Here is what others are reading about!

بُری عورت

زندگی سے بھر پور عورت دیکھی ہے ؟ہاں وہ قندیل تھی  جسکے ہر ہر زاویے سے روشنی پھوٹتی تھی   جو کسی فاسق مولوی کی طرح نفرت کے  فتوے نہیں دیتی تھی۔۔۔اس خطے  میں بغاوت  بھلے سبین محمود کی نوعیت کی ہو یا  قندیل  بلوچ کی۔۔۔ کاٹ دی جاتی ہے۔

 میں بھلا کیسے کچھ لکھ سکتی ہوں میرا تو قلم بھی بوجھل ہو رہا ہے۔ جن ہونٹوں  پر کبھی  لالی ہواکرتی تھی وہ کالے پر چکے ہیں  جن حسین آنکھوں سے کبھی زندگی بہا کرتی تھی وو پتھرا چکی ہیں۔  وہ عام عورت تو نہ تھی۔۔۔ زمانے کے آگے بہادر بننے والی عورت تھی مگر اندر سے کر چی کرچی۔۔۔اس کے لبوں پے کھلتی  مسکراہٹ  دیکھ کر کوئی اندازہ  کر ہی نہیں سکتا تھا  کہ یہ عورت رات کو اپنے بیٹے  کی  جدائی میں تڑپتی ہو گی اپنے اوپر ہونے والے تشدد کا سوچ کر تڑپ جاتی ہو گی۔۔۔کوئی ایسا کیوں سوچے گا؟

ارے  وہ کوئی معاشرے کے آگے  اپنی بے بسی کا رنڈی رونا  ڈالنے  والی عورت تھی ہی  نہیں۔   وہ  تو ممتاز مفتی کی عورتوں کی طرح مٹیار تھی۔۔۔ پیچھاڑ دینے والی۔جوکوئی تاڑے  تو ٹھوک کر کہنے والی کہ  لے  دیکھ لے اچھی طرح ! شرما کے پیچھے ہٹنے والی نہیں تھی۔  جوتی اتار کے سر پہ مارنے والی عورت تھی ۔  وہ تو سوسائٹی کے  اور اس کھوکھلی تہذیب کے بچے کچھے چیتھڑےبھی  پھاڑ دینا چاہتی تھی ۔۔۔ عصمت آپا کی طرح  عورت اور مرد کی برابری کے درمیان جو  male chauvinism کی دیوار تھی، اسےاپنے  نوکیلے ناخنوں سے  کھرچ کھرچ  کر ڈھا  دینا چاہتی تھی۔  وہ منٹو کی طرح سوسائٹی کاپوسٹ مارٹم  کرنے  کے لیے پیدا ہوئی تھی۔  اس نے بڑے بڑےزخم اپنے  سینے میں  چھپا رکھے تھے لیکن  اس  نے  اس معاشرے سے  ہمدردی کی بھیک نہیں  مانگی  تھی  بلکہ اس کو للکار اتھا کہ آؤ مجھ سے لڑو ۔۔۔ اس نے مردکو للکارا تھا۔۔۔اس  نےمردار گوشت زدہ اس بدبودار سوسائٹی کے اوپر لگامخمل  کا پردہ  پھاڑ  کر اسے الف  ننگا  کر دیا   تھا۔۔۔ نام نہاد مولوی کی وڈیو دیکھتے، پھر استغفراللہ کتنی بد کار عورت ہے ،  کا نعرہ لگاتے ۔ پھر فیس بک  بند کرتے  اور  اپنے ہیجانات پر  قابو پاتے  اور جب سنبھل جاتے  تو پھر دیکھتے۔۔۔ اورایک اور نعرہ بلند ہوتا۔۔۔  زندگی کتنی نہ اہل ہے۔۔۔ وہ  سماج  سے لڑنےوالی اکیلی عورت ۔  ایسانہیں ہے کہ اس خطہ میں ہمیشہ سے عورت کے ساتھ یہ ہوتا آیاہے۔  ہندوستان کی تاریخ گواہ ہے جب آرین  یہاں آ کر آباد ہوئے تو وہ مہذب  لوگ تھے۔  عورت کی عزت کی جاتی تھی گھر کی  عورتوں کے بغیر کوئی مذہبی رسم ادا  نہیں کی جاتی تھی۔ ان قوموں کی عورتیں  بلا کی انٹلیکچول تھیں۔ پھر میں کیسے  مان لوں کے یہ قدیم  زمانے  کے رسم رواج ہیں۔۔۔  یہ تو  پچھلی  دوچار صدیوں  کا گندہے ۔۔۔  ورنہ عورت تو حسن ہی   حسن ہے ۔۔۔ یہ تو  مامتا سے بھراہوا  ایک گہرا سمندر ہے۔  اتنا گہرا ہے کہ اس میں خالق  کی محبّت سما سکے۔۔۔   ہمیں اب اس معاشرے کا گندا چہرہ دھوناہوگا ۔۔۔ اس سوسائٹی  کے سرمیں جو روایات  کی زہریلی جوئیں  ہیں،  جن  کی پیداوار میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہےانہیں چگ چگ کرمارنا ہوگا ۔ہمیں اس زندگی  کو تہذیب کے پھٹے  پرانے پیوند لگے کپڑے اتر وا کر انٹلیکچولزم کے برانڈڈ  کپڑے  پہنانے ہوں گے۔۔۔ تاکہ ہم سوچنا سیکھ سکیں اور ہماری قندیلیں رات کے اندھیرے  میں یوں بے دردی سے  نہ  بجھائی  جائیں۔۔۔

(Visited 859 times, 1 visits today)

Fizzah Shah is a freelance writer based in Muzaffargarh. She usually writes abstracts on social and moral issues.

Leave a Reply

Got It!

اس ویب سائٹ کا مواد بول پلاٹون کی آفیشل رائے کی عکاسی نہیں کرتا. مضامین میں ظاہر معلومات اور خیالات کی ذمہ داری مکمل طور پر اس کے مصنف کی ہے