Here is what others are reading about!

اپنے آپ کے ساتھ

یہ میں اور آپ جو اپنے چوبیس میں سے آٹھ دس گھنٹے کی مجموعی دیہاڑی انٹرنیٹ پر لگاتے ہیں۔۔۔اس میں سے اگر آدھا گھنٹا نکالیں اور قریب کسی نرسری سے اپنی پسند کا ایک پودا لے آئیں اور اسے اپنے گھر کی زینت بنائیں، ہر روز ایک منٹ نکال کر اس کو پانی دیں اور پانچ منٹ ہر روز اس کے پاس بیٹھ جایا کریں۔۔۔یونہی ۔۔۔بلاوجہ ۔۔۔بس اس کی دن بہ دن ہوتی نشونما پر غور کریں اور ہر لمحہ اس میں آنے والی تبدیلیوں پر سوچیں ۔۔۔کہ کیسے ایک کونپل پھوٹتی ہے اور کیونکر وہ رفتہ رفتہ ایک شاخ میں ڈھل جاتی ہے. کیسے ہوتا ہے کہ ایک ڈال پر پھول آجاتے ہیں۔۔۔اور اس پھول میں رنگ کون بھرتا ہے ۔۔۔اور اس میں سے پھوٹنے والی خوشبو کے خالق کا کھوج لگائیں تو فطرت ہمیں ہر لحظہ حیران کرتی چلی جائے گی ۔۔۔۔۔اور اس حیرانی میں سکون ہوگا ۔۔۔۔نرمی ہو گی جو ہمارے اعصاب کو بھلی لگے گی۔۔۔ وہ اعصاب جو انٹرنیٹ کی دنیا کی فکریں پال پال کر تھک جاتے ہیں ۔۔۔ اکتا جاتے ہیں ۔۔۔آپکا وجود جو ایک ان دیکھا بوجھ ہر وقت سہارتا ہے ۔۔۔اور زمانے کی سختیوں اور معاشرے کے ظلم و ستم پہ کڑھتا ہے اسے اندرونی سکون درکار ہے ۔۔۔

جی جی مجھے اندازہ ہے کہ آپ درد دل رکھنے والے ایک فرد ہیں جن کا ضمیر زندہ ہے اور جو اپنے اس معاشرے میں ہونے والے مظالم اور نا انصافیوں پر کڑھتا ہے ۔۔۔اور آپ کے اس ضمیر کو اس وقت تک چین نہیں آتا جب تک آپ سوشل میڈیا پر لمبے لمبے مباحث اور تقاریر  نہیں جھاڑ لیتے ۔۔۔لیکن آپ یہ بھی تو سمجھیے کہ آپ کے اس  باوقار  اور اعلی ضمیر کو جو کہ اس معاشرے میں آپ کے بقول ویسے ہی نایاب ہے ۔۔۔ اس بے چارے کو  سکون درکار ہے ۔۔۔یہ دو گھڑی سستانا چاہتا ہے ۔ہر وقت کی توتکار سے یہ بھی تھک جاتا ہے اسے آرام دیں اور یہ آرام کبھی بھی فیس بک کی نیوز فیڈ سے نہیں ملے گا ۔۔۔۔۔۔ٹویٹر کی ٹویٹس میں بھی نہیں پایا جاتا۔۔۔۔یہ آپ کےاندر ہے۔۔۔۔اس کو اگر آپ نے تلاشنا ہے تو اپنے من میں جھانکنا ہو گا ۔۔۔۔۔۔فطرت سے ہمکلام ہونا ہوگا۔۔۔۔۔۔اکیلے بیٹھ کر تفکر کرنا ہوگا ۔۔۔۔۔خود کو ہلکا پھلکا کرنا ہوگا ۔۔۔۔۔یہ جو ہاتھ میں ہر وقت بڑی ساری سکرین پکڑے الفاظ کے تیر چلاتے رہتے ہو اس سے جان چھڑانا ہوگی ۔۔۔۔چند لمحے ۔۔۔بس چند لمحے اپنے آپ کے ساتھ۔۔۔۔۔فطرت کے قریب۔۔۔۔اس سے کوئی روحانی تجربہ نہیں ہوگا ۔۔۔۔۔نا ہی کوئی کرشماتی تبدیلی آئے گی۔۔۔بس کہیں ایک ہلکا سا نکتہ ۔۔۔۔۔۔مثبت تبدیلی کا ۔۔۔۔۔آپ کے اندر کہیں لگ جائے گا۔۔۔۔۔

لیکن ہم اور آپ جو چوبیس میں سے آٹھ دس  گھنٹے کی مجموعی دیہاڑی انٹرنیٹ پر لگاتے ہیں ۔۔۔کیا ہم مثبت تبدیلی چاھتے ہیں؟ ہم تو بس اپنے اندر کی بھڑاس نکالنا چاھتے ہیں ۔۔۔طنز کے نشتر اور تنقید کے بھالے ۔۔۔دوسروں پہ ہر لمحہ نشانے لگاتے ہیں ۔۔۔اس سے انسان کو اپنا آپ بہت مکمل لگتا ہے ۔۔۔جب وہ دوسروں میں سے چن چن کرخامیاں نکالتا ہے تو بہت ہی لطف آتا ہے ۔۔۔اپنے مکمل ہونے کا اور دوسروں کے نامکمل,آدھے ادھورے اور غلط ہونے کا احساس بہت پر لطف اور خوش کن ہے ۔یقین مانیئے صرف اسی احساس کو پانے کی خاطر ہم دوسروں پہ حملہ آور ہوتے ہیں۔

لیکن ستم ظریفی یہ ہے کہ ابتدا میں یہ احساس مزہ دیتا ہے ۔۔۔بعد میں یہ سزا بن جاتا ہے ۔۔۔وقت گزاری کا اس سے بڑھ کے مشغلہ کیا ہوگا کہ دوسروں کو رگیدیں اور خوش ہوں ۔۔۔لیکن وہ یہی چند لمحوں کی خوشی ہوتی ہے اس کے بعد وہی بد رنگی ۔۔۔وہی بےکیفی ۔۔۔۔سو اپنی رونق کو قائم و دائم رکھنے کے لیے ہم عادی ہو جاتے ہیں کہ ہر وقت کسی کی طرف دھیان ۔۔۔۔۔۔دوسروں کی طرف اشارہ۔۔۔۔۔اوروں پہ طنز ۔۔۔تنقید ۔۔۔لیکن یقین کریں اس رونق کا فائدہ کوئی نہیں ہے اور نقصان بے حد ہے جو آپ کو تو محسوس نہیں ہوتا لیکن آپ کے  اعلیٰ  باوقار اور نایاب ضمیر کو تنگ کرتا ہے ۔۔۔اور اس بوجھ سے جھنجھلا کر آپ دن بہ دن مزید ترش رو ہوتے جارہے ہیں ۔۔۔ سو خود پر رحم کھائیں ۔۔۔تھوڑا وقت اپنے آپ کے ساتھ بھی ِبتائیں۔

(Visited 594 times, 1 visits today)

Kaneez Noor Ali is a graduate in Mass Communication and a freelance writer based in Gujrat. Her areas of interests are short stories and social issues.

Leave a Reply

Got It!

اس ویب سائٹ کا مواد بول پلاٹون کی آفیشل رائے کی عکاسی نہیں کرتا. مضامین میں ظاہر معلومات اور خیالات کی ذمہ داری مکمل طور پر اس کے مصنف کی ہے