Here is what others are reading about!

ہم اور ہمارے حالات

قرآنِ کریم علم وحکمت سے بھرپور خداتعالیٰ کا کلام ہے۔قرآن کریم کا ایک نام قرآنِ حکیم بھی ہے۔إس کا ایک ایک لفظ اور شعشہ حکمت سے معمور ہے۔قرآن کریم ایک عالم الغیب خدا کی طرف سے نازل کیا گیا ہے۔إس میں نہ صرف انسانی تاریخ کے مختلف واقعات بھی بیان کیے گئے ہیں بلکہ قیامت تک کیلئے پیشگوئیاں بھی ہیں۔ قرآنِ کریم کوئی قصّے کہانیوں کی کتاب نہیں جسے چسکےکی خاطر پڑھا جائے بلکہ مختلف واقعات کے بیان کرنے میں بیشمار نصیحتیں او ر حکمتیں اور نصیحتیں ہیں۔آئندہ آنے والی نسلوں کے لئے خاص طور پر مسلمانوں کےلئے کہ مختلف قسم کے حالات میں کس قسم کا رویہ اختیار کرنا چاہیے اور إن سب کا خلاصہ عملی طور پر حضرت محمد ﷺ کے ذریعہ دنیا کو دکھا دیا گیا ہے۔ہر قسم کے حالات آپ پر گذرے اور مومنوں کیلئے یہ عملی نمونہ قیامت تک کیلئے ایک ماڈل کے طور پر پیش کردیا گیا ہےکہ جس قسم کے بھی حالات آئندہ آئیں دیکھنا کہ خدا کے إس رسولﷺ پر بھی آئے تھے تو آپکا نمونہ اختیار کرنا۔یہ تمھاری کامیابی کی ضمانت ہوگا۔

پاکستان آجکل جن حالات سے گذر رہا ہے وہ ہر درد مند پاکستانی کے لئے قابلِ تشویش ہیں۔بدقسمتی سے ملک کی فضا اتنی جذباتی اور ہنگامہ پرور ہوچکی ہے کی کوئی عقل ودانش کی بات کرنا جوئے شِیر لانے سے کم نہیں۔إس فضا میں عقل و دانش کا استعمال ممنوع قرار پاچکا ہے۔وقتی اور ہنگامی جوش کے تحت ایک اُبال اٹھ کر بیٹھ جاتا ہے اور ہم اپنے ہموطنوں کی جائیدادوں اور جانوں کو تباہ کرکے سمجھتے ہیں کہ ہم نے ایک بڑا کارنامہ انجام دے دیا ہے۔مختلف حالات سے ملک اور قوم جن سے گذر رہی ہے اُسمیں بظاہر سر فہرست بڑی طاقتوں سے معاملات طے کرنے کا مسئلہ بھی ہے۔ہر کوئی اُٹھ کر بڑی طاقتوں خاص طور پر امریکہ کو للکارنا شروع کردیتا ہے۔اب یہ معمول کی بات بن چکی ہے کہ امریکہ کو مزا چکھایا جائے۔عوام الناس کا تو ذکر کیا لیڈر صاحبان اور دانشور حضرات بھی إس قسم کی باتیں اور  تبصرے کررہے ہیں کہ جیسے امریکہ کو شکست دینا تو بس ایک عام سی بات ہے اور اب تو یہ کام پاکستانی قوم کو کر ہی دینا چاہئے۔إن تمام حالات دیکھ کر مجھے قرآنِ کریم میں بیان کردہ ایک واقعہ یاد آرہاہے جس سے شائد پاکستانی قوم اور اُسکے لیڈر صاحبان اور دانشور حضرات سبق سیکھ سکیں۔

قرآنِ کریم ایک غیر معمولی صلاحیتوں کی مالک ایک ملکہ کا تذکرہ کرتا ہے جو مُلک سباء کی ملکہ تھی جب حضرت سلیمان علیہ السلام نے ملکہ کو خط لکھا اور اپنے دربار میں حاضر ہونے کا حکم دیا تو قرآنِ کریم کے مطابق ملکہ نے یہ خط اپنے سرداروں کے سامنے پیش کیا اور کہا کہ اے سردارو! مجھے میرے معاملہ میں مشورہ دوـمیں کوئی اہم فیصلہ نہیں کرتی مگر إس وقت جب تم میرے پاس موجود ہو۔إنھوں نے کہا کہ ہم بڑے طاقتور لوگ ہیں اور سخت جنگجو ہیں دراصل فیصلہ کرنا تیرا ہی کام ہے۔پس تو خود ہی غور کرے کہ تجھے ہمیں کیا حکم دینا چاہیے۔اُس نے کہا ’’یقیناً جب بادشاہ کسی بستی میں داخل ہوتے ہیں تو إس میں فساد برپا کردیتے ہیں اور إس کے باشندوں میں سے معزز لوگوں کو ذلیل کردیتے ہیں اور وہ إسی طرح کیا کرتے ہیں‘‘،سورۃ النمل آیت 35 تا33۔

إن آیات کے مطالعہ سے مندرجہ ذیل باتوں کا پتہ چلتا ہے۔

1۔ملکہ ہر اہم معاملہ میں اپنے مشیروں اور سرداروں سے مشورہ کرنے کی قائل تھی،إس میں پاکستانی لیڈروں کے لئے اہم سبق ہے۔

2۔سرداروں نے اپنے  طاقتور اورجنگجو  ہونے کا تذکرہ کیا ،إس میں پاکستانی قوم کیلئے ایک بہت ہی اہم سبق ہے۔إسی طرح کا اظہار افغان قوم بھی کرچکی ہےاوربدقسمتی سے یہ فیصلہ افغانستان کو تباہ کرنے کا موجب بنا۔دوکروڑ کی آبادی میں سے چالیس سے پچاس لاکھ ملک کو چھوڑ چکے ہیں۔30۔25 لاکھ موت کا شکار ہوچکے ہیں اور نامعلوم کتنے ایسے زخمی ہیں جو اپنی فیملی یا معاشرے کیلئے بوجھ بن چکے ہیں۔’’ہے کوئی جو إس سے سبق سیکھے‘‘؟

3۔باوجود اپنے طاقتور اور جنگجو ہونے کے إنہوں نے اپنی ملکہ کو فیصلہ کا اختیار دیا۔یہ اُنکی اطاعت اور وفا کا کمال تھا جو اللہ تعالیٰ نے قرآن میں ریکارڈ کیا ہے۔

4۔ملکہ،لگتا ہے کہ نہ صرف انتہائی دانشور خاتون تھی بلکہ اللہ تعالیٰ نے اُسے علم وحکمت سے بھی نوازا تھا۔إس کا اظہار قرآنِ کریم کی اگلی آیت میں بیان کیا گیا ہے۔ملکہ نے بغیر اپنے فیصلے کا اعلان کئے سرداروں  کے مشورہ پر علم و حکمت سے بھر پور ایک تبصرہ کیا جو خود خدا تعالیٰ کو اتنا پسند آیا کہ اُسے قیامت تک کیلئے آئندہ نسلوں کیلئے محفوظ کردیا۔ملکہ نے کہا ،’’ ’’یقیناً جب بادشاہ کسی بستی میں داخل ہوتے ہیں تو إس میں فساد برپا کردیتے ہیں اور إس کے باشندوں میں سے معزز لوگوں کو ذلیل کردیتے ہیں اور وہ إسی طرح کیا کرتے ہیں‘‘۔ملکہ کے إن فقروں میں بہت سی حکمتیں پوشیدہ ہیں لیکن إس سے پہلے میں ملکہ آف سباء کی تین اور خصوصیات کا تذکرہ کرنا چاہوں گا ۔

پہل تو یہ کہ ملکہ کی تاریخ پر گہری نظر تھی جو اُسکے إس فقرے سے ظاہر ہے کہ’’جب بادشاہ کسی بستی میں داخل ہوتے ہیں تو۔۔۔۔۔‘‘ـ

دوسری خصوصیت یہ لگتی ہے کہ وہ ایک انصاف پسند حکمران تھی، إس کا اظہار اوپر بیان کئے گئے فقرے سے ہی ہو رہا ہے۔ملکہ نے یہ نہیں کہا کہ سلیمان(علیہ السلام) یہ کرے گا بلکہ تاریخ کا عمومی اصول بیان کیا جس سے نہ صرف اُسکی انصاف پسند طبیعت کا پتہ چلتا ہے بلکہ محتاط رویّے کا بھی۔کاش حکمرانی کی یہ خصوصیت جو ایک مشرک قوم کی مُشرک ملکہ میں تھیں،مسلمان اقوام کے مومن حکمرانوں میں بھی ہوں۔میں قرآنی زبان میں یہی کہہ سکتا ہوں،’’ وَلَقَدْ یَسَّرْناَ الْقُرْآن الذِکْرَ اور ہم نے قرآن کو نصیحت کی خاطر آسان بنا دیا، فَھَلْ مِنْ مُدّکِرْ، پس ہے کوئی نصیحت پکڑنے والا ؟ (سورۃ القمر آیت 18)

ملکہ سباء کے تذکرے کی طرف واپس آتے ہوئے ملکہ نے پہلے تو ایک تحفہ بھیج کر حضرت سلیمان علیہ السلام  کو راضی کرنے کی کوشش کی اور جب بات نہیں بنی تو حضرت سلیمان علیہ السلام کی بات کو اپنی انا اور عزت کا مسئلہ نہ بنا کر نہ صرف اپنے ملک کو بچا لیا بلکہ اپنی حکمرانی کو بھی اورہر صورت میں حضرت سلیمان علیہ السلام سے براہِ راست  ٹکر لینے سے بچنے کی کوشش کی کیونکہ اُسے علم تھا کہ وہ حضرت سلیمان علیہ السلام کی طاقت کا مقابلہ نہیں کرسکتی۔

5۔ہوسکتا ہے کہ کوئی پھر بھی اصرار کرے کہ پاکستان کو امریکہ سے ٹکر لے ہی لینی چاہیے جیسے بعض  لیڈر صاحبان خاص طور پر مذہبی رہنما  نہ صرف اسکا اظہار کررہے ہیں بلکہ بعض عملی اقدامات کرنے پر تُلے ہوئے ہیں۔میں اُن تمام حضرات اور قوم کی خاطر امریکہ اور پاکستان کی فوجی طاقت کا مختصر موازنہ پیش کررہا ہوں۔

إسکا مطالعہ ہی انسان کو یہ سمجھا نے کیلئے کافی ہے کہ امریکہ اور پاکستان کی مثال ایک ہاتھی اور چیونٹی کی سی ہے پھر بھی اگر بعض لیڈر صاحبان إس پر تُلے ہوئے ہیں یا بعض حضرات شاید یہ کہیں کہ ’’ مومن ہے تو بے تیغ بھی لڑتا ہے سپاہی‘‘

 تومیں یہی کہہ سکتا ہوں کہ إس بات کی تسلّی کرلیں کہ خدا تعالیٰ کی نظر میں کیا آپ واقعی مومن ہیں؟اگر آپ سمجھتے ہیں کہ ایسا  ہی ہے تو بسم اللہ ضرور قدم اُٹھائیے لیکن ایک دفعہ اپنی قوم اور معاشرے کی طرف بھی دوڑالیں۔ ہر وہ گناہ اور نافرمانی جو پچھلی قوموں نے اپنے انبیاء کے زمانے میں کیں وہ سب آج پاکستانی قوم میں موجود ہیں۔ایسا نہ ہو کہ کہیں خدا کی نظر میں آپ ایک مجرم قوم بن چکے ہوں اور إس بہانے اللہ تعالیٰ کی بھی یہی ہو کہ آپ امریکہ کے خلاف کوئی ایسا قدم اُٹھائیں اور خدا تعالیٰ کی صفتِ منتقم آپکو اپنی گرفت میں لے کر آئندہ آنے والی نسلوں کیلئے عبرت کا نشان بنا دے۔ ’’پس ہے کوئی نصیحت حاصل کرنے والا‘‘

(Visited 599 times, 1 visits today)

A.R.Malik is a freelance writer based in London. He casually writes on minority and social issues.

2 Comments

  • afzaalrabbani@yahoo.com'

    Afzal Rabbani

    July 19, 2016 at 7:37 am

    For creation of Pakistan hundred of thousands of Muslims lost their lives. It is highly regretful that we have wasted the sacrifices of our forefathers. I wish if our rulers and elites tries to reform our nation & show them the right path. But this is not possible unless they reform themselves first. The difference between Quaid-e-Azam & current leaders is so wide that I wish & pray that Allah bestow us a leader like Quaid-e-Azam, who unites us once again under one banner.

    Reply

Leave a Reply

Got It!

اس ویب سائٹ کا مواد بول پلاٹون کی آفیشل رائے کی عکاسی نہیں کرتا. مضامین میں ظاہر معلومات اور خیالات کی ذمہ داری مکمل طور پر اس کے مصنف کی ہے