Here is what others are reading about!

گھنٹیاں

سلیم احمد خان المعروف سیٹھ صاحب ہماری کمپنی کے مالک تھے۔   “سلیم  احمد خان” انکا والدین کی جانب سے  اور “سیٹھ صاحب” ہم ملازمین کی جانب سے رکھا گیا نام تھا۔ سیٹھ صاحب  میرے آئیڈئیل تھے۔ خوش لباس،  منطم، نفیس ، معاملہ فہم اور عقاب کی سی نگاہ رکھنے والا شخص۔کاغذوں کے ڈھیر میں اس شخص کی نگاہ وہیں جاکر ٹھہرتی جہاں غلطی سے کوئی  معمولی غلطی رہ گئی ہو۔  جدی پشتی طور پر زمیندار، صنعتکار اور سرمایہ دار تھے۔ انکا اوڑھنا بچھونا صرف دولت تھا۔ جس چیز اور کام میں نمو پاتی ہوئی دولت نظر آتی، وہ جھٹ سے اس میں ہاتھ ڈال دیتے۔ انکے مختلف کاروبار پورے ملک کے علاوہ دنیا کے اور دوسرے ممالک میں بھی پھیلے ہوئے تھے۔شوگر، ٹیسکٹائل اور لیدر کی فیکٹریوں کے علاوہ مختلف غیر ملکی مصنوعات مثلاً ملبوسات اور جوتوں وغیرہ کی فرینچائز فیکٹریاں بھی تھیں۔ ملک بھر کے بڑے شہروں میں چائنیز ریسٹورنٹس کی چین الگ۔میرا ان سے تعارف ملازمتوں کا ایک اشتہار بنا جو انکی ہمارے شہر میں ایک نوزائیدہ کمپنی کے لئے تھا۔ یہ ان دنوں کی بات ہے جب پاکستان میں آئی ٹی انڈسٹری ابھر رہی تھی۔ چنانچہ سلیم صاحب نے بھی اس بہنے والی نئی گنگا میں ہاتھ دھونے کی ٹھانی ۔ اپنے تعلقات کو استعمال کرتے ہوئے یورپ اور امریکہ کی چند کمپنیوں سے انکے سوفٹ وئیر کے ٹھیکے اٹھا لئے اور پاکستان میں ایک کمپنی کی بنیاد ڈال کر اخبار میں پرکشش اشتہار چھپوا دیا۔ خدا کے فضل و کرم سے مجھے بہت کم عمر اور تجربے کے باوجود  پروجیکٹ ڈائریکٹر کی نوکری مل گئی اور میں سیٹھ صاحب کے بعد اس کمپنی کا کرتا دھرتا بن گیا۔ یہ چونکہ سیٹھ صاحب کا میدان نہ تھا اور میں اس میدان کا  چھوٹا موٹا ماہر تھا، اس لئے وہ اس کمپنی کو چلانے کے لئے مجھ پر بھرپور بھروسہ کرتے ہوئے تمام کام مجھے سونپ کر اپنی دیگر مصروفیات میں لگ گئے۔ انہی دنوں انکا سیاسی حلقوں میں بھی اٹھنا بیٹھنا چل رہا تھا۔ کچھ دنوں بعد خبر ملی کہ سلیم احمد خان صاحب  اب سینیٹرسلیم احمد خان ہو  گئے ہیں۔

میں نے اپنے مقدور بھر تجربے کی بنیاد پر سیٹھ صاحب کی آئی ٹی کمپنی کو کھڑا کردیا۔  بلڈنگ کرائے پر لینے سے ملازمین رکھنے اور پروکیورمینٹ  تک تمام کام میں نے خود کئے۔میرےمعمولی تجربے اور محدود نظر میں  ایک سو  بیس ملازمین پر مشتمل یہ ایک بہت بڑی نہ سہی، کوئی چھوٹی کمپنی بھی نہ تھی۔ لیکن سیٹھ صاحب کی کاروباری سلطنت میں اسکا وجود کاغذ پر ایک نقطے کی مانند تھا۔ میری ان تمام کاوشوں کا صلہ مجھے سیٹھ صاحب کی طرف سے گاڑی  اور تنخواہ میں اضافے کی صورت میں ملا اور میں اپنی کمپنی کا واحد مستقل ملازم ہوگیا۔ میں بھی دل و جان سے اپنے علم اور تجربے کو کام میں لا کر شبانہ روز محنت کررہا تھا۔ دوسری طرف سیٹھ صاحب کی پر کشش شخصیت اور اپنا مال بیچنے کی بے پناہ اہلیت انہیں دنیا بھر سے سوفٹ وئیر کاکام دلوا رہے تھے۔ یعنی سیلز اور مارکیٹنگ کے شعبے سیٹھ صاحب اکیلے ہی چلا رہے تھے۔ سیٹھ صاحب زیادہ تر سفر میں رہتے اور ہمارے والے دفتر میں انکا آنا کم کم ہی ہوتا تھا۔ دفتر کے ملازمین بھی زیادہ ترنوجوان تھے جو مکمل استعداد کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں نبھا رہے تھے۔ الغرض سب اپنے اپنے مقام پر خوش تھے کہ اچانک جیسے کسی کی نظر لگ گئی ہو۔

ایک روز سیٹھ صاحب سینٹ کے اجلاس کے لئے اسلام آباد آئے تو ہمارے دفتر کا چکر بھی لگا۔ لیکن اس مرتبہ وہ اکیلے نہیں تھے۔ انکے ساتھ انکی اہلیہ ،  اہلیہ کا بھائی   عامر اور انکے دوست بیرسٹر عابد علی بھی تھے۔ آنے سے آدھ گھنٹہ پہلے انہوں نے مجھے  ڈیپارٹمنٹ ہیڈز کی میٹنگ کے انتظامات کرنے کا کہہ دیا تھا۔  میٹنگ شروع ہوئی تو سیٹھ صاحب نے اپنی اہلیہ کا تعارف کرواتے ہوئے فرمایا کہ وہ کمپنی کی مینجنگ پارٹنر ہیں اور ڈائریکٹریس کی حیثیت میں کام کریں گی۔ ساتھ ہی اپنے سالے کا تعارف کرواتے ہوئے ہمیں بس یہ بتایا کہ وہ آج سے کمپنی کے چیف آپریٹنگ آفیسر ہیں۔ سیٹھ صاحب چونکہ خود زیادہ تر شہر اور بعض اوقات ملک سے باہر ہوتےہیں، اس لئے انکے گھر کے یہ دو  معتمد و قابلِ بھروسہ افراد انکی اس کمپنی کے ذمہ دار ہوں گے۔ بیرسٹر عابد علی  کے پاس کمپنی ملازمین کے کنٹریکٹس تھے۔  انکو  نوکری پکی ہونے کی نویدِ مسرت سنا کر جلدی جلدی ان معاہدوں پر دستخط لے لئے گئے اور انکی فائلوں کی نذر کردئے گئے۔  وقت ملنے پر جب میں نے جب یہ عہد نامہ پڑھا تو پیروں تلے زمین نکل گئی۔ اتنی سخت شرائط کہ خدا کی پناہ۔ ملازمت کیا تھی؟  گویا کسی ظالم بادشاہ کی بیعت تھی جس میں دائیں بائیں دیکھنے پر بھی سزا لکھی ہوئی تھی۔ یہ نیا شوشا کمپنی کے ملازمین کے لئے بالعموم اور میرے لئے بالخصوص کسی جھٹکے سے کم نہ تھا۔ اس کمپنی کو وجود میں آئے تقریباً آٹھ ماہ ہوچلے تھے اور ہم سب اسکواپنا خونِ جگر پلا کر پروان چڑھا رہے تھے۔ اس کمپنی کو نہ کسی ڈائریکٹریس کی ضرورت تھی اور نہ ہی کسی سی او او کی۔ لیکن بلاوجہ یہ پتھر ہمارے سروں پر برسا دئے گئے تھے۔ کیوں؟ وہ اس لئے کہ سیٹھ صاحب تو کمپنی کے مالک اور سرمایہ دار تھے۔ یہ بات سمجھ میں آتی تھی۔  لیکن ان دو افراد کا کردار زبردستی کا تھا۔ بیگم صاحبہ ایک فیشن زدہ خاتون تھیں جنکا کاروبار اور وہ بھی آئی ٹی سے دور دور کا بھی کوئی واسطہ نہ تھا۔ دوسرے انکا بھائی عامر۔ایک نمبر کا نکما اور جاہل انسان۔ وہ اپنی تھوڑی سی زمین کے علاوہ سیٹھ صاحب کی پنجاب کی زمینوں اور فیکٹریوں کو دیکھتا تھا۔ آسان الفاظ میں کہا جائے تو وہ سیٹھ صاحب کا ایک چھوٹے درجے کا منشی تھا۔  سیٹھ صاحب کو بھی اسکی اوقات کا اندازہ تھا۔ اس لئے انہوں نے اسکو اپنے دوسرے کاروبار سے ہٹا کر سسرال کو خوش کرنے  اور اسکے منہ میں چسنی دینے کی نیت سے اپنے نئے کاروبار کا سی او او لگا دیا تھا۔ ہمارے لئے دکھ کی بات یہ تھی کہ اسکا بھی آئی ٹی سے دور دور تک کا کوئی واسطہ نہ تھا لیکن وہ ہم پر باس بن کر سوار ہو چکا تھا۔

اگلے دن سے ہمارے دو نئے باسز نے دفتر آنا شروع کردیا اور یہی ہم سبکی ملازمتی اور ذاتی زندگیوں میں ہیجان کا سبب بنا۔ بیگم صاحبہ تو چونکہ بیگم صاحبہ تھیں۔ انہیں دفتر کی کیا ضرورت! سو چند دن بعد بور ہوکر انہوں نے تو آنا چھوڑ دیا۔ لیکن عامر صاحب۔۔۔ وہ تو ہمارے اعصاب پر سوار ہوچکاتھا۔ آئی ٹی کی اے بی سی سے بھی نابلد انسان ہر کام میں ٹانگ اڑانے لگا۔ میرے لئے یہ بات کسی عذاب سے کم نہ تھی۔  اپنے کام سے متعلق چھوٹے چھوٹے فیصلے کرنے کے لئے بھی مجھے عامر صاحب کے حضور ہاتھ باندھ کر کھڑا رہنا پڑتا اور وہ کئی کئی دن تک منظوری نہ دیتے۔ سوفٹ وئیر بنانا اور اسکو چلانا چونکہ ہمارا کام تھا اس لئے ہمیں اس کام کے لئے مکمل آزادی چاہئے تھی لیکن عامر صاحب  اب خود سیٹھ بن چکے تھے اس لئے وہ اپنی سیٹھیت دکھانے کے چکر میں بالکل ہی سٹھیائی ہوئی حرکتیں کرتے رہتے تھے۔ بنیادی طور پر وہ ایک پست انسان تھا۔  اول درجے کا نا اہل اور چاپلوس! سلیم صاحب کی زمینوں اور فیکٹریوں سے ناجائز مال بنانے کی عادت پال چکا تھا۔ یہاں اوپر کی کمائی کا مسئلہ بھی بنا ہوا تھا۔ اسکا حل اس نے یہ نکالا کہ اپنی ایک جنرل سپلائی کی فرضی کمپنی بنا لی اور یہاں سے مال بنانا شروع کردیا۔ اب دفتر کی اسٹیشنری سے لیکر کمپیوٹرز اور دیگر سامان جو دفتر کے لئے خریدا جاتا تھا، وہ عامر صاحب اپنی بنائی ہوئی فرضی کمپنی کے زریعے دفتر میں لاتے اور یوں ٹکے ٹکے پر انکی نظررہنے لگی۔  حد تو یہ کہ پلمبر ، الیکٹریشن اور ٹیکنیشنز کے چھوٹے چھوٹے بل بھی عامر صاحب کا کمیشن ملا کر بڑے بن جاتے اور وہ پست انسان ان غریبوں سے بھی اپنا حصہ وصول کئے بنا انکا حق نہ دیتا۔   کچھ عرصے بعد معلوم ہوا کہ دفتر کی کرائے کی گاڑیاں بھی عامر کی اپنی نکلیں۔  ہمارے دفتر کےعمومی اور کارپوریٹ  ماحول میں ایک ٹاٹ کا پیوند بھی کبھی کبھی دکھائی دیتا تھا؛ جب عامر کے گاؤں سے چند غنڈہ نما افراد اس سے ملنے کے لئے دفتر آجاتے تھے۔ غلیظ لباس، چرچر کرتی ہوئی کھیڑیاں،  بے قاعدہ داڑھی مونچھیں، مغلظات سے بھرپور دیہاتی زبان اور اسلحہ۔۔۔ یہ سب چیزیں اورا نداز کسی بھی   کمپنی کے ماحول سے زرا بھی مطابقت نہیں رکھتے ۔  لیکن کیا کیا جائے! وہ ہمارے باس کے دوست اور  یہ انکا طرزِ زندگی تھا۔ عامر ان سے بہت دوستانہ انداز میں ملتا؛ جسکی مجھے بہت تشویش رہتی۔ ہمارے اکاؤنٹینٹ نصیر صاحب  سے میں ایک مرتبہ ان لوگوں کے متعلق پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ یہ عامر کے دوست نہیں ہیں۔دراصل زمینداروں نے اپنی زمینوں اور جائیدادوں کی حفاظت کے لئے ایسے غنڈے پالے ہوتے ہیں۔قبضے،  قتل،  پولیس،  تھانے ، کچہریاں، پیشیاں ،عدالتیں بھگتانا ان کی نوکری ہوتی ہے۔ ان لوگوں سے کام نکلوانے کے لئے انکو دوستوں جیسا ماحول دینا ان لوگوں کی مجبوری ہوتی ہے۔ دوست ووست کچھ نہیں ہوتا۔ جہاں ان غنڈوں کی بدمعاشی ختم ہوتی ہے، وہیں ان سے سیٹھوں کا ناطہ بھی ختم ہوجاتا ہے۔  اپنے ہی قبیلے کے  کسی اور غنڈے کی کسی گولی کا نشانہ بن کر انکا باب ختم ۔۔ اور پیسہ ہضم۔۔۔میں نے کئی مرتبہ یہ سب  سیٹھ صاحب کے علم میں لانے کا سوچا لیکن ہمیشہ یہ سوچ کر خاموش رہا کہ یہ انکا ذاتی اور خاندانی معاملہ ہے۔ یہ نہ ہو کہ سیٹھ صاحب الٹا مجھ پر ہی بگڑ جائیں۔ دوسرا یہ کہ سیٹھ صاحب کو اس سے کیا فرق پڑتا تھا۔ انہیں تو آموں سے مطلب تھا، جو انکا یہ والا باغ خوب پیدا کررہا تھا۔  تیسرے یہ کہ وہ اڑتی چڑیا کے پر گننے والے آدمی تھے۔ کیا انہیں معلوم نہ ہوگا کہ ان کے اپنے گھر اور دفتر میں کیا ہورہا ہے!

سیٹھ صاحب کی  بظاہر عدم توجہی اور عامر کی حد سے زیادہ توجہ نے ہم ملازمین کے دلوں کو کام سے بالکل اچاٹ کردیا تھا۔  اس کام سے چونکہ وہ بالکل ہی ناواقف تھا اس لئے اس کا کام بلاوجہ کے مسائل پیدا کرنا تھا۔ کبھی لڑکوں کے دیر سے آنے پر دھمکیاں۔ کبھی لڑکیوں کا آپس میں گپ شپ پر اشو بنانا۔ اور کچھ نہیں تو خرچے کم کرنے کے نام پر چائے پانی پر پا بندی عائدکردی۔ یہ سب باتیں کہیں اور شاید چل جائیں لیکن ایک سوفٹ وئیر ہاؤس میں ان باتوں کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی۔ فنڈز کی کمیابی کا رونا رو کر عامر نے ایک جدید دفتر کو کھنڈر میں بدل دیا تھا اور وہ بھی محض چھ مہینے کے مختصر عرصے میں!   دفتر کی مینٹیننس نہ ہونے کے برابر تھی۔ جب تک اختیارات میرے ہاتھ میں تھے تو ملازمین کے کھانے پینے چائے اور دیگر تفریح کے تمام اخراجات کمپنی کے ذمے تھے جسکی وجہ سے وہ دل لگا کر دفتری اوقات کے بعد بھی کام میں مصروف رہتے تھے۔  دفتر کا  اپنا کچن اور اپنے خانساماں تھے جنکا کام ہی تمام شفٹوں کے ملازمین کے کھانے پینے کا خیال رکھنا تھا۔ اب حال یہ تھاکہ کھانا تو دور کی بات، عامر صاحب نے چائے بھی صرف ایک وقت کی کردی۔ اسکے علاوہ آتے جاتے اے سی بند کروا دینا، موبائل فون پر پابندی لگا دینا، ٹینس کی ٹیبل اٹھوا دینا اور کانفرنس روم کا ٹی وی بھی بند کروا دینا وہ فضول اور چھچھورے کام تھے جنہوں نے ہم سبکی لگن اور جوش و جذبے کو بری طرح سے متاثر کیا تھا ور نتیجتاً تقریباً تمام ہی  اہلِ دل ساتھی دوسری نوکری کے بارے میں سنجیدگی سے سوچنے لگے۔  یہ الگ بات کہ کسی نے اپنے رازدار  دوست پر اعتماد کرتے ہوئے اسے بتا دیا اور کسی نے اپنے راز پر پردہ ڈالے رکھا۔  

دوسری طرف  موصوف کی اپنی عیاشی کا یہ عالم تھا  کہ جناب نے بیرونِ ملک آئی ٹی  کورسز اور کانفرنسز ڈھونڈنا شروع کردیں۔ شروع شروع میں کوالالمپور اور بنکاک کو اپنی منزل بنایا۔ خوب جی بھر کے سیر سپاٹا کیا۔ بعد ازاں لندن، پراگ اور استنبول کی شامت آئی۔ اس مرتبہ ایچ آر ڈیپارٹمنٹ میں انکی اپنی رکھی ہوئی ایک عزیزہ محترمہ شازیہ صاحبہ انکے ہمراہ رہیں۔شازیہ صاحبہ وہ کہ جنہیں ایچ آر کی الف بے بھی نہ معلوم تھی اور دوسرے آئی ٹی کے کورسز اور سیمینارز۔۔۔ کچھ سمجھ سے بالاتر معاملہ تھا ، لیکن اندھیر نگری کے چوپٹ راج میں ایسا ہونا ناممکن نہیں۔ بلکہ نہ ہو تو مقامِ حیرت ہو۔ پھر کیا تھا؟ نواب صاحب کی جیسے لاٹری کھل گئی ہو۔ نیا بزنس لانے اور ٹریننگز کے نام پر انہوں نے جیسے ایک نئی ٹریول ایجنسی کھول لی ہو۔  لیکن مجال ہے جو کوئی ایک لفظ بھی نیا سیکھا ہو یا ایک ڈالر کا بھی بزنس کمپنی کو لاکے دیا ہو۔ !

کچھ عرصہ مزید گزرا اور دنیا بھر کی معیشت رو بہ زوال ہونا شروع ہوئی۔ دنیا بھر میں بڑی بڑی کمپنیاں بند ہونا شروع ہوگئیں اور بے روزگاری کی لہر نے ساری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ ہماری کمپنی اس صورتِ حال میں کسی کھاتے میں نہ آتی تھی۔ نہ یہ کوئی ہزاروں بھاری بھرکم تنخواہوں والے ملازمین کی بین الاقوامی کمپنی تھی اور نہ ہی یورپ یا امریکہ کی بڑی بڑی اسٹاک اکیسچینجز میں اسکے شئیر تھے۔ لیکن جاہلِ مطلق سی او او نے دوسروں کی دیکھا دیکھی  بلاوجہ کمپنی سے لوگ نکالنا شروع کردئے۔ تمام ملازمین کی فہرست اپنے سامنے رکھی اور جہاں سرخ  ہائی لائٹر چلا، اس اس بیچارے کو ٹرمینیشن لیٹر تھما کر رخصت کردیا۔ یہ بھی نہ دیکھا کہ اس بندےکی صلاحیتوں کی کمپنی کو اشد ضرورت ہے۔ وہ منظر بھی یادداشت میں اب تک ثبت ہے جب مرتضےٰ کو ٹرمینیشن لیٹر تھمایا گیا تو ہ بجھ سا گیا تھا۔ اگلے روز کاشف کے زریعے معلوم ہوا کہ رات کو اسے دل کاوورہ پڑا تھا۔ ہم سب ہی دوست اسکی مزاج پرسی کے لئے گئے۔ کاشف ( جو مرتضیٰ کا پڑوسی بھی تھا) نے بتایا کہ مرتضٰی گھر کا واحد کفیل ہے۔ اسکے والد خود گردوں کے مرض میں مبتلا   ہیں اور حال ہی میں اسکے بیٹے نے اسکول جانا شروع کیا ہے۔ نوکری کا اچانک سے چھوٹ جانا اسکے لئے کسی حادثے سے کم نہ تھا۔ غریب گھرانے کا شریف آدمی ہے، اس لئے یہ صدمہ برداشت نہ کرسکا۔

دفتر جاکر میں نے عامر صاحب کو مرتضیٰ کے بارے میں بتاتے ہوئے احتجاج کیا اور اسکی نوکری بحال کرنے کی درخواست کی تو اس پر  بھی اس سنگدل شخص پر زرااثر نہ ہوا۔ اس نے سگرٹ سلگاتے ہوئے مجھے اپنے کام سے کام رکھنے کی تنبیہہ کی اور کہا کہ ہم نے منافع کمانے کے لئے کمپنی کھولی ہے فلاح و بہبود کے لئے نہیں۔ مجھے مشورہ دیتے ہوئے اس نے یہ طنز بھی کیا کہ اگر میرے دل میں غریبوں کے لئے اتنا ہی درد ہے تو مجھے بھی مرتضیٰ کے غم میں شریک ہوکر نوکری چھوڑ دینا چایئے ۔ مزید مشورہ یہ دیا کہ میرے لئے ایدھی سینٹر مناسب رہے گا جہاں میں دل کھول کے غریبوں کی مدد کیا کروں گا۔

ہماری کمپنی میں ایک طبقہ وہ بھی تھا جنہیں کسی چیز سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ وہ بس صبح سویرے اپنے کام پرآتے۔ جیسے کہا جاتا، ویسے کرتے۔ نہ ہاں، نہ ہوں۔ شام کو کام لپیٹا اور اپنے گھر واپس۔ روبوٹ نما یہ طبقہ تقریباً ہر جگہ ہی پایا جاتا ہے اور اگر غلط نہ کہا جائے تو یہی خاموش اکثریت ہوتی ہے جسکی وجہ سے ظالم کو ظلم کرنے اور مظلوم کو پِسنے کا موقع ملتا ہے۔ اسکے علاوہ کچھ باشعور لیکن موقع شناس لوگ بھی ہر جگہ پائے جاتے ہیں۔ اور ہماری کمپنی میں اس طبقے سے تعلق رکھنے والے وہ لڑکے اور لڑکیاں تھے جو پروگرامنگ کے ماہر تھے۔ ان لوگوں نے نوکری کے ساتھ ساتھ اپنے ذاتی کام بھی شروع کردئے۔ کمپنی کے وسائل کو استعمال کرتے ہوئے دفتر ہی میں دفتری کاموں کے ساتھ ساتھ اپنے سوفٹ وئیر بنا نا شروع کردئے جنکے اچھے خاصے گاہک انکو اسٹورز، شاپنگ مالز ، تعلیمی اداروں، کلینکس اور سیکیورٹی کمپنیوں کی صورت میں وافر میسر تھے ۔ یہاں انکا الو سیدھا چل رہا تھا۔ اور اپنا الو سیدھا رکھنے کے لئے گدھے کو بھی باپ بنانا پڑ جائے تو کوئی مضائقہ نہیں۔ یہی وجہ تھی کہ یہ چند لڑکے اور لڑکیاں عامر کی خصلت سے واقف ہوکر اسکے چاپلوسی حلقے میں داخل ہوچکے تھے۔ وہ انتہائی سبک انسان، زرا سی خوش آمد (محض ٹائی یا شرٹ کی جھوٹی تعریف) پر ہی آسمان میں اڑنے لگتا۔یوں عامر صاحب کی بادشاہت میں ان قصیدہ خواں درباریوں کی خوب چاندی تھی۔

میں یہ تمام کام اپنی آنکھوں کے سامنے ہوتا دیکھ رہا تھا۔ میرا دل کڑھتا تھا کہ جس کمپنی کی بنیاد میرے ہاتھوں سے پڑی ہے، وہ اس طرح سے میری نظروں کے سامنے لُٹ رہی ہے اور میں بے بسی سے تماشا دیکھ رہا ہوں۔ آخرِ کار میں نے بھی درد لینا چھوڑ دیا اور سیٹھ صاحب کے سرمائے سے لگی انکے خاندان کی ملکیت سے بادلِ نہ خواستہ اپنا دل اچاٹ کرلیا۔ رائج طریقہءکار کے مطابق کسی اور جگہ نوکری ڈھونڈی اور عامر کی دھونس اور دھمکیوں کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے سیٹھ صاحب کی میل پر اپنا استعفیٰ بھیج دیا اور سلیم صاحب کے جواب کا انتظار کرنے لگا۔ پانچ منٹ کے اندر اندر مجھے عامر نے اپنے دفتر میں بلوا لیا۔ اس نے مجھ سے میرے استعفے کے بارے میں استفسار کیا اور سیدھا سلیم صاحب کو بھجوانے پر اپنی  طنزیہ ناگواری کا اظہار بھی کیا۔ تب مجھے اندازہ ہوا کہ میری حیثیت محض ایک ملازم ہی کی تھی۔ یہ میری  خام خیالی تھی کہ سیٹھ صاحب اس کمپنی کو عامر کے حوالے کرکے خود کنارہ کش ہوگئے ہیں۔ ان تک اس دفتر کی پل پل کی خبر پہنچتی تھی اور وہی تمام احکامات عامر کے زریعے ہم پر نافذ کیا کرتے تھے۔ مجھے بہت دکھ ہوا جب سلیم صاحب نے مجھے  (جسے وہ بیٹا کہہ کر مخاطب کیا کرتے تھے) بھی خاطر میں نہ رکھا اور عامر کے حوالے کردیا۔ میری یہ خوش فہمی بھی غلط فہمی ثابت ہوئی کہ مجھے سلیم صاحب کچھ سمجھتے تھے۔ بلکہ یہ بات میرے گلے پڑ گئی۔ سیٹھ صاحب نے اس بات کا بتنگڑ بنایا، جسے عامر نے مزید ہوا دی اور بیرسٹر عابد صاحب کے بنائے گئے ملازمتی عہد نامے کی ایک شق کے تحت میں کمپنی قواعد کی خلاف ورزی کا مجرم ٹھہرایا گیا۔ اس شق کے تحت میں سی ای او سے براہِ راست مخاطب ہونے کا مجاز نہ تھا۔ بلکہ میں سی او او کو جوابدہ تھا۔ چنانچہ اب میرا استعفیٰ منظور کرنے کی بجائے مجھے ملازمت سے برخواست کیا گیا۔ جسکا مطلب تھا کہ اگلے لمحے سے میرا اس کمپنی سے کوئی تعلق نہیں ہوگا۔ ملازمت کے اختتام پر جو کچھ ملنے کی امید ہوتی ہے، وہ سب کچھ بھی صلب کرلیا جائیگا اور مجھے خالی ہاتھ گھر جانا ہوگا۔ مزید یہ کہ اس کمپنی میں لگائے گئے ڈھائی سال میری تجرباتی زندگی میں شامل نہیں ہوں گے ۔ کمپنی کی جانب سے کوئی ایکسپیرئنس سرٹیفیکٹ جاری نہیں کیا جائے گا۔ مجھ سے کمپنی کی دی گئی گاڑی  اور دفتر کی دیگر چابیاں بھی مانگ لی گئیں۔ اور مجھے ایک سزا یافتہ مجرم کی طرح کھڑا رکھا گیا۔ اس تمام ڈرامے کے دوران دفتر میں ایک خوف کا ماحول بنا رہا۔ چہ میگوئیاں ہوتی رہیں۔ کوئی کہنے لگا کہ زین کو نکال دیا گیا ہے۔ کوئی کہہ رہا تھا کہ زین کا عامر سے جھگڑا ہوگیا ہے۔ الغرض جتنی جسکی سمجھ بوجھ تھی، اتنا ہی وہ تکا لگا رہا تھا۔ لیکن کسی میں سامنے آ کر بات کرنے کی جرآت نہ تھی۔ حد تو یہ تھی کہ جب میں آخری مرتبہ دفتر سے نکل رہا تھا تو کسی کو مجھ سے خدا حافظ کرنے کی بھی توفیق یا ہمت نہیں ہوئی۔

آج مجھے ٹیکسی پر گھر جانا تھا۔ دفتر کی سیڑھیاں اترتے ہوئے مجھے احساس ہوا کہ  اتنی کم عمر میں کیوں مرتضیٰ کو دل کا دورہ پڑا تھا۔ اگر میں بھی زرا سی کم ہمت والا ہوتا تو شاید انہی سیڑھیوں پر پڑا ہوتا لیکن خدا نے ہمت دی اور میں بھاری دل اور من من کے قدموں کے ساتھ سڑک پر آن کھڑا ہوا اور ایک ٹیکسی کو روک کر گھر کی جانب چل پڑا۔راستے بھر اول دن سے لیکر اب تک کے مناظر کسی فلم کی مانند میرے ذہن میں چلتے رہے۔ گھر آکر میں نے گھر والوں کو کسی صدمے سے محفوظ رکھنے کی نیت سے محض اتنا بتایا کہ مجھ کہیں اور بہتر نوکری مل گئی ہے اس لئے آج میرا استعفٰی منظور ہوگیاہے۔ جبکہ ایک حقیقت یہ تھی کہ مجھے دربدر کیا گیا تھا اور دوسراسچ یہ تھا کہ میری نئی لگنے والی نوکری ماحول میں تو شاید اس سے بہتر ہو، لیکن عہدے ، کام اور تنخواہ کے لحاظ سے اس سے کم ترتھی۔لیکن مجھے پھر بھی اطمنان تھا کہ نئی جگہ پر میرے اعصاب پر سوار ہونے والا کوئی عامر نامی عفریت نہ ہوگا۔ چنانچہ میں نے آج ہی سے ایک عظمِ نو کےتحت نئی زندگی کے آغاز کا تہیہ کیا۔  خدا کی مدد شاملِ حال رہی اور میں اپنی نئی ملازمت میں مشغول ہوگیا۔ خدا کا صد شکر کہ یہا ں ماحول بہت اچھا تھا۔ یہاں صرف کام کی اہمیت تھی۔ جو اچھا کام کررہا تھا، وہ اپنی راہیں خود کھول کر آگے بڑھتا جارہا تھا۔ کہیں عامر نامی کوئی رکاوٹ نہ تھی۔ میں بھی ڈیڑھ سال کے قلیل عرصے میں سینئر سیلز مینیجر بن گیا اور اپنی مصنوعات بیچنے کے لئے مجھے خلیجی ریاستوں اور مشرقِ وسطیٰ  کی مارکیٹ تھما دی گئی۔ اب جب کبھی مجھے اپنے پچھلے دفتر کا خیال آتا تو میں اپنے آپ پر ہنستا کہ کہاں وقت برباد کرتا رہا اور اسی کو آخری منزل سمجھ بیٹھا تھا۔ آج میری کاوشوں کو سراہا جاتا ہے اور جب میں بیرونِ ملک کا سفر کرتا ہوں تو کمپنی کا مکمل اعتماد میری پشت پر ہوتا ہے۔ شکر ہے کہ میں صرف سیر سپاٹے کے لئے سفر نہیں کرتا۔ ۔۔ میں نے پھر کبھی مڑ کر بھی دیکھا ، نہ پوچھا کہ میرے ہاتھوں کے لگائے گئے پودے کا کیا بنا۔ سچ پوچھیں تو کبھی فرصت ہی نہیں ملی۔

لیکن  ایک روز پرانی کتاب  کھل ہی گئی جب جاوید کا فون آیا۔ جاوید سیٹھ صاحب کا پرانا ڈرائیور تھا۔ اسکا سارا خاندان سیٹھ صاحب کے خاندان کا جدی پشتی ملازم تھا۔ اسکا کمپنی بنانے کے دنوں میں میرے ساتھ خاصا وقت گزرا تھا۔ اسی لئے وہ مجھ سے کچھ نزدیک بھی ہوگیا تھا اور میری بہت زیادہ عزت بھی کیا کرتا تھا۔ مجھ پر اعتماد کرتے ہوئے کبھی کبھی اپنا حالِ دل بھی میرے گوش گزار کر دیا کرتا تھا۔  آج  شاید چار ساڑھے چار سال بعد اس سے بات ہورہی ہوگی۔ چند رسمی باتوں کے بعد اس نے بتایا کہ آئی ٹی کمپنی والا معاملہ تو سیٹھ صاحب نے کچھ عرصے بعد ہی لپیٹ دیا تھا۔ کیونکہ اس سے انہوں نے جتنا کمانا تھا، کما لیا۔ بعد میں سبکو کسی نہ کسی کیس میں الجھا کر فارغ کردیا ۔ یوں ملازمین کے بنیادی حقوق بھی ہڑپ کرگئے۔ لیکن جس بات کے لئے اس نے مجھے فون کیا تھا، وہ یہ سب باتیں نہیں تھیں۔ جب اس نے اصل بات بتائی تو میرے  قدموں تلے زمین کھسک گئی۔جاوید نے بتایا کہ پچھلےسال سلیم صاحب کو کینسر تشخیص ہواتھا۔ سارا سال مختلف جگہوں پر علاج ہوتا رہا، اب وہ موت و حیات کی کشمکش میں مبتلا ہیں۔ امریکہ سے علاج میں ناکامی کے بعد آجکل اسلام آباد  میں  ہیں جہاں انکے پرانے دوست ڈاکٹر ایاز انکا اپنے ہسپتال میں علاج کے نام پر خیال رکھ رہے ہیں ۔  ۔۔ میں نے کہا کہ جب امریکہ میں انکا علاج نہ ہوسکا تو اسلام آباد میں کیا ہورہا ہے؟؟اس پر جاوید نے  اپنی عقل  اور مشاہدہ کے مطابق بتایا کہ سیٹھ صاحب کے دوست بھی انکی طرح پیسے کے لالچی ہیں۔ وہ علاج کے نام پر سیٹھ صاحب سے خوب پیسہ بٹور رہے ہیں۔

 فون بند کرکے میں لمبی سوچوں میں گم گیا۔ مجھے سلیم صاحب کی ایک ایک بات اور ایک ایک ادا یاد آنے لگی۔ پچپن سال کی عمر میں بھی پچیس سال والی ترنگ۔ دن میں سولہ سولہ گھنٹے مسلسل بغیر غلطی کئے  کام کرنا۔ کروڑوں کو اربوں میں اور اربوں کو کھربوں میں بدلنا۔روپیہ روپیہ تو دور کی بات، ٹکے ٹکے کا حساب رکھنا۔ پیشہ ورانہ زندگی میں میرے آئیڈئیل۔۔ سیٹھ سلیم اسوقت موت و حیات کی کشمکش میں تھے۔ ہمارے دور میں انکو السرتو تھا ہی جسکی وجہ سے میں نے کبھی انکو چائے اور توس کے علاوہ کچھ کھاتے نہیں دیکھا تھا۔ لیکن دراصل انکے پیٹ میں کینسر پل رہا تھا، اس طرف تو کبھی سوچ گئی ہی نہیں۔ ۔۔

میں نے ماضی کی تلخیوں کو بالائے طاق اور مکارمِ اخلاق و صلہءرحمی کو مقدم رکھتے ہوئے فوراً سلیم صاحب کی مزاج پرسی کے لئے ہسپتال جانے کا فیصلہ کیا۔ انکے کمرے میں پہنچ کر مجھ پر جیسے آسمان سے کوئی پتھر گر گیا ہو۔ چھ فٹ کا وجہیہ، اسمارٹ،  پرکشش ترین انسان اور میرا آئیڈئیل پروفیشنل  ایک نچوڑے ہوئے لیموں کی مانند بستر پر پڑا تھا جسکے دونوں ہاتھوں میں ڈرپ کی سوئیاں جڑی ہوئی تھیں۔ عجیب و غریب قسم کی مشینیوں سے نکلنے والی نلکیاں سارے جسم پر ہی لپٹی ہوئی تھیں۔  سیٹھ صاحب کے بھرے ہوئے سفید گال اب دواؤں کی حدت سے سیاہ گڑھوں میں بدل چکے تھے۔ آنکھیں بھی اندر کو دھنسی ہوئی اور چہرے کی ہڈیاں واضح ہوچکی تھیں۔ سیٹھ صاحب کے سرہانے رکھے ہوئے اسمارٹ فون پر  سورۃ الرحمٰن کی تلاوت  انکے جسم میں پہنچ کر  انکی دانست میں کینسر کا مقابلہ کررہی تھی۔ مجھے دیکھ کر سیٹھ صاحب نے بمشکل آنکھوں کو مزید کھولنے کی کوشش کی ۔ مجھ سے کچھ گفتگو نہ ہوپائی۔ بہت مشکل سے میں نے اپنے جذبات پر قابو پایا اور انکا حوصلہ بڑھانے کی نیت سے بس اتنا کہا کہ سر!  یہ بھی زندگی کے اور امتحانوں کی طرح ایک امتحان ہے۔ یہ بھی انشاءاللہ گزر ہی جائیگا۔ آپ انشاءاللہ جلد ٹھیک ہوجائیں گے۔ ۔۔سیٹھ صاحب نے بہت مشکل سے کچھ کہا۔ اور انکا یہ کہنا میری حیرت میں مزید اضافے کا باعث بنا۔ سیٹھ صاحب نے فرمایا کہ بیٹا ! مشکل میں تو اللہ اسے ڈالے جو اسکا نافرمان ہو۔ میں نے تو آج تک کسی کا برا تک نہ سوچا۔ پھر اس نے مجھے امتحان میں کیوں ڈال دیا؟؟؟؟

میرے پاس سیٹھ صاحب کے اس معصومانہ سوال کا کوئی جواب نہ تھا۔ کیونکہ کہہ تو وہ بھی ٹھیک رہے تھے۔۔۔ انہوں نے واقعی کبھی کسی کا برا نہیں سوچا۔ بس اسکے ساتھ برا کر گزرتے تھے۔۔۔۔ وہ بھی چند ٹکوں کی خاطر۔اب  ان ٹکوں سے وہ ہسپتال والوں کی کمائی تو کروا رہے تھے، لیکن خدا انہیں صحت نہیں دے رہا تھا۔ تھوڑی دیر وہاں گزار کر میں گھر واپس آگیا۔ زندگی اور موت خدا کے ہاتھ میں ہے۔ کسی کو کسی کا نہیں پتا۔ لیکن سیٹھ  صاحب کی حالت اس حد تک بگڑ چکی تھی کہ انکے مزید زندہ رہنے کی کوئی صورت نظر نہیں آتی تھی۔ ایک ہفتے بعد جاوید کا فون پھر آیا اور اسکا پیغام سن کر میرے منہ سے بے ساختہ نکلا، ” انا للہ وانا الیہ راجعون۔”

کہانی ابھی ختم نہیں ہوئی۔

 انکے انتقال کے ایک ہفتے بعد میں  بیگم صاحبہ  اور دیگر اہلِ خانہ سے تعزیت کرنے انکےمستقل  گھر لاہو  ر گیا۔  یہ بات بھی میرے لئے باعثِ حیرت ٹھہری کہ بیگم صاحبہ کے حال حلئے  اور گھر کے عمومی ماحول سے بالکل بھی احساس نہیں ہورہا تھا کہ یہ موت کے سوگ کا گھر ہے۔ محل نما عمارت میں آرائش و زیبائش کا سامان زمین تا چھت اپنی قیمت بتا رہا تھا۔ مکان میں سب کچھ تھا لیکن گھر کا احساس نہیں۔ اسی روز  مجھے معلوم ہوا کہ سیٹھ صاحب  کی جو دو بیٹیاں تھیں، وہ دراصل انکی اپنی اولاد نہ تھیں۔ وہ بیگم صاحبہ کے پہلے شوہر کی بیٹیاں تھیں۔ سیٹھ صاحب کی اپنی کوئی اولاد نہ تھی۔ یہ میرے لئے ایک اور اچنبھا تھا۔  میں سوچنے لگا کہ جب سیٹھ صاحب کے آگے پیچھے کوئی نہ تھا، پھر انکو دولت کی اتنی لگن کیوں تھی؟ کس کے لئے وہ چوبیس گھنٹے گدھوں کی طرح محنت کیا کرتے تھے؟ کون تھا انکا وارث جسکے لئے وہ اربوں روپے اکٹھا کئے جارہے تھے۔ یہ زمینیں، یہ کارخانے، یہ پلازے، یہ دکانیں، فارم ہاؤس۔۔۔ اور نجانے کیا کیا۔ یہ تو وہ دولت تھی جو ہمارے سامنے کی تھی۔ اسکے علاوہ اور پتا نہیں کیا کیا تھا جو سیٹھ صاحب اپنے غریب ملازموں کا پیٹ کاٹ کاٹ کر جمع کیا کرتے تھے۔

مجھے یاد آیا کہ ایک مرتبہ شام کو  گزرتے ہوئے انہوں نے دفتر کا چکر لگایا اور اکاؤنٹینٹ سے لیجر طلب کیا۔ جب لیجر انکی ٹیبل پر پہنچا تھا تو  لاکھوں کے منافع کو چھوڑ کر انکی نظر پچاس روپے کے حساب  پر رکی، جو کہ متفرق  کے خانے میں لکھا  ہوا تھا۔ اکاؤنٹینٹ سے پوچھا تو اس نے بتایا کہ اکرم کو کسی کام سے باہر بھیجا تھا۔ دوپہر کا وقت تھا تو اس نے کھانا باہر سے ہی کھالیا تھا۔ یہ پچاس روپے اس مد میں خرچ ہوئے ہیں۔ سیٹھ صاحب نے اکاؤنٹنٹ سے وہ پچاس روپے اکرم سے لینے کو کہا۔ اس پر اس نے حیران ہو کر کہا کہ سر جانے دیجئے۔ غریب آدمی سے پچاس روپے کیا لینے! وہ بھی دفتر کے کام سے ہی باہر گیا تھا۔ اگر دفتر میں ہوتا تو یہیں کھانا کھاتا۔ اس پر انہوں نے اکاؤنٹنٹ سے بڑے پیار سے فرمایا کہ اگر آپکو اس کا اتنا ہی خیال ہے تو یہ پیسے آپ ادا کریں۔ مجھے حساب صاف چاہیئے۔  ایک گھنٹہ اگر وہ کھانا نہ کھاتا تو مر نہیں جاتا۔ دفتر میں انہی شہزادوں کے لئے ہم نے خانساماں رکھے ہوئے ہیں۔ ۔   ۔ سیٹھ صاحب کو ایک مرتبہ میں نے خیرات کرتے ہوئے بھی دیکھا۔ جب ہم اپنے خراب اور ناقابلِ استعمال کمپیوٹروں کے ڈھیر کو اسٹور میں پھینک رہے تھے تو سیٹھ صاحب نے کسی ایک کمپیوٹر کو چالو حالت میں لانے کو کہا۔ میرے استفسار پر انہوں نے بتایا کہ جاوید کا بیٹا اب کالج میں آگیا ہے۔ وہ اپنے بیٹے کے لئے کمپیوٹر مانگ رہا تھا۔ ان میں سے کسی ایک مشین کو ٹھیک حالت میں کرکے جاوید کو بلا کر اسکے حوالے کردینا۔ ۔۔ تمام مشینوں کی حالت میں جانتا تھا۔ ان میں سے کوئی ایک مشین بھی اس قابل نہ تھی کہ کسی کو دی جاسکے۔ نئے خریدے گئے اور ابھی تک استعمال میں نہ آئے کمپیوٹروں میں سے ایک سستا اور ہلکا ترین کمپیوٹر بھی وہ اس غریب کو دے دیتے تو انکے سونے کے ہمالیہ میں رائی دانے برابر بھی فرق نہ پڑتا ، لیکن انہوں نے اس مد میں ایک اٹھنی بھی خرچ کرنا گوارا نہ کیا اور کباڑ خانے میں سے ایک ڈبہ اٹھا کر جاوید  اور اسکے خاندان کے منہ پر احسان کا طمانچہ مار دیا۔

ایک مرتبہ سیٹھ صاحب نے اچانک سے دفتر پر اس وقت چھاپا مارا جب بجلی گئی ہوئی تھی اور گرمی کے عالم میں تمام عملہ اپنے اپنے کاموں میں مصروف تھا۔ جنریٹر کے شور میں  بھی کال سینٹر ایجنٹس اپنا کام کرنے میں مگن تھے۔ اس وقت سیٹھ صاحب اکیلے نہیں تھے بلکہ انکے ساتھ انکے سب سے بڑے کلائنٹ ڈاکٹر اسمتھ جانسن تھے۔   ڈاکٹر اسمتھ جانسن کا سڈنی میں ہسپتال  تھا جسکے تمام سوفٹ وئیر ہماری کمپنی بناتی تھی اور انکا کال سینٹر بھی ہم ہی چلارہے تھے۔  ڈاکٹر جانسن ہمارے سب سے بڑے اور منافع بخش گاہک تھے۔ یہ بات سب جانتے ہیں کہ عموماً جب کسی کلائنٹ یا غیر ملکی  شخصیت کو دفتر میں مدعو کرنا  ہو تو معمول سے ہٹ کر غیر معمولی انتظامات کئے جاتے ہیں۔ اس دن دفتر ایسا دکھائی دیتا ہے جیسا ساری زندگی نہیں ہوتا۔  تمام عملہ اس دن عام ڈگر سے ہٹ کر تیار ہو کر آتا ہے اور ہر طرح کا نظم و ضبط صرف اس ایک دن کے لئے سبکی زندگی کا حصہ بن جاتا ہے۔ لیکن ہمارے سیٹھ صاحب کے تمام کام نرالے تھے۔ وہ کاروبار میں عجیب وغریب قسم کے تجربے کرتے تھے اور میرے علم کے مطابق آج تک انکا کوئی تجربہ ناکام نہیں گیا تھا۔   خود مجھ جیسے ایک نوزائیدہ اور کم تجربہ کار نوجوان کے ہاتھوں سے ایک دفتر شروع کروانا بھی میری نظر میں ایک انوکھا تجربہ ہی  تھا۔ خیر۔۔۔۔بجلی کی غیر موجودگی میں ڈاکٹر جانسن کو دفتر کا چکر لگوانے کا مقصد صرف سیٹھ صاحب کو ہی معلوم تھا  جو بعد میں ہمیں پتا چلا تو ہم سیٹھ صاحب کی عیاری کی داد دئے بغیر نہ رہ سکے۔ ہوا یہ کہ برے ترین حالات کو اپنے سب سے بڑے کلائنٹ کے سامنے پیش کرکے سیٹھ صاحب نے  دراصل اعتماد کرنے والے گوروں کو شرم سے پانی پانی کردیا تھا۔ سیٹھ صاحب کی چال کے مطابق وہ اتنے برے حالات میں بھی ڈاکٹر اسمتھ کی کمپنی کو بہترین خدمات مہیا کررہے تھے جبکہ ان مشکل حالات کا انکو بہت کم معاوضہ مل رہا تھا۔ ڈاکٹر اسمتھ اپنے خدمت گزاروں کا اتنا برا حال اور خدمت کا اتنا اعلیٰ معیار دیکھ کر شرمندہ ہوگئے اور انہوں نے سیٹھ صاحب کی من چاہی اور منہ مانگی انوائس قبول کرلی۔ یوں سیٹھ صاحب کے ڈالر کے باغ  پر تو بہار آئی ، لیکن ہم مالی کے مالی ہی رہے۔۔۔

سینیٹر سلیم احمد خان مرحوم کے محل سے واپسی پر میں خود سے یہ سوال کرنے لگا کہ یہ سونے چاندی اور ہیرے جواہرات کے مول میں تُلے ہوئے محل اور جائیدادیں پھر کس کے لئے تھیں؟ یہ تشنہء جواب سوال تھا۔ میں نے دماغ کو جھٹکتے ہوئے خیالات کے اس جہنم سے چھٹکارا پانے کی ناکام کوشش کی۔ دو چاردن اور گزرے تو یہ تمام باتیں بھی یادداشت سے محو ہو گئیں اور میں اپنی روزمرہ مصروفیات  کے تانگے میں جُت گیا۔  دفتری مصروفیات، نجی زندگی کے معمولات، ازدواجی زندگی، سفر اور ہلکی پھلکی تفریح کے مواقع نے ماضی کی اس تصویر پر گرد کی تہہ جمانا شروع کی جو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ موٹی ہوتی گئی اور یوں سیٹھ صاحب بھی دیگر چیزوں کی طرح اک قصہء پارینہ بن کر یادوں سے محو ہوگئے۔ لیکن قدرت نے شاید انہیں میری زندگی کے لئے عبرت کی ایک گھنٹی کے طور پر میری زندگی کی راہگزار پر تھوڑے تھوڑے فاصلہ پر لٹکا رکھا تھا۔  میں جہاں زندگی کی بھول بھلئیوں میں بھٹکنے لگتا تو کسی موڑ پر گھنے درخت پر لٹکی یہ گھنٹی میرے سر پر ٹنٹنانے لگتی۔

ذاتی طور پر مجھے فیشن اور شو بز کی دنیا سے نہ کوئی لگاؤ تھا اور نہ ہی کوئی لینا دینا۔ جو اچھا لگا پہن لیا، یہ تحقیق کئے بِنا کہ یہ فیشن کے مطابق ہے بھی یا نہیں۔ ( یہ الگ بات کہ سیٹھ صاحب کی سوٹنگ دیکھ کر منہ میں پانی ضرور آتا تھا۔۔)  اور نہ ہی ٹی وی اور فلم سے کبھی اتنا لگاؤ محسوس ہوا کہ یہ جان سکوں کہ کون ہیرو مشہور ہے اور کونسی ہیروئین آج کل دلوں کی دھڑکن ہے۔ لیکن ایک روز با دلِ نخواستہ اس کڑوے گھونٹ کو بھی پینا ہی پڑا جب ہماری کمپنی نے ایک فیشن شو کو اسپانسر کیا۔یہ بھی ایک عجیب منطق ہے کہ عورت کا عالمی دن منایا جاتا ہے اور اس میں عورت ہی کو ایک شو پیش بنا کر خونخوار نجس جانور جیسے مردوں کے سامنے سجا کر رکھ دیا جاتا ہے۔۔ وہ محفل بھی کچھ اسی قسم کی تھی جس میں عورتوں کے عالمی دن کےموقع پر ایک فیشن شو کا اہتمام کیا گیا تھا۔ میں نے پوری کوشش کر لی کہ  کسی طرح اس فیشن شو بلکہ فحاشی شو میں جانے سے بچ جاؤں لیکن کمپنی کی جانب سے اس شام کو برباد کرنے کا واجبی حکم آچکا تھا۔ سو مرتا کیا نہ کرتا کے مصداق چل پڑا اور ایک کونے میں جگہ تلاش کرکے  آصف  کے ساتھ گپوں میں مصروف ہوگیا۔ رنگ برنگی روشنیاں جگمگا رہی تھیں، کان پھاڑ دینے والی آواز میں میوزک بج رہا تھا اور ریمپ پر نجانے کن خاندانوں کی عصمتیں اپنے  نیم ملبوس جسم کی نمائش سے سگ خصلت  مردوں کی رال ٹپکانے کا بندوبست  کررہی تھیں۔  دوگھنٹے کسی طور گزر ہی گئے۔ اور وہ وقت آن پہنچا جب پھر سے سیٹھ صاحب میری زندگی میں وارد ہوئے۔

شو کے اختتام پر جب انعامات تقسیم کرنے کا وقت آیا تو ہمارے سی ای او صاحب نے خود تو اسٹیج پر جانے سے معذرت کرلی اور میرا ہاتھ تھام کر زبردستی مجھے اسٹیج کی جانب دھکیل دیا۔ یہ وہ مشکل ترین کام تھا جو نہ آج تک میں نے کیا تھا اور نہ ہی آج کے دن اس کام کو میرے ہاتھوں انجام دلوانا پروگرام  میں شامل تھا۔ لیکن یہ قدم بھی بہ امرِ مجبوری اٹھانا پڑے اور میں اسٹیج پر جاکر کھڑا ہوگیا۔ ایک کے بعد ایک کوئی نہ کوئی خاتون اور مرد آتا رہا اور میں ایک ایک شیلڈ اسکے ہاتھ میں تھماتا رہا۔ ہوتے ہوتے آخری شیلڈ رہ گئی اور میرے کندھوں سے یہ بے تکا بوجھ اترنے لگا۔ آخری شیلڈ کے لئے اس  رنگین شام کی روحِ رواں اور ویمنز سوسائیٹی کی چئیر پرسن محترمہ روبینہ علی کے نام کا اعلان ہوا، جس پر تمام ہال تالیوں سے گونج اٹھا  اور چند لمحوں بعد میرے سامنے مسز روبینہ علی سابقہ مسز روبینہ سلیم احمد کھڑی تھیں۔ تالیوں کی گونج میں بیگم صاحبہ نے میرے ہاتھ سے اپنی شیلڈ وصول کی لیکن میرے کانوں میں تالیوں کے علاوہ کچھ اور ہی گونجتا رہا۔ مسکراہٹوں کے مصنوعی تبادلے کے ساتھ ہم نے ایک دوسرے کے ساتھ تہنیتی اور شکرئے کے کلمات کا تبادلہ کیا اور اسٹیج سے اترآئے۔

ڈنر کے وقت بیگم صاحبہ نے اپنے موجودہ شوہر سے میرا تعارف کروایا، جو میرے لیے بالکل بھی نئی شخصیت نہیں تھے۔ بیرسٹر عابد علی خان ہماری کمپنی کے  وہ وکیل تھے  کہ جنکے  شاطر دماغ کا لکھا ہوا معاہدہ میرے اور اس خاندان کے درمیان رشتہ ختم کرنے کا باعث بنا تھا۔ خدا کو نجانے کیا منظور تھا۔ پانچ چھ سال بعد ہم ایک دوسرے سے ملے بھی تو کن حالات میں ۔۔۔ بیگم صاحبہ تو اپنے اسی جوش اور جذبے سے ملیں لیکن بیرسٹر صاحب کھسیانی بلی کی مانند کھمبا نوچتے ہوئے محسوس ہوئے۔ جبکہ اسمیں کوئی برائی نہ تھی۔ شادی کرنا اور اپنا گھر بسانا ہر انسان کا شرعی اور معاشرتی حق ہے۔لیکن کیا کیا جائے۔ جب بھی انسان کھسیاتا ہے تو اسکا مطلب ہوتا ہے کہ ضرور کہیں نہ کہیں دال میں کالا رہا ہوگا۔ اور یہاں یہ کالک واضح تھی۔ یقیناً سیٹھ صاحب کے انتقال کے بعد انکی دولت اور جائیداد پر بیرسٹر صاحب کی نظر آج انہیں ہماری نظر میں شرمندہ کررہی تھی۔ بیگم صاحبہ سے میں نے عامر اور انکی بیٹیوں کے بارے میں بھی پوچھا۔ معلوم ہوا کہ بیٹیوں کو تو انہوں نے امریکہ بھجوادیا ہے جہاں پر وہ اپنی تعلیم حاصل کررہی ہیں۔ حال ہی میں ایک بیٹی اور ہوئی ہے۔ عامر بدستور انکی فیکٹریوں کو دیکھ رہا ہے اور خوب اوپر جارہا ہے۔

واپسی کے سفر پر میرا طائرِ تخیل بھی بہت اونچی پرواز کرتا رہا اور میں اس عجیب و غریب اور ڈرامائی داستان کو سوچتا رہا جو ہر طرح سے کسی ٹی وی سیرئیل کے لئے موزوں تھی۔ لیکن یہ کوئی ڈرامہ نہیں تھا۔ میری اپنی زندگی کی آپ بیتی تھی۔ اس کہانی کا ایک ایک کردار جیتا جاگتا میری زندگی میں شامل تھا۔ بلکہ میں خود اس کہانی کا مرکزی کردار تھا۔ مجھے سمجھ نہ آئی کہ  کیسے چلتے چلتے میری زندگی میں سیٹھ صاحب کا باب کھلا  او ر میں خود بھی حیرت کدے کا حیران و پریشان کردار بن گیا۔

میرے ہم عصر ملازمت پیشہ افراد کو شاید یہ کہانی بے تکی لگے۔ اور بے تکی سے زیادہ شاید انکی اپنی لگے۔ کیونکہ ہمارے یہاں عموماً دفاتر کا ماحول کچھ ایسا ہی ہے۔ جہاں سیٹھ کو اپنے سرمائے سے غرض ہوتی ہے۔ ملازمین کی مشکلات کا اسے علم تو ہوتا ہے، مگر احساس نہیں۔ ملازمین اسکی نظر میں چور ہوتے ہیں جن پر بھونکنے کے لئے کوئی نہ کوئی بدطینت اور بداخلاق چوکیدار بٹھا دیا جاتا ہے جو کام کاج کے سلسلے میں تو بالکل ہی فارغ البال ہوتا ہے لیکن ملازمین پر بھونکنے اور اپنے مالک کے سامنے دم ہلانے کا ماہر ہوتا ہے۔ کیونکہ اسے محض اپنی ہڈی سے ہی سروکار ہوتا ہے۔  اس سگ فطرت انسان کے خوف سے کچھ لوگ سانس روک کر اپنے کام سے کام رکھتے ہیں اور کچھ شاطر الفطرت لوگ  اس کی  فطرت سے آگاہ ہوتے ہوئے اسے چاپلوسی کی چمکار سے اپنا کام نکالتے رہتے ہیں۔ جو یہ دونوں کام نہیں جانتے، وہ کبھی نہ کبھی ا پنی ٹانگ  پر کتے کےزہریلے  دانت گڑوا بیٹھتے ہیں کہ جنکا اثر پیٹ میں خوراک کی بجائے تکلیف دہ ٹیکے لگنے سے ہی جاتا ہے۔کبھی بونس کی نوید سنانا اور پھربین الاقوامی اور قومی تناظر میں مشکلات اور وسائل کی کمی کا رونا رو کر چپ سادھ لینا، کبھی تنخواہیں نصف کردینا، کبھی ملازمتیں ختم کردینا اور جب مقصدحاصل ہوجائے تو نقصان کے بہانے کمپنی ہی کو لپیٹ دینا وہ مظاہر ہیں جو ہم سب کی زندگیوں کا لازمی جزو بن چکے ہیں۔

لیکن میں دیکھوں تو مجھے یہ کہانی اپنے ملک کی معلوم ہوتی ہے۔ ہر دور میں اس ملک پر کچھ سرمایہ دار  “سیٹھ صاحبان “قابض نظر آتے ہیں، جن کی نظر میں یہ ملک انکاوہ کاروبارہے جس سے صرف منافع آنا مقصود ہے۔  کبھی اس کارو بار کو آمریت کہہ دیا جاتا ہے تو کبھی جمہوریت کے نام سے پکارا جاتا ہے۔  کبھی یہ پارٹی ہوتی ہے تو کبھی وہ پارٹی اور کبھی یہ وہ دونوں پارٹیاں۔۔۔۔ سیٹھوں کو عوام کو کام کی چکی میں جُتا رکھنا اور ان پر نظر رکھنے کے لئے سگ خصلت “عامر” جابجا دستیاب ہیں جو کبھی “قانون ” کہلاتے ہیں تو کبھی “قانون نافذ کرنے والے ادارے”، کہیں یہ “وزیر” ہوتے ہیں تو کہیں “وزارتیں”۔۔۔ وغیرہ وغیرہ۔ ۔  بہترین افراد اور افرادی قوت کو دو وقت کی روٹی کے پیچھے لگا کر اسکی صلاحیتوں کو نالی میں بہا کر ترقیاتی منصوبوں کے نام پر خود غیرملکی دوروں پر اربوں روپے اڑا دینا  اور کمیشن کی مد میں کھربوں روپے ڈکار جانا صرف “عامر” اور اسکے “من چاہے لاڈلوں” کے معاہدوں کا ہی حصہ ہوتا ہے۔غریب اور محنت کش عوام کے لئے  بس روٹیوں کے چند ٹکڑے ہیں جو وقتاً فوقتاً وسائل کی کمی کا رونا رو کر صلب بھی کرلئے جاتے ہیں۔ کبھی بجلی کا بحران ، تو کبھی پانی کا۔ کبھی گیس ناپید تو کبھی تیل غائب۔ کبھی دہشتگردی تو کبھی دہشتزدگی کے نام پر عوام کو الجھائے رکھنا اور پھر کبھی چونی دونی کی قیمت گرا کر، کبھی کسی پالتو  کتے کو “دہشتگرد” کے عنوان سے  میڈیا پر لا کر  احسان کا طمانچہ منہ پر مار کراس زبان کو بند کروا دینا جو کبھی کھلتی ہی نہیں۔  یہ احسان بسا اوقات سستی روٹی کا روپ دھار جاتا ہے تو کبھی “ترقیاتی کام” کے عنوان سے ریت گارا بن کر کسی مصروف گزرگاہ پر پھنسے عوام کا راستہ روک کر منہ چڑاتا ہے۔ اس ملک میں ان گدھوں کی کوئی کمی نہیں جو “رہا سہا روزگار” چلے جانے کے خوف سے صبح دفتروں ، بازاروں، کھیتوں، منڈیوں اور رزق کمانے کی مقامات کو جاتے ہیں اور رات گئے بن بجلی ، پانی، روٹی کے  ٹپکتی چھتوں کے گھروں میں جا کر سو جاتے ہیں۔ یہی اس ملک کا پچانوے فیصد وہ اکثریتی طبقہ ہے جو غلامی سے آزادی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے، کہ خوف اسکی رگوں میں خون بن کر دوڑتا ہے۔  یہیں ایک چاپلوس طبقہ بھی  ہے جسکی ہردور میں چاندی رہتی ہے اور اسکا سوفٹ وئیر تمام حالات میں بکتا رہتا ہے۔ طرزِ حکومت کوئی بھی ہو اور کوئی بھی پارٹی حکمران۔۔۔ انکا کام صرف چاپلوسی کرکے اپنا الو سیدھا رکھنا ہے۔ جب یہ حکمران آئے تو یہ جیئے۔ اور وہ حکمران آئے تو اسکو قدم بڑھانے کے مشورے اور اپنے ساتھ کی یقین دہانیاں۔  ۔۔ اس قسم کے ڈویلیپرز ہمارے نظام میں سرکاری  افسران، تاجر اتحاد، مزدور یونین اور علمائے کرام کے نام سے جانے جاتے ہیں۔۔ ان سرمایہ پرستوں کے سرمائے کو مسلسل بڑھتا رہنے کے فارمولے بنانے والے  “بیرسٹر عابد” بھی اپنا کام جاری رکھتے ہیں۔ پیش منظر میں سیٹھوں کا سرمایہ محفوظ ہورہا ہوتا ہے جبکہ پس منظر میں اسی سرمائے کا مالک بننا مقصود ہوتا ہے۔ یہ کام “تھنک ٹینکس ” اور “مشیروں” نے اپنے ذمے زبردستی لے رکھا ہے۔  اس سارے منظر نامے میں کچھ مجھ جیسے آنکھیں اور کان رکھنے والے وہ باشعور عوام بھی ہیں جو ظلم کے خلاف آواز اٹھانا بھی چاہیں تو تنہائی کا شکار ہوکر اپنی راہ لے لیتے ہیں۔  ہم کچھ کرنا بھی چاہیں تو ہماری اپنی عزت، وقار، گھر والے اور روزگار آڑے آکر ہمارا راستہ روک لیتے ہیں۔

پیسہ بنانے اور مادی ترقی کی اس دوڑمیں ہر سیٹھ ہزار بیماریاں اپنے جسم میں پالتا ہوا اپنے انجام کی جانب بڑھتا رہتا ہے۔ کوئی چائے توس  اور کوئی پائے نہاری کو اپنے جسم میں پلنے والے سرطان کی خوراک بناتا رہتا ہے۔ ساری زندگی خدا کی نعمتوں کو جھٹلانے والوں کو آخرِ شب سورۃ الرحمٰن نے کیا شفا دینی! تمام زندگی غریبوں کا رزق چھین کراپنی جہنم سجانے والوں کو  کعبۃ اللہ کا طواف اور حجرِاسود کے بوسے کیونکر  نجات دے سکتے ہیں؟یہ قانونِ قدرت ہے کہ کسی کی چوری یا غصب شدہ چیز کبھی چور کو راحت نہ پہنچا سکی۔ اس غصب شدہ مال کو چوری کرنے کے واسطے کہیں کوئی اور چور موجود رہتا ہے۔ کبھی عامر کی صورت تو کبھی بیرسٹر عابد کی شکل میں۔ کچھ بیگم صاحبات بھی ہیں کہ جنکا فیشن اور سوشل سرکل کسی نہ کسی صورت میں جاری ہی رہتا ہے کہ انکی چاہ ہی اتنی تھی۔ سو خدا نے انکو اتنا ہی دیا۔

اب زرا اور اوپر ہو کر دیکھیں۔۔۔۔ چند ممالک میں بانٹی گئی  یہ دنیا۔۔۔ اس پر مسلط سرمایہ  دارانہ نظام۔۔۔۔ اس سے جڑے   امریکہ، برطانیہ، سعودی عرب، قطر، پاکستان، ایران، عراق، شام، وینزئیلا، یمن،  لبنان، سوڈان، صومالیہ،  مصر، تیونس، الجزائر، لیبیا، یو این او، یورپئین یونئین، جی ایٹ، عرب لیگ،  اوآئی سی، فارچون 500،   ورلڈ بینک، آئی ایم ایف، القاعدہ، النصرۃ، داعش، طالبان، سپاہِ صحابہ، بوکوحرام۔۔۔۔ اس گلوبل کمپنی کے سیٹھ سلیم، عامر، عابد، بیگم صاحبہ، مرتضٰی، میں، ڈاکٹر جانسن،  ڈویلپزر، کال سینٹر ایجنٹس، اکرم، دیہاتی غنڈے، کچھ چاپلوس اور زیادہ تر جٗتے رہنے والے گدھے۔۔۔۔ کسی کا نام جمہوریت، کہیں صدارت، کہیں بادشاہت، کوئی  آمریت تو کوئی کچھ اور۔۔۔۔ہمارے لئے   سیٹھ، تو کسی اور کا  عامر۔۔۔۔  یہ دنیا۔۔۔چند سرمایہ داروں کی کاروبارانہ جاگیر۔۔۔۔ ہر ملک اپنی پیداواری صلاحیت کے مطابق ایک کمپنی، جسکے باشندے انکے روٹی خرید غلام۔۔۔ انکا استحصال واجب۔۔۔  دوپہر کی روٹی کے پچاس روپے بھی واپس کھینچ لینا۔۔۔۔ مختلف ادوار میں مختلف ضروریاتِ زندگی کی قلت کے بحران پیدا کرکے انہیں مشقت  اور بھوک کے خوف کے کے ہل میں جوتے رکھنا۔۔۔۔ بجلی ، پانی، گیس، آٹا، دال ، امن و امان کو غائب کرکے دہشت ، بھوک  اور بیماریوں  کا راج پھیلا دینا۔۔۔۔۔۔پھر اپنے نوازنے والوں کو انکی یہ ناگفتہ بہ حالت دکھا کر ڈالروں اور ریالوں کی بھیک مانگنا ۔۔۔ پھر انکو بدستور بھوکا ہی رکھنا اور انکے نام پر مانگی گئی خیرات سے اپنی  ہی تجوریوں کے منہ بھرنا۔۔۔۔۔۔جب کوئی ملک اپنے منصوبے کے برخلاف چلتا نظر آئے  تو  لسانیت اور فرقہ واریت پھیلا کرقیامِ امن کے نام پر اسکے مظلوم عوام کو اپنی کاٹ کھانے والی فوجوں کی ہڈی بنا دینا۔ ہر ملک کے مزاج اور فطرت کے مطابق اس پر مامورعامر۔۔۔۔ جنکا کام صرف ہڈی کے عوض بھونکنا اور اپنے آمر و آجر کے سرمائے کی حفاظت کرنا ۔۔ بدبودار پسینے میں شرابور مونچھوں والے غنڈے۔۔ خود کش دھماکے، ٹارگٹڈ کلنگ،  اغوا، عصمت دری، بھتہ خوری۔۔۔۔ بیگمات کے  فلاحی کام، این جی اوز،  صدقہ خیرات۔۔۔فیشن شوز،   رنگ برنگی روشنیاں، میوزک، فحاشی، چکاچوند۔۔۔۔   سونا ، چاندی، تانبا،  ہیرا، کوئلہ، تیل، گیس اگلنے والی سرزمینوں پر بھوک اور پیاس کاشت کی جاتی ہے۔ انسان نما اس مخلوق کو مارنے کے لئے محض بھوک اور  پیاس نامی عفریت ہی کافی ہیں۔ لیکن نہیں۔۔۔۔ ڈینگی، ایڈز، ایبولا قطعی موت کی ضامن کے طور پر چھوڑی جاتی ہیں۔۔۔۔لیکن ۔۔۔ ایک دنیا اور متوازاً چل رہی ہے۔  دوسری جانب ربِ ذوالجلالِ والاکرام کا کارخانہ چالو ہے۔ ۔۔۔چائے، توس، پائے ، نہاری، پیٹزا، برگر، پاستا، لحم الخنزیر، شراب۔۔۔۔ تیل، پانی، سونا، چاندی، تانبا، کوئلہ، گیس، لیتھئیم،  فولاد۔۔۔۔۔  خالی پیٹ بھرنے کے بجائے  بالآخر  السر، کینسر ، رینل فیلئیر،  عجیب و غریب بیماریاں، حادثات، دہشتگردی ، زلزلے، سیلاب، ریتلے طوفان، سمندری ہیجان اور خونی جنگوں کا روپ دھار کر  اپنی دانست کے مطلق العنان سرمایہ پرست بادشاہوں کی بے بسی کا مذاق اڑاتے ہیں۔ اپنی حفاظت کے لئے اکٹھا کئے گئے اسلحے کے ڈھیر اپنے ہی اوپر برس پڑتے ہیں۔  دووسروں پر بھونکنے کے لئے پالے گئے کتے اپنی ہی ٹانگوں پر کاٹ بیٹھتے ہیں۔  کبھی کبھی کتے کے کاٹنے کی نوبت بھی نہیں آتی۔ تاریخ بتاتی ہے کہ ایسے سیٹھوں کے لئے  ایک مچھر ہی کافی ہوتا ہے۔ وہی ادنیٰ اور حقیر ترین مخلوق کہ جسکی مثال خداوندِ ذوالجلال  قرآنِ مجید میں بیان کرنے سے زرا قباحت محسوس نہیں کرتا۔ ہاتھیوں کے لشکروں کے مقدر میں ابابیلوں کے ہاتھوں رُسوا  ہونا لکھ دیا گیا ہے۔

سورۃ الرحمٰن کی تلاوت، کعبۃ اللہ کا طواف اور سونے کے ہمالیہ میں سے رائی  دانے کے برابر دکھاوے کی خیرات کرنے والوں کے لئے یہی اعمال موت کا پروانہ ثابت ہوتے ہیں اور انکا یہی سرمایہ کسی اور معاہدے لکھنے والے کی جیب کی زینت بن جاتا ہے۔ لیکن نہیں بنتا۔۔۔۔۔۔ قانونِ قدرت ہے کہ کسی کا حق کسی دوسرے کو نہیں مل سکتا۔  چوری کا مال کسی بڑے  چور کی جاگیر بننے کا منتظر رہتا ہے۔

زندگی کی اس ڈرامائی داستان میں اپنا کردار نبھاتے نبھاتے اب میں بھی ادھیڑ عمری کو پہنچ چکا  ہوں۔  محتاط زندگی گزارنے کے باوجود غلطیوں اور پشیمانیوں کا ایک بوجھ اٹھائے چلے جارہا ہوں۔ ماضی میں کی گئی غلطیاں اور گناہ ضمیر کو جھنجھوڑتے رہتے ہیں۔ زندگی کی راہگزار میں لگے گھنے درختوں پر ٹنگی گھنٹیاں مسلسل بجتی رہتی ہیں۔ ماہرِ نفسیات کو دکھایا۔ کوئی افاقہ نہ ہوا۔ اس بیچارے کو تو خود علاج کی ضرورت تھی۔  ربِ ذوالجلال کا شفا خانہ  بھی عجیب طریقے سے علاج  کرتا ہے۔ ایک روز ایک درویش صفت عالم کی صحبت نصیب ہوئی۔ دل نے اس سے اپنا حال کہنے پرمجبور کیا۔ انہوں نے توجہ سے سننے کے بعد گھنٹیوں کی ٹنٹناہٹ کے جواب میں کثرت سے استغفار کرنے کا مشورہ دیا۔ اور ساتھ ہی ایک پریکٹیکل بھی بتلایا۔ وہ یہ کہ مہینے میں کم از کم ایک بار اپنے سے کم حیثیت لوگوں، یتیموں، مسکینوں اور بیماروں سے ضرور ملاقات کیا کروں۔اپنے طرزِ زندگی  کا موازنہ سیٹھوں کی بجائے ان اصل انسانوں سے کیا کروں۔

ابھی ایدھی ہوم سے ہوکر آیا ہوں۔ وِیل چئیر پر دھرے فالج زدہ بیرسٹر عابد علی صاحب کے پچکے ہوئے گال اور ہونٹوں سے ٹپکتی ہوئی رال  انکی بے بسی کا نوحہ پڑھ رہے تھے۔ تصورات میں  چلنے والی سورۃ الرحمٰن سب کچھ فنا ہوجانے اور صرف وجہِ ذوالجلالِ والاکرام کے باقی رہ جانے کی نوید سنا رہی تھی۔

(Visited 603 times, 1 visits today)

Qamar Raza Rizvi is a photographer & a journalist based in Islamabad. He writes for Islam Times & Tahera. He writes on current affairs, social and moral issues.

Leave a Reply

Got It!

اس ویب سائٹ کا مواد بول پلاٹون کی آفیشل رائے کی عکاسی نہیں کرتا. مضامین میں ظاہر معلومات اور خیالات کی ذمہ داری مکمل طور پر اس کے مصنف کی ہے