Here is what others are reading about!

آزادی مبارک

آج یوم آزادی ہے۔ آزادی ایک نعمت ہے ۔ جس پر ہر فرد کا یکساں حق ہے۔ مجھے بھی کچھ بہی خواہوں نے یوم آزادی کی مبارکبا د دی ہے۔ ان سب احباب کا شکریہ۔میں بھی کچھ لوگوں کو اس خوشی میں شریک کرنا چاہتا ہوں۔

استحصالی قوتوں اور طبقاتی تقسیم کے ذمہ داروں کویوم آزادی مبارک ہو اور ان کے بوجھ اور نظام تلے دب کر سسکنے والوں کو بھی یوم آزادی مبارک ہو۔

سبز باغ کے وعدوں پر ہر مرتبہ ووٹ لے کراقتدار کے ایوانوں میں پہنچنے والوں کو یوم آزادی مبارک ہو اور ہر مرتبہ ووٹ دے کر ہر مرتبہ پچھتانے والوں کو بھی یوم آزادی مبارک ہو۔

کسی بھی قسم کے بحران میں بھاگ کرمختلف بیرونی ممالک سے مددکی بھیک مانگنے والوں کو یوم آزادی مبارک ہو اور ایسے لوگوں کی صلاحیت حکمرانی پر نازاں لوگوں کو بھی یوم آزادی مبارک ہو۔

قدامت پسندی اور ماضی کےالمیوں پر ہی تا قیامت رونے دھونے اور اسی کو حیات انسانی کا مقصد سمجھنے والوں کو یوم آزادی مبارک ہو جبکہ امن و سکون اور انسانیت کی معراج کے لئے جدیدیت اور حقیقت پسندی کو لازمی سمجھنے والوں کو بھی یوم آزادی مبارک ہو۔

مذہب کی آڑ میں تعصبات کو ہوا دے کر، زور زبردستی، بہ ذریعہ دہشت اپنے عقائد کو دوسروں پر تھوپنے والوں کو یوم آزادی مبارک ہو اور ان کی زور زبردستی و دہشت سے متاثر، سراسیمہ و خوفزدہ لوگوں کو بھی یوم آزادی مبارک ہو۔

مذہب کے نام پر وحشی خودکش بمباروں کے تخلیق کاروں کو یوم آزادی مبارک ہو اور ان کے حملوں میں اپنے پیاروں کی لاشوں کے ٹکڑے جمع کرنے والوں اور یتیم و بیوہ ہونے والوں کو بھی یوم آزادی مبارک ہو۔

اقلیتی اورمخصوص مفادات کے حصول کے لیے مذہب کو سیاست میں شامل کرنے والوں کو یوم آزادی مبارک ہو اور اس طرز کی سیاست کی مشین میں پِس کر قیمہ بننے والوں کو بھی یوم آزادی مبارک ہو۔

مکر اور جھوٹ کے لبادوں میں چھپ کر لوگوں کی رہنمائی کا فریضہ انجام دینے والوں کو یوم آزادی مبارک ہو اور راہزنوں کو راہبر سمجھنے والوں کو بھی یوم آزادی مبارک ہو۔

انسانی فطرت سے ہم آہنگ، فن اور فنکاری کے ذریعے خوشگوار سماجی رابطے پیدا کرکے محبتیں پھیلانے کی کوشش کرنے والوں کو یوم آزادی مبارک ہو اور جیب میں فتوے کے ٹھپّے رکھ کر، ان کی ان کوششوں پر لعن طعن کرنے والے کہن پرستوں اور کوتاہ فہموں کو بھی یوم آزادی مبارک ہو۔

رشوت کو نذرانے کا نام دے کر پیش کرنے والوں کو یوم آزادی مبارک ہو جبکہ اسے استغفراللہ کا ورد کرکے لینے، جلدی سے جیب میں ڈالنے، ان پیسوں سے سے نذر و نیاز، قرآن خوانی اورخیرات کرنے، حج کی سعادت حاصل کرنے، مسجد کی تعمیر میں حصہ ڈالنےاور اپنے لیے نئی عمارت تعمیر کرکے اس کی پیشانی پر ” ہٰذامن فضل ربّی ” لکھنے والوں کوبھی یوم آزادی مبارک ہو۔

اپنے کتوں کے لیے ڈیپارٹمینٹل سٹورز میں خوراک ڈھونڈنے والوں کو یوم آزادی مبارک ہو اورایک روٹی کی قیمت کے لیے مقناطیس نالیوں میں پھرانے والوں کو بھی یوم آزادی مبارک ہو۔

شادی ہالوں میں ناک تک کھا کرغٹاغٹ کولڈڈرنک پینے، پھر ہاضمے کی دوا کے لیے دوڑ پڑنے والوں کویوم آزادی مبارک ہو اور شادی ہالوں کے باہر ہاتھ میں تھیلے لیے ہر آنے جانے والے کو، سوالیہ نظروں سے ٹکر ٹکر دیکھنے والوں کو بھی یوم آزادی مبارک ہو۔

کفیلوں سے محروم، لاچار و مجبور لوگوں کو یوم آزادی مبارک ہو اور ایسے لوگوں کو لائن میں لگا کر، ایک تھیلی آٹے، پانچ کلو گھی، تین کلو چینی کے لیے ان کی عزت نفس کو قتل کرکے ان کی امداد کرنے والوں کو بھی یوم آزادی مبارک ہو۔

گیارہ بجے تشریف لانے اور ایک بجے نرسز اور وارڈبوائز کو چارج دے کرفارغ ہونے، پھر پرائیویٹ کلینیکس جاکر مریضوں کی کھالیں اتارنے میں ماہر بھاری بھرکم مراعات حاصل کرنے والےسرکاری ڈاکٹرز کو یوم آزادی مبارک ہو اور اپنے بیمار بلکتے بچوں کو سینے سے لگائے، سر پیر سے بے خبر، سراپا امید بنی ہسپتال کی راہداریوں میں دیوانہ وار ڈاکٹرز کو پوچھتی پھرتی غریب ماؤں کو بھی یوم آزادی مبارک ہو۔

ایرکنڈیشنڈ کمروں میں لطف اٹھاتے ہوئے زندگی کی سختیوں کا اندازہ لگانے والے آفیسرز کو یوم آزادی مبارک ہو اور پہاڑوں کا سینہ چھیر کرسڑکیں اور پلیں بنانے، کھدائی کرنے، سنگلاخ پہاڑوں اور بیابانوں میں بجلی کا نظام بچھانے اور کام کے دوران اپنی جانوں سے ہاتھ دھونے کے خطرے سے دوچار مگر اپنے جائز حقوق کے لئے سڑکوں پربیٹھے، پٹڑی پر لیٹے احتجاج کرنے والے مزدوروں کو بھی یوم آزادی مبارک ہو۔

ہزاروں فٹ گہری سیاہ قبروں اور موت کے منہ سے کوئلہ نکالنے والے سیاہ بخت کانکنوں، جنھیں ہر روز کان کے اندر جاتے ہوئے اپنے زندہ واپس آنے کا کم ہی یقین ہوتا ہے، کو یوم آزادی مبارک ہو اور کانکنی کی صنعت سے اربوں بنانے والے اور کانکنی کی وزارت کی مسند پر براجمان، مزدوروں کی فلاح کے لئے سوچ سوچ کر ہلکان ہونے والے، پھر بھی کسی نتیجے پر نہ پہنچنے والے لوگوں کو بھی یوم آزادی مبارک ہو۔

زمین کے سینے پر خون

پسینہ بہا کر بہ زور بازو فصل اگانے والے، بعد ازاں روٹی کے لئے ترسنے والے کسانوں دہقانوں کو یوم آزادی مبارک ہو اور ان ہی کی محنت سے بیرونی ممالک میں گرمیاں گزارنے والوں کو بھی یوم آزادی مبارک ہو۔

خضاب لگائے، تسبیح گھماتے، مسواک استعمال کرتے، پائینچے ٹخنوں سے اوپر باندھے، نماز کی پہلی صف میں کھڑے ہونے، حدیث کی کثرت سے ذکر کرتے، ذخیرہ اندوزوں، گرانفروشوں اورملاوٹ کرنے والوں کو یوم آزادی مبارک ہو اور ان سے فیض و برکات حاصل کرکے دیوالیہ ہونے اور ہسپتالوں میں پہنچنے والے مریضوں کو بھی یوم آزادی مبارک ہو۔

قتل کرکے جیلوں میں پہنچنے والے، نادم و پشیمان قیدیوں کو یوم آزادی مبارک ہو اور دیدے پھاڑے، خالی آنکھوں سے دنیا کی رنگینیوں کو تکنے والے مقتولین کے پسماندگان کو بھی یوم آزادی مبارک ہو۔

اغوا برائے تاوان کا بابرکت کاروبار کرنے والے خدمت خلق میں مصروف اغواکاروں کو یوم آزادی مبارک ہو اور تاوان کی ادائیگی کے بعد رہا ہونے والے اور تاوان کی عدم ادائیگی کی وجہ سے تاحال قید افراد کو بھی یوم آزادی مبارک ہو۔

روایتی اسلحے کے ساتھ غیر روایتی اسلحے سے لیس بے رحم دہشت گردوں کا گلی کوچوں میں مد مقابل بہادر پولیس اہلکاروں کو یوم آزادی مبارک ہو اور ان اہلکاروں کا ہاتھ پاؤں باندھ کر انھیں سیاسی مصلحتوں، پالیسی کی مجبوریوں اور طاقت اور اثر و رسوخ کے بھیڑیوں کے سامنے پھینکنے والوں کو بھی یوم آزادی مبارک ہو۔

دہشت گردوں کو گلی محلوں میں رہائش اختیار کرنے ، اپنی انتہاپسندانہ و دہشتگردانہ تبلیغات پھیلانے، تیر و تفنگ، گولہ و بارود جمع کرنے کی اجازت دینے کے بعد انہی کے ہاتھوں بے خانماں ہو کر در بہ در کی ٹھوکریں کھانے والے بے گھروں کو بھی یوم آزادی مبارک ہو اور ان کے امدادی سامان میں غبن کرکے مال بنانے والوں کو بھی یوم آزادی مبارک ہو۔

انصاف اور دانش کی صدا کو نظرانداز کرکے نظریۂ وقت کو اوڑھنا بچھونا بنانے والے صاحب اختیار لوگوں کوبھی یوم آزادی مبارک ہو۔

چیک پوسٹوں اور سیکیورٹی بیریئرز پر تلاشی دینے کے بعد، اچھلتے کودتے، ون وہیلینگ کرتے، ریس لگاتے، پریشر ہارن بجاتے، بچوں، بوڑھوں، عورتوں کو خاطر میں نہ لانے والے نوجوانوں کو یوم آزادی مبارک ہو اور ان کے ہاتھوں اپنے قدرتی پُرزہ پارٹس سے محروم ہونے والے لوگوں کو بھی یوم آزادی مبارک ہو۔

ان تمام لوگوں جو سبز ہلالی جھنڈے کے سایے تلے ایک ہیں، مگر ایک جیسے بالکل نہیں ہیں، کو بھی یوم آزادی مبارک ہو۔

یوم آزادی “منانے والے” اور “منوانے والے” دونوں قسم کے لوگوں کو یوم آزادی مبارک ہو۔

اور آخر میں لوگوں کی زندگیوں کو پرتعیش بنانے والے مگر خود تا دم مرگ آسائشوں کو ترسنے والے معماروں، مستریوں، ریڈھی اور گدھا بانوں، ترکھانوں، ویلڈنگ کرنے والوں، ڈرائیورز، سائیکل سازوں، درزیوں، مکینکس، حجام، دھوبی، مزدوروں، رنگ سازوں، موچیوں، سڑکوں پر جھاڑو دیتے، کچرہ اٹھاتے، گٹر کھولنے والے، جھکی کمروں والے حسرت و یاس کی تصویروں کو یوم آزادی مبارک ہو اور ان کو کمین سمجھ کر رلا رلا کر ان کی اجرت ادا کرنے والے، ناک پر رومال رکھ کر ان سے بات کرنے والے، نفیس، رحمدل اور باانصاف لوگوں کوبھی یوم آزادی مبارک ہو۔

ہاں ان لوگوں کو بھی یوم آزادی مبارک ہو جن کے جگرگوشے ہجرت کرتے ہوئے ایسے گم ہیں کہ ان کا نام و نشان نہیں، جن کے زندہ یا مردہ ہونے کا کوئی پتہ نہیں۔ کوئی آس کوئی امید نہیں اور کوئی نوید نہیں۔

آج یوم آزادی ہے۔ آزادی ایک نعمت ہے ۔ جس پر ہر فرد کا یکساں حق ہے۔

سب کو یوم آزادی مبارک ہو۔

(Visited 964 times, 1 visits today)

Sikandar Ali is a Hazara activist based in Quetta. He’s an active member of Wapda Labour Union. His areas of interests are Hazara apartheid and other social issues.

Leave a Reply

Got It!

اس ویب سائٹ کا مواد بول پلاٹون کی آفیشل رائے کی عکاسی نہیں کرتا. مضامین میں ظاہر معلومات اور خیالات کی ذمہ داری مکمل طور پر اس کے مصنف کی ہے