Here is what others are reading about!

خاموش سسکیوں کی کمائی

وہ زمانے کی گر م ہواؤں  سے اس قدر   خوش اسلو بی سے گلے ملتا کہ وہ اس کے وجود کے  گہرے بحر سے ٹکرانے کے بعد اسی کے سینے میں مد فن ہو جایا کرتی تھیں۔وہ تن تنہا ان تاریک راہوں میں بسنے والی عورتوں  کی سسکیوں کی پاسبانی کر رہا تھا جن سسکیوں کویہ  با وقا ر معاشرہ اپنے بند کمروں میں  د یکھ کے لطف اندوز تو ہو سکتا ہے لیکن  حقیقت میں اس کو عزت کے ایک کھوٹے سکے سے بھی نہیں نواز سکتا۔وہ ان   کی با رونق اور بے عزت گلیوں کا  مستقل مسا فر تھا جو جب بھی  آ تا ،  ان گلیو ں میں رہنے والیوں کی چادریں سر اور دامن ڈھاپنے کے فرض انجام دیتیں۔  وہ ان کا وہ مسیحا تھا جو شا ید  خدا نے ان کی ان سسکیوں اور آ ہوں کے بعد عطا فرمایا تھا جو وہ ہر روز برداشت کر تی تھیں۔

اسکی اس باغیانہ سوچکے پیش نظر شہر کے نام نہاد شرفا اور  جنت کے ٹھیکیدار مولانا حضرات   اسے اسلام کے دائرے سے خارج کرنےکا ا مور سر انجام دینے کے لئے سر گر م تھے۔وہ معا شرے کی اس سفا ک پہلو کو ختم کرنا چا ہتا تھا جسں کا شکا ر اس کی اپنی ماں بنی۔ جو نہ چا ہتےہوئے بھی ایک تا ریک رات،  اپنی آ ہوں اور سسکیوں کو ایک چلتی پھرتی لاش میں بند کر کے ،اس با رونق بازار کے اک دریچہ کو اپنی سانسیں پو ری کر نے کا آسرا بنا بیٹھی ۔اس کی ماں جو صرف اک  روٹی کے نوالہ  کی تلاش میں نکلی تو اسں حیوا نیت کا شکا ر ہو گئی جس کا اس نے گمان بھی نہیں کیا تھا ۔

اپنی ماں کے اس درد کے سائے میں پروان چڑھنے والا  بچہ زمانے کو ایک نئے رخ سے متعا رف کر نے کا سو چ بیٹھاتھا ۔ وہ اس حقیقت کو جانتا تھا کہ  ہر  کوٹھے پہ بیٹھی عورت پیدائشی ویشیہ نہیں ہو تی بلکہ شر فا کے گھروں کی وہ عزتیں ہو تی ہیں جن کو وہ خو د زما نے کی و حشیت کے لئے چھو ڑ د یتے ہیں۔

وہ ایک ایسے ادارے کے قیام کے لئے دن رات محنت کر رہا تھا جو کسی بے آسرا عورت کو دوبا رہ زندگی کے اس موڑ پہ لا کے کھڑا نہ  کر دے  جہاں اس کو اپنا جسم کسی کی ہوس کے سامنے چار پیسوں کیلئے قربان کرنا پڑے۔ اس ادارے کے قیام کے لئے  کسی بھی با عزت اور شریف مرد نے اک پیسہ دینا گوارا نہیں کیا اور یہ کہہ کے  اپنے گھروں سے نکال دیا  کہ ہماری رزق حلا ل کی کما ئی کسی ویشیہ پر لگا نے سے بہتر ہے کہ  کسی جانور کو روٹی ڈال دیں- اگر اسے کسی نے کچھ دیا تو وہ وہی  ننگِ زمانہ ویشیائیں تھیں جن کیلئے وہ لڑ رہا تھا ۔وہ سب اسے وہ  مال غنیمت  سونپ دیتیں جوجسم فروشی کی سفا ک جنگ کے بعد ان با وقار عورتوں کو حاصل ہوتی تھی جو ہر رات کسی کے بستر کی رونق بنتیں۔ لیکن اب ان کا یہ بکنا  ایک ایسے فلاحی ادارے کے و جود کے لئے تھا جس سے کئی نئی زندگیوں کو با عزت معا شرے کی دور میں شا مل ہو نے کا حق مل جا تا ۔لیکن اس کام کو  شر فا کی بستی نے قبول نہیں کیا۔ ایک ایسا اشتعا ل انگیز ہجو م اپنے ہا تھو ں میں تا ر یکی کی روشن شمعیں لے کر آیا کہ اس کے  خواب دیکھتی آنکھیں رکھنے والے  و جود کو سرے بازار آگ لگا کر اپنی شرا فت کا گہرا ثبو ت دے کر چلے گئے اور جا تے جاتے  رزق  حرام کی کما ئی اپنے سا تھ لے گئے جو ہوس کے پجاریوں نے جسم کے عوض خرچ کی تھیں اور اس مو لانا کے قدموں میں یہ کہ کے نچھاور کر دی جو اپنے اک بیان سے کسی کو جہنمی اور کا فر قرار دے سکتا تھا جسکا اپنا وجود صر ف اک حور اور چند کھو ٹے سکوں کی ما ر تھا  اس کو خداکے نا م  پر خر چ کر یں۔۔۔

(Visited 758 times, 1 visits today)

Attia Rasool is a critical thinker and a writer based in Lahore. MPhil in Applied Linguistics, the forte of her write-ups is critical discourse analysis.

Leave a Reply

Got It!

اس ویب سائٹ کا مواد بول پلاٹون کی آفیشل رائے کی عکاسی نہیں کرتا. مضامین میں ظاہر معلومات اور خیالات کی ذمہ داری مکمل طور پر اس کے مصنف کی ہے