Here is what others are reading about!

را کے ایجنٹ

ہمارے سامنے جب بھی ’را‘ کا نام آتا تھا ، تو ہمارے ذہنوں میں ہمیشہ ’بھارتی خفیہ ایجنسی‘ یا پھر کراچی کی ایک سیاسی جماعت کا نقشہ کھینچ جاتا تھا، لیکن میں شکر گزار ہوں پاکستان کی ایک مذہبی انتہا پسندی پھیلانے والی اور حکومتی اور حفاظتی اداروں کی جانب سے کالعدم قرار دی جانے والی جماعت کے سر براہ کا، جنہوں نے آج یہ بات ثابت کردی کہ ’را‘ نہ تو کوئی بھارتی خفیہ ایجنسی ہے اور نہ ہی پاکستان کی کوئی سیاسی جماعت ، نلکہ وہ ایک کالعدم جماعت ہے جس نے کوئٹہ میں ہونے والی دہشتگردی کے حملہ کو فخریانہ انداز میں قبول کیا ہے۔ ہماری معلومات میں اضافہ کرنے کے لئے شکریہ محترم عزت مآب مولانا محمد احمد لدھیانوی صاحب۔ آئیں ان ‘را کے ایجنٹوں’ کا کچھ تعارف پڑھ لیں۔

کوئٹہ دھماکے کی ذمہ داری جماعت الاحرار نے قبول کی ہے۔یہ وہ جماعت ہے جس نے سال 2014 میں حکومت اور کالعدم تحریک طالبان کے درمیان (نام نہاد) مذاکرات کی مخالفت کرتے ہوئے علحدگی اختیار کرتے ہوئے جماعت الاحرار کے قیام کا اعلان کیا تھا۔ عمر خالد خراسانی اس گروہ کا سرغنہ تھا جو پچھلے ماہ افغان صوبے ننگرہار میں ڈرون حملے میں ہلاک ہوا تھا۔تحریک طالبان سے ایک اور دھڑا بھی الگ ہوا تھا جس کا نام احرار الہند تھا اور اس کا سرغنہ لشکر جھنگوی سپاہ صحابہ کا سابق لیڈر مولوی عمر قاسمی تھا۔ یہ دھڑ بھی بعد میں جماعت الاحرار میں ضم ہوگیا۔واہگہ بارڈر لاہور، گلشن اقبال پارک لاہور، یوحنا آباد کیتھولک چرچ لاہور، امن جرگے کے عہدیداروں اور شب قدر چارسدہ ڈسٹرکٹ کورٹ جیسے حملوں کے علاوہ آج کوئٹہ سول ہسپتال کو خون میں نہلانے کی ذمہ داری بھی اسی تنظیم نے قبول کی۔
یہ ان را کے ایجنٹوں کا کچھ تعارف تھا۔ البتہ مجھے بس ایک کنفیوژن ہے، ان را کے ایجنٹوں میں سے کچھ کا پس منظر ان ‘گروہوں’ سے بھی جڑا نظر آتا ہے جو مملکت خداداد میں کبھی مزار قائد پر ریلی نکالتے نظر آتے ہیں، کبھی حکمران جماعت کے ساتھ انتخابی اتحاد بناتے نظر آتے ہیں اور کبھی بلوچستان میں سرکاری سیکیورٹی میں رمضان مینگل کی طرح گھومتے نظر آتے ہیں۔

لہذا مجھے کوئی ایسے گارنٹی لیٹر یا ضمانت کی بھی تلاش ہے جو یہ ثابت کرسکے کے مستقبل میں کوئی مولوی عمر قاسمی آف لشکر جھنگوی کی طرح سپاہ صحابہ لشکر جھنگوی کی چھاونی سے طالبان یا جماعت الاحرار والے ‘را کے ملک دشمن مورچے’ کی طرف پرواز نہیں کر جایگا۔ کوئی ہے جو یہ گارنٹی دے سکے؟ یا میں انکار ہی سمجھوں؟
نوٹ: اگر کوئی دوست مجھے لشکر جھنگوی سپاہ صحابہ اور ان ‘را کے ایجنٹوں’ میں فرق سمجھا دے تو مشکور رہونگا۔

دوسرا اہم سوال میرا پاکستان کی عوام سے ہے، کسی سیاسی یا عسکری جماعت سے نہیں اور سوال بہت معصامانہ اور سادہ ہے کہ ہم کب تک زندہ لاش بنے ، اپنے حکمرانوں اور عسکری قیادت کی باتوں پر اپنا سر تسلیم خم کرتے رہیں گے؟ اور کب تک سیاسی و عسکری نا اہل قیادتوں کی وجہ سے اپنی جوانوں کی لاشوں کو اُٹھاتے رہیں گے؟

کیا اِس لئے چنوائے تھے تقدیر نے تنکے
کہ بن جائے نشیمن تو کوئی آگ لگا دے

(Visited 834 times, 1 visits today)

Saad Rabbani is afreelance journalist and a social media activist based in Karachi. His areas of interests are social awareness issues.

Leave a Reply

Got It!

اس ویب سائٹ کا مواد بول پلاٹون کی آفیشل رائے کی عکاسی نہیں کرتا. مضامین میں ظاہر معلومات اور خیالات کی ذمہ داری مکمل طور پر اس کے مصنف کی ہے