Here is what others are reading about!

  • Home
  • /
  • Pakistan
  • /
  • وہ بیڈ ڈینگی والوں کے لئے ہے

وہ بیڈ ڈینگی والوں کے لئے ہے

کچھ عرصہ قبل میں نے ایک آرٹیکل بعنوان  ” ٹکر” (http://bit.ly/1VEvxmd)  لکھا تھا۔   “ٹکر” میں غلام حسین نامی ایک محنت کش کا ذکر تھا جو بہاولپور سے اپنے پورے خاندان سمیت راولپنڈی آکر آباد ہو گیا تھا اور وہ اور اس کی بیوی لوگوں کے گھروں میں کام کر کے گزر اوقات کرتے تھے۔ ان کے بچے کو نمونیا بھی تھا اور  عطائیوں نے بھی جی بھر کے انھیں نچوڑا تھا۔غلام حسین  کے خاندان کے دیگر افراد اب تک اینٹیں بنانے والے بھٹوں پر مزدوری کرتے ہیں اور چند ہزار روپے کے قرضے کے عوض تا عمر غلامی پر مجبور ہیں ۔

غلام حسین اپنے بچے کے علاج کے بعد اکثر میرے کلینک پر آنے لگا۔ میں نے اسے ایک چھوٹا سا کام بھی دیا اور اس کی کچھ تنخواہ بھی مقرر کر دی۔ اس کا باپ کبھی کبھار آکر پودوں کی دیکھ بھال کر دیتا۔ غلام حسین گاڑی سے لیکر عمارت تک سارےشیشے چمکا دیتا۔ پھر یوں ہوا کہ اس کے خاندان کے سب افراد میرے پاس آنے لگے ۔ مجھے دعاؤں کے تحفے ملنے لگے۔

ایک روز غلام حسین اپنی کمزور سی بیوی کو لیکر آیا۔ اسے کچھ بخار تھا اور پیٹ کی خرابی بھی معلوم ہوتی تھی۔ میں نے غلام حسین کے بڑھے ہوئے بالوں کو دیکھ کر از راہِ مذاق اس کی بیوی سے کہا ،” یہ اپنے بال کیوں نہیں کٹواتا؟ ” تو وہ بولی ،” ڈاکٹر صاحب میں اس کو بہت کہتی ہوں۔ اچھا کیا کہ آج آپ نے کہہ دیا۔” پھر وہ ہنستے ہوئے اپنے شوہر سے سرائیکی میں مخاطب ہوئی ” ہُن کٹوا گھِن انہاں کوُ ں۔”  یعنی اب انہیں کٹوا لینا۔ دونوں دوا کا نسخہ لیکر ہنستے کھیلتے ہوئے میرے کلینک سے  چلے گئے۔ تین دن بعد غلام حسین جلدی میں آیا اور مجھ سے آدھی تنخواہ کا مطالبہ کر کے بولا ” ڈاکٹر صاحب ! اگر اگلے چند روز نہ آ سکوں تو ناراض نہ ہو نا۔ ” میں مریض دیکھ رہا تھا اور اس سے نہ پوچھ سکا کہ مسئلہ کیا ہے۔ میں نے ریسیپشن پر موجود سٹاف سےانٹر کام پر کہا کہ اُسے پیسے دے دیں۔

پھر غلام حسین بہت سے دن نہ آیا۔ میں نے اس کے دیے ہوئے موبائل نمبر پر فون کیا تو اس کے باپ نے بتایا کہ غلام حسین کی بیوی کا انتقال ہو گیا ہے۔ ” کیا ۔۔ کیسے ؟ ” میں حیرت اور افسوس سے بولا۔

” بس صاحب بیمار ہو گئی تھی۔” غلام حسین کا باپ بولا۔

” غلام حسین کہاں ہے ؟ ” میں نے کہا۔

“جی وہ کہیں گیا ہوا ہے۔ شاید بچوں کے لئے دودھ لینے۔۔۔۔۔ آئے گا تو آپ کو فون کر لے گا۔”

غلام حسین قریباً دس دنوں کے بعد میرے کلینک میں آیا۔

میں نے افسوس کا اظہار کیا اور تفصیل پوچھنا چاہی تو اس کی آنکھیں چھلک گئیں۔

” ڈاکٹر صاحب۔ اُسے ایک دن رات کو اُلٹی آئی سوتے میں ۔ وہ اُلٹی بس اس کے پھیپھڑوں میں چلی گئی۔ سرکاری ہسپتال میں کئی روز موت و حیات کی کشمکش میں رہی۔۔۔۔ ہم نے بڑی کوشش کی ۔۔۔بس ایک حسرت رہ گئی۔”

” وہ کیا ؟ ” میں صدمے سے دو چار اس کے چھوٹے چھوٹے بچوں کے بارے میں سوچ رہا تھا۔

” ہمیں وہاں ہسپتال میں کسی ڈاکٹر نے کہا تھا کہ میری بیوی کی سانس کی نالی سے رطوبتیں صاف کرنے کے لئے سکشن مشین کی ضرورت ہے مگر وہ ہمارے پاس نہیں ہے۔ میں نے ڈاکٹر سے پوچھا کہ وہ کہاں ملے گی تو ڈاکٹر رازداری سے بولا کہ ہم نے ڈینگی کے مریضوں کے لئے کچھ بیڈ علیحدہ سے تیار کر رکھے ہیں ۔ یہاں منسٹر وغیرہ دورے شورے کرتے رہتے ہیں۔ اس لئے ڈینگی کے بیڈ کے ساتھ سارے ضروری آلات رکھے ہیں۔۔۔۔۔۔  سر جی ۔۔  میں نے اُن ڈاکٹر صاحب  سے لاکھ کہا کہ آجکل تو ڈینگی نہیں ہے یہاں ۔۔ کوئی مریض بھی نہیں ہے اس بیڈ پر ۔۔ سر !! میں نے اُن کی بہت منتیں کیں کہ پیسے لے لیں، جو کچھ مانگتے ہیں ۔۔۔ دینے کے لئے تیار ہوں ۔۔ یہ مشین میری بیوی کو لگا دیں ۔۔ لیکن ڈاکٹر صاحب نہ مانے ۔۔ کہنے لگے میری نوکری کا سوال ہے۔۔اور۔۔ اور  میری بیوی مر گئی جی۔۔۔ اور  اُسے مَر ہی جانا چاہئے تھا۔۔۔ میں ٹھہرا غریب آدمی ۔۔ بھلا میری بیوی کی جان کہاں اتنی قیمتی تھی  کہ اُسے بچانے کی کوشش کی جاتی۔۔۔۔”

میں بے حس و حرکت اپنی جگہ پر  بیٹھا رہا ۔۔۔میرے ذہن کی سکرین پر جو فلم چل رہی تھی اُس میں  اِس ملک کے ہزاروں وی آئی پی لوگ دنیا کی بہترین جگہوں سے علاج  کرواتے نظر آ رہے تھے۔۔۔ لندن ، آسٹریلیا، کینیڈا۔۔۔ صرف معمول کے میڈیکل چیک اپ کے لئے جانے والے وی آئی پی لوگ۔۔۔۔ صرف جمعے کی نماز کی ادائیگی کے لئے،  پاکستان سے سعودی عرب کے درمیان چلنے والی خصوصی جمعہ فلائٹس کے مسافر۔۔۔   دبئی شاپنگ فیسٹیول میں صبح جا کر شام کو واپس آجانے والی بزنس ایلیٹ کلاس ۔۔۔  زندگی تو ان کی قیمتی ہے ۔۔ نہ کہ غلام حسین اور اس جیسے ہزاروں پاکستانیوں کی۔ غلام حسین آنسو پونچھ کر اٹھا اور بولا،  ” میں گیراج میں آپ کی گاڑی صاف کر آؤں ۔۔ کافی آندھی آئی ہے آج۔”

(Visited 780 times, 1 visits today)

Dr. Sohail Ahmad is a freelance writer based in Islamabad. He’s a family physician, pharmacology teacher, broadcaster, fiction writer and a poet.

One Comment

Leave a Reply

Got It!

اس ویب سائٹ کا مواد بول پلاٹون کی آفیشل رائے کی عکاسی نہیں کرتا. مضامین میں ظاہر معلومات اور خیالات کی ذمہ داری مکمل طور پر اس کے مصنف کی ہے