Here is what others are reading about!

فیمینسٹ

” کیا تم فیمینسٹ ہو ؟ ” کانٹے کی مدد سے چمچ میں چاول جمع کرتے ہوئے اس نے رک کر اس سے سنجیدگی سے پوچھا تو پانی کے گلاس کی طرف بڑھتا اسکا ہاتھ ہوا میں معلق ہوا ۔
” یہ کیسا سوال ہے ؟ ” نوال کی نظروں میں الجھن تھی ۔
” بس ایک سوال ہے ‘‘۔  تیمور نے لاپرواہی سے کاندھے اچکائے۔
” نہیں  ” ایک گہری نظر اُس پر ڈالتے ہوئے اس نے نفی میں سر ہلا دیا ۔
” شکر ہے “۔۔۔ اسکے سینے میں اٹکی ایک گہری سانس خارج ہوئی تو نوال کے گلے میں کچھ اٹکنے لگا۔
” ورنہ آج کل کے فیمینزم کے نعروں سے تو اب ڈَر لگنے لگا تھا مجھے ۔۔۔ یہاں ہاتھ اٹھایا۔۔۔ وہاں میڈیا اور این جی اوز دروازے پر  ” 
” تو تمہیں یہ سب غلط لگتا ہے ؟ ” پانی کا گلاس ہونٹوں سے لگاتے ہوئے اس نے پوچھا ۔
” ٹھیک ہے عورتوں کے کچھ حقوق ہوتے ہیں مگر مجھے لگتا ہے کے میاں بیوی کے آپس كے تعلقات سراسر انکا ذاتی معاملہ ہوتا ہے ۔۔۔اب شوہر بلاوجہ تو ہاتھ نہیں اٹھاتا نا ؟ اسکی اِجازَت تو اسے شریعت بھی دیتی ہے۔ نہیں ؟ یہ فیمینزم نے ہی عورتوں کے دماغ خراب کیے ہیں . ” حقارت سے سر جھٹکتے ہوئے وہ وہی زُبان بول رہا تھا جو اِس معاشرے كے نوے فیصدی مرد بولتے تھے ۔ وہ شریعت  کے پردے سے خود کو ڈھانپ رہا تھا ، اپنی ذہنیت کو چھپا رہا تھا ۔ 
” تمہیں نہیں لگتا ڈومیسٹک وائلینس کے خلاف آواز اٹھانے کے لیے فیمینزم کی نہیں عزت ِنفس کی ضرورت ہوتی ہے ؟ ” وہ اطمینان سے بولی۔ ” اور رہی بات شریعت کی تو وہ صرف عورتوں کے حقوق پہ ہی اپلائی نہیں ہوتا بلکہ مرد کے فرائض پہ بھی ہوتا ہے۔  تم میرے فیمینسٹ نا ہونے پہ خوش ہونا چاہو تو ہو سکتے ہو مگر مجھ سے اِس بات کی امید مت رکھنا کہ میں تمھارے  جوتے ہنس  کر کھاؤنگی ” 
” تمہیں اس بات کا احساس ہے کہ تم رخصتی سے قبل ہی طلاق کا قصہ چھیڑ رہی ہو ؟ ” اس نے بات کو ہلکا رنگ دینا چاہا ۔
” اور تمہیں احساس ہے کے تم رخصتی سے قبل ہی مجھے مارنے کا اِرادَہ کیے بیٹھے ہو ؟ ” وہ اب بھی سنجیدہ تھی ۔
” میں تم سے محبت کرتا ہوں  ” وہ محبت پہ زور دے کے بولا ۔
” میں بھی تم سے محبت کرتی ہوں تیمور جسکا مطلب ہے کے تمہیں گرمائش پہنچانے کے لیے میں خود کو آگ لگا سکتی ہوں  ” ایک استہزائیہ مسکراہٹ لبوں پہ چمکائے وہ بولنے لگی۔۔۔ ” مگر تم سے محبت کے معاہدے میں ، میں نے عزت نفس کی شق شامل  نہیں کی تھی سو میں اسکا سودا بھی نہیں کروں گی.”

 ” اِس معاشرے میں طلاق یافتہ عورت کا مقام جانتی ہو نا تم ؟ ” وہ محبوب سے مرد بن گیا تھا ۔۔۔
” اگر قسمت میں گالی ہی سننا لکھا ہے تو وہ تم دو یا معاشرہ۔۔۔ کیا فرق پڑتا ہے ؟ ہاں تمھارے منہ سے گالی سنوں گی تو تکلیف ہوگی  “

” عزت نفس سے گھر نہیں بستے “

محبت سے کونسا بس جاتے ہیں ؟ ” 
” چھوڑو اِس موضوع کو یار ، كھانا کھاؤ  ” تیمور نے اکتا کے بات سمیٹ دی تو وہ بھی سر ہلا کے کھانے لگی پِھر اطمینان سے بولی ۔۔۔
” مگر ایک بات یاد رکھنا تیمور۔۔۔ مجھے ان عورتوں میں شمار کرنے کی غلطی مت کَرنا جو گھر بسانے کے لیے سب سہہ جاتی ہیں۔۔۔ میں تمہارا لباس ہوں جسے چیرنے پھاڑنے کی اِجازَت نا تمہیں تمہارا دین دیتا ہے نا میں دونگی  ” وہ بس اسے دیکھ کے رہ گیا۔۔۔

(Visited 1,169 times, 1 visits today)

Zarminay Aftab is a freelance writer based in Bahawalpur. She usually writes abstracts on basic religious and moral issues.

Leave a Reply

Got It!

اس ویب سائٹ کا مواد بول پلاٹون کی آفیشل رائے کی عکاسی نہیں کرتا. مضامین میں ظاہر معلومات اور خیالات کی ذمہ داری مکمل طور پر اس کے مصنف کی ہے