Here is what others are reading about!

  • Home
  • /
  • Pakistan
  • /
  • ابھی پاکستان بننا باقی ہے

ابھی پاکستان بننا باقی ہے

اسکے سائیڈ ٹیبل پرایش ٹرے میں کچھ بجھے ہوئے سگریٹ پڑے تھے اورایک جل رہا تھا۔۔۔ ساتھ ہی کتابوں کا ایک ڈھیر لگاتھا جو یہ گواہی دے رہا تھا کے وہ خاصا بگڑا ہوا آدمی ہے۔۔۔ اس نے رعشہ زدہ ہاتھوں سے ا ایک  ڈائری اٹھائی۔۔۔  اس کے سر ورق پر مٹی جمی تھی۔ اس نے اپنے نحیف ہاتھوں سے  گرد  کو صاف کیا۔۔۔ سگریٹ کے جلتے  ہوئے ٹکڑے سے دھواں اٹھ  اٹھ  کر اس کے جھریوں سے اٹے ہوئے  چہرے کو اور بھی مبہم  کر رہا تھا۔ اس نے ڈائری  کو اپنے سینے سےلگا  لیا۔  اسے محسوس ہوا کہ اس ڈائری  کے لفظ اس سے  گلے مل کر رو پڑے ہیں۔۔۔ اس  کے دل میں ایک ہوک سی اٹھی تھی ۔۔۔ یہ کیا ؟؟یہ درد کیساتھا؟؟؟ یہ ٹھنڈی آہ کیوں ؟؟۔۔۔ پاکستان تو بن گیا تھا۔  وہ پاکستان جس کی خاطر یہ بوڑھا  اپنے عہد شباب میں۔۔۔ جب دل میں کئی آرزویں دھڑکن  بن کر دھڑکتی ہیں۔۔۔  جب ہر طرف رنگ  ہی  رنگ دکھائی دیتے ہیں۔۔۔  تب اس زمانے میں یہ آدمی اپنی محبوبہ  کو ندی کے کنارے  بلائے اور کہے ۔۔۔

 مجھے جانا  ہے تم مرا  انتظار مت کرنا نوراں ۔۔۔ میرے لہو کی ضرورت ہے ملت کو ۔۔۔

لیکن ۔۔۔۔

نہیں۔۔۔  تم  کیا چاہتی ہو کہ ہمارے بچے غلامی  کی زندگی گذار دیں؟ ۔۔۔ ہماری اگلی نسل بھی نظریاتی  سطح پر اکثریت  کے دباؤمیں  ہو ؟؟

لیکن یہ۔۔۔ سب۔۔۔  اور بھی  بہت  سے لوگ ہیں !!!

غوں!!! وہ غصے میں آگیا۔۔۔  تم اتنی خود غرض  کیسے ہو سکتی ہو ؟؟

محبت خودغرض  بنا ہی دیتی ہے۔۔۔

نہیں محبّت  قربانی سکھا تی ہے۔۔۔ آخر تمہیں  میری بات سمجھ کیوں  نہیں آ رہی  ؟؟؟

نوراں کی آنکھیں  ڈبڈبا گئیں۔۔۔ اس نے آفتاب کے پیر پکڑ کر دھار دھار رونا  شروع کر دیا۔۔۔ مجھے معاف کر دو۔  میں  پاگل ہو گئی تھی۔۔۔ پاکستان  بننے سے کوئی نہیں روک سکتا۔۔۔  آفتاب  کی آنکھیں  بھی بھیگ گئیں ۔۔۔ اور دو پریم کے مارے  اپنی محبت قربان کر کے  اپنے اپنے راستے ہو لئے۔۔۔

اور یہ کوئی ایک پیار نہیں تھا۔۔۔  ایک محبت نہیں تھی جس نے دم توڑ کر پاکستان کو جلا دی تھی۔۔۔  میں نہیں جانتی اور کتنی محبتیں اورکتنی ممتائیں تھیں جنہوں نے قربانیاں دے کر پاکستان میں  خاموشی سے اپنا اپنا حصّہ ڈالا تھا ۔۔۔  تاریخ صرف لیڈرروں کے نام جانتی ہے۔  تاریخ  اس عورت کا حوالہ نہیں دیتی  جسکا سہاگ لوٹ لیا گیا  اور اسکی دو سالہ بچی کی اس کی آنکھوں کے سامنے عصمت ریزی کی گئی ۔۔۔!!! تاریخ اس بوڑھی عورت کا  نام نہیں  جانتی جس کا  کڑیل جوان بیٹا۔۔۔ اپنی ٹھاٹھیں مارتی ہوئی جوانی میں ماراگیا۔۔۔ اس کرب کو  تاریخ  جانتی ہی نہیں ۔۔۔ !!! تاریخ    ۔۔۔  تاریخ تو اس بوڑھے باپ سے بھی  ناآشنا  ہے  جس  کی  آنکھوں کے سامنے فسادی اس کی  بیٹیوں  کواٹھا کر لے گئے  اور  تین جوان  بیٹوں  کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا ۔۔۔!!! تاریخ نہیں  جان سکتی  کہ  جب مہاجر ین واپس آ رہے تھے تو  ایک  چھ سالہ بچی ۔۔۔ جس کی ماں کی چھاتی میں دودھ سوکھ چکا تھا اور جس کا باپ  اکیس  برس کی عمر  میں بوڑھا دکھائی دے رہا تھا۔۔۔ جس نے راستے میں  بہت سوں سے دودھ مانگا تھا ۔۔۔  پر کون دیتا؟  سب کے سب لٹے پٹے تھے۔۔۔   بچی باربار آسمان کی طرف دیکھ کر زبان نکالتی۔۔۔  گویا کہہ رہی ہو ۔۔۔ لے دیکھ لے بھگوان،خدا ،اللّه  ،ایشور،رام۔۔۔  ارے جتنےبھی نام ہیں تیرے ۔۔۔ دیکھ ۔۔۔ دیکھ تیری دنیا کس قدر کم ظرف ہے۔۔۔ بچی ہچکیاں لیتی ہوئی مر گئی۔۔۔ ماں کو راستےمیں چھپے  فسادی کتوں نے بھنبھوڑ  ڈالا ۔۔۔ اور  وہ جوان باپ جب لاہور پہنچا۔۔۔  توکیا کرتی یہ تاریخ ۔۔۔۔ وہ  کیمپ کے بچوں کے منہ میں اپنی بچی  کے دودھ کاخالی  فیڈرٹھونستا تھا  کہ لے پی لے ورنہ مر جائے گا۔۔۔ لو۔۔۔ لو۔۔۔ دودھ پیو شاباش ۔۔۔ بچے اس کو دیکھ کر پتھر مارتے اور وہ زخم کھا  کربھی دودھ کی آفر کرتا۔۔ گلیوں گلیوں  آپھرتا ۔۔۔ ایسا کچھ  نہیں ہے نا تاریخ  کی موٹی موٹی  کتابوں میں!!!

بوڑھا ڈائری کو سینے سے چمٹائے سوچتا رہا۔۔۔۔ وہ تاریخ جو اس کی آنکھوں کی پتلیوں سے بہت دور کہیں لکھی پڑی تھی۔۔۔۔ لاشوں کو جانوربھنبھوڑتے  تھے ۔۔۔ اور سونگھ کر چلے جاتےتھے ۔۔۔۔ یہ اشرف المخلوقات کی لاش تھی ۔۔۔ خالق کی سب سے پسندیدہ مخلوق ۔۔۔ کتوں نے آواز لگائی  ارے  یہ کیا۔۔۔ اس کا  سر، دھڑ اس طرح بکھرا ہوا کیوں پڑا ہے۔۔۔ اتنی لاشیں کیوں ہیں ۔کہیں  دورسے کوے کی آواز آئی۔۔۔ تقسیم ہو رہی ہے ۔۔۔ ہندو مسلمانوںکی۔۔۔ کتے نے کہا یہ ہندو اورمسلمان کیا ہوتا ہے ؟؟ اور کوا اس کی کم عقلی پر ہنسنے لگا۔۔۔ کتے نے بگڑ کر کہا ہمیں تو کہا گیا تھا کے یہ مخلوق ہم سب سے برتر ہے تو میں نے سوچا کے برتر ہے تو چیر  پھاڑ نہیں کرتی ہوگی ہماری طرح ۔۔۔ کوا نے ایک اور قہقه لگایا اور بولا ارے میاں کتے۔۔۔ یہ انسان ذات کی باتیں تمہاری سمجھ سے پرے ہیں ۔۔۔  ہیروڈوٹس نے   نے کہا تھا  ایک ایسی قوم تھی جس کی ساری عورتیں  غیرت کے  نام پر مار دی گئیں اور سارے مرد مذہب کے  نام پر۔۔۔ یہ کہتا کوا  دور  جنگلوں میں اڑ   گیا۔۔۔ کیونکہ یہاں  آہوں ،سسکیوں،چیخوں اور خون کی بد بو کےسوا کچھ نہ تھا۔۔۔

بوڑھا خیالات کے سمندر  میں بہت گہرائی تک  جا  چکا  تھا۔۔۔  اتنےمیں اسے قدموں کی چاپ سنائی دی۔  یہ اس کا بیٹا تھا  جو شہر کا ڈی    سی او  تھا … ہاں جی ڈی ایس پی صاحب  کام ہو جائے گا۔۔۔۔ شاید فون پربات کررہا تھاکسی سے۔۔۔  جی جی آپ بے فکر ہو جائیں جناب ۔۔۔ اچھا وہ پیسےتو ٹرانسفر کروا دئیے نا آپ نے  اکاؤنٹ میں۔۔۔۔  جی جی  بہت  شکریہ۔۔۔۔ ہاہاہاہاہا۔۔۔  کمینے تو آپ بھی   بہت ہیں ۔۔۔ ہاہاہاہاہا  ڈی  ایس پی صاحب کون نہیں جانتا کمینگیاں۔۔۔  جناب سب ایسے ہی ہیں ۔۔۔ بس ہماراآپ کاڈیپارٹمنٹ کچھ زیادہ ہی بد نام ہے۔۔ارے  نہیں جناب  ۔ بے فکر ہو جائیں!!!

بوڑھاسب سن رہا تھا ۔۔۔  کیا ہماری کمائی یوں لٹ۔۔ رہی  ہے۔۔۔ بوڑھے کے دل میں ایک ٹیس اٹھی اور اس نے آنکھیں موند  لیں۔ جلتی ہوئی سگریٹ  اب ختم ہونے کو تھی۔۔۔ کمرے میں ۔۔۔ دھواں ہی دھواں تھا  ۔۔۔  شاید ابھی پاکستان کی تکمیل ادھوری ہے ۔۔۔ شاید پاکستان ابھی  بننا باقی ہے ۔۔۔

(Visited 1,020 times, 1 visits today)

Fizzah Shah is a freelance writer based in Muzaffargarh. She usually writes abstracts on social and moral issues.

Leave a Reply

Got It!

اس ویب سائٹ کا مواد بول پلاٹون کی آفیشل رائے کی عکاسی نہیں کرتا. مضامین میں ظاہر معلومات اور خیالات کی ذمہ داری مکمل طور پر اس کے مصنف کی ہے