Here is what others are reading about!

داستان کشمیر

گزرے وقتوں کا قصّہ ہے کہیں پر ایک نہایت حسین اور خوبصورت باغ ہوا کرتا تھا۔ وہ باغ اپنے قدرتی حُسن کی وجہ سے مشہورِ زمانہ تھا اور اُس کا نام بھی ویسا ہی سہانہ تھا۔ “کشمیر”، جنت نظیر۔  ایسا خوبصورت کہ شاعر اس پر شاعری کرتے اور کنواریاں اس کی خوبصورتی پر نغمے گنگناتیں اور من چلے اس کی سرد شاموں پر جھیل کنارے بیٹھے داستانیں لکھتے۔   اس باغ سے صدیوں  سے دو خاندان سیر ہوتے آئے تھے۔ ان دونوں خاندانوں میں سے ایک خاندان ہندو  تھا اور ایک مسلم۔ دونوں ہی خاندانوں نے اکٹھے کئی صدیاں ساتھ گزاری تھیں۔ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ یہ دونوں خاندان ایک دوسرے کے ہمدرد ہوتے اور اتفاق سے رہتے لیکن معاملہ اس کےبرعکس تھا ۔ دونوں ہی خاندانوں کی آپس میں کسی طور نہ نبھتی تھی۔ لڑتے مرتے رہتے ایک دوسرے کے رنگ و نسل دین و مذہب کو کوستے رہتے۔  اسی نفرت کی  فضا میں سُلگتی چنگاری کی مانند ان کی نسلیں جوان ہوتی گئیں۔

پھر ایک دِن یوں  ہوا کہ  یہ سلگتی چنگاری شعلوں میں بدل گئی اور ان کی آپس کی چپقلش دیکھتے ہوئے ایک امیر انگریز نے ان کے باغ پر قبضہ کر لیا۔ انگریز نے قبضہ کیا تو  ایک اور ظلم یہ ڈھایا کہ انہی دو خاندانوں کو اس باغ میں  غلام بنا کر نوکر رکھ لیا۔ دونوں کی لگتی تو پہلے ہی نہ تھی لیکن جب اُن کے انگریز مالک کی طرف سے یہ حکم صادر ہوا کے دونوں اب سے روز ایک ہی تھالی میں کھنا کھائیں گے تو دونوں ہی کی بھوّیں اکڑ گئیں مسلم بولا میں اس ہندو کے ساتھ کیسے کھا سکتا ہوں میرا تو مذ ہب اجازت نہیں دیتا ہندو نے بھی نیچ ذات کہہ کے ساتھ کھانے سے انکار کیا دونوں میں سخت جملوں کا ایک طویل تانتا بندھا, ہاتھا پائی کا دور چلا اور  لڑتے مرتے دونوں مالک کے پاس جا پہنچے فریاد یہ کی کہ ہم دونوں اکٹھے کام نہیں کریں گے ۔مسلم نے کہا “صاحب جی یا تو یہ رہے گا یا میں۔ اگر یہ رہے گا تو مجھے آزاد کر دو میں اس غیر مذ ہب آدمی کے ساتھ کام نہ کروں گا” اور ہندو بولا’’صاحب جی میں بھی اس مُسلے کے ساتھ نہ رہوں گا یہ اس گائے کو جسےمیں بھگوان مانتا ہوں زبح کر کے کھا لیتا ہے۔دیا کیجئے اور ہم کا آزاد کر دیجئے۔‘‘  
غلاموں کے منّہ سے آزادی کا لفظ سنتے ہی انگریز مالک طیش میں ایسا آیا کے  دو لاتیں دونوں کو برسائیں  اور سَر کے بل واپس کر دیا۔اب ہوتا یہ کے دونوں روز لڑتے روز مالک کے پاس جا کر مُراد یں ڈالتے، روز پٹتے، آہ کرتے اور ملامتیں بھرتے اور شام ڈھلتے ہی مالک کے دَر سے  نامراد لوٹ آتے۔  غلامی ایسی سرایت کر گئی کہ  آہستہ آہستہ سر اٹھانے کی بھی نوبت جاتی رہی۔

ادھر انگریز  مالک کو ملک میں لگایا ہوا  اس کاکاروبار ٹھپ ہوتا دکھائی دے رہا تھا۔ اس نے اپنے ملک واپس جانے کا فیصلہ کر لیا۔ یوں بھی  وہ  ان دونوں کی روز روز کی ڈھٹائی سے تنگ آگیا تھا۔ بگڑتے حالات کو سُدھارنے کی خاطراس   نےدونوں کو آزاد کر نے کا فیصلہ سنا ڈالا۔ اب معاملہ آیا اُجرت کا۔ انگریز مالک ان کے حالات سے خوب واقف تھا۔ وہ جاتے جاتے بھی ان کو اس غلامی کی یاد ودیعت کر کے جانا چاہتا تھا۔ اس نے دونوں کو اُجرت میں وہی خوبصورت باغ تھما دیا  کہ یہ لو آج سے یہ باغ تم دونوں کا ہوا۔

جب دونوں نے  یہ دیکھا کہ ان کو اجرت میں  ایک ہی باغ دے دیا گیا ہے تو دونوں سٹپٹا گئے۔ خوب تلملائے ۔ مالک کی مِنّت کی کہ مالِ اُجرت الگ الگ نوازا جائے۔ لیکن مالک نے ایک نہ سنی اور ان دونوں کو یہ باغ  حوالے کرکے اپنے گھر روانہ ہو گیا۔  اس کے جانے کی دیر تھی کہ دونوں غلاموں نے اس باغ پر قبضہ کرنے کیلئے اپنے چوکیدار چڑھا دئے۔ لڑتے مرتے دونوں  کا جہاں بس چلا وہاں قبضہ کر لیا اور وہ جنت نظیر باغ دو حصوں میں بٹ کر رہ گیا اور نفرت اور جھگڑے سے اس کا حسن ماند پڑنے لگا۔

دونوں غلاموں کو انگریز غلام کے تلوے چاٹنے کا ایسا چسکا لگ چکا تھا کہ بجائے اس کے کہ دونوں مل بیٹھ کر پیار محبت سے فیصلہ کرتے، بار بارپردیس میں جا کر انگریز مالک کے در پرجا پہنچتے اور وہ انگریز مالک ہر بار دو میٹھی میٹھی گالیاں  ان کو سناتا اور نوکروں کی بے بس صورتوں پر ہنستا  اور ایک پُر جلال لہجے میں کہتا:

“یہ باغ میری طرف سے تم دونوں کو نشانی ہے میری غلامی میں گزرے تمھارے وقت کی۔  یہ آزادی کا وہ تحفہ ہے جو کانٹے کی مانند ہمیشہ تمہاری نسلوں کی ایڑھیاں خون ریز کرتا رہے گا”

(Visited 598 times, 1 visits today)

Mahnoor Naseer Is an engineering student and a freelance writer based in Rawalpindi. Her areas of interests are social and general issues.

Leave a Reply

Got It!

اس ویب سائٹ کا مواد بول پلاٹون کی آفیشل رائے کی عکاسی نہیں کرتا. مضامین میں ظاہر معلومات اور خیالات کی ذمہ داری مکمل طور پر اس کے مصنف کی ہے