Here is what others are reading about!

بغاوت

اس نے معاشرے کی بنائی ہوئی ان روایات سے ٹکر لی جو کسی سیسہ پلائی دیوار سے کم نہ تھی،،، وہ جس تیزی سے آئی اسی تیزی سے نکل گئی لیکن ہمیشہ یاد رکھی جائے گی لیکن ٹھہرئیے؟؟ کن الفاظ مین اسے یاد رکھا جائے گا؟ بے حیا! بے شرم! باغی، بلیک میلر؟سستی شہرت کی بھوکی بری عورت۔۔۔ یا پھر اس سے بھی کچھ زیادہ ؟یہ تو اسے زندگی میں بھی کہا جاتا تھا پر اسے کسی کی پرواہ کب تھی؟ وہ اچھی تھی یا بری یہ بحث اب تمام ہوئی ، اس نے کیا کیالیکن اتنا ضرور ہے کہ وہ ٹھان چکی تھی کہ وہ بغاوت کرے گی ہر اس روایت سے جو اس کو وہ کرنے سے روکے جو وہ کرنا چاہتی ہے۔ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ قندیل کو کسی کی پرواہ تھی کب؟ لیکن جب اس کا اصل نام سامنے آیا تو میں بے ساختہ ہنسنے پر مجبور ہوگئی۔ کیونکہ اس نے اپنی اصل شناخت کو چھپاکر نیا نام، نیا چہرہ، نیا کردار سجایا تھا اور یہ اسی وقت ہوتا ہے جب آپ کو کسی نہ کسی کی پرواہ ہو اور یہی کسی بھی انسان کی کمزوری ہوتی ہے۔ یہ کہنا کہ وہ نڈر تھی اور اسے کسی کی عزت کا خیال نہ تھا، میرے نزدیک درست نہیں اگر ایسا ہوتا تو وہ اپنے اصل نام اور شناخت کی ساتھ ہی اس دلدل میں اترتی جس میں اسے دھکیلا گیا تھا۔ 

 اس کی موت کا سبب  غیرت کے نام پر قتل نہیں۔ کیو نکہ اگر یہ قتل غیرت کے نام پر ہوتا تو یہ بہت پہلے جاگتی اور جب جب وہ اپنے پیاروں کے پیٹ اور جیب بھرنے کے لئے مٹھی گرم کرتی تو لہو اسی وقت گرم ہوتا کہ آخر یہ دھن برس کیسے رہا ہے۔ قندیل کی موت کا اعتراف اس کے چھوٹے بھائی نے کرلیا اور دلیل بھی دی کہ مفتی قوی کے ساتھ سیلفیوں کا معاملہ اور سوشل میڈیا پر جاری ہوانے والی آخری ہوشربا ویڈیو نے اس کی غیرت کو جھنجوڑا اور اس نے اسے جہنم وصل کردیا، لیکن یہاں پر سوال پھر وہی کہ وسیم کو جس قندیل نے کاروبار شروع کروایا اور بھائیوں کی ذمہ داریاں جب اس کے کمزور کاندھوں پر آئیں تب بھائی کی غیرت کہاں تھی؟

قندیل کے موت میں وہ چہرہ بھی ملوث ہے جو ابھی سامنے نہیں آیا،،، وہ بیباک سب کر گزرنے کی ہمت رکھتی تھی، لوگوں سے ملنا اور تعلق قائم کرنا اس کے بائیں ہاتھ کا کھیل تھا اسی خوبی کو ان لوگوں نے استعمال کیا جو اس کے زریعے معاشرے میں غیرتمند اور عزت داری کے دعوی کرنے والوں کو بے نقاب کرسکیں۔ مفتی قوی کا گو کہ کردار اہم ہے لیکن اتنا بڑا بھی نام نہیں جتنا میڈیا میں بنادیا گیا وہ تو پہلے ہی شہرت حاصل کرنے کے لئے عجیب و غریب بیانات اور متنازع فتووں پر موضوع بحث بن چکے تھے۔ لیکن قندیل کے ہاتھوں تو ابھی تو وہ لوگ بے نقاب ہونے تھے جن کو عزت دار کہا جاتا ہے۔ اس لئے یہ قتل کردیا گیا، اگر یہ کہا جائے کہ یہ قتل غیرت کے نام پر نہیں اپنی عزت بچانے کے لئے کرایا گیا تو غلط نہ ہوگا۔ کیونکہ وہ نام جو ظاہر نہیں ہوئے ان کو محسوس ہوچکا تھا کہ جب عبد القوی کو عوام کی عدالت میں کھڑا کیا جاسکتا ہے تو ان کی باری بھی جلد ہی آنے والی ہے۔ قندیل آگ سے کھیل رہی تھی اور اس کا انجام عموما برا ہی ہوتا ہے لیکن وہ لوگ جو اس لڑکی کو ایسا کچھ کرتا دیکھ رہے تھے وہ تو اس ملک میں بہت سی عورتیں کر رہی ہیں۔ بس فرق صرف اتنا ہے کہ ایسی عورت آپ کے پاس سے گزر جائے تو معلوم بھی نہیں ہوتا لیکن جب قندیل آ ٓئے تو ہر طرف چرچا ہوجاتا تھا۔ اس کی موت ایک معمہ ہے اسے حل کرنے کے بجائے پولیس کا ابتدائی طور پر یہ بیان دیکر فائل بند کرنے کا انداز کہ یہ واقعہ غیرت کے نام پر قتل ہے کئی اور شکوک و شبہات کو جنم دے گیا۔ یہ بات سمجھ لیجئیے کہ وہ کوئی عام عورت نہیں تھی ۔ اگر کوئی عام عورت ہوتی تو میڈیا پر اسے دن رات صبح شام ائیر ٹائم نہ دیا جاتا۔ یہ احسان ہے اس عورت کا جس کی وجہ سے دو دوٹکے کے شوز بھی ریٹنگ لینے لگے، وہ پروگرام جو شروع ہوتے ہی لوگ چینل بدل دیتے تھے قندیل کا چہرہ دیکھتے ہی لوگ رک جاتے تھے۔ اس نے تو جاتے جاتے کئی چینلز کے کئی شوز کی تو کئی ااینکرز کی جنھیں صحافت کی الف ب کا نہیں معلوم ریٹنگ بڑھادی اور ان ہی لوگوں نے اسے غیرت کی موت قرار دیکر یہ باب بند کرنے کی کوشش کی اس چہرے کو بچانے کے لئے جس کا بے نقاب ہونا ابھی باقی تھا۔

قندیل اپنے کئیے اور کہے کی ذمہ دار خود تھی، ایک کھلی کتاب کی مانند۔ جو اپنے وجود کو ہر روز نت نئے انداز سے سجا بنا کر سب سے پوچھا کرتی تھی کہ میں کیسی لگ رہی ہوں؟ مطلب اس کے نزدیک سوال اہم ہے چاہے اس کا جواب کچھ بھی ہو؟ کوئی جواب دیتا کہ تمہارا مر جانا بہتر ہے؟ تم کتنے پیسے لوگی؟ تم کتنی بیہودہ ہو؟ تمیں شرم نہیں آتی؟ کہاں کی پیداوار ہو؟ تمہارے کوئی ماں باپ بھی ہیں؟ یہ وہ جواب ہوتے تھے جو اس کے سوال پر آتے وہ ہر جواب کو پڑھتی چاہے وہ انسٹاگرام ہو یا ٹوئٹر یا پھر فیس بک کوئی کمنٹس اس نے آج تک ڈیلیٹ نہیں کیا۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ اس کے لئے اس کے سوال کا جواب اہم ہے۔ تو اس کے مر جانے کے بعد وہ تمام اینکرز جو اس کے انداز اور کردار پر روز سوالات کی بوچھاڑ کرتے تھے آج کیوں خاموش ہیں؟ اس کی موت کی رات ہر شو نے یہ موضوع رکھا کہ غیرت کے نام پر کتنی قندیلیں بجھتی رہیں گی؟ صاحب جاگئے، تھوڑا دماغ چلائیں تھوڑی غیرت کیجئے جو آپ کے پاس ہی تو سب سے زیادہ ہے باقی سب تو اس سے مبرا ہیں کیونکہ ہم تو غیرتمند معاشرے کے سفیر ہیں، خود کو ٹٹولیں کہ ہم اصل حقائق سے منہ کیوں موڑ رہے ہیں؟ اصل سوالات کو کیوں نہیں اٹھا رہے؟ اصل کہانی کی کھوج میں کیوں نہیں ہیں؟ 

 کچھ لوگوں کا کہنا تھا کہ وہ یہ سب بھارتی رئیلیٹی شو بگ باس میں جانے کے لئے کر رہی تھی، جب کہ میرے نزدیک بگ باس تو وہ اپنی زات میں خود بن چکی تھی ۔جس کو چاہتی انگلیوں پر نچاتی، جس کا چاہتی نقاب اتار دیتی، اس کو جب بھی کٹہرے میں کھڑا کیا جاتا وہ کھڑی ہوتی اور اطمینان سے اعتراف جرم کرتی۔ وہ جو کرنا چاہتی ،کرتی جاتی جو بنتی وہ سب کو دکھاتی اس نے کچھ نہیں چھپایا کوئی غلط بیانی نہ کی۔ لیکن وہ اس دن کمزور پڑی جب بھوکے میڈیا کا پیٹ بھر نہیں رہا تھا، اور بلیٹن کے رن ڈاون میں پانچ سے دس منٹ کا سلاٹ خالی جارہا تھا تو کوئی یہ خبر لایا کہ قندیل کا نکاح نامہ مل گیا ہے اس کا ایک بچہ بھی ہے ارے وہ تو شادی شدہ نکلی، یہ دیکھو اس کی تصاویر جو وہ آنچل سر پر پھیلائے عصمت کی دیوی بنی کسی کی غیرت دکھائی دے رہی تھی۔ تب میڈیا کو منجن ملا جو بیچنے کی خوب تیاری ہوئی اور قندیل نے آکر کہا ہاں یہ سب درست ہے کچھ غلط نہیں۔ پہلے اس کا اصل نام، پھر پاسپورٹ، پھر نکاح نامہ، پھر اس کا ماضی یہ سب میڈیا کے لئے بھلے نیا ہو میڈیا یہ جاننا چاہتا ہی نہین تھا کہ اس نے اپنی شناخت کیوں چھپائی؟ وہ اس مقام تک کیسے آئی؟ لیکن قندیل کے لئے تو یہ سب نیا نہ تھا اس کے لئے تو یہ کافی تھا کہ وہ ایک ایسی دنیا چھوڑ چکی جہاں روایات اس سے زیادہ مضبوط تھیں لیکن عورت کمزور، رشتے طاقتور تھے لیکن پیسوں کے سامنے کمزور، جہاں مفلسی بڑی تھی اور خواہشات چھوٹی۔ اس نے ہمت کی بغاوت کی اس معاشرے سے جہاں لڑکی بھلے آج پڑھ  لکھ جائے لیکن شادی کے وقت اس کی مرضی سے زیادہ والدین کی زبان اہمیت رکھتی ہے، اس معاشرے میں جہاں 42 درجہ حرارت میں بھی عورت کو سورج کا قہر برقع ، اسکارف، چادر، یا ڈھائی میٹر کا دوپٹہ لپیٹ کر سہنا پڑتا ہے وہ سب کے سامنے اپنا دوپٹہ اتار کر پسینہ نہیں پونچھ سکتی کیو نکہ اس پر ہزاروں لوگوں کی بھوکی نظریں لگی ہوتی ہیں ، اس معاشرے میں جہاں لڑکی جب گھر سے باہر نکلے تو اس کا جائزہ گھر والے لیتے ہیں کہ کوئی ان کی بیٹی پر آواز نہ کس دے ، اس معاشرے میں جہاں گھر سے باہر کھیلنے والے ہم عمر بچوں میں سب سے پہلے لڑکی کو یہ کہہ کر کھیلنے پر پابندی لگائی جاتی ہے کہ اب تم بڑی ہورہی ہو باہر دوڑو بھاگو نہیں، اس معاشرے میں جہاں لڑکی آج بھی خاندان کے بڑوں یا سماج کے سامنے اپنے پسندیدہ ہیرو کا نام نہیں لے سکتی اس معاشرے میں جہاں گھر میں لوڈ شیڈنگ ہو اور دم گھٹنے لگے تو کوئی عورت اکیلے پارک میں نہین بیٹھ سکتی کیوں کہ ایسا کرنے سے اس کا کردار مشکوک ہوسکتا ہے۔ اس معاشرے میں جہاں چھوٹی سی بچی کو درندے اپنی ہوس کا نشانہ بنائیں تو لاش ملنے پر والدین خاموش ہوجاتے ہیں کہ اب عزت کیا رہ گئی، اس معاشرے میں جہاں رات بھر مرد عیاشی کریں، قندیل جیسی بیباک لڑکی کی ویڈیوز دیکھیں، تصاویر پر کمنٹس کریں اور صبح بہن جب پڑھنے یا نوکری پر نکلے تو یہ اعتراض اٹھائیں کہ یہ دوپٹہ سر پر صحیح طرح نہیں اوڑھ رہی سمجھا لو اس کو ورنہ میں اسے ٹھیک کر دوں گا۔ لیکن جب فوزیہ نے ٹھانی کہ وہ ٹکر لے گی اس معاشرے سے تو اسے بغاوت سے قبل کسی نے کہا کہ پگلی کیا کرنے جارہی ہے باپ کا نام تیرا نام لوگ جانتے ہیں کیا کہے گی دنیا؟ کیوں جہنم بنارہی ہے زندگی؟ تو اس کا جواب تھا کہ نام بھی تبدیل، کام بھی تبدیل یہ وعدہ ہے کہ جب جب گھر آونگی تو فوزیہ بن کر آونگی اور جب گھر کی دہلیز پار ہوگی قندیل سے جانی جاونگی۔

   جس نعش کی تصویر نشر ہوئی اس کو کوئی غور سے دیکھے یہ وہ پلنگ نہیں جس پر وہ لیٹ کر روز جلوہ افروز ہوتی تھی اور سیلفی اسٹک کے زریعے ویڈیوز بنا کر اپ لوڈ کرتی اور اپنی باتوں سے سب کو محظوظ کرتی تھی،یہ تو ایک چارپائی ہے جس پر ایک لڑکی کا وجود بے جان پڑاہے جس کے تن پر سستے سے کپڑے ہیں، وہ قندیل تھوڑی ہے وہ تو فوزیہ ہے گھر پر آئی فوزیہ جس کو آخری سفر پر رخصت کرتے وقت عورتوں نے ہاتھوں پیروں پر مہندی لگائی، ماں نے کئی کئی بار چوما اور پھر بھیج دیا۔ اس کا یہ سوال کیسی لگ رہی ہوں میں؟ کیا کانوں میں گونجتا ہوا نہیں محسوس ہوا جب بے جان وجود کو چارپائی پر پڑا ہوا پایا گیا؟ نہیں یہ ان لوگوں کو سنائی نہیں دیا کیونکہ وہ تو اسے کسی اور ہی رنگ ڈھنگ میں دیکھنے کے عادی تھے۔ یہ سوال اس کی ماں کو سنائی دیا ہوگا کہ ماں کیسی لگ رہی ہوں میں؟ تب ہی وہ ماں بار بار ہاتھ چوم کر اس کے سوال کا جواب دیتی ہوگی اور یہ وہ جواب ہے جو کسی فیس بک،کسی انسٹاگرام اور ٹو ¾ٹر کی پوسٹ پر نہ تو نظر آسکتا ہے نہ سنائی دے سکتا ہے۔

  قتل کرنے والے نے قندیل کو قتل کرنا چاہا لیکن بڑا بیوقوف نکلا کیوں کہ چارپائی پر اس رات قندیل نہیں فوزیہ عظیم سو رہی تھی جو ماری گئی۔ قندیل کے پاس ایسا کیا تھا جو اس کے دشمن نے چھپانا چاہا یہ حقائق نکلوانا ان کا کام ہے جو ذمہ دارانہ صحافت کا راگ الاپتے ہیں اگر وہ انصاف نہ کرسکے تو انکی حیثیت بھی اس دلال کی سی ہے جو کوٹھے پر آنے والے تماشائی کو ہار پھول پیش کر کے مطلوبہ جگہ تک چھوڑ کر آتا ہے اور پھر کوئی سوال نہیں کرتا کوئی وضاحت طلب نہیں کرتا صرف کمیشن کا انتظار کرتا ہے۔

(Visited 1,004 times, 1 visits today)

Sidra Dar is writer and a blogger based in Karachi. She is working as a news reporter at NEO news network . Her beats are environmental issues, social issues and special assignment.

One Comment

Leave a Reply

Got It!

اس ویب سائٹ کا مواد بول پلاٹون کی آفیشل رائے کی عکاسی نہیں کرتا. مضامین میں ظاہر معلومات اور خیالات کی ذمہ داری مکمل طور پر اس کے مصنف کی ہے