Here is what others are reading about!

ایان کی ڈائری

میری زندگی کی داستان کچھ بہت طویل نہیں۔ میرے بابا کا نا م سامسن مسیح ہے جو ایک پینٹر تھے۔ بہت ہی محنتی ۔ سارا دن کام پر رہتے اورتھکن سے چور جب گھر ٓاتے تومیں انہیں اپنے ساتھ کھیلنے کی ضد کر کےتنگ بھی نہیں کرتا تھا۔۔۔ ویسے بھی دادا جان میرے ساتھ کھیلتے ہی رہتے تھے۔ ایک دن بابا بہت خوش گھر آئے۔۔۔ انکو حاجی صاحب کے گھر کو رنگ کرنے کا ٹھیکا ملا تھا۔ پھر وہ اگلے کئی دن اسی کام میں لگے رہے۔ کام ایسا ہوتا کہ جان ٹوٹ جاتی، پر تیس ہزار کے ٹھیکے میں کچھ دن خوشی خوشی گزارنے کے قابل رقم نکلھی ٓاتی۔ اتنے دنوں سے بابا اسی کام میں لگے تھے، پر اب تو مجھے بھی عادت ھوگی تھی دادا جان کے ساتھ کھیلنے کی، مجھے اندازہ ھو گیا تھا کہ میں بابا کے وقت بھت مھنگا تھا۔

بابا کام پر تھے کہ ایک دن گر کر دادا جان کا بازو ٹوٹ گیا، بابا کو واپس آانا پڑا، میں بہت پریشان تھا، پر اب بابا کا ٹھیکا بھی ختم ہونے کو تھا۔ انکو جو کچھ تھوڑے سے پیسے مل سکے دادا جان کے علاج کے لیے لےآئے۔۔۔ بابا کو کہتے سنا، شاید پینتیس سو روپے۔۔۔شاید اتنے زیادہ پیسوں میں بازو جڑ ہی جاتا ہے۔ دادا جان کا علاج ہوا۔۔۔ بابا بھی دو دن انہی کے ساتھ رہے۔۔۔ کاش بابا اب واپس کام پر چلے جاتے، پر وہ نہ گئے۔ دادا جان بھی کچھ بہتر ہونے لگے۔ اب وہ آہستہ آہستہ میرے ساتھ دوبارہ کھیلنے لگے تھے۔

بابا کی حاجی صاحب سے بات ہو رہی تھی۔۔۔شاید وہ حاجی صاحب سے ناراض ہو گے تھے۔ کاش بابا ان سے ناراض نہ ہوتے۔ کام بہت تھوڑا باقی تھا، مگر بابا کو پیسوں کی ضرورت تھی۔ حاجی صاحب نے بھی انکار کردیا، تو بابا بھی واپس نہیں گئے۔ اب شاید وہ نیا کام ڈھونڈنے کو تھے۔ میں گھر کے باہر دادا جان کے ساتھ کھیل رہا تھا کہ حاجی صاحب بھی گھر آگئے۔ اب شاید وہ بابا کو باقی پیسے دیتے۔ پر اندر سے صرف حاجی صاحب کے چلانے کی آوازآئی۔۔۔ شاید بابا نے ان کی بات نہ سنی۔ وہ بہت غصے میں واپس چلے گئے، میں گھبرایا پر پھر دادا ابو میرے ساتھ کھیلنے لگے۔

کچھ ہی پل میں تیزی سے ایک گاڑی گھر کے سامنےآکر رکی۔۔۔ حاجی صاحب اور شاید یہ انکے بیٹے تھے، وہ بہت ناراض تھے۔ وہ اونچا اونچا چلائے۔وہ بہت برہم تھے کہ ہم مسیحیوں نے انہیں انکار کیا۔ پھر زوردار دھماکے کی آوازآئی اور میرے جسم کو ایک جھٹکا لگا۔۔۔ دادا جان مجھے پکڑنے کو دوڑے کے انکے جسم سے خون ٹپکتے دیکھا،اور بابا کی چیخیں۔۔۔اور پھر سب اندھیرا۔۔

کاش بابا جان انکی بات مان لیتے، کاش بابا انکا گھر جیسے تیسے رنگ دیتے، تو کم سے کم ہمارا گھر ہمارے خون سے نہ رنگا جاتا۔ کم سے کم میری زندگی کی داستان دو سال سے زیادہ ہوتی۔

 

This story is inspired by this news post | “Muslim landlord murders two years old Christian child on petty dispute with his father” – See more at: Pakistan Christian Post from May 11 2016.

(Visited 780 times, 1 visits today)

Hasnat Sheikh is a civil society activist and a freelance writer based in Azad Kashmir. He is passionate about minority rights, poverty alleviation and the Kashmir cause.

One Comment

  • khalidyounus994@yahoo.com'

    khalid younus Mir

    August 11, 2016 at 4:38 pm

    Nice effort Hasnat. You have taken a better step for portraying the basic issues of minorities. Keep these writings unbiased keeping in view the Parameters laid down by Islam and our hero’s.

    Reply

Leave a Reply

Got It!

اس ویب سائٹ کا مواد بول پلاٹون کی آفیشل رائے کی عکاسی نہیں کرتا. مضامین میں ظاہر معلومات اور خیالات کی ذمہ داری مکمل طور پر اس کے مصنف کی ہے