Here is what others are reading about!

پاکستان جھومر پارٹی

یہ پارٹی کسی تعارف کی محتاج نہیں،اور اگر تھی بھی تو اب محتاج نہیں رہے گی۔یہ پارٹی اپنی جن خصوصیات کی وجہ سے پوری دنیا میں جانی پہچانی جاتی ہے  وہ مختصر طور پر یہ  ہیں: اس پارٹی کے ارکان نہ صرف ‘سو میل’ دور سے چمکتےہوئے بوٹ دیکھ سکتے ہے  بلکہ غائبانہ طور پہ چاٹ بھی سکتے ہیں۔آج کل جھومر پارٹی جمہوریت کے طبلے پہ رقص کناں ہو کے آمریت کے ڈھول کی منتظر ہے  اور ٹھمکوں کی بھر پور تیاری کیلئے اس کے تمام دانشور، سیاستدان اور مذہبی جنونی تیار ہیں کہ اب شغل شروع کیا جائے۔(ڈالروں کی عدم فراہمی کی وجہ سے تیاریاں ماضی کے معمول کی نسبت ذرا سست روی کا شکار ہیں). ‘سیاسی اعتبار’ سے جھومر پارٹی کا کوئی ‘اعتبار’ نہیں کیوں کہ حکومت کوئی بھی ہو جھومر پارٹی ہمیشہ اسکا حصہ رہتی ہے (ویسے بھی جب پروگرام لوٹ مار کا ہو تو راہزنوں کو اس بات سے کچھ لینا دینا نہیں ہوتا کہ انکا راہبر کون ہے ۔ اس سے کیا فرق پڑتاہے ) قصہ مختصر پارٹی کا پہلا اصول بھی اور خصوصیت بھی یہی ہے  کہ ” کُھلا کھاؤ، تے ننگے نہاؤ،  واریو واری آؤ،  تے واریو واری جاؤ۔‘‘     
دوسری بڑی خوصیت یہ ہے  کہ جھومر پارٹی تعلیم کے سخت خلاف ہے  اور ہمیشہ سے نہ صرف اس بات پہ متفق رہی ہے  بلکہ ڈٹی ہوئی ہے  کہ روپے میں سے دو چار آنے ہی تعلیم کے لیے کافی ہوتے ہیں۔ اگر چوہڑے چمار پیسے اکٹھے  کرنے والے پڑھ جائیں گے تو پیسے کون اکٹھے  کرے گا پارٹی کی خدمت کون کرے گا۔ اگر یہ اٹھارہ کروڑ کمی کمین پڑھ لکھ گے تو۔۔۔۔ اس لیے علم و حکمت سے کوئی خاص رغبت نہیں رکھتے ۔اسی لئے اسے کافروں کا شغل قرار دیتے ہیں اور کتابوں میں سانپ چھپے ہیں کہہ کر عوام کو علم سے دور رکھتے ہیں۔ جھومر پارٹی کا کام کھیل کود ہے  اور باجماعت ہو کے ان باتوں کی وعظ و نصیحت ہے  جن باتوں پہ پارٹی ہرگز عمل نہیں کر سکتی جیسا کہ سچائی، نیکی، ایمانداری، صفائی، اخلاقیات اور انسانیت  وغیره۔۔۔  
اب بات کرتے ہیں جھومر پارٹی کے سماج کے راہنما اصولوں کی “ڈھول وجائی رکھو تے رولا شولا پائی رکھو” مطلب اپنے کان اور دماغ بھی پهٹ جائیں تو کوی مسئلہ نہیں ۔مگر ہمسائے سکون سے نہیں رہنے چاہئیں۔اگلا راہنما اصول جس پہ پارٹی کی بنیاد کھڑی ہے  وہ ہے  “عقل نہیں تے موجاں ای موجاں”جھومر پارٹی کا کام ہر مسئلے کا حل، ہزاروں سال  پیچھے  جا کر ماضی میں سے تلاش کرنا  ہے۔ لہذا عقل کے استعمال کو نہ صرف غیرضروری فعل سمجھتے ہیں بلکہ استعمال کرنے والوں کو صفحہ ہستی سے مٹانے کا نہ صرف ارادہ رکھتے ہیں بلکہ خواہاں اور کوشاں بھی ہیں اور اسی لئے عورتوں کی تعلیم و تربیت سے بھی متصادم نظریات رکھتے ہیں۔ جھومر پارٹی کسی بھی شے کے اندر سے ‘عریانی’ نکال سکتی ہے  اور ڈال بھی سکتی ہے  اور عزت کے نام پہ خون خرابہ کرنے کا درس دینا پارٹی کا محبوب مشغلہ ہے  اور اس کھیل میں شامل خونیوں کی مدح سرائی کے لیے پارٹی کی  پوری میڈیا ونگ جنونیوں کی مدد سے اور مدد کیلیے تیار رہتی ہے . جھومر پارٹی کے ارکان عریانیت دیکھ سکتے ہیں۔سونگھ سکتے ہیں۔چکھ سکتے ہیں حتی کہ ذائقہ بھی بتا سکتے ہیں۔  

اب بات کرتے ہیں جھومر پارٹی کے صحت سےمتعلق راہنما اصولوں کی۔ تو جھومر پارٹی کے ارکان اس بات کو گناہ سمجھتے  ہیں کہ اندھوں، کانوں، گونگوں، لنگڑوں اور لولوں کا علاج کیا جائے اور تو اور مرنےکے  بعداعضاء کے عطیے کو تو   گناہ کبیرہ سمجھتے ہیں۔ بلکہ عملی طور پر ورزش،دنیاوی کھیل کود کے ساتھ ساتھ خالص خوراک اور ایمانداری سے بھی حد درجہ متنفر ہیں۔   لیکن وعظ و نصیحت میں اس پر زور دینا لازمی قرار دیا گیا ہے۔  ہاں مگر اگر کوئی اس بات پر عمل کرے جو جھومر پارٹی کے قواعدوضوابط کے خلاف ہو تو اسکو ‘کافر شافر’ قرار دے کر ‘کُھڈے لین’ بھی لگا سکتے ہیں۔
ایک خصوصیت یہ بھی ہے  کہ جھومر پارٹی ذہنی پسماندگی کے علاوہ صرف اور صرف ریالوں اور ڈالروں پہ یقین رکھتی ہے  اس لیے ہم کہہ سکتے ہیں کہ جھومر پارٹی کا ایک راہنما اصول یہ بھی ہے  “مینوں نوٹ وکھا میرا موڈ بنے”۔۔۔  جھومر پارٹی مغربی، امریکی یا عربی تال پہ ناچنے کی ماہر پارٹی ہے ۔ الحمداللہ ساری دنیا ہمیں جانتی ہے ۔

 آخر میں گزارش ہے  کہ جھومر پارٹی کے مذہبی ونگ سے عقل و حکمت کی بات کرنے کی صورت میں جہنم واصل ہونے کا خطرہ رہنے کی وجہ سے مذہبی نقطہ نظر  پر ‘مٹی پاو’ کا سنہری اصول مت بھولیں ۔ اسی لیے میں نے خود بھی گریز کیا ہے  ۔۔۔شکریہ

(Visited 521 times, 1 visits today)

Babar Dogar is a freelancer based in Pakpattan. He has studied International Relations at Quaid e Azam University. His areas of interests are politics and general issues.

Leave a Reply

Got It!

اس ویب سائٹ کا مواد بول پلاٹون کی آفیشل رائے کی عکاسی نہیں کرتا. مضامین میں ظاہر معلومات اور خیالات کی ذمہ داری مکمل طور پر اس کے مصنف کی ہے