Here is what others are reading about!

  • Home
  • /
  • Pakistan
  • /
  • غیرت مند معاشرے کی ایک جھلک

غیرت مند معاشرے کی ایک جھلک

 “بڑا آیا مجھے مارنے والا” یه ایک نڈر بہن کا خیال تھا۔ بہن کے اس خیال کو غیرت مند بھائی نے گلا گھونٹ کر زمین کے چھ گز نیچے پہنچا کر حقیقت کا روپ دے دیا۔ بہت سن لیا که قندیل بری عورت تھی، بے حیا، بے باک، بدکردار، بد چلن ،بے غیرت،آوارہ مزاج اور سماجی روایات سے باغی تھی اس کا یہی انجام هونا چاهیے تھا ! تو کیا ایک فاحشہ کے مرنے سے معاشرے کا گند صاف هوگیا ؟ کیا ایک بدکردار کی موت کے بعد اب کسی بھائی کی غیرت گہری نیند سے نہیں جاگے گی؟ کیا اب کوئی عورت کاری نهیں کی جاۓ گی؟ میرے نزدیک بے غیرت وه عورت نهیں تھی بے غیرت یه معاشره هے۔ یہ وه جگه هے جہاں اگر بیٹی گھر کی شادی کی تقریب میں لڈی ڈال لے تو خاندان کی بڑی بوڑھیوں میں سرگوشیاں شروع ہو جاتی هیں۔گھر سے نکلتے ہوئے اگر بہن کے سر سے دوپٹه سرک جاۓ تو بھائی کے ماتھے پر شکن آجاتی هے۔پی ٹی سی ایل پر رانگ کال یا موبائل فون پر مسڈ کال آگئی تو گویا باپ کے ہاتھوں بیٹی کی شامت آگئی۔جی ہاں یہ وہ معاشرہ ہے جہاں آپ کابھائی کسی کے ساتھ رات گذار کرتو آسکتا هے لیکن آپ اپنے منگیتر سے فون پر بات کرنے کا سوچ بھی نهیں سکتیں۔

قندیل بلوچ کی اپ لوڈ ہونے والی آخری وڈیو کے مناظر تو ہم سب کے ذہن پر نقش ہوگئے مگر هم میں سے کتنے لوگ جانتے هیں که قندیل بلوچ نے اپنے کیرئر کا آغاز نعت گوئی سے کیا تھا اور اچھی آواز هونے کی بناء پر نعتیں پڑھتی بھی رهی۔مگر افسوس که سر پر آنچل ڈالے کسی دینی چینل پر اس کام کو جاری رکھنے سے اسے معاشی طور پر آسودگی نه مل سکی۔ویسے بھی خوش الہانی سے نعت گوئی کرنے والی کی پذیرائی کون کرتا کیونکہ میرے اور آپ کے بھائیوں کی بڑی تعداد سوشل نیٹ ورکس اور انٹرنیٹ پر کچھ مخصوص ٹیگس کی مدد سے سنی لیون، جیکولین فرنانڈس،راکھی ساونت، زرین خان،وینا ملک یا متہیرا جیسی بے باک حسیناؤں کی تصاویر اور بولڈ وڈیوز کو ڈھونڈ کر دیکھتی ہے اور پسند کرتی ہے۔قندیل جان چکی تھی که اسےدولت اور شہرت صرف معاشرے کی بھوکی نظریں هی دے سکتی هیں،اس کی آواز اور اس کا ٹیلنٹ نہیں۔جلد ہی اسے یہ بھی پتہ چل گیا کہ وہ سوشل میڈیا پر آخر رات بارہ بجے کے بعد ہی کیوں ٹرینڈ کرتی ہے؟

آج سے کچھ ہفتے قبل ایک قندیل تو بجھ گئی مگر ملک کی ان گنت غیر محفوظ خواتین کے دلوں میں تحفظ کے ارمان کا دیا جلا گئی جو اپنوں کے هاتھوں لٹ رهی هیں، پٹ رهی هیں، رسوا هورهی هیں،مر رهی هیں۔ عنبرین ریاست، ماریه صداقت اور زینت رفیق جیسے غیر معروف نام تو ہم سب بھلا ہی چکے ہوں گے جو اپنوں کی سفاکی کا نشانہ بن گئیں ۔ لیکن قندیل بلوچ کے کردار اور سراپے کو فراموش کرنا اس معاشرے کے لوگوں کے لیے ناممکن ہوگا۔ آج بھی نیوز بلیٹن اور اخبارات میں قندیل کے نام کی بازگشت هے۔

کیا وجہ ہے کہ قندیل کا ذکر اس کی موت کے بعد زیاده هے؟ الیکٹرانک میڈیا کے غیر ذمه درانه کردار کو تو دیکھیئےجس نے سوشل میڈیا پر اپ لوڈ هونے والی هر عام سی چیز پر بھی مکھن لگا کر هاتھ صاف کرنا اپنا شیوہ بنا لیا۔قندیل بلوچ کے کردار اور قابل اعتراض زندگی کا ڈھول میڈیا گذشته ماه مسلسل پیٹتا رها جس سے اس کے گھر والے ہرگز بے بہرہ نہیں تھے ۔ وہ جانتے تھے کہ اس کی کمائی جو گھر کا چولہا جلا رہی ہے ، بھائیوں کی جیب گرم کر رہی ہے ، اس کا ذریعہ کیا ہے؟ قندیل کے ہوشربا وڈیو سے اس کی برادری، محلے اور گھر میں اتنی کھلبلی نهیں مچی تھی جتنی مولوی عبدالقوی کے ساتھ تصاویر کے معاملے نے مچائی ۔ متواتر هر گھنٹه هر چینل کی سرخیوں میں یہ خبر چٹ پٹی لفاظی کے ساتھ ٹاپ پر رهی۔قندیل ہر گھر میں موضوع بحث بن گٰئی ۔ واٹس ایپ کے یوزرز یکسوئی کے ساتھ اس کی اپڈیٹس شئیر کرتے رھے ۔ یہاں تک کہ ٹوئٹر پر ماڈل اور مفتی دونوں کے ٹرینڈز چھا گۓ ۔ پھر سابقه شادیوں، شوهر اور بچے کی خبر اور تصاویر گرم مصالحہ بنی اور مقتوله کی اصل شناخت کے دستاویزات حاصل کر کے تو ہر چینل ایک دوسرے پر بازی لے گیا۔ واه میڈیا واہ! آپ نے تو اتنا وقت ملک دشمن بھارتی جاسوس کل بھوشن یادوو کو بھی نهیں دیا تھا،اسے کیوں نہ اس کے انجام تک پہنچایا ؟ کیونکه مرد کی خبروں میں وه حدت محسوس نہیں ہوتی! اس عورت نے اپنی عصمت اتنی بار نھیں پیچی هوگی جتنی بار همارے میڈیا نے اس کی خبریں بیچی هیں ۔ پرائم ٹائم کے ٹاک شوز میں شرفاء ، علماء اور تماش بینوں کا پینل سیلفی کیس پر روشنی ڈالتا رہا۔چائے کے کپ ہاتھ میں تھامے علماء قندیل کی عمران خان سے شادی کی پیش گوئیاں کرتے رہے۔ناظرین جہاں قندیل کی جھلک دیکھتے ان کی نظریں اور توجہ وہیں اٹک جاتی ۔ مفتی صاحب جو اس معاملے میں فساد کی جڑ ثابت هوۓ مفت میں مشہور هوگۓ ۔ خوبرو ماڈل سے ملاقات کو تفصیلی طور پر فخر سے بیان کرتے رہے ۔ وه هوتے کون هیں کسی ماڈل گرل کو پورے روزے رکھوانے والے؟ قندیل کو اپنی بخشش کے لیے کم از کم اس مولوی کی معافی درکار نهیں ۔ یه قندیل بلوچ کے اپنے الفاظ تھے که همارا میڈیا ریٹنگ کا بھوکا هے۔ قندیل کی خبریں بھوکے میڈیا کے لیے ہڈی ثابت ہوتی رہیں۔اسی میڈیا نے بلاآخر اسے فوزیه عظیم کی شناخت دے کر مختصر لباس میں نهیں بلکہ مکمل کفن میں دفنا کر دم لیا۔

اب ذرا قتل کیس کی طرف آجائیں ۔ سنا هے که غیرت کے نام پر قتل پر قانون سازی هوگی ۔ اینٹی ریپ بل اور غیرت کے نام پر قتل کا بل قومی اسمبلی میں منظوری کےبعد پارلیمنٹ میں پیش هوگا۔ نام نہاد جاگنے والی غیرت نجانےکٹہرے میں کب کھڑی هوگی؟ گرفتار ملزم وسیم نے جسمانی ریمانڈکے دوران اعتراف جرم کر لیا اور اپنے کزن اور بیرون ملک مقیم بھائی کو بھی شامل جرم قرار دے دیا۔ سمجھ سے باہر ہےکہ اصل مجرم ہاتھ آنے کے باوجود پیشی پر پیشی اور بیانات کے تانتوں اور تفتیشی عمل کو طول دینے کی کیا ضرورت ہے ؟ سنا ہے کہ مقتی قوی کے بیان کو بھی قانون نظر انداز نہیں کرے گا۔ کیا ہی اچھا ہوکہ تفتیشی مراحل جلد مکمل کرکے قانون سازی کرلی جائے اور مجرم کو کڑی سزا سے نوازا جاۓ تاکہ اب کسی غیرت مند کی غیرت جاگنے سے قبل اس کی همت دم توڑ جاۓ اور مزید زندگیاں قتل جیسے غیر انسانی فعل سے بچ جائیں ۔ ایک کیس کی گتھی سلجھنے میں نہیں آتی کہ قانون کی چوکھٹ کو ایک نیا قصہمل جاتا ہے ۔ چند روز سے جہلم میں پراسرار طور پر قتل ہونے والی پاکستان نژاد برطانوی خاتون سامعہ شاہد کا کیس بھی میڈیا کی زینت بنا ہوا ہے ۔ مقتولہ کے خاوند کے بیان کے مطابق اس کی اہلیہ سامعہ کے قتل میں مقتولہ کے اہل خانہ اور سابقہ شوہر کا ہاتھ ہے جو اس کی دوسری شادی سے ناخوش تھے۔

خدارا لڑکیوں ! اب ہوش کرو ! تم اکیسویں صدی میں پنپنے والے ایک غیرت مند معاشرے کی پیداوار ہو ۔ یہاں اگر کسی مرد کو ہیلو ہینڈسم کہہ کر مخاطب کرو گی تو سب مڑ کر تم کو دیکھیں گے۔کسی مرد سے مصافحہ کیا تو اگلے روز وه تمھیں گلے لگانے کی کوشش کرے گا اور اگر تم بنا دوپٹه آفس چلی آئیں تو واپسی پر تم ساتھ جانے کے متمنی حضرات کی آفرز وصول کرو گی۔کسی کو پروپوز کیا تو بے حیاء کہلاؤ گی ۔ قندیل بلوچ صرف دو سال میڈیا کے پردے پر روشن رہی مگر بہت بھرپور اور خودداری کے ساتھ جی گئ ۔ نہ اپنے اچھے کی فکر نه دوسرے کے برے کا خیال ۔ خود تو خوش تھی یا نهیں اس کو سراہنے اور اس کے سراپے کے خدوخال کو داد دینے والے اس سے کافی خوش تھے ۔ کوئی اور سکون میں ہو یا نہ ہو آج اس کے ضعیف والدین اس سکون کے ساتھ سو سکتے ہیں کہ اب کبھی کوئی ان کی بہادر بیٹی کو میلی آنکھ سے نهیں دیکھ سکے گا ۔ اب وه خدا کی پناه میں ہے جہاں نہ اسے کوئی دیکھ کر تنقید کرسکتا ہے اور نہ اس سے محظوظ ہوسکتا هے۔

(Visited 944 times, 1 visits today)

Sarwat Khan is a Broadcast Journalist, Writer and a Producer. She worked with Geo News for several years. She usually writes on seasonal problems and random issues of society.

Leave a Reply

Got It!

اس ویب سائٹ کا مواد بول پلاٹون کی آفیشل رائے کی عکاسی نہیں کرتا. مضامین میں ظاہر معلومات اور خیالات کی ذمہ داری مکمل طور پر اس کے مصنف کی ہے