Here is what others are reading about!

  • Home
  • /
  • Pakistan
  • /
  • سائبر کرائم بل اور اظہار رائے کی آزادی

سائبر کرائم بل اور اظہار رائے کی آزادی

آزادی ایک ایسی نعمت ہے جو انسان بڑی مشکل سے حاصل کرتا ہے اور ایک بار حاصل ہونے والی آزادی انسان نے کبھی بھی واپس نہیں کی. بنیادی اظہار رائے کی آزادی بھی ان میں سے ایک ہے. دنیا میں بسنے والا ہر انسان اپنی ایک الگ رائے رکھتا ہے اپنی سوچ رکھتا ہے اور ان کے سہارے وہ زندگی کو سمجھ کر گزارتا ہے.  گزشتہ دہائیوں میں مختلف ممالک میں حکومتوں اور بنیاد پرست گروہوں نے اپنے مفادات کی خاطر ان سوچوں خیالات یا آرا پر پابندی لگانے کی کوشش کی تا کہ  نسانوں کو گونگا بہرا اور سوچ سے عاری کر کے محض لکیر کا فقیر بنایا جائے لیکن یہ تمام کاوشیں بے سود ثابت ہوئیں. اب پاکستان میں بھی بڑھتے ہوئے عوامی شعور اور انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کے ذریعے آرا اور جذبات کے اظہار  پر پابندی لگانے کی کوشش کی جا رہی ہے.سایبر کرائم بل کو پارلیمانی کمیٹی سے قبول کروانے کے بعد اس کو اگلے مرحلے میں قومی اسمبلی سے پاس کروایا جائے گا اور یوں یہ ایک قانون بن جائے گا.ایک ایسا کالا قانون جو اشرافیہ کے مفادات کا تحفظ کرتے ہوئے وطن عزیز کے  باشعور اور پڑھے لکھے افراد کی آواز کو چپ کروانے کیلئے لاگو کیا جائے گا. سول سوسائٹی میں اس سائبر بل کے حوالے سے کئی تحفظات آور خدشات پائے جاتے ہیں.ہمارے وطن کا مین سٹریم میڈیا یعنی ٹی وی ریڈیو اور اخبارات پہلے سے ہی سٹیٹس کو کے زیر تسلط ہیں.بڑے بڑے سیٹھ انوسٹمنٹ کر کے صحافت کے شعبے کو اپنے کالے دھن کو سفید کرنے اور بلیک میلنگ کیلئے استعمال کرتے ہیں.رائے عامہ کو بھی سیاسی یا دفاعی اشرافیہ کے اشاروں پر تقسیم کیا جاتا ہے.ایسے میں سوشل میڈیا وہ واحد پلیٹ فارم ہے جہاں اس معاشرے میں بسنے والے افراد اپنے مسائل اپنے انداز فکر کو بیان کر سکتے ہیں. دنیا میں سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ کے بڑھتے ہوئے استعمال اور اربوں انسانوں کا اس کے زریعے ایک دوسرے سے رابطے کی وجہ سے سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ اب رائے عامہ پر اثر انداز ہوتا ہے.اب یہ کیسے ممکن ہے کہ رائے عامہ پر اثر انداز ہونے والے کسی بھی پلیٹ فارم کو اشرافیہ یونہی چھوڑ دے اور اس پر قدغنیں لگانے کی کوشش نہ کرے. ضیاالحق نے بھی ہمارے معاشرے میں آزادی اظہار ہر قدغنیں لگائی تھیں اور اس کا نتیجہ ہم آج تک شدت پسندی کی صورت میں بھگت رہے ہیں. ہونا تو یہ چاھیے تھا کہ ہمارے پالیسی ساز اس سے سبق سیکھتے ہوئے اس بنیادی نقطے کو سمجھتے کہ آزادی رائے یا اختلاف رائے کو دبانے سے  سناٹا تو طاری ہو جاتا ہے لیکن سناٹا قبرستانوں میں اچھا لگتا ہے زندہ معاشروں میں نہیں. اب اس سائبر کرائم بل کی رو سے تنقید کرنا بھی جرم اور وطن کے وسیع ترین مفاد اور مزہب پر بحث بھی جرم ٹھہرایا جائے گا.یعنی سوال پھر پیدا ہوتا ہے کہ کون یہ فیصلہ کرے گا کہ وطن کا وسیع ترین مفاد کیا ہے اس کے نظریات کی تضحیک کیوں اور کیسے ہوتی ہے یا مذہب اور دور جدید کے مسائل کی بحث کی زد میں آ کر کیونکر بے گناہ افراد توہین کے مرتکب نہیں ٹھہرائے جائیں گے. انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا ہر طرز فکر اور نظریات رکھنے والے کیلیئے حاضر ہوتا ہے.اور اگر وزارت آئی ٹی یا وفاقی وزیر برائے آئی ٹی سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ پر خود ریسرچ کرتیں تو انہیں معلوم ہوتا کہ کئی آن لائن ویب سائٹس اور آن لائن اخبارات کی خبروں بلاگز اور کالم کا معیار ملک کے بڑے بڑے نام نہاد اخبارات یا ٹیلیویژن چینلز کے مواد سے لاکھ درجے بہتر ہے. اسی طرح اس بل کو بنانے اور نافذ کرنے والے یہ بھی بھول گئے کہ دھرنے کے دنوں میں جب تقریبا تمام ٹی وی چینلز اور اخبارات  یک زبان ہو کر پس پشت قوتوں کا آلہ کار بنے ہوئے تھے تو یہ سوشل میڈیا تھا جہاں سول سوسائٹی کی آواز دھرنوں کے خلاف اور جمہوریت کے حق میں اٹھی اور جسے بین الاقوامی میڈیا نے بھی نہ صرف تسلیم کیا بلکہ کوریج بھی دی. دوسری جانب انسانی حقوق کی پامالی سے لیکر  بے گناہ افراد کا توہین کے مقدمات میں قتل ہو یا لاپتہ افراد سے لیکر اقلیتوں اور بچوں پر مظالم یا پھر شدت پسندی ان تمام مسائل پر سوشل میڈیا اور آن لائن اخبارات  اور ویب سائیٹس پر انتہائی مدلل اور دلائل پر مبنی تعمیری  تحاریر پڑھنے کو ملیں اور بڑھی حد تک انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کے زریعے ان اخبارات اور سائیٹس نے معاشرے پر چھائے ہوئے فکری جمود کو توڑنے میں ایک کلیدی کردار ادا کیا. مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے معاشرتی و سیاسی مسائل پر اہنے اپنے انداز میں صحت مندانہ مباحث کا آغاز کیا اور یوں تعصب اور یک طرفہ فرسودہ خیالات و نظریات کو چیلنج بھی کیا. تعمیری مباحث کسی بھی معاشرے کی فکری ترقی کیلئے انتہائی ضروری اور معاون ہوتے ہیں اور ہمارے ملک میں پارکوں لائبریریوں یا دیگر مناسب پلیٹ فارمز کے موجود نہ ہونے کی بنا پر لے دے کر ایک سوشل میڈیا باقی بچتا ہے جہاں یہ صحت مندانہ سرگرمیاں پروان چڑھتی ہیں. انسانی تاریخ کے مشاہدے سے یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ آزادی اظہار پر پابندی کے کالے قوانین آقا اور محکوم کا رشتہ برقرار رکھنے کیلئے سٹیٹس کو کی جانب سے بنائے جاتے ہیں. ہر دور میں یہ قوانین نہ صرف نقصان دہ ثابت ہوئے بلکہ انہیں واپس بھی لینا پڑا. ہمارے ملک میں دلیل کی قوت کو رد کرنے کا رواج ویسے بھی عام ہے بدقسمتی سے ہم صرف بندوق اور ڈنڈے کی قوت پر یقین رکھتے ہیں. لیکن  آزادی کا تعین کرنے کا حق نہ تو سیاسی یا دفاعی اشرافیہ کو حاصل ہے اور نہ ہی مذہبی اشرافیہ کو. یہ ایک ارتقائی عمل ہے جو انسانی شعور کے بتدریج بہتر ہونے کے ساتھ ساتھ خود بخود پروان چڑھتا ہے. ہونا تو یہ چایئے کہ بجائے سایبر کرائم جیسے بل پاس کرنے کے اپنے خود ساختہ اور نرگسیت پر مبنی نظریات کی ترویج کو روک کر معاشرے میں صحت مندانہ مباحث کیلئے اور پلیٹ فارم مہیا کیئے جائیں تا کہ شدت پسندی اور بنیاد پرستی کے مہلک امراض سے نجات حاصل کی جا سکے. آزادی بھیک تھوڑا ہی ہوتی ہے جو کوئی بھی سیاسی حکومت آمر یا مذہبی اشرافیہ عوام کو دے. یہ جو مثلث ہے اس کے گٹھ جوڑ نے معاشرے میں جو تعفن پھیلایا اسے کم کرنے میں ایک بہت بڑا ہاتھ انٹرنیٹ پر موجود سنجیدہ فکری مباحث کی ویب سائٹس آن لائن اخبارات کا ہے. ایسا قانون بناتے ہوئے ان ویب سائٹس اور آن لائن اخبارات کے مدیران کی آرا کو مد نظر رکھنا چاھیے تھا بلکہ ان سے مشورے لینے چائیے تھے. وطن کی نظریاتی اساس پر کسی کی بھی اجارہ داری نہ تو قبول کی جا سکتی ہے اور نہ ہی من و عن تسلیم کی جا سکتی ہے.اسی طرح روایات یا مذیب کے نام پر کسی مخصوص  طبقے کی اجارہ داری کو بھی کبھی تسلیم نہیں کیا جا سکتا. دنیا کی تمام ترقی اور ایجادات عام روش سے ہٹ کر نظریات افکار اور روایات کو چیلنج کرنے یعنی اختلاف رائے کی مرہون منت ہیں. اسی طرح آزادی اظہار رائے کی بدولت دنیا میں بڑا بڑا تعمیری اور تخلیقی ادب معرض وجود میں آیا. اس اظہار رائے کی آزادی کو دبانے کے بجائے لوگوں کو اظہار رائے کے مواقع فراہم کرنا ہی معاشرے کی بقا کا ضامن ہے. وہ افراد یا پالیسی ساز جو آزادی اظہار چاہے وہ کسی بھی صورت میں ہو اگر اس کو مادر پدر آزادی یا گوروں کا دیا ہوا نظریہ مان کر اس پر قدغنیں لگاتے ہیں انہیں یاد رکھنا چائیے کہ بھگت سنگھ سے لیکر جناح تک سب نے اسی اظہار رائے اور اختلاف کے حق کو استعمال کر کے اس وقرمت کے سٹیٹس کو کو للکارا تھا.  دوسری جانب ایوب خان کے دور سے لیکر ضیا کے دور تک جب آزادی اظہار اور اختلاف پر پابندی لگائی گئی تو نہ صرف اشرافیہ کی اجارہ داری اور گرفت نظام ہر مضبوط ہوئی بلکہ معاشرہ فکری بلوغت بھی نہ اختیار کر پایا. ایک جمہوری حکومت کے دور میں سائبر کرائم جیسا متنازعہ بل خود جمہوریت کے ماتھے پر ایک بدنما داغ ہے.

(Visited 764 times, 1 visits today)

Imad Zafar is a journalist based in Lahore. He is a regular Columnist/Commentator at Daily Ittehad, Resident Editor at Free Press Publications and Resident Editor at World Free Press. He is associated with TV channels, Radio, news papers,news agencies political, policies and media related think tanks and International NGOs.

Leave a Reply

Got It!

اس ویب سائٹ کا مواد بول پلاٹون کی آفیشل رائے کی عکاسی نہیں کرتا. مضامین میں ظاہر معلومات اور خیالات کی ذمہ داری مکمل طور پر اس کے مصنف کی ہے