوں کا حق خود ارادیت

کشمیریوں کا حق خود ارادیت

جموں کشمیر میں برہان وانی کے ہندوستانی افواج کے ہاتھوں مارے جانے کے بعد ایک بار پھر آزادی کی تحریک نے زور پکڑ لیا ہے. برہان وانی نامی 22 سالہ نوجوان حزب المجاہدین سے منسلک تھا اور وادی کشمیر میں مسلمانوں کی اکثریت کیلئے ایک ہیرو کی حیثیت رکھتا تھا. برہان کی موت کے بعد سے شروع ہونے والے احتجاجی مظاہروں میں اب تک  لگ بھگ 30 افراد اپنی جانیں گنوا بیٹھے ہیں جبکہ سینکڑوں افراد زخمی ہو کر ہسپتالوں میں پڑے ہیں. جموں کشمیر میں بدستور کرفیو نافذ ہے اور حریت کانفرنس کے رہنماوں کو بھی گرفتار کیا جا چکا ہے. اس نئے احتجاجی لہر کی سب سے خاص بات یہ ہے کہ یہ احتجاج جموں و کشمیر کے رہنے والوں نے خود شروع کیا اور پاکستان کی اس میں کوئی مداخلت نہیں. دوسری جانب کشمیریوں کے ساتھ بھارتی افواج اور سیکیورٹی اداروں کے مظالم اور غیر انسانی رویے پر عالمی برادری کی خاموشی بھی  صاف ظاہر کرتی ہے کہ اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی تنظیموں کے ڈبل سٹینڈرڈز ہیں.کشمیر یا فلسطین میں ہونے والے مظالم پر عالمی برادری آنکھیں بند کر لیتی ہے جبکہ پیرس یا کسی اور ترقی یافتہ شہر میں کسی ایک فرد کی جان جانے پر انسانیت اور انسانی حقوق کے نعرے فورا یاد آ جاتے ہیں. یہ متعصب اور کھوکھلا  رویہ دراصل دنیا میں امن کیلئے انتہائی خطرناک ہے.کشمیر دہائیوں سے ایک ایسی آگ نیں جل رہا ہے جس کو بجھانے کیلئے کسی عالمی قوت یا ادارے نے اپنے فرائض سرانجام نہیں دئیے. مقبوضہ کشمیر کے حالات پچھلی 6 دہائیوں سے مرہم کے متقاضی ہیں لیکن انسانیت کے نعرے مارنے والی اقوام اور ادارے چارہ گری کے بجائے آنکھیں بند رکھنے میں اپنی عافیت سمجھتے ہیں.کشمیر خصوصا سرینگر اور ٹال کے علاقوں میں شاید ہی کوئی ایسا گھر ہو جہاں کسی نوجوان کی لاش نہ آئی ہو یا کسی بچی کو زیادتی کا نشانہ نہ بنایا گیا ہو. برہان وانی بھی ٹال سے تعلق رکھتا تھا یہ علاقہ کشمیر کے جنوب میں آتا ہے اور اس علاقے میں ہر گھر سے کوئی نہ کوئی بچہ آزادی کی لڑائی میں جان کی بازی ہار چکا ہے. برہان وانی ایک ذہین طالبعلم تھا اور ایک سکول پرنسپل کا بیٹا. 2010 تک برہان ایک عام کشمیری شہری کی طرح بھارتی ظلم و ستم برداشت کرتے ہوئے زندگی میں آگے بڑھ رہا تھا لیکن اسی سال اس کے بھائی کو سیکیورٹی ایجینسیوں نے شدید تشدد کا نشانہ بنایہ اور اس کے بھائی پر مختلف آزادی کی لڑائی لڑنے والی تنظیموں سے تعلق اور ان کے لیئے نوجوانوں کو بھرتی کرنا جیسے سنگین الزام لگا کر اندر کر دیس.برہان نے جواب میں اسلحہ اٹھایا اور آزادی کی لڑائی میں شامل ہو گیا.یہ صرف برہان کی کہانی نہیں ہے کشمیر کے ہر نوجوان کی کہانی ہے جو اسلحہ اٹھانے پر مجبور ہوتا ہے. کسی کی بہن کے ساتھ زیادتی کسی کے بھائی ماں یا باپ کے ساتھ ناانصافی ان نوجوانوں کو اپنا روشن مستقبل تیاگ کر آزادی کی لڑائی لڑنے پر مجبور کرتی ہے. حیرت کی بات یہ ہے کہ پاکستان میں موجود انسانی حقوق کے چیمپین افراد اور تنظیموں کو بالکل توفیق نہ ہوئی کہ بھارتی مظالم اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پر کوئی لفظ بھی منہ سے نکالتے. پیرس استنبول اور ڈھاکہ میں دہشت گردی کو دیکھ کر نام نہاد انسانی حقوق کے چیمپیئن افراد اور تنظیمیوں نے یہاں پاکستان میں چیخ چیخ کر سر آسمان پر اٹھا لیا تھا کہ یہ حیوانیت ہے اور داعش کو ختم کر دینا چاھیے. لیکن کشمیر میں نہتے افراد پر بھارتی مظالم دوارے یہ تمام لوگ اور ادارے خاموش بیٹھے ہیں جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ صرف “مالی حقوق” کے قائل ہیں اور وہ بھی صرف اپنے. پاکستانی حکومت کی جانب سے بھی اس جارحیت اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی پر کوئی ٹھوس اقدام سامنے نہیں آیا. حالانکہ سفارتی سطح پر اس وقت دنیا کی توجہ کشمیر کی جانب مبذول کروانے کی ازحد ضرورت ہے. مسلم امہ بھی اس موقع پر ستو پی کر سوتی دکھائی دینیہ مسلم امہ کا ذکر شاید کتابوں اور کہانیوں تک ہی محدود ہے کیونکہ ہم نے اپنی زندگی میں کبھی بھی مسلم ممالک کو کسی بھی مسئلے ہر متحد نہیں دیکھا.  دوسری جانب ہندوستان اس مسئلے کو زور زبردستی حل کرنے کی کوشش مدتوں سے کر رہا ہے لیکن تمام تر ریاستی جبر کے باوجود نہ تو کشمیریوں کے جزبہ آزادی کو ختم کر سکا اور نہ ہی مزاحمت کو.مقبوضہ کشمیر اس وقت دنیا میں ریاستی جبر کا شکار سب سے بڑا خطہ ہے اور اس خطے میں موجود بھارتی فوج دنیا میں کسی بھی آزادی کی تحریک کو کچلنے کیلئے تعداد میں سب سے زیادہ ہے.  پہلے ہندوستان کشمیریوں کی مزاحمت کو پاکستانی مداخلت کا نام دے کر مسئلہ کشمیر کو دباتا رہا لیکن اب برہان ونی کی موت اور اس کے بعد  کشمیریوں کے ردعمل نے ثابت کر دیا کہ یہ لڑائی کشمیریوں کی ہے . یقینا جنگ یا ہتھیار اٹھانے سے یہ مسئلہ حل نہیں ہو گا.لیکن اقوام متحدہ کی ایک منظور شدہ قرارداد جو دہائیوں قبل منظور کی گئی تھی وہ آج بھی موجود ہے جس کے مطابق کشمیریوں کو استصواب رائے کا حق دیا جائے گا کہ وہ بھارت کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں یا پاکستان کے ساتھ الحاق چاہتے ہیں یا پھر ایک خود مختار ریاست کے طور پر دونوں ممالک سے الگ ہو کر اپنے جداگانہ تشخص کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں. اس قرارداد میں پورے کشمیر کا ذکر ہے یعنی وہ کشمیر جسے ہم آزاد کشمیر کہتے ہیں اور جو پاکستان کے زیر تسلط آتا ہے وہاں بھی استصواب رائے کروانے کا کہا گیا.اس قرارداد پر عمل در آمد کچھ یوں نہ ہو سکا کہ پہلے پاک بھارت جنگیں پھر عالمی سرد جنگ اور دہشت گردی کے عفریت نے حالات یکسر تبدیل کر دئیے. دوسری جانب پاکستان بھی کشمیر جو کہ اس کے زیر تسلط ہے وہاں استصواب رائے سے ہچکچاتا رہا اور ضیا دور اور 90 کی دہائی میں باقاعدہ جہادی تنظیموں کے ذریعے کشمیر میں مداخلت کرتا رہا جس کا سفارتی فائدہ ہندوستان نے خوب اٹھایا.خیر پاکستان نے ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھتے ہوئے کشمیر میں کافی حد تک مداخلت ختم کر دی اور سفارتی سطح پر مسئلے کے حل کیلئے کاوشیں جاری رکھیں جس کا فائدہ یقینا کشمیر کی تحریک آزادی اور پاکستان دونوں کو ہوا.اب ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان اور بھارت دونوں ایک ایک قدم پیچھے اٹھیں اور کشمیر میں ریفڑنڈم ہونے دیں.اس مقصد کیلئے اقوام متحدہ کی فوج پاکستان اور ہندوستان کے زیر تسلط کشمیر کے علاقے میں اتار کر ریفرنڈم کروا کر کشمیریوں کی رائے لی جا سکتی ہے. اگر انگلستان سکاٹ لینڈ کو انگلستان سے علحدگی کیلئے رائے استعمال کرنے کا موقع دے سکتا ہے تو پھر پاکستان اور بھارت کو بھی اس پر کسی قسم کی پریشانی نہیں ہونی چائیے.  کشمیر میں بسنے والے تمام کشمیری خواہ وہ کسی بھی مذہب یا فرقے سے تعلق رکھتے ہوں انہیں حق خود ارادیت ملنا چائیے اور استصواب رائے واحد آپشن ہے جو بنا خون بہائے اس مسئلے کا حل نکال سکتا ہے.لیکن اس کے لیئے عالمی برادری کا تعاون اور گارنٹی درکار ہے اور ساتھ میں بھارتی مظالم فی الفور روکنے کی اشد ضرورت ہے.بصورت دیگر برہان جیسے نوجوان تو دہائیوں سے اپنی جانیں لٹاتے آ رہے ہیں اور لٹاتے رہیں گے اور وادی کشمیر اسی طرح خون میں سرخ رہے گی. کشمیریوں کی نسلوں نے آزادی کی خاطر قربانیاں دیں ہیں اور یہ اب کشمیریوں کیلئے ممکن ہی نہیں کہ وہ حبس و جبر کی فضا میں چپ چاپ گھٹ کر مر جائیں. کشمیری کیا چاہتے ہیں اور کس حیثیت میں رہنا چاہتے ہیں یہ فیصلہ کشمیریوں کو خود کرنا ہے اور اس فیصلے کو جبر سے تاخیر کا شکار تو کیا جا سکتا ہے لیکن اس فیصلے کی خواہش کو دبایا یا مارا نہیں جا سکتا.

(Visited 569 times, 1 visits today)

Imad Zafar is a journalist based in Lahore. He is a regular Columnist/Commentator at Daily Ittehad, Resident Editor at Free Press Publications and Resident Editor at World Free Press. He is associated with TV channels, Radio, news papers,news agencies political, policies and media related think tanks and International NGOs.

Leave a Reply

Got It!

اس ویب سائٹ کا مواد بول پلاٹون کی آفیشل رائے کی عکاسی نہیں کرتا. مضامین میں ظاہر معلومات اور خیالات کی ذمہ داری مکمل طور پر اس کے مصنف کی ہے